حضرت شیخ ظفر احمد صاحب کپورتھلوی رضی اللہ عنہ

سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ 22؍اگست 1941ء میں حضرت شیخ ظفر احمد صاحب کپورتھلوی رضی اللہ عنہ کا نہایت محبت سے ذکر فرمایا جو چند روز قبل وفات پاگئے تھے۔ حضورؓ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لئے دعا کرنا ان پر احسان نہیں ہے بلکہ دعا کرنے والے کا اپنی ذات پر احسان ہے کیونکہ جو ان کے لئے دعا کرتا ہے خدا کے حکم سے اس کے فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ فرشتوں کی دعا تمہاری دعا سے زیادہ سنی جائے گی۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کی نماز جنازہ حضرت مسیح موعودؑ نے بہت لمبی پڑھائی اور فارغ ہوکر فرمایا کہ آج ہم نے اپنی ساری جماعت کے لوگوں کا جنازہ پڑھا دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا بھی یہی مفہوم تھا۔ حضرت اقدسؑ نے وہ کام کیا جو فرشتے کرتے ہیں کہ جماعت کے لوگ خدا کے ایک نیک بندے کے لئے دعا کر رہے تھے تو آپؑ نے ان دعا کرنے والوں کے لئے دعا کرنی شروع کردی۔ یہ خطبہ جمعہ روزنامہ ’’الفضل‘‘ 28؍مئی 1995ء کی زینت ہے۔
ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا جنوری 96ء میں حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کپورتھلوی کے بارے میں محترم شیخ عبدالہادی صاحب کا ’’اصحابِ احمد‘‘ کی مدد سے تیار کردہ مضمون شامل اشاعت ہے۔ حضرت منشی صاحبؓ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا ’’یہ جوان، صالح، کم گو اور خلوص سے بھرا دقیق فہم آدمی ہے …‘‘ آپؓ کی دقیق فہمی اور حاضر جوابی کے کئی واقعات مضمون میں مذکور ہیں۔ حضرت منشی صاحبؓ عدالت میں منشی تھے اور چونکہ کچہری کا کام گھر پر بھی کیا کرتے تھے چنانچہ کچہری دیر سے جایا کرتے۔ ایک نئے مجسٹریٹ نے آپؓ کی شکایت لکھی کہ آپؓ کی کچھ ایام کی تنخواہ کاٹ لی جائے، آپؓ نے وہ چٹھی پھاڑ دی۔ اس پر مجسٹریٹ کو بہت غصہ آیا تو آپؓ نے اسے کہا ’’اگر آپ نے شکایت انتقاماً لکھی ہے تو دوبارہ لکھ لیں اور اگر شریفانہ تنبیہ مطلوب تھی تو وہ ہوگئی ہے‘‘۔ بعد میں اصل بات کا علم ہونے پر آپؓ کو دیر سے کچہری آنے کی اجازت مل گئی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغامات مولوی نذیر حسین دہلوی صاحب کو حضرت منشی صاحبؓ ہی پہنچایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ مولوی صاحب کہنے لگے کہ مجھے ایسی حدیث یاد ہے اگر بتا دوں تو مرزا صاحب کو مدد ملے گی۔ حضرت منشی صاحبؓ نے فرمایا ’’ذرا اس آیت کا مطلب تو سمجھا دیں وَ مَن اَظلم ممَّن کتم شھادۃ عندہ من للہ یعنی اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اس شہادت کو جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے ہو، چھپائے۔
مقدمہ کرم دین کے موقع پر حضورؑ کے ارشاد پر حضرت منشی صاحبؓ شہادت دینے گورداسپور آئے۔ جج کے شاطرانہ سوالات سے مقدمہ پر غلط اثر پڑ سکتا تھا۔ اس نے پوچھا ’’کیا آپ مرزا صاحب پر جان و مال فدا کرسکتے ہیں‘‘۔ ایک وفا دار مرید کا قدرتاً یہی جواب ہوتا کہ بلاشک ہماری جان و مال اس پر قربان ہیں۔ لیکن اس جواب کے نتیجہ میں آپؓ کے سرکاری ملازمت میں ہونے کی وجہ سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی تھیں چنانچہ اس دقیق فہم اور کامل وفادار کا حکیمانہ جواب تھا ’’جان و مال کی حفاظت کے لئے تو ہم نے مرزا صاحب کی بیعت کی ہے‘‘۔
313 ؍اصحاب میں حضرت منشی صاحبؓ کا نواں نمبر ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں