حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کے دور میں ترقیات پر ایک نظر

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍جون 2004ء میں مکرم ڈاکٹر کریم اللہ زیروی صاحب کے قلم سے مختلف عناوین کے تحت حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کا ذکر خیر شامل اشاعت ہے۔
مجلس انصار اللہ
1990ء کی دہائی کے شروع میں امریکہ کی مجلس انصار اللہ کو فعال کرنے میں حضرت میاں صاحب نے ذاتی دلچسپی لینا شروع کی۔ وہ خود سالانہ اجتماع میں شرکت کے لئے نیو یارک تشریف لائے۔ حاضرین سے خطاب کیا اور صدر مجلس کا انتخاب کروایا، نئے عہدیداروں کو ہدایات بھی دیں۔ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں اور رہنمائی سے مجلس اپنے موجودہ مقام تک پہنچی ہے۔ چنانچہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے مجلس انصار اللہ کو انصار اللہ ہال بنانے کی اجازت نہ دی اور فرمایا کہ اگر امیر صاحب ہال کی ضرورت کو ثابت کریں تو اس معاملہ پر نظر ثانی ہوسکتی ہے تو آپ نے تجویز کی بھر پور سفارش کی اور خاکسار کی طرف سے بیان شدہ ضرورت سے اپنے خط میں پورے اتفاق کا اظہار کیا۔ چنانچہ تجویز کو حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ کی منظوری حاصل ہوگئی۔
مختلف انجمنوں کا قیام
آپ نے امریکہ میں کئی انجمنیں قائم کرنے میں بھرپور مدد کی مثلاً احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن اور احمدیہ سائنٹسٹس ایسوسی ایشن ۔ پھر ان کے فروغ کے لئے ہمیشہ تعاون فرمایا۔ آپ کی امارت کے دوران میڈیکل ایسوسی ایشن نے گیمبیا، لائبیریا اور سیرالیون کے لئے طبی آلات بھجوائے۔ نیز کئی ایک امریکن ڈاکٹر اور ڈینٹسٹ بھی ان ممالک میں گئے۔ علاوہ ازیں فضل عمر ہسپتال ربوہ کے لئے طبی مشینیں اور نقد عطیات بھی پیش کئے گئے۔
طاہر احمدیہ ایلیمنٹری سکول
کئی مواقع پر مجلس شوریٰ کے نمائندوں نے امریکہ میں جماعت احمدیہ کے اپنے ایک سکول کے قیام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ اس خواہش کے احترام میں میاں صاحب نے ایک کمیٹی قائم کی کہ امریکہ میں ایک پرائمری سکول کے حسن وقبح پر غور کرے۔ مجھے کمیٹی کا چیئرمین مقرر فرمایا۔ کمیٹی نے تقریباً ایک سال کی تحقیق کے بعد سکول پراجیکٹ پر اپنی رپورٹ پیش کی تو آپ نے نیشنل مجلس عاملہ کے ساتھ مشورہ کے بعد اس تجویز کی سفارشات کو مان لیا اور Milwaukee میں اس سکول کے قیام کی منظوری عنایت فرمائی۔ یہ سکول کامیابی سے جاری ہے۔
تعلیمی وظائف گرانٹ اور قرضے
میاں صاحب نے احمدی طلباء کے لئے تعلیمی وظائف، گرانٹ اور قرضوں کا پروگرام جاری کیا۔ پہلے سال میں دس ہزار ڈالر کے وظائف اور گرانٹ جاری کی گئی۔ بعد ازاںامیر صاحب نے از خود ان کو ہر سال بڑھانا شروع کر دیا۔ چنانچہ یہ رقم بڑھ کر 1999ء میں 20ہزار ڈالر، 2000ء میں40ہزار ڈالر، 2001ء میں 80ہزار ڈالر اور 2002ء میں ایک لاکھ ڈالر تک ہوگئی۔ جب میاں صاحب نے درخواستوں کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی قائم کرنے کا ارادہ کیا تو مجھے ممبران تجویز کرنے کو کہا۔ میں نے دو ایسے ممبران بھی تجویز کر دئیے جو ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے ان میں سے ایک نام لے لیا اور فرمایا کہ دونوں خواہ کتنے ہی لائق اور موزوں کیوں نہ ہوں، ایک ہی خاندان کے افراد نہیں ہونے چاہیں۔
جماعتی میٹنگز
نیشنل عاملہ کی میٹنگ ہوتی یا مجلس شوریٰ کا اجلاس۔ میاں صاحب بہت آہستگی سے اور محبت بھرے انداز میں بات کرتے۔ بعض اوقات ایسی بات کرتے کہ حاضرین کھکھلااٹھتے۔ لیکن ماحول کا وقار ہمیشہ برقرار رہتا۔ میاں صاحب فراخ دل تھے۔ دوسروں کی رائے کا ہمیشہ لحاظ کرتے۔ ہاں جماعتی مفاد کا پورا خیال رکھتے۔ آخری عمر میں بھی حافظہ بہت اچھا تھا۔ کسی مسئلہ پر بھی بحث کے دوران اس کا پورا پس منظر ان کے ذہن میں ہوتا۔ گہری نظر تھی چنانچہ پیچیدہ جماعتی معاملات کو عمدگی سے حل کردیتے اس کے باوجود فیصلہ دینے میں پوری احتیاط فرماتے۔ سب متعلقہ افراد کے مشورہ کو سنتے پھر فیصلہ کا تجزیہ کرتے اور فیصلہ دیتے۔
آپ تمام جماعت بالخصوص نوجوانوں کی دینی اور اخلاقی تربیت میں گہری دلچسپی لیتے۔ چنانچہ جلسہ سالانہ ہوتا یا انصار اور خدام کے اجتماعات، وہ اپنے خطاب میں احباب جماعت کی مذہبی اور اخلاقی تربیت پر خاص زور دیتے۔ اپنی تقریر کو قرآن وحدیث، ملفوظات حضرت مسیح موعود ؑ اور ارشادات خلفاء احمدیت کے حوالوں سے مزین فرماتے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/81mc3]

اپنا تبصرہ بھیجیں