حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍مارچ 2003ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی فیاضی اور مالی قربانیوں کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں کہ میاں شریف احمد صاحبؓ کی زندگی میں عسر و یسر کے متعدد دور آئے اور ہر دَور میں انہوں نے اپنا شاہانہ مزاج قائم رکھا۔ وہ دل کے درویش مگر مزاج کے بادشاہ تھے۔ خرچ پر کنٹرول نہ کرسکنے کی وجہ سے بسااوقات مقروض بھی ہوجاتے مگر ساری عمر شاہ خرچی کے انداز میں فرق نہ آیا۔ آپؓ کی ولادت کے موقع پر ہونے والا الہام ’’وہ بادشاہ آتا ہے‘‘ آئندہ زندگی میں پورا ہوا۔
حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ بیان فرماتی ہیں کہ خود مقروض رہ کر بھی غریبوں کی مدد کرتے لیکن اپنی زندگی سادگی میں گزاردی، کپڑے پھٹ جاتے مگر پرواہ نہ کرتے، جیسا ہوا پہن لیا۔
حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد ہم ماڈل ٹاؤن لاہور میں ٹھہرے، وہاں ایک پان فروش بھی تھا۔ وہ ایک روز آپؓ کے بارہ میں پوچھنے لگا۔ مَیں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اُس نے بتایا کہ ایک دن آپؓ دوکان پر تشریف لائے اور حال پوچھا تھا، مَیں نے عرض کیا کہ کساد بازاری ہے۔ آپؓ نے جیب سے سو روپیہ نکال کر دیا اور چل دیئے۔ مَیں نے پوچھا: واپس کب کروں؟ فرمایا: لینے کے لئے دیئے کب تھے!۔
مکرم چودھری سعید احمد عالمگیر صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک روز دفتر میں ایک حافظ قرآن نجی کام سے تشریف لائے تو آپؓ نے اُن سے قرآن سننے کی خواہش ظاہر کی۔ جب وہ تلاوت کرچکے تو آپؓ نے وداع کرتے وقت دس روپے کا نوٹ چپکے سے اُن کے ہاتھ میں تھمادیا۔ اسی طرح کئی بچوں کو سکول کی کتابیں آپؓ خرید کر دیتے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی محبت جذب کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ آپؓ سائل کو اُس کی توقعات سے بڑھ کر دیتے اور قرض لے کر بھی مدد فرماتے۔ سلسلہ کے کئی بزرگوں کو دعا کے لئے لکھتے تو درخواست کے ساتھ اشیاء یا نقدی کا تحفہ ضرور بھجواتے۔ اگر کوئی مزارع گندم لینے کوٹھی پر آجاتا تو اُسے کم از کم ایک من گندم کی قیمت دیدیتے۔ کوئی میلے کپڑوں والا مل جاتا تو اُسے صابن خریدنے کے لئے پیسے دیدیتے۔ حاجت مندوں سے کرید کرید کر دریافت فرماتے اور اپنی ضرورتوں کو اُن کی خاطر ملتوی کردیتے۔ کوئی مسافر مل جاتا تو خود مہمانخانہ میں لاتے اور اُس کی رہائش کا انتظام فرماتے۔
مکرم نیک محمد خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ کئی بار سفر کے دوران کسی نے سوال کیا تو آپؓ نے جیب میں ہاتھ ڈالا، جو بھی ہاتھ میں آیا، اُسے دیدیا۔ آپؓ ہر ماہ اپنے افسروں کو ایک بار دعوت طعام ضرور دیتے۔ جب فوج میں تھے تو قرض لینے والوں کا تانتا بندھا رہتا۔ ایک بار مَیں نے عرض کیا کہ میرے پاس کوئی پیسہ نہیں تو مجھے کسی کے پاس لے گئے اور فرمایا کہ یہ جتنے روپے مانگیں، میرے حساب میں انہیں دیدیا کرو۔ آپؓ نے مردخان صاحب سے ٹیکنیکل کام سیکھا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ مَیں نے اتنا سخی آدمی اپنی عمر میں نہیں دیکھا۔ ایک بار کارخانہ تشریف لائے تو مستری سے گزشتہ روز غیرحاضری کا سبب دریافت کیا۔ اُس نے بتایا کہ بیوی بیمار ہے اور ڈاکٹروں نے امرتسر لے جانے کو کہا ہے۔ آپؓ نے اُسے ایک سو روپے دیدیئے۔
بعض نئے دوکانداروں کی امداد اُن سے بظاہر ضرورت سے زیادہ سودا خرید کر کیا کرتے تھے۔مکرم چودھری ظہور احمد صاحب آڈیٹر بیان کرتے ہیں کہ قادیان میں بارش اور آندھی کے بعد آپؓ باہر نکلتے اور جن غرباء کے مکانوں کو نقصان پہنچتا، اُن کی خفیہ امداد فرماتے۔ میرے ایک مددگار کارکن کا بارش سے مکان گرگیا تو مکان کی دوبارہ تعمیر کا سارا خرچ آپؓ نے برداشت کیا اور میٹیریل بھی عمدہ لگوایا۔
مکرم سید مبارک احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپؓ بعض افراد کی اس طرح مدد فرماتے کہ کسی دوسرے کو اس کی اطلاع نہ ہوسکتی۔ میرے ذریعہ سے ایک بیوہ کی 25؍روپے ماہوار مدد فرمایا کرتے تھے۔ مکرم ڈاکٹر احسان علی صاحب کی دوکان پر اکثر جاتے جس کا مقصد غرباء کی امداد ہوتی۔ ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپؓ نے بیسیوں غریب مریضوں کے علاج کا خرچ برداشت کیا اور مریضوں کی سہولت کے لئے دوکان میں پنکھا بھی لگوایا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/LP5nS]

اپنا تبصرہ بھیجیں