حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ

حضرت سعدؓ بن ربیع بن عمرو بن ابی زھیر کا تعلق انصاری قبیلہ خزرج سے تھا۔ 13نبوی میں بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوکر اسلام قبول کیا۔ اس وقت جو بارہ اشخاص نقیب بنائے گئے، آپؓ بھی ان میں شامل تھے۔ آپؓ کو اپنے قبیلہ بنوثعلبہ کا نقیب مقرر کیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ کوبھی اسی قبیلہ کا نقیب مقرر کیا گیا۔ ہجرت کے بعد مؤاخات قائم ہوئی تو آپؓ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے بھائی بنائے گئے۔ آپؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے سامنے اپنا نصف مال گن کر رکھ دیا اور جوش محبت میں یہاں تک کہہ دیا کہ میری دو بیویاں ہیں، مَیں ایک کو طلاق دیدیتا ہوں، آپ اُس سے شادی کرلیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے آپؓ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ خدا یہ سب کچھ تمہیں مبارک کرے۔
حضرت سعدؓ کے بارہ میں علم نہیں کہ وہ غزوہ بدر میں شریک ہوسکے یا نہیں۔ تاہم غزوہ احد میں شامل ہوئے۔ جنگ ختم ہونے پر آنحضورﷺ نے فرمایا کہ کوئی جاکر دیکھے کہ سعد بن ربیع کا کیا حال ہے کیونکہ مَیں نے انہیں لڑائی کے وقت دشمن کے نیزوں میں بُری طرح گھرا ہوا دیکھا ہے۔ چنانچہ ایک صحابی ابی بن کعبؓ گئے اور میدان جنگ میں سعدؓ کا نام لے کر آوازیں دینی شروع کیں لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔ واپس آنے سے پہلے انہوں نے بلند آواز سے پکارا کہ مجھے رسول اللہﷺ نے سعد کی طرف بھیجا ہے۔ اس پر سعدؓ نے دھیمی آواز میں کہا کہ مَیں یہاں ہوں۔ دیکھا گیا تو سعدؓ مقتولین کے ایک ڈھیر میں نزع کی حالت میں تھے۔ آپؓ نے اس حالت میں کہا کہ رسول اللہﷺ سے میرا سلام عرض کرنا اور کہنا کہ خدا کے رسولوں کو جو ان کے متبعین کی قربانی اور اخلاص کی وجہ سے ثواب ملا کرتا ہے، خدا آپؐ کو وہ ثواب سارے نبیوں سے بڑھ چڑھ کر عطا فرمائے اور آپؐ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے اور میرے بھائی مسلمانوں کو بھی میرا سلام پہنچانا اور میری قوم سے کہنا کہ اگر تم میں زندگی کا دَم ہوتے ہوئے رسول اللہﷺ کو کوئی تکلیف پہنچ گئی تو خدا کے سامنے تمہارا کوئی عذر نہیں ہوگا۔ یہ کہہ کر سعدؓ نے جان دیدی۔ آپؓ کے جسم پر نیزوں کے بارہ زخم تھے۔
جب سعدؓ کی وصیت کے الفاظ آنحضورﷺ کو پہنچائے گئے تو آپؐ نے فرمایا : ’’خدا ان پر رحم کرے، زندگی اور موت دونوں میں خدا کے دین کی خیرخواہی مدّنظر رہی‘‘۔ جب تدفین کے بعد دو دو صحابہؓ اکٹھے دفن کئے گئے تو سعدؓ کو آپؓ کے چچا خارجہؓ بن زید بن ابی زہیر کے ساتھ دفن کیا گیا۔
حضرت سعدؓ ایک متمول آدمی تھے لیکن آپؓ کی کوئی اولاد نرینہ نہ تھی۔ آپؓ کی دو بیٹیاں تھیں۔ شہادت کے بعد عرب کے دستور کے مطابق آپؓ کے ایک بھائی نے ساری جائیداد پر قبضہ کرلیا اور آپؓ کی بیوہ اور دونوں لڑکیاں بے سہارا رہ گئیں۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ آنحضورﷺ پر ورثہ کے متعلق احکام نازل ہوئے چنانچہ اس کے مطابق ورثہ تقسیم کیا گیا۔
حضرت سعدؓ کا تعلق ایک رئیس خاندان سے تھا جہاں تعلیم کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔ آپؓ کی ایک صاحبزادی حضرت امّ سعیدؓ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو حضرت ابوبکرؓ نے اپنا کپڑا بچھادیا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ یہ کون ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ یہ اس شخص کی بیٹی ہے جو مجھ سے اور تم سے بہتر تھا۔ پوچھا: وہ کیسے؟ فرمایا کہ اُس نے آنحضرتﷺ کے زمانہ میں جنت کا راستہ لیا اور ہم تم یہیں باقی رہ گئے۔
حضرت سعدؓ کے بارہ میں یہ مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍جنوری 2002ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے شائع ہوا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں