حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍ اور 5؍ اپریل 2003ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے مکرم شمشاد احمد ناصر صاحب مربی سلسلہ امریکہ لکھتے ہیں کہ 10؍ستمبر 1987ء کو خاکسار لندن سے امریکہ روانہ ہوا۔ اسی جہاز میں حضرت میاں صاحب بھی برطانیہ کے جلسہ میں شمولیت کے بعد واپس تشریف لے جا رہے تھے۔ روانگی سے قبل خاکسار نے آپ سے مل کر اپنا تعارف کروایا۔ آپ نے پوچھا: پہلی بار جا رہے ہو؟۔ عرض کیا: جی ہاں۔ واشنگٹن پہنچنے میں ابھی نصف گھنٹہ تھا کہ آپ میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا مشن کو آپ کی آمد کی اطلاع ہے۔ عرض کی کہ اطلاع ہے۔ فرمایا کہ مَیں تو جلدی باہر چلا جاؤں گا اور دیکھ لوں گا کہ آپ کو کوئی لینے آیا ہے کہ نہیں؟ تو آپ کو بتادوں گا۔ چنانچہ ایئرپورٹ پر آپ جلدی باہر چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد واپس اندر تشریف لائے اور مجھے فرمایا کہ آپ کو لینے کے لئے مکرم شیخ مبارک احمد صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں، آپ اُن کے ساتھ چلے جائیں گے اس لئے مَیں جاتا ہوں۔ یہ میری آپ سے پہلی ملاقات تھی جس نے ایک حسین یاد چھوڑی۔
اگرچہ آپ عمر میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ سے بڑے تھے لیکن کبھی رشتہ داری یا بڑا ہونے کی وجہ سے احترام خلافت میں فرق نہ آنے دیتے۔ حضورؒ کی خدمت میں خط مختصر اور بامعنی لکھتے۔ کبھی کوئی مضمون پڑھتے جس میں حضورؒ کی دلچسپی بھی ہوتی تو حضورؒ کو بھجوادیتے۔ اگر مضمون بڑا یا کوئی کتاب ہوتی تو بڑی محنت سے اس کا جامع خلاصہ نکالتے اور بھجواتے۔
جماعت کے اندر پیار محبت اور اتحاد پیدا کرنے کے لئے مسلسل اور انتھک محنت کرتے رہے۔ آپ کو کمر کی تکلیف لمبے عرصہ سے تھی لیکن لمبی میٹنگز کے باوجود کبھی تکلیف کا اظہار نہ فرماتے۔ مجلس عاملہ یا مجلس شوریٰ کی کارروائی کی صدارت کرتے۔ ہر کسی کی بات پورے تحمل اور غور سے سنتے اور نوٹس لیتے جاتے۔ آخر میں فیصلہ صادر فرماتے۔ کبھی خود کسی کی شکایت کرنا پسند نہ کرتے۔ قضائی معاملات میں بھی کوشش کرتے کہ معاملہ حل ہوجائے اور شکایت کی نوبت ہی نہ آئے۔ بات کی تہہ تک پہنچنے کا خاص ملکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہوا تھا۔
بہت احتیاط فرماتے اور یادداشت بھی بہت زبردست تھی۔ کئی بار ڈکٹیشن دیتے۔ اگلے روز وہ خط تیار ہوکر آپ کے سامنے دستخط کے لئے پیش ہوتا تو فوراً نشاندہی فرمادیتے کہ کونسا لفظ آپ نے نہیں لکھوایا تھا یا کس لفظ کے سپیلنگ غلط ہیں۔
جماعتی چندہ جات اور رقوم کے بارہ میں بار بار یاددہانی کرواتے کہ یہ امانت ہیں اور انہیں اپنی ذاتی رقم کی نسبت زیادہ احتیاط سے خرچ کرنا چاہئے۔ مساجد اور مشن ہاؤسز میں بجلی، پانی وغیرہ کے خرچ میں بھی کفایت کی تلقین فرماتے رہتے۔ لیکن غرباء کی مدد کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے۔ جب بجٹ تیار ہوتا تو جماعت کی مالی وسعت دیکھ کر آپ کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھتا۔
حضرت میاں صاحب کارکنان کی بہت عزت و تکریم فرماتے اور ہر پہلو سے خیال رکھتے۔ جن دنوں میری فیملی میرے ساتھ نہیں تھی تو ایک روز مَیں گھر پر کھانا بنا رہا تھا کہ آپ نے بلاکر فرمایا کہ آپ کو گھر چھوڑ آؤں۔ جب آپ کو علم ہوا کہ مَیں کھانا بنا رہا ہوں تو پہلے اجازت دی کہ کچھ دیر بعد چلے جائیں لیکن پھر فرمایا کہ ابھی چلو۔ ہمارے پہنچنے سے پہلے میز پر کھانا لگ چکا تھا اور پھر تقریباً ایک ہفتہ کا کھانا ڈبوں میں بند کرکے ساتھ بھی دیدیا۔
ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر افسر جلسہ سالانہ نے مجھے ایک نائب افسر کا ناظم مقرر کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں تو نائب افسران میں رکھنا چاہئے تھا نہ کہ اُن کا ماتحت۔
آپ کی رہائش مسجد سے قریباً پون گھنٹہ کے فاصلہ پر تھی لیکن شادی کی تقریبات میں احباب کی خواہش پر تشریف لاتے رہے۔ اگر بیماری کی وجہ سے نہ آسکتے تو مبارکباد کا خط ضرور لکھواتے۔ ایفروامریکن دوستوں سے پیار اور محبت اور مالی معاونت کا خاص خیال رکھتے تھے۔ انہیں جماعتی کاموں میں شامل کرتے۔ مسجد کو آباد دیکھنے کی بہت خواہش تھی اور پوچھا کرتے کہ کس نماز میں کتنے نمازی آتے ہیں۔ پہلے مسجد میں افطاری کے خلاف تھے کہ رمضان عبادت کا مہینہ ہے، سوشل تعلقات کا نہیں۔ لیکن جب عرض کیا گیا کہ احباب کا گھر سے افطاری کرکے اتنی دور مسجد آنا ممکن نہیں ہوگا تو پھر افطاری کا انتظام مسجد میں کرنے پر رضامند ہوگئے ۔ جو بھی آپ سے ملنے کی خواہش ظاہر کرتا، آپ اسے وقت دیتے اور گھر پر بلالیتے۔ اگر بیماری کی وجہ سے پروگرام کینسل کرنا پڑتا تو وقت سے بہت پہلے معذرت کردیتے۔ ہر ایک کا خیال رکھتے۔ وقت کی پابندی کا خیال رکھتے لیکن اجتماعات یا جلسہ کے موقع پر اگر عرض کیا جاتا تو دس پندرہ منٹ انتظار فرماتے اور پھر پروگرام شروع فرماتے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Zl7e0]

اپنا تبصرہ بھیجیں