حضرت عبداللہ بن عمروؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍دسمبر 1999ء میں حضرت عبداللہؓ بن عمرو بن حرام کے بارہ میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ آپؓ کی کنیت ابوجابر تھی جو آپؓ کے بیٹے اور مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداللہؓ کے نام پر تھی۔ آپ انصار میں سے تھے اور قبیلہ خزرج کی شاخ بنوسلمہ کی ممتاز شخصیت تھے۔
سن 13نبوی میں جب یثرب سے ایک قافلہ حج کے لئے مکہ آرہا تھا تو اُس میں حضرت عبداللہ بھی شامل تھے جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے۔ قافلہ میں موجود بعض مسلمانوں نے جو گزشتہ سال بیعت کرچکے تھے آپ سے کہا کہ آپ ہمارے سردار اور معزز افراد میں سے ہیں۔ ہم گزشتہ سال اسلام قبول کرچکے ہیں اور اِس سال دوبارہ بیعت کریں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ آپ جیسا ذی مرتبت جہنم کا ایندھن بنے۔ ان باتوں کا آپؓ پر ایسا اثر ہوا کہ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقعہ پر صدق دل سے اسلام قبول کرنے کی توفیق پائی۔ آنحضورؓ نے آپؓ کو بنوسلمہ کا نقیب مقرر فرمایا۔ حضرت براء بن معرورؓ بھی اسی قبیلہ کے نقیب بنائے گئے تھے۔
حضرت عبداللہؓ کو غزوہ بدر اور اُحد میں شمولیت کی سعادت حاصل ہے۔ جنگ اُحد سے ایک رات پہلے آپؓ نے اپنے بیٹے جابرؓ کو بلاکر فرمایا کہ ’’میرا دل کہہ رہا ہے کہ اس غزوہ میں سب سے پہلے مَیں شہید ہوں گا، مجھے رسول اللہ کے بعد سب سے زیادہ تم عزیز ہو… میرے بعد اپنی بہنوں سے اچھا برتاؤ کرنا اور میرے اوپر جو قرض ہے اس کو ادا کردینا‘‘۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو آپؓ ہی پہلے شہید تھے۔ آپؓ کو اسامہ بن اعور بن عبید نے قتل کیا اور وحشیانہ طور پر آپکی نعش کا مثلہ بھی کیا۔ اسی حالت میں نعش کپڑے میں لپیٹ کر آنحضورﷺ کے سامنے لائی گئی۔ حضرت جابرؓ جب اپنے والد کا چہرہ دیکھنا چاہتے تو اُن کی قوم منع کردیتی ۔ اس پر آنحضورﷺ نے نعش سے کپڑا ہٹانے کا حکم دیا۔ جب نعش کو تدفین کے لئے لے جایا جانے لگا تو آپؓ کی بہن نے رونا شروع کردیا۔ تب آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ تم روؤ یا نہ روؤ، جب تک جنازہ رکھا رہا، فرشتے اس پر پروں سے سایہ کئے ہوئے تھے۔
شہداء اُحد کو دو دو آدمی ساتھ کرکے دفن کیا گیا تھا۔ حضرت عبداللہؓ کے ساتھ آپؓ کے بہنوئی حضرت عمرو بن جموحؓ کو اکٹھا دفن کرنے کا حکم دیتے ہوئے آنحضورﷺ نے فرمایا کہ یہ دنیا میں بھی اچھے دوست تھے۔
تدفین کے چھیالیس برس بعد سیلاب کی وجہ سے ان کی قبر اکھڑ گئی تو نعشیں وہاں سے دوسری جگہ منتقل کی گئیں۔ لاشیں اُسی حالت میں تھیں جیسی شہادت والے دن تھیں۔
حضرت عبداللہؓ پر قرض بہت زیادہ تھا۔ جب آپؓ کے باغ میں کھجور کا پھل آیا تو حضرت جابرؓ نے آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ حضورؐ بھی باغ میں تشریف لے چلیں جہاں قرض خواہ بھی جمع ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اچھا! تم باغ میں جاکر ہر ایک قسم کی کھجور کا الگ الگ ڈھیر لگادو۔ حضرت جابرؓ نے ایسا کرنے کے بعد آپؐ کو بلوا بھیجا۔ آنحضورﷺ تشریف لائے اور قرض خواہوں کو ماپ ماپ کر دیتے رہے یہاں تک کہ تمام قرضہ ادا ہوگیا اور ڈھیر جوں کے توں نظر آتے رہے۔
حضرت عبداللہؓ کے ساتھ مل کر آپؓ کی برادری نے اشاعت اسلام میں بھرپور حصہ لیا۔ ایک موقعہ پر آنحضورﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ تمام انصار کو ہماری طرف سے جزائے خیر دے خصوصاً آل عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہؓ کو۔
حضرت عبداللہؓ کی شہادت کے بعد ایک بار آنحضورﷺ نے حضرت جابرؓ کو اداس اور پریشان دیکھ کر فرمایا کہ کیا مَیں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ کس طرح تمہارے والد کی اللہ تعالیٰ کے حضور پذیرائی ہوئی۔ حضرت جابرؓ نے عرض کیا: جی حضورؐ! ضرور سنائیں۔ فرمایا اللہ تعالیٰ کسی سے گفتگو کرتا ہے تو ہمیشہ پس پردہ گفتگو کرتا ہے لیکن تمہارے والد کو اللہ نے زندہ کیا اور اس سے آمنے سامنے گفتگو کی اور فرمایا: اے میرے بندے! مجھ سے جو مانگنا ہے مانگ، مَیں تجھے دوں گا ۔ تو تمہارے والد نے جواباً عرض کیا کہ اے میرے ربّ! مَیں چاہتا ہوں کہ تُو مجھے زندہ کرکے دوبارہ دنیا میں بھیج دے تاکہ تیری راہ میں دوبارہ قتل کیا جاؤں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ مَیں یہ قانون نافذ کرچکا ہوں کہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے دنیا میں نہیں لو ٹاؤں گا۔ تب تمہارے والد نے عرض کی کہ پھر میری نسبت کچھ ذکر دنیا میں بھیج دیجئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ جو لوگ خدا کی راہ میں قتل ہوئے، اُن کو مردہ مت سمجھو کیونکہ درحقیقت وہ زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور رزق دیئے جاتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں