حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحبؓ

ماہنامہ’’ انصارﷲ‘‘ ربوہ اپریل 2008 میں حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحبؓ کے بارہ میں مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب کے قلم سے ایک تفصیلی مضمون شامل اشاعت ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں: ’’20؍اکتوبر 1899ء کو خواب میں مجھے یہ دکھایا گیا کہ ایک لڑکاہے جس کا نام عزیز ہے اور اس کے باپ کے نام پر سلطان کا لفظ ہے۔ وہ لڑکا پکڑ کر میرے پاس لایا گیا اور میرے سامنے بٹھایا گیا۔ میں نے دیکھا ایک پتلا سا گورے رنگ کا ہے‘‘۔ (تذکرہ صفحہ 248 جدیدایڈیشن)
گو کہ اُس وقت حضورؑ نے اِس پیشگوئی سے مراد عزیز خدا کی طرف سے ایسے نشان کا ظہور لیا جو روشن اور بیّن الظہور ہو۔ تاہم یہ رؤیا اپنے ظاہری معنوں کے لحاظ سے بھی پوری ہوئی۔ اس رؤیا میں جو لڑکا دکھایا گیا تھا وہ حضورؑ کے پوتے حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحبؓ تھے جو آپؑ کے سب سے بڑے فرزند مرزا سلطان احمد صاحب کے بڑے بیٹے تھے جو حضورؑ کی زوجہ اول محترمہ حرمت بی بی صاحبہ دختر مرزا جمیعت بیگ صاحب (جو حضورؑ کے ماموں زاد تھے)کے بطن سے تھے۔ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کو حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر 25دسمبر 1930ء کو بیعت کرنے کی توفیق ملی لیکن حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ جو 3؍ اکتوبر 1890ء کو اُن کی زوجہ اول محترمہ سردار بیگم صاحبہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، 1906ء میں حضرت مسیح موعودؑ کے دست مبارک پر بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے۔ جس وقت حضورؑ نے یہ عظیم الشان رؤیا دیکھا تھا، اُس وقت حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کی عمر قریباً نو سال تھی اور وہ حضورؑ کے مخالف خاندان میں پرورش پارہے تھے۔ چنانچہ آپؓ کی بیعت ایک عظیم الشان نشان ہے جس کے بعد خاندان کے دیگر افراد کو بھی بیعت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے صاحبزادی نصیرہ بیگم بنت حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کے نکاح کے موقع پر اپنے بچپن کی یادوں کے حوالہ سے فرمایا کہ میں سکول کی طرف سے ایک دن آرہا تھا کہ سامنے تقریباً میرا ہی ہم عمر ایک چھوٹا لڑکا گزر رہا تھا۔ ایک دوست نے اُس لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: میاں تیرا بھتیجا آگیا ہے۔ اُس وقت کی عمر کے لحاظ سے بھتیجے کو نہ معلوم میں نے کیا سمجھا کہ میں نے یہ الفاظ سنتے ہی ایک چھلانگ لگائی اور دوڑ کر گھر چلاگیا ۔میرے لئے یہ فقرہ اس وقت ایسا ہی شرمناک تھا جیسے کسی کو کہہ دیا جائے کہ غلطی سے تم مجلس میں ننگے آگئے ہو۔ میں بھی یہ فقرہ سنتے ہی دوڑ پڑا۔ انہوں نے کوشش کی پکڑ کر ہم دونوں کو آپس میں ملا دیں ۔لیکن میں ان سے پکڑا نہیں گیا۔ کچھ دنوں کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور غالباً قاضی امیر حسین صاحب نے کوشش کر کے ہم دونوں کو اکٹھا کر دیا۔ گھر اگرچہ ہمارے پاس پاس ہی تھے مگر مرزا سلطان احمد صاحب چونکہ باہر ملازم تھے اور ان کے بچے بھی باہر ان کے ساتھ ہی رہتے تھے اس لیے اپنے بھتیجے کو دیکھنے کا میرے پاس یہ پہلا موقع تھا۔ اُن دونوں نے ہم کو اکھٹا کر دیا اور پھر اس کے بعد بھی یہ دونوں ہم کو آپس میں ملاتے رہے۔ اِس کے بعد انہوں نے میرے کانوں میں یہ بات ڈالنی شروع کر دی کہ اپنے ابّا سے کہو یہ بچہ بیعت کرنا چاہتا ہے۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس کا ذکر کیا تو آپؑ نے فرمایا کہ بچے نے کیا بیعت کرنی ہے اس کو کیا پتہ کہ احمدیت کیا ہے اور ہم کس غرض کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ مگر یہ پھر بھی میرے پیچھے پڑے رہے اور مجھے کہتے رہے کہ جا کر کہو اِس نے بیعت کرنی ہے۔ آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اجازت دیدی اور فرمایا: اُسے جا کر گھر میں لے آؤ۔ چنانچہ میں انہیں اپنے گھر لے گیا۔ حضورؑ اس وقت کوئی تصنیف فرما رہے تھے۔ آپؑ نے اس بچے کو دیکھا ۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کوئی بات کی جو اس وقت مجھے یاد نہیں اور پھر ہم چلے آئے اس کے یہ معنی تھے کہ گویا انہیں ہمارے گھر میں آنے کا پاسپورٹ مل گیا ہو۔ پھر میں بھی بڑا ہوا اور وہ بھی بڑے ہوئے اور انہوں نے حضورؑ کی دستی بیعت کرلی۔
حضرت مرزاسلطان احمد صاحب اپنی ملازمت کے سلسلہ میں قادیان سے باہر ملازم تھے اس لئے آپؓ کی ابتدائی تعلیم مختلف مقامات پر ہوتی رہی۔ لیکن 1901ء میں آپؓ تعلیم الاسلام سکول میں تعلیم پا رہے تھے۔ حضرت ماسٹر فقیراللہ صاحبؓ آپکے ٹیوٹر تھے۔ جبکہ حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب (مہر سنگھ) بھی آپؓ کو پڑھایا کرتے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں ان کے ساتھ بٹالہ گیا جہاں انہوں نے امتحان دینا تھا۔ اور ان کے امتحان کے لئے جانے سے قبل مَیں دو نفل پڑھتا تھا ۔ ایک روز میں نے سلام پھیرتے ہی جلدی سے انہیں کہا کہ فلاں سوال نہیں آتا تو جلدی سے کرلو یہ امتحان میں آئے گا۔ چنانچہ وہ سوال امتحان میں آ گیا۔ ان کے کامیاب ہونے پر حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے ایک تھالی مٹھائی اور بیس روپے بھجوائے۔ ماسٹر صاحب نے روپے لینے کی بجائے یہ پسند کیا کہ محلہ دارالفضل والی سات آٹھ کنال اراضی کے مالکانہ حقوق آپ کو منتقل کر دئے جائیں جو آپ نے خرید کی ہوئی تھی۔ چنانچہ حضرت ممدوح نے ایسا ہی کردیا۔
1906ء میں حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ مزید تعلیم کیلئے علی گڑھ کالج میں داخل ہوئے۔ یہاں ایک دفعہ نا دانستہ طور پر آپؓ طلباء کی ایک سٹرائیک میں شامل ہو گئے جسے حضرت مسیح موعود ؑنے ناپسند فرمایا اور اخبار میں باقاعدہ اعلان شائع فرمایا۔ اس پر آپؓ نے حضورؑ کی خدمت میں معافی کا خط لکھا جو آپؓ کے والد نے آپؓ کو لکھوایا تھا۔ آپؓ نے لکھا: ’’فدوی اپنے گزشتہ قصوروں کی معافی طلب کرتا ہے اور التجاء کرتا ہے کہ اس خاکسار کی گزشتہ کوتاہیوں کو معاف کرکے زمرۂ تابعین میں شامل کیا جائے۔ نیز اس عاجز کے حق میں دعا فرماویں کہ آئندہ اﷲ تعالیٰ ثابت قدم رکھے‘‘۔ جواب میں حضرت صاحب نے فرمایا کہ ’’ہم وہ قصور معاف کرتے ہیں۔ آئندہ تم پرہیزگار اور سچے مسلمان کی طرح زندگی بسر کرو اور بری صحبتوں سے پرہیز کرو ۔ بری صحبتوں کا انجام آخر برا ہی ہوا کرتا ہے‘‘۔
مئی 1908ء میں جب حضرت اقدسؑ کا وصال ہوا تو آپؓ رائے ونڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک گاؤں اعظم آباد میں مقیم تھے جہاں آپؓ کے خسر میرزا اسلم بیگ مرحوم کی اراضی تھی۔ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے آپؓ کو بذریعہ تار اطلاع دی اور قادیان جانے کی ہدایت کی۔
حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب مَیں غالباً مڈل کی جماعتوں میں تھا تو اس وقت ماسٹر عبد الرحمن صاحب مہر سنگھ نے مجھے تبلیغ کی۔ پھر حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے بھی جو کہ اس وقت سکول میں تعلیم پارہے تھے گا ہے گا ہے تبلیغ کی۔ شیخ یعقوب علی صاحبؓ بھی جب موقع ملتا مجھے تبلیغ کرتے تھے۔ اس زمانہ میں مجھے کئی خواب آئے۔ ایک یہ تھا کہ میں اور حضرت مسیح موعودؑ ایک تالاب کے کنارے پر بندوقیں لئے بیٹھے ہیں اور دوسری طرف مرزا نظام الدین صاحب اور دیگران تھے۔
میں نویں جماعت میں تھا جب میں نے بیعت کی۔ ایک دن شیخ یعقوب علی صاحبؓ مغرب کی نماز میں میرے ساتھ ہو لئے۔ میں اس سے پہلے بھی مسجد مبارک میں نماز ادا کیا کرتا تھا مگر اس نماز میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ بھی میرے آس پاس ہی تھے۔ یہ احباب مجھے عین حضرت مسیح موعودؑ کے پاس لے گئے اور آپؑ سے کہا کہ عزیز احمد حضور کی بیعت کرنا چاہتا ہے۔ یہ مجھے یاد نہیں کہ آیا حضرت اقدس نے مجھے کچھ کہا کہ نہیں۔ مگر انہوں نے میری بیعت لے لی ۔ مجھے بہت مبارکیں دی گئیں۔
غالباً دوسرے ہی روز حضرت اقدسؑ نے اپنے گھر میں دعوت کی۔ اس دعوت میں حضرت خلیفہ ثانیؓ، میاں بشیر احمد صاحبؓ، میاں شریف احمد صاحبؓ، میر محمد اسحاق صاحبؓ اور دوسرے بچے شامل تھے ۔ دو تخت پوش بچھے ہوئے تھے ان پر ایک چاندنی بچھی تھی ہم نے وہاں کھانا کھایا ۔ حضرت اماں جانؓ کھانا نکال کر دے رہی تھیں اور حضرت صاحب پاس میں ٹہل رہے تھے اور جہاں تک مجھے یاد ہے نہایت ہی خوش نظر آ رہے تھے۔ حضرت اقدس نے میری طرف اشارہ کرکے حضرت خلیفہ ثانی کو کہا کہ ’’محمود! یہ تمہارا بھتیجا ہے‘‘۔
میرا بیعت کرنا تائی (یہ حضرت اقدس ؑ کی بڑی بھاوج تھیں اور حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کو انہوں نے اپنا بیٹابنایا ہوا تھا ۔یہ ساری عمر حضرت اقدس کے خلاف رہیں مگر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے عہد خلافت میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوگئیں) کو ناگوار گزرا۔ انہوں نے میرے والد صاحب سے اس کی شکایت کی تو انہوں نے جواباً فرمایا: ’’تائی! خیر اے نمازاں تے پڑھے گا‘‘۔
مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی شادی میں مجھے حضرت اقدس نے بطور باراتی بہ ہمراہ حضرت خلیفہ ثانی، میر ناصر نواب صاحب، میر محمداسحاق صاحب وغیرھم بھیجا۔
علی گڑھ کالج میں 1907ء میں ایک سٹرائیک طلباء نے انگریز پروفیسروں کے خلاف کی تو میں اس میں شامل ہو گیا۔ اس بنا ء پر حضرت اقدس نے میرا اخراج جماعت سے کر دیا۔ میں تو خاموش رہا مگر قبلہ والد صاحب نے خود مجھے ایک معافی نامہ تحریر کرکے بھیجا اور لکھا کہ میں اس کی نقل کر کے اس پر دستخط کرکے فوراً بلاتاخیر حضرت اقدسؑ کی خدمت میں ارسال کردوں میں نے ایسا ہی کیا اور میری معافی کا اعلان ہو گیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپؓ نے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی بیعت کی اور حضورؓ سے ذاتی تعلقات پیدا کئے جن میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ بھی ہمیشہ آپ سے بہت شفقت اور مروّت سے پیش آتے۔ علی گڑھ میں تعلیم کے دوران آپؓ سے خط و کتابت کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ جس میں راہنمائی نصیحت اور تعلیم و تربیت سب کچھ ہوتا تھا۔ ایک بار حضورؓ نے علی گڑھ میں تعلیم پانے والے احمدی طلباء کے نا م خط میں تحریر فرمایا:
’’میرے پیارو! جہاں تم ہو وہ بڑے بڑے دو امتحانوں کی جگہ ہے ۔ وہاں بی اے ، ایف اے کے ساتھ کیمبرج آکسفورڈ کی ہوا بھی چلتی ہے۔ اور ہم لوگ وادی غیرذی زرع کی ہوا کے گرویدہ ہیں اور اس کے دلدادہ۔ ذرا ہمت سے کام لو کہ دونوں طرح پاس ہوجاؤ۔ فاز فوزاً عظیماً کا گروہ بنو۔ آمین یا ربّ العالمین‘‘
حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمدؓ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے مئی 1913ء میں M.A. کرلیا۔ آپ اپنی کلاس میں اوّل آئے۔اس سلسلہ میں آپؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جب ایم۔اے کا امتحان دیا ۔ تو چونکہ House examination میں عموماً فیل ہوا کرتا تھا اس لئے اس امر کا وہم بھی نہیں کر سکتا تھا کہ میں اپنی کلاس میں اوّل بھی آسکتا ہوں۔ لیکن ایک روز جبکہ امتحان بہت نزدیک تھا رات بارہ بجے جو میں سونے لگا تو میں نے خیال کیا کہ آج تہجد ہی کیوں نہ پڑھ لیں۔ چنانچہ میں نے وضو کیا۔ نماز کے لئے کھڑا ہوا تو سجدہ میں یہ دعا کی کہ یا ﷲ! مجھے امتحان میں فرسٹ کر دے، کُل پانچ ہی تو طالب علم ہیں، اُن میں سے اوّل نمبر پر پاس کرنا تجھے کیا مشکل ہے۔ میں یہ دعا کر ہی رہا تھا کہ نماز ہی میں میری ہنسی نکل گئی اور میں سو گیا۔ رات خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں تم یونیورسٹی بھر میں اوّل نمبر پر پاس ہو گے اور ساتھ ہی فرمایا کہ تہجد کی نماز سے تمہارے بڑے بڑے کام ہوں گے ۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں پھر ہنس پڑا۔ جب امتحان دے کر واپس قادیان پہنچا تو حضرت خلیفۃالمسیح نے فرمایا: سنائو میاں! کوئی خواب آئی ہے؟ میں نے عرض کی کہ حضور! یہ خواب آئی ہے۔ فرمایا: تم یقینا یونیورسٹی بھر میں اوّل نمبر پر پاس ہو گے۔ میں نے کہا: حضور! یہی بات تو ناممکن نظر آتی ہے۔ فرمایا: تم میرے ساتھ شرط کر لو۔ میں نے عرض کی ۔ حضور! شرط تو جائز نہیں ۔ فرمایاہم جائز کر لیں گے، اگر تم نے اوّل پوزیشن حاصل کر لی تو پچاس روپے میرے یتیم خانے میں دے دینا ۔ بصورت دیگر پچاس روپے میں تم کو دیدوں گا۔ اُن دنوں امتحانوں کے نتائج تین چار روز کے بعد ہی نکل آیا کرتے تھے۔ یہ باتیں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل کے مطب میں ہو رہی تھیں۔ جب باہر نکلا تو میاں شیخ محمد صاحب چٹھی رساں نے مجھے اونچی آواز میں مبارکباد دی اور کہا کہ میاں ! آپ یونیورسٹی بھر میں اوّل نمبر پاس ہوئے ہیں۔
آپؓ مزید فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ ا وّلؓ نے یہ بات بھی بیان فرمائی تھی کہ میاں تہجد پڑھنے سے تمہارے بڑے بڑے کام ہوا کریں گے۔ آپ کے اس قول کو بھی میں نے اپنے زندگی میں آزمایا ہے ۔ جب بھی میں نے تہجد میں کسی امر کیلئے دعا کی ہے اﷲ تعالیٰ نے میرا وہ کام کر دیا ہے۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک۔
حضرت مرزا صاحبؓ کو ایک دفعہ پیشاب کی تکلیف ہوئی تو آپ حضرت خلیفہ اوّلؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضورؓ نے معائنہ کے بعد نیم برشت انڈہ تجویز فرمایا۔ اس پر آپؓ کہنے لگے: حضور! پیشاب میں انڈہ تو ضرررساں ہے۔ حضورؓ فرمانے لگے: نہ تم حکیم نہ تمہارا باپ حکیم نہ تمہارا دادا حکیم۔ ہم نے تمہارے دادا کو حکیم سمجھ کر نہیں مانا تھا۔ البتہ تمہارا پڑ دادا حکیم تھا ۔ اور حضورؓ نے نسخہ والا کاغذ پھاڑ دیا۔
ایک دفعہ گھر میں کوئی بیمار ہوا تو رات کے وقت حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے حضرت خلیفہ اوّل کی خدمت میں آپ کو بیمار دیکھنے کے لئے کہا ۔ حضورؓ نے معائنہ کے بعد دوا تجویز کی۔ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب رات بے وقت تکلیف دینے پر معذرت کرنے لگے تو حضورؓ نے وفور محبت سے اُن کے گلے میں باہیں ڈال کر فرمایا: میاں! تکلیف کیسی، ہم تو تمہارے غلام بلکہ تمہارے غلاموں کے بھی غلام ہیں۔
حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ نے دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی جنوری1911ء میں مکرمہ شریفہ بیگم صاحبہ دختر مرزا اسلم بیگ صاحب لاہور سے ہوئی جو آپ کے پہلے بھی رشتہ دار تھے۔ آپؓ لاہور سے اپنی اہلیہ کو بیاہ کر قادیان لائے۔ سب سے پہلے حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کے حضور حاضر ہوکر بیعت ہوئی۔ پھر دعوت ولیمہ بھی قادیان میں ہوئی۔ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب بھی تشریف لائے ہوئے تھے ۔ آپ نے اس خوشی میں مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کو ایک سو روپیہ دیا۔ اس اہلیہ سے تین بچے ہوئے: صاحبزادی نصیرہ بیگم صاحبہ (اہلیہ مرزا ظفر احمد صاحب مرحوم)، مرزا سعید احمد صاحب (جو 1938ء میں دوران تعلیم لندن میں وفات پاگئے) اور مرزا مبارک احمد صاحب (وفات: 1942ء )۔
اہلیہ اوّل کی وفات کے بعد دوسری شادی محترمہ سیدہ نصیرہ بیگم بنت حضرت سید میر محمد اسحاق صاحبؓ سے فروری1930ء میں ہوئی۔ ان سے دو بیٹے (صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب) اور چار بیٹیاں ہوئیں۔ اِس اہلیہ کی وفات 24جون 1987ء کو ہوئی۔ اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔
آپؓ کے دوسرے نکاح کا اعلان 20؍فروری 1930ء کو حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے کرتے ہوئے فرمایا: ’’مرزا عزیز احمد صاحب … حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے ہیں اور انہیں ایک فوقیت حاصل ہے اور وہ یہ کہ جب ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب کو سلسلہ کے متعلق اظہار خیال کا موقع نہ ملا تھا ۔ اس وقت انہوں نے بیعت کی تھی ۔ اگرچہ ان کی اس وقت کی بیعت میں اساتذہ کا بہت کچھ دخل تھا اور خود میرا بھی دخل تھا۔ میرے ذریعہ ہی ان کی بیعت کا پیغام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا گیا تھا اور مجھے خوب یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کی والدہ سے بہت محبت تھی جبکہ خاندان میں بہت مخالفت تھی اور آنا جانا بھی بند تھا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے ۔ عزیز احمد کی والدہ کئی بار آیا جایا کرتی ہیں اور روتی رہتی ہیں کہ لوگوں نے خاندان میں یہاں تک تفرقہ ڈال دیا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے مل بھی نہیں سکتے۔ …‘‘۔
حضرت خلیفہ ثانیؓ نے حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ کے بڑے بیٹے صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کے نکاح کا اعلان 26 دسمبر 1955ء کو کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لڑکا بھی ہمارے خاندان میں سے وقف ہے۔ مرزا عزیز احمد صاحب کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ وہ اپنے اس بچہ کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں چنانچہ اس کا یہ لڑکا M.A. میں پڑھ رہا ہے اور کہتے ہیں کہ انگریزی میں بڑا لائق ہے۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ بعد میں یہ کالج میں پروفیسر کے طور پر کام کرے۔
چنانچہ محترم صاحبزادہ صاحب کو تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں بطور انگریزی کے استاد کے خدمت کی توفیق ملی ۔ 1972ء میں تعلیمی اداروں کی نیشنلائیزیشن کے بعد آپ کو صدرانجمن احمدیہ کی مختلف نظارتوں میں بطور ناظر اور اس وقت بطور ناظر اعلیٰ و امیر مقامی خدمت کی توفیق مل رہی ہے۔
حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ؓ کے دوسرے بیٹے صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب بھی وقف زندگی ہیں۔ M.A. کرنے کے بعد وقف زندگی کی اور متعدد اہم عہدوں پر خدمات کی سعادت پائی۔ اس وقت ناظر دیوان اور صدر بیوت الحمد سوسائٹی ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے وصال کے بعد 14مارچ 1914ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا انتخاب عمل میں آیا اور موقعہ پر موجود افراد جماعت نے بیعت کر لی جن میں حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ بھی شامل تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ کی وفات کے بعد خلافت کمیٹی کا اجلاس حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ ناظراعلیٰ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/0jg3y]

اپنا تبصرہ بھیجیں