حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16 و 17 دسمبر 2011ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ سے متعلق ذاتی یادداشتوں پر مبنی مکرم چوہدری رشیدالدین صاحب کا ایک تفصیلی مضمون شامل اشاعت ہے۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ اکتوبر 1957ء کی ایک سہ پہر شاہد کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہم چند طالبعلم نظارت اصلاح وارشاد میں آکر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب (ایڈیشنل ناظر)کی خدمت میں برائے رپورٹ حاضر ہوئے۔ آپ نے بخاری شریف سے باری باری ہمیں ایک حدیث پڑھنے اور اس کا ترجمہ سنانے کا حکم دیا ۔ پھر مختصر گفتگو کے بعد آپ نے باقی احباب کو مختلف نظارتوں میں بھجوادیا اورخاکسار کو اپنے دفتر میں ہی خدمت کا ارشاد فرمایا۔ اس طرح مجھے قریباً ایک سال تک آپ کی شفقت اور احسان کا مورد بننے کا موقع نصیب ہوا۔ اور اس عرصہ میں آپ کی طرف سے لطف و احسان کاجو سلسلہ شروع ہواوہ آپ کے حین حیات جاری رہا ۔
دفتر میں آپ کے کام کا طریق کار یہ تھا کہ صبح وقت پر تشریف لاکر ڈاک وغیرہ ملاحظہ فرماتے اور حسب ضرورت احکام صادر فرماتے ۔جو چٹھیاں جواباً لکھوانی ہوتیں وہ مجھے املاء کرواتے۔ اس دوران آنے والے احباب کو شرف ملاقات بھی بخشتے۔ جب اس دن کا پیش کردہ کام ختم ہو جاتا تو مجھے ارشاد ہوتا کہ اخبار پاکستان ٹائمزاور پہلے سے معین شدہ کوئی کتاب لے کر آپ کے ساتھ چلوں اور راستہ میں سناتا جاؤں۔ ہم چلتے چلتے دریائے چناب کے قریب پہنچ جاتے اور پھر اسی راستہ سے واپس دفتر آ جاتے ۔ یا اگر زیادہ دیر ہو گئی ہوتی تو سیدھے گھر کو چلے جاتے۔ دفتر میں آپ لمباوقت بیٹھ نہیں سکتے تھے ۔اس کا موجب آپ کو اعصابی دردوں کا عارضہ تھا جو بے چین کئے رکھتا ۔جن دنوں ان کا دورہ تیز ہوتا وہ دن بڑے کرب اور دکھ میں گزرتے ۔آپ کی عمر کے آخری بیس اکیس سال اسی طرح تکلیف میں بسر ہوئے ۔وفات سے تین سال قبل دل کا عارضہ بھی لاحق ہوگیا۔ ان تکلیفوں کے باوجود آپ کے چہرہ پر دلفریب مسکراہٹ ہمیشہ قائم رہتی اور ملاقات کرنے والوں کو آپ کی طبیعت ہشاش بشاش محسوس ہوتی۔ آپ اپنے دکھ اور آزار کا اظہار نہ ہونے دیتے ۔اس تکلیف میں چلنے پھرنے سے افاقہ ہوتا اس لئے آپ خاصہ وقت چلتے ہوئے گزارتے۔ تاہم دفتر کا کام ہر روز پورا کرتے۔ اگر کوئی معاملہ یا فائل لمبی ہوتی تو وہ بھی چلتے ہوئے یا گھر پہنچ کر سن لیتے۔
آپؓ حضرت مسیح موعودؑ کی مبشر اولاد میں سے تھے۔ جس کی بشارت حضورؑ کو 1894ء میں مولوی عبدالحق غزنوی کے مقابل پر خدا تعالیٰ نے اپنی نصرت اور تائید کے طور پر دی تھی۔ اور پھر کئی اور بشارتیں بھی حضرت مسیح موعودؑ کو دیں جو اپنے وقت میں پوری ہوئیں اور آپؓ کی عمر و دولت میں غیرمتوقّع طور پر بہت برکت دی گئی۔ حضورؑ کی دعا قبول کرتے ہوئے ناامیدی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو کامل شفا عطا فرمائی اور غیرمتوقّع طور پر عمر بڑھادی۔ اور جنگ عظیم کے دوران سپلائی کے کام میں اور پھر قادیان میں کارخانہ لگانے کے نتیجہ میں آپؓ کو غیرمعمولی مالی کشائش حاصل ہوئی۔
حضورعلیہ السلام نے ایک کشف میں آپؓ کے متعلق کہا تھا کہ ’اب تُو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں‘۔ آپؓ کے بارہ میں حضرت مسیح موعودؑ نے یہ رؤیا بھی دیکھا کہ آپؓ نے پگڑی باندھی ہوئی ہے اور ایک آدمی نے آپؓ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ بادشاہ آیا۔ دوسرے نے کہاکہ ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے۔ فرمایا قاضی حَکَم کو بھی کہتے ہیں۔ قاضی وہ ہے جو تائید حق کرے اور باطل کو ردّ کرے۔
خواب میں پگڑی دیکھنا عزت اور مرتبہ حاصل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اس رؤیا کا ایک حصہ آپ کے قاضی بننے کی پیش خبری ہے جو لفظاً اور مفہوماًدونوں طرح پوری ہوئی اور آپؓ نظام سلسلہ کے ماتحت ایک دفعہ قاضی بھی مقرر ہوئے تھے۔ اس زمانہ میں مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ سابق امیر جماعت احمدیہ لاہور بھی قاضی تھے۔ دونوں نے کئی کیس اکٹھے سنے۔ مکرم شیخ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت میاں صاحب کو نہایت صائب الرائے پایا۔ آپ بہت جلد حقیقت کو پا لیتے تھے اور پھر اپنی رائے پر مضبوطی سے قائم ہو جاتے تھے۔ غلط نرمی اور سختی سے پوری طرح بچ کر انصاف کے ترازو کو کماحقہ قائم رکھتے تھے۔
’وہ بادشاہ آیا‘ کے بارہ میں ہر وہ شخص گواہی دے سکتا ہے جس کو آپ سے واسطہ پڑا ہو یا اس نے آپ کو قریب سے دیکھا ہو۔ آپ پورے طور پر شاہانہ مزاج کے مالک تھے ۔خرچ کرتے یا خیرات کرتے وقت آپ یہ نہیں سوچتے تھے کہ میرے پاس کچھ باقی بچتا بھی ہے کہ نہیں۔ خود خاکسار نے دیکھا ہے کہ گول بازار ربوہ میں سے گزرتے یا راہ چلتے کوئی محتاج یا سوالی سامنے آ جاتا تو آپ فوراً جیب میں ہاتھ ڈالتے اور پانچ دس یا بیس روپے جو ہاتھ میں آتا اسے عنایت فرما دیتے اور ایسے بھی کئی مرتبہ دیکھا کہ ہاتھ میں سو روپے کا نوٹ آ گیا ہے تو وہی اسے تھما دیا اور لینے والا پریشان ہو گیا کہ یہ حقیقت ہے یا خواب دیکھ رہا ہوں کیونکہ اس وقت ساٹھ ستر روپے تو کارکن کی تنخواہ ہوتی تھی۔
پھر آپ کا شاہانہ مزاج صرف دادو دہش تک محدود نہ تھا بلکہ دیگر امور میں بھی اس کا اظہار ہوتا تھا۔ میرا اپنا واقعہ ہے کہ جنوری 1960ء میں میری شادی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ مجھے رخصت کی ضرورت تھی لیکن مجھے استحقاق حاصل نہ تھا۔ میں پریشان تھا کہ کیا کیا جائے ۔ایک دن میں نے اپنی اس مشکل کا حضرت میاں صاحب سے ذکر کر دیا۔ آپ نے فرمایا: تمہیں کتنی رخصت درکار ہے۔ وہ وقت بھی عجیب تھا۔ میں نے کہہ دیا کہ دو اڑہائی ماہ تو لگ جائیں گے۔ آپؓ نے مسکراتے ہوئے فرمایا اچھا جاؤ اور شادی کرو لیکن ایک بات یاد رکھنا کہ جب تمہیں استحقاق حاصل ہوجائے تو اڑہائی ماہ کی رخصت آپ نہ لیں۔ اب یہ فیصلہ شاہی مزاج کا مالک ایک بلند مرتبہ شخص ہی کر سکتا ہے، یہ ایک عام افسر کے بس کی بات نہ تھی۔
یہ امربھی مسلمہ ہے کہ کسی شخص کے متعلق کوئی پیشگوئی بعض اوقات اس کی اولاد کے ذریعہ سے پوری ہوجاتی ہے۔ اس لحاظ سے حضرت مسیح موعودؑ کے کشوف میں بیان کردہ بعض باتیں آپؓ کے فرزند حضرت مرزا منصور احمد صاحب اور بعض آپؓ کے عالی مقام پوتے حضرت مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ کے ذریعہ پوری ہو رہی ہیں۔
حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب 24مئی 1895ء کو پیدا ہوئے۔ سات سال کی عمر میں قرآن مجید پڑھ لیا۔ ظاہری تعلیم کے لحاظ سے آپ نے التزام کے ساتھ کچھ زیادہ دنیاوی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے درسوں میں شامل ہوتے رہے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضورؓ کی خاص توجہ آپؓ کو حاصل تھی۔ حضرت منشی نورمحمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ہم سترہ اٹھارہ آدمی حضرت خلیفۃ المسیح الاوّ لؓ کی مجلس علم و عرفان میں بیٹھے تھے کہ آپ پر خاص حالت طاری ہوئی ۔ حضور نے فرمایا دیکھو تمام لوگ مجلس میں موجود ہیں؟ عرض کیا گیاکہ میاں شریف احمد صاحب ابھی اٹھ کر باہر گئے ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ انہیں فوراً بلائیں ۔آپ اسی حالت میں انتظار میں رہے ۔ جب میاں صاحب واپس تشریف لائے تو حضورؓ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اوربہت تضرّع سے دعا کی۔ دعا سے فارغ ہوکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی تھی کہ اس وقت مجلس میں شامل لوگ جنتی ہوں گے اس لئے میں نے چاہا کہ ہماری اس مجلس کا کوئی ساتھی باہر نہ رہ جائے۔
قادیان میں جو پہلی مربیان کی کلاس جاری ہوئی اس میں حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ بھی شامل ہوئے۔ بیرون ملک آپؓ نے جامعہ ازہر مصر میں چھ ماہ تک تعلیم حاصل کی۔ ظاہری تعلیم تو یہی تھی لیکن آپ کے تبحر علمی کو دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر آپ کو دینی و دنیوی علوم سے نوازا تھا۔ قرآن مجید، حدیث اور علم کلام سے آپ کو خاص لگاؤتھا۔ کئی دفعہ آپ نے رمضان کے دوران مسجد مبارک میں بخاری شریف کا درس دیا۔ علمی نکات کے علاوہ سامعین ایک خاص روحانی اثر بھی محسوس کرتے تھے ۔غرض آپ ایک جلیل القدر عالم تھے۔ دنیوی علوم کے لحاظ سے آپ کو تاریخ سے دلچسپی تھی۔ فوج اور صنعت وحرفت کے علوم پر دستر س حاصل تھی ۔قادیا ن میں آپ کا کارخانہ بڑا کامیاب تھا ۔کچھ نئی مصنوعات بھی تیار کی تھیں جو بڑی مقبول ہوئیں۔ تقسیم ملک کی وجہ سے وہ کارخانہ ختم ہو گیا ۔
آپؓ انگریزی اور عربی زبانوں میں خاص قابلیت رکھتے تھے۔ مجھ سے انگریزی اخبار سنتے تو میری اصلاح فرماتے۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ آپؓ بیک وقت دو اشخاص کی طرف توجہ دے سکتے تھے۔ دونوں کی باتیں اچھی طرح سنتے، سمجھتے اور بوقت ضرورت جواب دیتے۔ مَیں جب چلتے ہوئے آپ کو اخبار سناتا تو کئی دفعہ رستہ میں کوئی شخص آپ سے ملتا اور باتیں شروع کر دیتا۔ میں اس خیال سے کہ آپؓ کی توجہ اُس کی طرف ہے اخبار پڑھنا بند کر دیتا لیکن آپؓ فرماتے کہ تم پڑھتے جاؤ، مَیں اس کی باتیں اور اخبار دونوں بخوبی سن سکتا ہوں۔ مجھے خیال ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے! ۔ ایک دن میں نے آزمانے کے لئے وقفہ وقفہ سے چند الفاظ غلط پڑھے۔ آپؓ نے ہر دفعہ مجھے ٹوکا اور اصلاح فرمائی۔ یہ آپ کی غیر معمولی ذہانت اور کمال تھا۔
بعض اوقات آپ کوئی کتاب مجھے عنایت فرماتے یا یہ ارشاد ہوتا کہ فلاں کتاب لائبریری سے حاصل کرکے اس کا خلاصہ بناکر مجھے سنا ؤ۔ ان میں سے اکثر کتب شیعہ مذہب سے متعلق ہوتی تھیں۔ ایک دن میں نے عرض کیا کہ آپ کو شیعہ مذہب سے اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ فرمایا کہ تمہیں علم نہیں کہ میرے سسرال والے سارے شیعہ ہیں۔ آپؓ کی شادی حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کی صاحبزادی بوزینب بیگم سے ہوئی تھی۔ حضرت نواب صاحبؓ کے بھائی اور دیگر عزیز شیعہ تھے۔ فرمایا اُن سے ملاقات ہو جائے تو اُن سے بحث بھی کرنی پڑتی ہے۔
آپؓ کو تعبیر الرؤیا کے علم سے بھی دلچسپی تھی اور اس بارہ میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔
آپؓ کی عام معلومات بہت وسیع تھیں۔ جوتوں کے بارہ میں کئی معلومات مجھے دیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ احمدیہ ٹیریٹوریل فورس کے سلسلہ میں جب آپؓ بطور فوجی افسر انبالہ میں مقیم تھے تو اُس وقت انبالہ کینٹ میں باٹا شو کمپنی کی دکان کے مینیجر ایک احمدی نوجوان مکرم احتجاج علی زبیری صاحب مقرر تھے ۔ حضرت میاں صاحبؓ فارغ وقت میں کبھی کبھی اُن کی دکان پر تشریف لے جاتے اور کچھ دیر کے لئے وہاں بیٹھ جاتے ۔ آپ کی رہنمائی سے ان کی Sale چند ماہ میں کئی گُنا بڑھ گئی۔ اس کامیابی پر کمپنی نے انہیں مبارکباد کا تار دیا اور باٹا گزٹ میں ان کا فوٹو شائع کیا۔
اُن کا بیان ہے کہ کمپنی نے مجھے ہوشیار مینیجر سمجھ کر کینوس کے مردانہ پمپ شُو بھیج دیئے جو غالباً کہیں بکتے نہ تھے۔ اُن کا سائز چھوٹا تھا لہٰذا یہاں بھی ان کو کوئی خریدتا نہ تھا ۔ان کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی ۔میں پریشان ہو گیا کہ اس ناکامی کی وجہ سے میری کرکری ہو جائے گی۔ ایک دن میں نے اپنی اس پریشانی کا ذکر حضرت میاں صاحب سے کر دیا اور وہ جوتا بھی آپ کو دکھایا۔ ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایک انگریز لڑکی آئی اور ٹینس شُو مانگا۔ چونکہ یہ میرے پاس نہیں تھا میں نے معذرت کر دی۔ جب وہ واپس جانے لگی تو حضرت میاں صاحب نے اسے کہا کہ کل اسی وقت آ کر لے جانا۔ مَیں حیران کہ کل جب یہ آئے گی تو مَیں اسے کیا کہوں گا ۔آپ نے فرمایا کہ پریشان کیوں ہوتے ہو، ابھی جوتا تیار ہوجائے گا۔ آپ نے میرے موچی کو بلاکر فرمایا کہ اس کینوس کے مردانہ شُو پر نیلی گوٹ کے ساتھ ایک سفید فیتہ اور بٹن لگا دو۔ موچی نے آپ کی نگرانی میں فوراً ایسا کر دیا۔ اب وہ خوبصورت اور نفیس زنانہ ٹینس شُو بن گیا۔ اس مردانہ جوتے کی قیمت اس وقت بارہ آنے تھی جبکہ اس زنانہ ٹینس شُو کی قیمت ایک روپیہ دو آنے تھی۔ حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ اس لڑکی سے جوتے کی قیمت ایک روپیہ دو آنے وصول کرنا۔ دوسرے دن وہ لڑکی آئی تو اسے جوتا پسند آیا وہ خوشی خوشی لے گئی۔ پھر دکان پر لڑکیوں کا تانتا بندھ گیا۔ وہ جوتا اتنا مقبول ہوا کہ دوسرے دکاندار بھی ہول سیل ریٹ پر خرید کر لے گئے اور تھوڑے دنوں میں وہ تما م سٹاک ختم ہو گیا۔
حضرت میاں صاحب نے اس موقع پر مکرم زبیری صاحب کو لطیف انداز میں دیانتداری کا سبق بھی سکھایا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ چند دن بعد ایک روز مجھ سے پوچھا کہ وہ جو قیمت میں فرق تھا یعنی چھ آنے فی جوڑا وہ آپ نے کیا کیا؟ مَیں نے کہا کہ وہ رقم میں نے علیحدہ رکھی ہوئی ہے لیکن کمپنی کو ابھی تک نہیں بتایا جبکہ کمپنی کو بارہ آنے کے حساب سے رقم روانہ کر دی ہے۔ حضرت میاں صاحب نے فرمایا یہ دیانتداری کے خلاف ہے۔ آپ تمام رقم فوراً کمپنی کو بھیج دیں اور تفصیل لکھ دیں کہ اس طرح پرانا سٹاک زیادہ قیمت پر فروخت کر دیا گیا ہے۔ مَیں نے فوراً آپ کی اس نصیحت پر عمل کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ہفتہ کے اندر باٹانگر کلکتہ سے ایک بڑا افسر ہمارے ہاں پہنچ گیا اور بتایا کہ کمپنی آپ کے کام اور خصوصاً آپ کی ایمانداری سے بہت خوش ہے ۔ کمپنی نے ایک ہزار روپیہ انعام دیا ہے اور کیا آپ ٹریننگ کے لئے چیکوسیلواکیہ جانا پسند کریں گے؟
مکرم زبیری صاحب نے موقع ملتے ہی حضرت میاں صاحبؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر تمام قصہ انہیں سنایا۔ آپؓ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ میں جب کسی احمدی کو تجارت کرتے دیکھتا ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ وہ دیانتداری سے کام کرے۔ ترقی تو خود بخود ہو گی کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کا پیشہ پسند فرمایا ہے۔
حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ کی عمر کا ایک حصہ فوج میں گزرا۔ جوانی میں آپؓ مناسب قدکاٹھ، وجیہ شکل و صورت ، سڈول اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔ ایک جوان رعنا تھے۔ انگریز کے زمانہ میں جب آپ کے فوج میں جانے کا فیصلہ ہوا تو آپ کو بطور لیفٹیننٹ برما کمپنی میں خوش آمدید کہا گیا۔ ڈیرہ دُون میں آپ نے صوبیدار مدد خان سے ٹریننگ حاصل کی ۔ انہوں نے ڈیڑھ مہینہ کے بعد ہی اپنے انگریز کرنل سے کہا کہ ان کو مزید ٹریننگ کی ضرورت نہیں۔ جو کچھ یہ جانتے ہیں میں بھی نہیں جانتا یہ تو اب مجھے پڑھاتے ہیں۔ ایسا فہم وذکارکھنے والا شخص مَیں نے آج تک نہیں دیکھا ۔تھوڑے عرصہ میں ہی آپ کی ذہانت اور وجاہت کی وجہ سے فوج میں آپ کی عزت اور وقار قائم ہوگیا۔ افسر اور جوان ہرکوئی آپ کی تکریم کرتا تھا۔ جب احمدیہ ٹیریٹوریل فورس قائم ہوئی تو آپ کا رینک کیپٹن ہوچکا تھا۔اس زمانہ کا ایک واقعہ محترم ڈپٹی محمد شریف صاحب (ریٹائرڈ E.A.C) بیان کرتے ہیں کہ 1930ء میں جب حضرت میاں صاحبؓ انبالہ چھاؤنی میں مقیم تھے اور مَیں انبالہ شہر میں مجسٹریٹ درجہ اوّل متعین تھا۔ ایک دن احمدیہ ٹیریٹوریل فورس اور کرسچن ٹیریٹوریل فورس کے درمیان فٹ بال میچ کھیلا گیا۔میاں صاحب ٹیم کے کپتان کے طور پر فُل بیک کی جگہ پر کھڑے تھے۔ عیسائی ٹیم کا کپتان بڑا قوی ہیکل جوان تھا۔ میچ شروع ہوا تو عیسائی کیپٹن نے کھیلتے ہوئے پورے زور سے حضرت میاں صاحب کو شولڈر مارا لیکن آپ مضبوط چٹان کی طرح اپنی جگہ قائم رہے۔تھوڑی دیر بعدموقع ملنے پر پھر اس نے ایسا ہی کیا تاہم میاں صاحب اپنی جگہ قائم رہے مگر اسے کچھ نہیں کہا۔ آخر جب تیسری دفعہ اس نے آپ کو شولڈر مارا تو آپؓ نے اپنے کندھے کو خفیف سی حرکت دی جس سے وہ پرے جا گرا اور اسے سخت چوٹ آئی۔ اور میدان سے باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد احمدیہ ٹیم کو کھیل میں فتح حاصل ہوگئی۔
کچھ عرصہ بعد حکومت کی طر ف سے حضرت میاں صاحب کو ریکروٹنگ آفیسر مقرر کر دیا گیا۔ آپ نے بڑی کامیابی سے یہ کام سر انجام دیا۔ اس سلسلہ میں آپؓ ضلع سرگودھا میں ہمارے گاؤں میں بھی تشریف لائے تھے۔
حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ کو اپنی زندگی میں قید و بند کی آزمائش سے بھی واسطہ پڑا ۔1953ء میں آپ نے دو ماہ قید سخت کاٹی۔ اس عرصہ میں آپ کے چہرہ پر کسی قسم کی گھبراہٹ یا پریشانی نظر نہیں آئی۔ آپؓ ہشاش بشاش اور مطمئن نظر آتے تھے اور ساتھی قیدیوں کو دلچسپ اور ایمان افروز باتیں سنا کر ان کا حوصلہ بلند کرتے رہتے تھے۔ واقعہ یہ ہوا کہ 1953ء میں آپؓ کے پاس لاہور میں اسلحہ سازی کا ایک کارخانہ تھا جو گورنمنٹ سے باقاعدہ لائسنس یافتہ تھا ۔پاکستانی فوج اپنی ضرورت کے لئے اس کارخانہ سے کچھ کرچیں بنوانا چاہتی تھی۔ انہوں نے نمونہ کے طور پر ایک کرچ بھجوائی کہ اس کے مطابق کرچیں تیارکروادی جائیں۔ اس سلسلہ میں جو خط و کتابت محکمہ فوج سے ہوئی وہ تمام حضرت صاحبزادہ صاحب کے پاس موجود تھی اور وہ پیش کر دی گئی لیکن اس کے باوجود یکم اپریل 1953ء کو ناجائز طور پر کرچ رکھنے کے الزام میں آپ کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر فوجی عدالت نے مارشل لاء کے تحت آپ کو ایک سال قید سخت اور پانچ ہزار جرمانہ کی سزا سنادی۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور آپ دو ماہ بعد ہی رہا کر دیئے گئے۔ قید سخت میں دو ماہ کا عرصہ گزارنا بھی کوئی معمولی بات نہیں ۔ آپ کے قید کے ایک ساتھی مکرم محمد بشیر زیروی صاحب کا بیان ہے کہ: عمر کے لحاظ سے حضرت میاں شریف احمد صاحب ہم سب میں بڑے تھے اور صحت کے لحاظ سے بھی کمزور مگر حوصلہ کے اعتبار سے ازحد مضبوط و مستحکم … ہمیں نصیحت فرماتے کہ بیٹا ہم خداتعالیٰ کی خاطر یہاں آئے ہیں ۔یہ ہمارے ایمانوں کی آزمائش ہے اگر ہم آزمائش میں پورے نہ اترے تو ہم جیسا بد نصیب کوئی نہ ہو گا ۔اور اگر اس آزمائش میں کامیاب ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں گے۔ اگر ہم نے جھوٹ بولا تو اس کی نصرت سے محروم ہو جائیں گے۔ خواہ کتنی بڑی سزا مل جائے مگر سچ کا دامن کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑنا‘‘۔
حضرت صاحبزادہ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے زبردست روحانی قوت عطافرمائی تھی اور آپ کی توجہ بڑی اثرانگیز تھی۔ محترم ڈپٹی محمد شریف صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت میاں صاحب اور ہم جوانی کے زمانہ میں اکٹھے شکار کے لئے جایا کرتے تھے۔ آپ کا نشانہ بے خطا تھا۔ کئی دفعہ آپ نے دور سے ہی فائر کر کے ہرن اور اڑیال وغیرہ جانور مار گرائے۔ ایک دفعہ ہم شکار کے لئے شیخوپورہ کے ساتھ جنگل میں گئے۔ ایک جگہ ہمیں جھونپڑی نظر آئی جس کے اندر ایک بوڑھا سکھ شدید درد سے تڑپ رہا تھا۔ اس نے علاج کے لئے بہت سے تعویذ باندھ رکھے تھے۔ اس نے بتایا کہ کئی دن سے اس کا یہی حال ہے۔ اُس کی حالت دیکھ کر ہمیں بڑا ترس آیا اور مَیں نے حضرت میاں صاحبؓ سے دعا کے لئے عرض کیا۔ آپؓ نے زیر لب کچھ دعائیں پڑھنے کے بعد اس پر دَم کیا ۔ مَیں نے عجیب کرشمہ دیکھا کہ اسے فوراً آرام آ گیا اور وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر حضرت میاں صاحب کا شکریہ ادا کیا اور دعائیں دیں اور پھر اس نے اس ویرانہ میں اپنے غریبانہ انداز پر ہماری بہت خاطر مدارات کی۔
اسی طرح محترم خلیفہ صلاح الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت میاں صاحبؓ سفر میں کسی کے ہاں رات کو مہمان ٹھہرے۔ آ پ کو جلد ہی احساس ہوا کہ گھر والے پریشان ہیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کا بچہ گم ہو گیا ہے اور پوری تلاش اور دوڑ دھوپ کے باوجود اب تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس خبر سے آپ کو صدمہ ہوا آپ گھر والوں کی پریشانی اور قلق کے پیش نظر سو نہ سکے اور دعا میں لگ گئے ۔قریباً نصف رات کے وقت آپ نے اہل خانہ کو بتا یا کہ اللہ تعالیٰ نے کشفاً مجھے خبر دی ہے کہ آپ کا بچہ خیریت سے ہے اور ایک معمر شخص اسے گھر پہنچانے آیا ہے۔ آپ نے گھر والوں کو تسلی دی۔ اس سے ان کی جان میں جان آئی اور اطمینان ہوا ۔ حضرت میاں صاحب ؓ کو بھی کچھ آرام کا موقع مل گیا۔ صبح جب آپ روانہ ہونے والے تھے تو ابھی تک بچہ گھر نہیں پہنچا تھا ۔ آپ کی روانگی کے لئے تیاری دیکھ کر گھر والوں کی پریشانی عود کر آئی ۔یہ دیکھ کر حضرت میاں صاحب پھر دعا میں مشغول ہو گئے ۔آپ نے دعا کی کہ اے قادر مطلق خدا ! میں اہل خانہ کو اس حالت میں چھوڑ کر سفر پر روانہ نہیں ہو سکتا تُو فضل فرما …۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ایک عمر رسیدہ شخص بچہ کے ساتھ گھر پہنچ گیا۔
حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کا ایک خاص وصف سادگی اور انکساری تھا۔ کوئی تکلف نہیں تھا۔ ہر کوئی جب چاہتا آپ سے ملاقات کرلیتا۔ آپ عام آدمی کی طرح زندگی گزارنا پسند کرتے تھے۔ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ریلوے سٹیشن کے قریب بڑے لنگر خانہ میں خاکسار کی سالن پکوائی پر ڈیوٹی تھی۔ ایک دن مغرب کے بعد میاں صاحب ایک دو ساتھیوں کے ساتھ لنگر خانہ میں تشریف لائے اور مجھے ارشاد فرمایا کہ کھانا کھلاؤ۔ ہم میز کرسی کے لئے دوڑ دھوپ کرنے لگے تو فرمایا اس کی ضرورت نہیں ہم زمین پر بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔ چنانچہ آپؓ بے تکلفی سے ایک گرم چولہے کے پاس اکڑوں بیٹھ گئے۔ میں نے آلو گوشت کا سالن ایک چھوٹی بالٹی میں ڈال دیا ۔ تازہ روٹی اور پیالے ساتھ رکھ دیئے۔ آپ روٹی سے لقمہ توڑتے، اسے اچھی طرح شوربے میں ڈبو کر نرم کرتے اور نوالہ منہ میں ڈال لیتے ۔آپ نے بے تکلف انداز میں سیر ہو کر کھانا کھایا ۔ پھر فرمایا کہ یہ کھانا تو گھر پر بھی میسر آ سکتا ہے لیکن حضرت مسیح موعودؑ کے لنگر میں بیٹھ کر کھانے کا لطف کچھ اَور ہی ہوتا ہے۔
مکرم مستری محمد عبداللہ صاحب نلکاساز ربوہ حضرت میاں صاحب کی سادگی اور کفایت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں جب آپؓ نے توشہ دان کھولا تو اس میں صرف پراٹھے اور ابلے ہوئے آلو تھے ۔ ایک دوسرے سفر میں میری غلطی سے سالن بہت تھوڑا تھا لیکن آپؓ نے ذرا بھی برا نہ منایا اور خوش خوش اس سالن کو چٹنی کی طرح استعمال کرلیا۔
حضرت میاں صاحب کی شخصیت ایسی تھی کہ آپ کی موجودگی میں دفترکا ماحول باوقار اور سنجیدہ ہوتا۔ تاہم آپ سخت گیر افسر نہ تھے۔ موقع اور محل کے مطابق آپ لطیف مزاح بھی کر لیتے تھے جس سے ہم محظوظ ہوتے۔ ایک دفعہ ایک جماعت کی طرف سے اطلاع ملی کہ سمجھانے کے باوجود ایک احمدی باپ اپنی بیٹی کا رشتہ اپنے غیرازجماعت رشتہ داروں میں کر رہا ہے اس لئے مرکز سے کسی مربی کو یہاں بھجوایا جائے جو اپنے وعظ و نصیحت اور بزرگانہ اثر سے انہیں اس کام سے باز رکھ سکیں۔ اسی اثناء میں ایک مربی صاحب دفتر میں تشریف لے آئے۔ مَیں نے عرض کیا کہ جس بزرگ کی ہمیں تلاش تھی وہ خود یہاں پہنچ گئے ہیں۔ یہ بزرگ شادیوں کے سلسلہ میں شہرت رکھتے تھے۔ حضرت میاں صاحبؓ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ ہیں تو مناسب اور انشاء اﷲ اس کام میں کامیاب بھی رہیں گے لیکن ان کے متعلق ایک ڈر ہے کہ کہیں اپنی درخواست نہ پیش کر دیں۔ اس پر سب مسکرانے لگے۔ یہ بزرگ بھی خوش مزاج تھے اور کسی زمانہ میں کلاس فیلو ہونے کی وجہ سے حضرت صاحبزادہ صاحبؓ سے بے تکلف تھے۔ فوراً عرض کیا کہ حضرت! لوگ میرے متعلق ایسی باتیں تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اگر دوسرا فریق خود اس بات پر اصرار کرے تو پھر مَیں کیا کر سکتا ہوں۔ اس خوشگوار ماحول سے سب نے حظ اٹھایا۔
ربوہ سے باہر چلے جانے کے بعد جب جلسہ سالانہ کے موقع پر خاکسار ربوہ آتا تو پھر کچھ دن میاں صاحب کے قرب کا موقعہ مل جاتا۔ایک دفعہ جب کہ میری تقرری کوئٹہ میں تھی اور خاکسار جلسہ سالانہ کے لئے ربوہ آیا تو جلسہ کے بعد حضرت میاں صاحب نے ارشاد فرمایا کہ میرے اسلحہ کے لائسنس کی تجدید ہونے والی ہے تم یہ کام باہر جانے سے پہلے پہلے کروا دو۔ میں نے آپ سے لائسنس لیا اور چند دن میں تجدید کروا کے آپ کو واپس کردیا۔ اُس وقت بیماری کی وجہ سے آپ بہت کمزور ہوچکے تھے۔ چند دن میں آپ بھول گئے کہ تجدید ہو چکی ہے اور ساتھ ہی میرا نام بھی ذہن سے اتر گیا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد نظارت امورعامہ کا آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلحہ کا لائسنس طلب کیا تاکہ نظارت اس کی تجدید کروا دے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ تو میں نے اپنے ایک مربی کو تجدید کے لئے دیا تھا جس کا نام بھی بھول گیا ہوں۔ صرف اتنا یاد ہے کہ وہ پہاڑپر رہتا ہے۔ اس کارکن نے یہ بات دفتر جا کر مولوی عبدالعزیز صاحب بھامبڑی کو بتائی تو وہ جلد ہی میرے گھر پہنچ گئے اور فرمایا کہ میں نے سوچا کہ پہاڑ تو دو ہی ہیں جہاں ہمارے مربی رہتے ہیں ایک مری اور دوسرا کوئٹہ۔ مری میں رہنے والے مربی صاحب کومیاں صاحب یہ کام دے نہیں سکتے تھے۔ اس لئے لائسنس آپ ہی کو دیا ہوگا۔ میں نے تفصیل انہیں بتائی اور پھر ہم دونوں حضرت میاں صاحب کی خدمت میں گھر پر حاضر ہوئے ۔ میری گزارش پر آپؓ نے اندر جا کر لائسنس تلاش کیا تو وہ مل گیا۔ آپ خوش ہوئے اور جزاکم اللہ کہا۔ حضرت میاں صاحبؓ سے یہ میری آخری ملاقات ثابت ہوئی کیونکہ جلد ہی خاکسار نائیجیریا چلا گیا۔ پھر وہیں آپ کی وفات کی افسوسناک خبر ملی جو 26دسمبر 1961ء کو ہوئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں