حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا

حضرت (صاحبزادی سیدہ نواب) مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا بنت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام 2؍مارچ 1897ء کو پیدا ہوئیں۔ پیدائش سے قبل حضورؑ کو بشارت دی گئی کہ یہ زیورات میں نشو و نما پائیں گی۔ 1901ء کے ایک الہام میں انہیں ’’نواب مبارکہ بیگم‘‘ کا لقب عطا ہوا۔
لجنہ کی ابتدائی ممبرات میں آپ کا نمبر دوسرا ہے۔
گو آپ نے کسی سکول میں تعلیم نہیں پائی نہ کوئی ڈگری لی لیکن جماعت کے چوٹی کے علماء آپؓ کے استاد رہے۔ قرآن کریم کی تعلیم حضرت پیر منظور محمد صاحبؓ سے تین سال کی عمر میں شروع کی اور ساڑھے چار سال میں دہرا بھی لیا۔
بہت چھوٹی عمر سے آپؓ کو سچے خواب آیا کرتے تھے جنہیں حضورؑ لکھ لیا کرتے تھے۔ حافظہ غیرمعمولی تھا۔ اکثر چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بے تکلفی سے حضورؑ سے پوچھ لیا کرتی تھیں۔ ایک شام آسمان پر دھنک دیکھ کر پوچھا کہ اسے عربی میں کیا کہتے ہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ’’عربی میں اسے قوس قزح کہتے ہیں جس کے معنے شیطان کی کمان ہے، تم اسے قوس اللہ کہا کرو‘‘۔
آپؓ فرماتی ہیں: ’’حضور کی زبان میں معجزانہ اثر تھا، آپ نہ بات بات پر ٹوکتے نہ شوخیوں پر جھڑکتے بلکہ انتہائی نرمی سے فرماتے کہ یوں نہ کرو۔ جس بات سے آپ نے منع کیا مجھے یاد نہیں کہ کبھی بھول کر بھی وہ بات کی ہو‘‘۔
آپؓ کی سیرۃ کے بعض واقعات محترمہ ستارہ مظفر صاحبہ کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍ مارچ و15؍اپریل 1996ء کی زینت ہیں۔
حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ فرماتی ہیں: ’’میری چارپائی حضرت اقدس کی چارپائی کے قریب ہوا کرتی تھی اور 4 سال کی عمر میں جب رات کو مجھے ڈر لگتا تو میں حضور کی چارپائی پر آ جاتی۔ جب میری عمر 5 سال ہوئی تو حضور نے فرمایا: جب بچے بڑے ہونے لگتے ہیں تو پھر اس طرح نہیں آ گھسا کرتے، میں تو اکثر جاگتا رہتا ہوں، تم چاہے سو دفعہ مجھے آواز دو میں جواب دوں گا اور پھر تم نہیں ڈروگی۔ چنانچہ پھر میں نے بستر پر کود کر آپ کو تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ جب ڈر لگتا پکارلیتی اور آپؑ فوراً جواب دیتے… میں بچہ تھی، بالکل چھوٹی جب بھی آپ نے مجھے کہا کہ جب تم آنکھ کھلے کروٹ لیتی ہو اس وقت ضرور دعا کرلیا کرو‘‘۔ آپؓ فرمایا کرتیں کہ دعا کی یہ عادت ہمیشہ قائم رہی۔
ایک موقعہ پر حضرت اماں جانؓ سے حضور علیہ السلام نے پر جوش تسلی بخش آواز میں فرمایا ’’اس پر سوکن ہر گز نہ آئے گی‘‘۔ یہ پُر شوکت ارشاد بفضل خدا پورا ہوا۔ آپؓ کی شادی ریاست مالیرکوٹلہ کے رئیس اعظم اور حضرت اقدس علیہ السلام کے انتہائی مخلص مرید حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ سے ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو دو بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں