حضرت صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحبؓ

حضرت صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحبؓ 1866ء میں حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ کے ہاں لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت صوفی صاحب کا خاندان ایک بلند پایہ بزرگ نقشبندی طریق تصور پر کاربند تھا اور حضرت مسیح موعودؑ سے آپؓ کا پرانا تعلق تھا اور وہ حضورؑ کو مامور من اللہ یقین کرتے تھے۔ اگرچہ دسمبر 1885ء میں وفات پاجانے کی وجہ سے انہیں ظاہری بیعت کا موقعہ نہیں ملا لیکن حضورؑ نے انہیں اپنے 313؍ صحابہ خاص میں شامل فرمایا اور پہلی بیعت کے لئے لدھیانہ میں آپؓ ہی کے مکان کا انتخاب فرمایا۔
حضرت پیر منظور محمد صاحبؓ کا بچپن بہت نیک ماحول میں گزرا اور آپؓ اپنے والد صاحب سے سیکھے ہوئے اذکار و اشغال پر بطریق نقشبندیہ کاربند رہے۔ آپؓ کی والدہ قمر جان صاحبہؓ تھیں جن کی وفات 13؍جنوری 1916ء کو ہوئی اور وہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئیں۔ اُن کا وصیت نمبر 120؍ تھا۔ حضرت پیر صاحبؓ کے بارہ میں ایک تفصیلی مضمون ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ اکتوبر 1999ء میں مکرم ریاض محمود باجوہ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت پیر منظور محمد صاحبؓ نے پہلی بار حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کا شرف لدھیانہ میں 1884ء میں حاصل کیا تھا۔ 6؍فروری 1892ء کو لاہور میں بیعت کی سعادت پائی۔ اُس وقت آپؓ جموں میں محکمہ تعلیم میں بطور کلرک ملازم تھے۔ حضرت اقدسؑ نے آپ کو بمعہ اہل خانہ اپنے صحابہ خاص 313 میں شامل فرمایا اور ضمیمہ انجام آتھم میں آپؓ کا ذکر فرمایا ہے۔ آپؓ حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کے ذریعہ ریاست جموں کے محکمہ تعلیم میں بطور کلرک ملازم ہوئے۔ جب حضرت مولوی صاحبؓ جموں سے ملازمت ترک کرکے قادیان آگئے تو آپؓ بھی مستقل رہائش کے لئے قادیان چلے آئے۔ یہاں آپؓنے محض حضورؑ کی تصانیف کیلئے کتابت سیکھی اور حضورؑ کی بہت سی کتب کے پہلے ایڈیشنوں کی کتابت کی سعادت حاصل کی۔ اس خدمت کا ذکر کرتے ہوئے حضور علیہ السلام اپنے اشتہار 4؍اکتوبر 1899ء میں فرماتے ہیں: ’’بطور شکر احسان باری تعالیٰ کے اس بات کا ذکر کرنا واجبات سے ہے کہ میرے اہم کام تحریر تالیفات میں خدا تعالیٰ کے فضل نے مجھے ایک عمدہ اور قابل قدر مخلص دیا ہے یعنی عزیزی میاں منظور محمد کاپی نویس جو نہایت خوشخط ہے، جو نہ دنیا کے لئے بلکہ محض دین کی محبت سے کام کرتا ہے اور اپنے وطن سے ہجرت کرکے اسی جگہ قادیان میں اقامت اختیار کی ہے …‘‘۔
آپؓ نے حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کے مصلح موعود ہونے کے بارہ میں حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ سے ایک تحریر لے لی تھی جسے 23؍اگست 1914ء کو آپؓ نے رسالہ نشان فضل بجواب رسالہ المصلح الموعود شائع فرمایا۔ آپؓ نے حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کی وفات سے چھ ماہ قبل آپؓ سے عرض کیا کہ مجھے آج حضرت اقدسؑ کے اشتہارات پڑھ کر پتہ مل گیا ہے کہ پسر موعود میاں صاحب ہی ہیں۔ اس پر حضورؓ نے فرمایا: ’’ہمیں تو پہلے ہی سے معلوم ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہم میاں صاحب کے ساتھ کس خاص طرز سے ملا کرتے ہیں اور ان کا ادب کرتے ہیں‘‘۔ پیر صاحبؓ نے یہی الفاظ لکھ کر تصدیق کے لئے پیش کئے تو حضورؓ نے ان پر تحریر فرمایا: ’’یہ لفظ مَیں نے برادرم پیر منظور محمد سے کہے ہیں۔ نورالدین 10؍ستمبر 1913ئ‘‘۔ اگلے روز جب آپؓ حضورؓ کی خدمت میں حاضر تھے تو حضورؓ نے ازخود فرمایا: ’’ابھی یہ مضمون شائع نہ کرنا۔ جب مخالفت ہو اُس وقت شائع کرنا‘‘۔
حضرت مسیح موعودؑ کی منظوری سے حضرت پیر صاحبؓ نے صاحبزادگان اور صاحبزادیوں کو قرآن شریف ناظرہ پڑھایا اور انہی کی تعلیم کی غرض سے ’’یسرناالقرآن‘‘ کا مشہور و معروف قاعدہ ایجاد کیا۔ اس قاعدہ کے بارہ میں حضرت اقدسؑ نے فرمایا: ’’قاعدہ یسرناالقرآن بچوں کے لئے بے شک مفید چیز ہے۔ اس سے بہتر اَور کوئی طریقہ تعلیم خیال میں نہیں آتا‘‘۔ نیز 1901ء میں اپنی نظم میں فرمایا:

