حضرت عائشہ بیگم صاحبہؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍جون 2005ء میں مکرم چوہدری محمد یوسف صاحب اور منصور احمد جاوید صاحب نے اپنی والدہ حضرت عائشہ بیگم صاحبہؓ کا ذکر خیر کیا ہے۔
آپؓ 1899ء میں پیدا ہوئیں۔ ابھی اپنی والدہ کی گود میں تھیں کہ آپ کے والد حضرت میاں صدرالدین صاحبؓ وفات پاگئے اور آپ کی والدہ آپ کو لے کر دارالمسیح میں آگئیں جہاں آپؓ حضرت اماں جانؓ کی وفات تک اُن کی خدمت میں رہیں۔ بلکہ حضرت اماں جانؓ کو غسل دینے والیوں میں بھی شامل تھیں۔
آپ ابھی چھوٹی ہی تھیں کہ آپ کی والدہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ پھر دارالمسیح میں ہی چھوٹی عمر میں چیچک کا زبردست حملہ ہوا۔ کسی نے کہا کہ چیچک تو متعدی بیماری ہے، اس کا یہاں ہونا ٹھیک نہیں ہے اسے نچلے حصہ میں بھیج دیا جائے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے سنا تو ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ اس کا اَور کون ہے جو اس کی تیمارداری کرے۔ چنانچہ بہت سی راکھ بچھا کر اس پر لٹا دیا گیا۔ خود حضورؑ دوا دیتے، حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ عمر میں آپؓ سے دو سال بڑی تھیں، انہوں نے حضورؑ سے دریافت کیا کہ کیا یہ اچھی ہوجائے گی؟ حضورؑ نے فرمایا: جلد اچھی ہوجائے گی۔ وہ کہنے لگیں کہ اس کے تو سارے جسم پر چیچک کے چھالے ہیں جو داغ بن جاتے ہیں اور برے معلوم ہوتے ہیں۔ حضورؑ نے فرمایا کہ یہ جلد اچھی ہوجائے گی اور جسم پر کوئی داغ بھی نہیں رہے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
حضرت مسیح موعودؑ کے لاہور میں بعض سفروں میں بھی آپؓ ساتھ تھیں۔ حضرت اماں جانؓ نے آپ کی شادی خود کرائی اور رہائش کے لئے، دارالمسیح کے قریب ہی ایک مکان جو تین کمروں پر مشتمل تھا، عنایت فرمادیا۔ ربوہ آکر حضرت اماں جانؓ نے اپنے کمرہ کے ساتھ ایک بڑا کمرہ آپ کے لئے تیار کروا دیا جس کی مشترکہ دیوار میں ایک بڑی کھڑکی رکھوائی تاکہ آنے جانے میں سہولت رہے۔ اس میں آپ اپنے خاوند کے ہمراہ رہائش پذیر رہیں۔ اخراجات کا بھی حضرت اماں جانؓ خود خاص طور پر خیال رکھتی تھیں۔ حضرت اماں جانؓ کی وفات کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے آپؓ سے فرمایا کہ حضرت اماں جان کا جو سلوک تم سے تھا ویسا ممکن ہے میں نہ کرسکوں بہر حال میری کوشش ہوگی۔ چنانچہ حضورؓ بھی آپ کو اسی طرح نوازتے رہے اور اپنی اولاد کو جو ماہانہ خرچ عنایت فرماتے تھے اسی فہرست میں ہی آپ کا نام بھی تھا۔ اس کے علاوہ بار بار نقد رقم، پھل، کھانے کی اشیاء، کپڑے وغیرہ عنایت فرماتے۔ یہی سلوک حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے بھی جاری رکھا اور آپ کے بیمار ہوجانے پر خود بیمار پرسی کے لئے تشریف لاتے رہے۔ جب صحت تھی تو آپ حضورؒ کے لئے بڑی محنت سے چھالیہ کاٹ کر لے جاتی تھیں۔ کبھی کبھی دلجوئی کے لئے حضورؒ فرمادیا کرتے تھے کہ ’’وہ دیکھو آگئیں اماں عائشہ ہمارے دانتوں کی دشمن‘‘۔ آپ بھی سمجھتی تھیں کہ یہاں دل کی بات کہی اور سنی جاسکتی ہے تو کہا کرتی تھیں کہ اچھا تو میں پھر واپس لے جاتی ہوں۔ تو حضورؒ فرماتے: نہیں نہیں، تم اتنی محبت سے تیار کرکے لائی ہو، میں تو مذاق کر رہا تھا۔
آپؓ کی وفات 2؍ جنوری 1987ء کو ہوئی اور تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/x35AR]

اپنا تبصرہ بھیجیں