حضرت سیدہ نواب امۃالحفیظ بیگم صاحبہؓ

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا جلسہ سالانہ نمبر 2001ء میں حضرت سیدہ نواب امۃالحفیظ بیگم صاحبہؓ کی سیرت کے متعلق مکرمہ امۃالرفیق ظفر صاحبہ کا مضمون شامل اشاعت ہے۔
حضرت سیدہ کو آسمان سے ’’دخت کرام‘‘ کا لقب آپؓ کی پیدائش سے قبل عطا کیا گیا۔ 25؍جون 1904ء کو آپؓ پیدا ہوئیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ’’حقیقۃالوحی‘‘ میں آپؓ کی پیدائش کو اپنی صداقت کا چالیسواں نشان قرار دیا ہے۔ ایک موقع پر حضورؑ نے فرمایا: ’’مہد کا زمانہ تو تین چار سال پر ممتد ہوتا ہے اور اس عمر میں بعض بچے بہت باتیں کرتے ہیں چنانچہ میری بیٹی امۃالحفیظ بیگم بھی جو کم و بیش اسی عمر کی ہے بہت باتیں کرنے والی ہے اور بڑی ذہین بچی ہے‘‘۔
جب حضور علیہ السلام کا وصال ہوا تو حضرت سیدہ کی عمر صرف چار سال تھی۔ سات سال کی عمر میں آپؓ نے قرآن مجید ناظرہ کا دَور مکمل کیا تو حضرت مصلح موعودؓ نے آپؓ کی آمین پر ایک نظم کہی۔ گیارہ سال کی عمر میں آپؓ کا نکاح حضرت نواب محمد عبداللہ خانصاحبؓ کے ساتھ 7؍جون 1915ء کو حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ نے پڑھایا۔ حضرت مولانا راجیکی صاحبؓ کو اللہ تعالیٰ نے رؤیا کے ذریعہ اس بابرکت تقریب کے انعقاد کی خبر پہلے سے ہی دیدی تھی۔ 22؍فروری 1917ء کو حضرت سیدہؓ کے رخصتانہ کی تقریب نہایت سادگی سے عمل میں آئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو 3 فرزند اور 6 صاحبزادیاں عطا فرمائیں۔
حضرت سیدہ کی زندگی توکل علی اللہ اور عشق الٰہی کی عکاس تھی۔ آپؓ کے شوہر حضرت نواب محمد عبداللہ خانصاحبؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے اکثر اوقات دیکھا ہے کہ ان کو کسی چیز کی خواہش پیدا ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو آناً فاناً مہیا کرنے کے سامان پیدا کردئے۔ حضرت مسیح موعودؑ چار سال کی عمر میں اس کو اپنے مولیٰ کے سپرد کر گئے تھے جب سے ہی وہ اپنے مولیٰ کی گود میں نہایت پیار سے رہتی ہیں۔
حضرت سیدہؓ نے نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن کریم کا ساری عمر التزام رکھا حتی کہ وفات کے روز بھی تلاوت کی۔ آپ مستجاب الدعوات تھیں۔ فرمایا کرتیں: ’’بس دعا نہ چھوڑو، اللہ سے رشتہ جوڑ لو، سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا‘‘۔
آپؓ نے شادی کے بعد میٹرک، ادیب عالم اور انگریزی میں ایف۔اے کیا۔ اردو ادب کے علاوہ انگریزی ادب بھی کافی پڑھا ہوا تھا۔ تفسیر کبیر کا بہت گہرا مطالعہ تھا۔ بہت مہربان اور شفیق ہستی تھیں اور اخلاق کریمانہ کی مالک تھیں۔
8؍فروری 1949ء کو حضرت نواب صاحبؓ پر دل کی بیماری کا شدید حملہ ہوا اور آپؓ مستقل طور پر صاحب فراش ہوگئے۔ حضرت سیدہؓ نے آپؓ کی اس قدر تندہی اور جانفشانی سے خدمت کی کہ ہرآرام کو اپنے اوپر حرام کرلیا اور ایک لمبا عرصہ دن رات ایک کرکے خدمت کی۔
حضرت سیدہؓ اس بات سے زیادہ خوشی محسوس فرماتیں کہ آپؓ کی کسی چیز کو کوئی دوسرا استعمال کرلے۔ صبر و شکر آپؓ کا شیوہ تھا۔ آپؓ کو زیورچ (سوئٹزرلینڈ) میں مسجد محمود کا سنگ بنیاد رکھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کے خلیفۃالمسیح منتخب ہونے کے بعد حضور انور ایدہ اللہ کو حضرت مسیح موعودؑ کی ’’الیس اللّہ بکافٍ عبدہٗ‘‘ کی انگوٹھی آپؓ نے ہی پہنائی۔
آپؓ 6؍مئی 1987ء کو 83 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ آپؓ کی وفات پر حضور انور نے دو طرفہ محبت کا ذکر کرنے کے بعد اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’حضرت پھوپھی جانؓ میرے لئے تو ایک طرح سے والدہ ہی تھیں‘‘۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/FjKIo]

اپنا تبصرہ بھیجیں