پڑھایا جس نے اُس پر بھی کرم کر
جزا دے دین اور دنیا میں بہتر
رہ تعلیم اِک تُو نے بتا دی
فسبحان الذی اخزی الاعادی

اس قاعدہ کا سارا فنڈ حضرت پیر صاحبؓ نے حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے نام وقف کردیا تھا۔ کئی تاجروں نے اس قاعدہ کو غیرقانونی طور پر چھپوایا لیکن آپؓ نے اُن کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی اور یہی خیال کیا کہ اس طرح اشاعت قرآن بڑھ رہی ہے۔
محترم مرزا عبدالحق صاحب صوبائی امیر پنجاب لکھتے ہیں کہ یسرناالقرآن اتنا مقبول ہوا کہ اُس زمانہ میں سینکڑوں روپیہ ماہوار آپؓ کی آمد ہوتی تھی۔ آپؓ صرف تیس روپے اپنے اخراجات کیلئے رکھ کر باقی سب حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں اشاعت قرآن کیلئے بھیج دیتے۔ 1940ء میں جب گرانی ہوگئی تو چالیس روپے رکھنے شروع کردیئے اور ایک سال میں دس ہزار روپیہ خدمت دین کیلئے دیا۔ صرف ایک کمرہ تھا جس میں اُن کی چارپائی بھی ہوتی تھی اور اُن کا کلرک بھی وہیں بیٹھتا تھا۔ وہی سونے کا کمرہ تھا، وہی بیٹھک اور وہی دفتر۔ اس میں سارا سامان پچاس روپے سے زیادہ کا نہ ہوتا تھا۔
21؍جون 1950ء کو ربوہ میں حضرت پیر صاحبؓ کی وفات قریباً 84سال کی عمر میں ہوئی اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ صحابہ میں تدفین عمل میں آئی۔ آپؓ کی تصانیف میں قرپسر موعود، قدرت ثانیہ، نشان فضل، حمائل شریف اور ایک پنجابی نظم بھی شامل ہے۔
حضرت پیر صاحبؓ کے بڑے بھائی حضرت پیر افتخار احمد صاحبؓ کے حالات الفضل انٹرنیشنل 21؍جنوری 2000ء کے اسی کالم میں شامل اشاعت ہیں۔ آپؓ کی ایک بہن حضرت صغریٰ بیگم صاحبہ تھیں جو حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب خلیفۃالمسیح الاولؓ کی اہلیہ تھیں اور یہ رشتہ حضرت مسیح موعودؑ کی تجویز پر ہی طے ہوا تھا۔ انہیں ایک خاص امتیاز یہ بھی حاصل تھا کہ بیعت اولیٰ کے موقعہ پر عورتوں میں سب سے پہلے آپؓ کو بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ آپؓ اماں جی کے نام سے معروف تھیں۔ 7؍اگست 1955ء کو 83 سال کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔
حضرت پیر صاحبؓ کی اہلیہ محمد نساء عرف محمدی بیگم صاحبہؓ محمد وزیر خان صاحب افغان کی صاحبزادی تھیں اور حضرت آدم بنوریؒ کے خاندان سے تھیں جو حضرت مجدد الف ثانیؒ کے خلفاء میں بہت بلند مقام رکھتے تھے۔ آپؓ اپنے شوہر کے ساتھ ہی 23؍جون 1906ء کو نظام وصیت سے منسلک ہوئیں۔ 9؍اکتوبر 1908ء کو آپؓ کی وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئیں۔ آپؓ کا ایک بیٹا نوعمری میں فوت ہوگیا تھا جبکہ دو بیٹیوں میں سے ایک حضرت سیدہ صالحہ خاتون صاحبہؓ اہلیہ حضرت سید میر محمد اسحاق صاحبؓ تھیں۔ یہ رشتہ بھی حضرت مسیح موعودؑ کی تجویز اور تحریک پر ہی طے ہوا تھا اور حضورؑ کو قبل از وقت بذریعہ رؤیا اس کی خبر دی گئی تھی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ نے حضور علیہ السلام کی موجودگی میں ان کا نکاح پڑھایا۔ آپؓ کے بطن مبارک سے سات بچے پیدا ہوئے۔ آپؓ امّ داؤد کے نام سے بھی معروف تھیں۔ موصیہ اور صاحب رؤیا و کشوف تھیں۔ 8؍ستمبر 1953ء کو لاہور میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ احاطہ خاص میں مدفون ہوئیں۔
آپؓ کی دوسری بیٹی حضرت صاحبزادی حامدہ خاتون صاحبہ اہلیہ حضرت سردار کرمداد خان صاحبؓ تھیں جو 5؍نومبر 1924ء کو قادیان میں فوت ہوئیں اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں