حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ 10؍اکتوبر 1995ء میں حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے محترم مولانا عبدالمالک خان صاحب رقمطراز ہیں کہ حضرت سیٹھ صاحب کو دعوت الی اللہ کا بے حد شوق تھا اور وہ اردو اور انگریزی میں تبلیغی مواد جمع کرکے شائع کرواتے رہتے تھے۔ جب حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر جماعت احمدیہ نے یوم تبلیغ منایا تو کار نشیں سیٹھ صاحب اپنے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بس سٹاپ پر چلے گئے اور بسوں میں ایسے لوگوں میں ٹریکٹ تقسیم کرتے رہے جن کے بارے میں اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مطالعہ کریں گے۔ اسی طرح ایک پادری سے بحث کے دوران آپ نے کہا کہ کیا پوپ اسے اس امر کی گارنٹی دے سکتا ہے کہ میں عیسائی ہوکر ضرور جنت میں جاؤں گا؟ جبکہ جس وجود پر میں ایمان لایا ہوں اس کے ذریعہ مجھے بشارت ملی ہے کہ جو شخص رسالہ ’الوصیت‘ کی شرائط کو پورا کرے گا وہ جنت میں جائے گا، اس بشارت کی روشنی میں مجھے اپنے جنتی ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ یہ بات آپ نے اتنے وثوق اور یقین سے کہی کہ پادری ایک لفظ بھی مزید نہ کہہ سکا۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ 14؍اکتوبر 1995ء کے ایک مختصر مضمون کے مطابق حضرت سیٹھ صاحب نے 1918ء میں چھٹے حصہ کی وصیت کی تھی جسے 32ء میں بڑھا کر تیسرا حصہ کردیا اور حیدرآباد دکن میں اپنی دو منزلہ بلڈنگ جس میں چار دکانیں اور ایک ہال شامل تھا صدرانجمن احمدیہ کے حوالہ کردیا۔
۔ … ٭ … ٭ … ٭ … ۔
حضرت سیٹھ صاحب کی سیرۃ کے بعض پہلوؤ پر روشنی ڈالتے ہوئے مکرم بشیرالدین الہ دین صاحب روزنامہ ’’الفضل‘‘ 21؍اکتوبر 1995ء میں رقمطراز ہیں کہ حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب عظیم داعی الی اللہ اور عالم باعمل تھے۔ جنگ عظیم دوم میں جب سرکاری پابندی لگائی گئی کہ کسی دعوت میں 50 سے زائد افراد نہ بلائے جائیں تو ایک دعوت ولیمہ میں جاتے ہی آپ نے دریافت فرمایا کہ کتنے افراد مدعو ہیں اور یہ علم ہونے پر کہ 150؍افراد بلائے گئے ہیں آپ یہ کہہ کر کھانا کھائے بغیر واپس تشریف لے آئے کہ میں امیر جماعت ہوں اس لئے اس خلاف قانون دعوت میں شریک نہیں ہوسکتا۔
ہر اتوار کو حضرت سیٹھ صاحب کی قیام گاہ کے باہر غرباء اکٹھے ہوا کرتے تھے جن کی ساری زندگی آپ باقاعدگی سے مدد کرتے رہے۔ تقسیم ملک کے بعد آپ کے کاروبار پر 3 لاکھ روپے کا ٹیکس لگایا گیا تو آپ کے دوستوں نے ٹیکس بچانے کے کئی طریقے آپ کو بتائے لیکن آپ نے فرمایا کہ یہ تو جھوٹ ہے، لوگ کہیں گے کہ دعوت الی اللہ کا ڈھنڈورا پیٹتا اور جھوٹ سے منع کرتا تھا لیکن روپیہ بچانے کی خاطر اس نے خود جھوٹ بولا۔… آخری عمر میں کاروبار فروخت کرنے پر آپ کی آمدنی بہت قلیل ہوچکی تھی لیکن آپ باقاعدہ مرکز میں چندہ بھجواتے رہے۔ بہت حلیم الطبع تھے، کئی بار آپ سے شدید دھوکہ کیا گیا لیکن پھر بھی دھوکہ دینے والا اگر ضرورتمند بن کر آتا تو آپ اس کا سوال رد نہ فرماتے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں