حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب

حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب کی قبول احمدیت کی داستان آپ کے صاحبزادے محترم علی محمد الہ دین صاحب کے قلم سے ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا جولائی 1996ء کی زینت ہے۔
حضرت سیٹھ صاحب 16؍ اکتوبر 1877ء کو بمبئی میں خوجہ خاندان میں پیدا ہوئے جو سرآغا خان کا ارادتمند تھا اور ان کا عقیدہ تھا کہ اسلامی عبادات یعنی نماز، روزہ وغیرہ غیرضروری ہیںاور قرآن کریم صرف مشرک عربوں کو توحید کی تعلیم دینے کے لئے اتارا گیا تھا، غیرعربوں کے لئے نہیں۔
حضرت سیٹھ صاحب دن رات اپنے وسیع کاروبار میں مشغول رہا کرتے تھے۔ ایک روز کسی نے آپ کو مطالعہ کے لئے ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کا انگریزی ترجمہ دیا۔ اس کتاب کے مطالعہ نے آپ کے دل پر ایسا گہرا اثر کیا کہ آپ نے اپنے خرچ پر کئی نسخے منگوا کر اپنے مسلم اور غیر مسلم دوستوں کو تحفتہً دئیے۔ سب نے ہی کتاب کو بہت سراہا۔ پھر حضرت سیٹھ صاحب نے اپنے خاندان کو بھی اس لطف میں شامل کرنے کے لئے کتاب کا گجراتی زبان میں ترجمہ کیا اور شائع کر کے مفت تقسیم کا اہتمام کیا۔ پھر خان بہادر نواب احمد نواز جنگ سے اس کتاب کے بعض دیگر زبانوں میں تراجم کروا کے شائع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو نواب صاحب نے اس کتاب کا ایک نسخہ نظام دکن کے چیف سیکرٹری نواب سر امین جنگ بہادر کو تبصرہ کے لئے بھجوایا۔ چیف سیکرٹری نے مطالعہ کے بعد مزید تراجم کروانے کی بھرپور تائید کی، چنانچہ مراٹھی، ہندی، گورمکھی، سندھی اور برمی سمیت نو (9) زبانوں میں اس کے تراجم شائع کروائے گئے۔
حضرت سیٹھ صاحب کے والد محترم الہ دین صاحب ایک نیک اور متوکل شخص تھے۔ اُن کی وفات پر لمبا عرصہ ہوچکا تھا۔ حضرت سیٹھ صاحب نے جب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں یہ پڑھا کہ خدا بھی دعاؤں کو سنتا اور ان کا جواب دیتا ہے تو آپ نے اس دعویٰ کو آزمانے کا فیصلہ کیا اور اپنے والد کی حالت جاننے کے لئے دعا شروع کی۔ چند روز بعد آپ نے اپنے والد کو خواب میں دیکھا۔ وہ خوش تھے اور اُن کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی تھی جس کے دو نگینے چمک رہے تھے جبکہ دو سیاہ تھے۔ اس کی تعبیر بعد میں یوں ظاہر ہوئی کہ اُن کے دو بیٹوں نے قبول احمدیت کی سعادت پائی اور دو محروم رہے۔
’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ سے متأثر ہو کر حضرت سیٹھ صاحب نے قرآن کریم کا مطالعہ شروع کیا۔ قرآن کریم کے کمالات جب آپ پر ظاہر ہونے شروع ہوئے تو آپ نے ایک اور کتاب شائع کر کے مفت تقسیم کرنے کا اہتمام کیا جس میں مختلف موضوعات پر آیات کو یکجا کر کے پیش کیا۔
کچھ عرصہ بعد قادیان سے حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب دعوت الی اللہ کے لئے حیدرآباد بھجوائے گے تو حضرت سیٹھ صاحب سے بھی اُن کی ملاقات ہوئی لیکن ان کی تبلیغ کا بھی سیٹھ صاحب پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیٹھ صاحب کے کاروبار میں شراکت دار فرقہ اہلِ حدیث کا ایک عالم تھا۔ تاہم حضرت سیٹھ صاحب نے حضرت عرفانی صاحبؓ کے کہنے پر حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا مطالعہ شروع کر دیا لیکن دل میں ایسا قبض تھا کہ جہاں بھی اسلام کا دیگر مذاہب پر برتری کا اظہار ہوتا، اسے تو شوق سے پڑھتے لیکن جہاں بھی وفات مسیح یا احمدیت کا ذکر ہوتا اسے سرسری نظر سے گزار دیا کرتے۔ چنانچہ متعدد کتب کے مطالعہ کے باوجود آپ حضورؑ کے دعاوی سے نابلد ہی رہے۔
اسی دوران خدا تعالیٰ نے خواب کے ذریعہ سے حضرت مصلح موعودؑ کو نظام دکن کو احمدیت کا پیغام پہنچانے کی تحریک فرمائی۔چنانچہ حضور نے ’’تحفت الملوک‘‘ لکھ کر نظام کو بھجوائی اور سینکڑوں نسخے حیدرآباد میں بھی تقسیم کروائے۔ نیز حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ اور حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ کو بھی حید ر آباد بھجوایا جہاں ان کے کئی لیکچرز ہوئے۔ ایک لیکچر کا اہتمام حضرت سیٹھ صاحب نے اپنی بلڈنگ میں بھی کروایا جس کے بعد آپ ہی کی خواہش پر روزانہ درس القرآن کا آغاز بھی وہاں کر دیا گیا اور اس طرح آپ کی بلڈنگ ریاست میں احمدیہ مرکز بن گئی جبکہ آپ خود ابھی تک احمدی نہیں ہوئے تھے۔ سنی اور شیعہ علماء نے آپ کو احمدیت سے متنفر کرنے کی بہت کوشش کی لیکن انہیں کامیابی نہ ہوئی۔ اسی دوران خواب کے ذریعہ آپ کو اپنے کاروباری شریک سے قطع تعلقی کا اشارہ ملا۔ آپ نے خواب اُسے بتا کر کاروبار علیحدہ کر لیا اور پھر جلد ہی یعنی 9؍اپریل 1915ء کو محترم الحاج میر محمد سید صاحب امیر جماعت حیدر آباد کے ذریعہ بیعت کی سعادت پائی۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آپ کے بیعت کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو خواب کے ذریعہ آپ کے قبول احمدیت کی بشارت دیدی تھی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں