حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور مشرق کے دُم دار ستارے کا نشان

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین مئی جون 2024ء)

انجینئر محمود مجیب اصغر صاحب

وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا ۔ ذٰلِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ ۚ …… (19 سورۃ مریم 34,35:)

ترجمہ : اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن مجھے جنم دیا گیا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں زندہ کر کے مبعوث کیا جاؤں گا ۔ یہ ہے عیسیٰ بن مریم ……

سٹار آف بیت لحم

متی کی انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش پر مشرق سے جس ستارے (سٹار آف بیت لحم) کے طلوع ہونے کا ذکر ہے، جیسا کہ اسٹرانومی کی سائنس نے ثابت کیا ہے، وہ دراصل ہیلے کومٹ Hally’s Comet تھا۔ پھر وہی کومٹ 1835ء میں ظاہر ہؤا تھا جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیدائش کا سن ہے۔ حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں دمدار ستاروں کے حوالوں سے بھی حضرت مسیح علیہ السلام سے اپنی مشابہت ظاہر فرمائی ہے ۔

شبیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام
حضرت مسیح موعود علیہ السلام

دراصل حضرت مسیح علیہ السلام کی تاریخ پیدائش (25 دسمبر) اور سن پیدائش arbitrary ہیں . Atlas of the Universe کے مطابق 12 BC میں نکلنے والا کومٹ (comet) دوبارہ 1835ء میں ظاہر ہوا

Observed Return of Hally’s Comet
Year. Date of Perihelion
12 BC. 10 Oct
1835 AD. 16 Nov
(Atlas of the Universe by Patrick Moore Page 138)

اس کے ثبوت میں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سن پیدائش 12 BC غلط ہے جو کہانی متی کی انجیل باب 2 میں لکھی ہوئی ہے اس کو تصویری زبان میں اٹلی کے ایک مشہور پینٹر Giotto di Bondone نے ظاہر کیا ہے۔ یہ تصویر ’’وکی پیڈیا‘‘ پر موجود ہے ۔

Adoration of the Magi by Florentine painter Giotto di Bondone (1267- 1337( . The Star of Bethlehem is shown as a comet above the child . Giotto witnessed an appearance of Halley’s Comet in 1301.

اس کی وضاحت کے لیے متی کی انجیل سے ایک حوالہ پیش خدمت ہے:
جب یسوع ہیرودیس بادشاہ کے زمانہ میں یہودیہ کے بیت لحم میں پیدا ہؤا تو دیکھو کئی مجوسی پورب سے یروشلم یہ کہتے ہوئے آئے یہودیوں کا جو بادشاہ پیدا ہؤا ہے وہ کہاں ہے کیونکہ پورب میں اس کا ستارہ دیکھ کر ہم اسے سجدہ کرنے آئے ہیں ۔ یہ سن کر ہیرودیس بادشاہ اور اس کے ساتھ یروشلم کے سب لوگ گھبرا گئے اور اس نے قوم کے سب سردار کاہنوں اور فقیہوں کو جمع کر کے ان سے پوچھا کہ مسیح کی پیدائش کہاں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس سے کہا یہودیہ کے بیت لحم میں کیونکہ نبی کی معرفت یوں لکھا گیا ہے کہ اے بیت لحم یہوداہ کے علاقے تو یہوداہ کے حاکموں میں ہر گز سب سے چھوٹا نہیں ۔کیونکہ تجھ میں سے ایک سردار نکلے گا جو میری امت بنی اسرائیل کہ گلہ بانی کرے گا ۔ اس پر ہیرودیس نے مجوسیوں کو چپکے سے بلا کر ان سے تحقیق کی کہ وہ ستارہ کس وقت دکھائی دیا تھا ۔ اور یہ کہہ کر انہیں بیت لحم کو بھیجا کہ جاکر اس بچے کی بابت ٹھیک ٹھیک دریافت کرو اور جب وہ ملے تو مجھے خبر دو ۔ تا کہ میں بھی آکر اس کو سجدہ کروں ۔ وہ بادشاہ کی بات سن کر روانہ ہوئے اور دیکھو جو ستارہ انہوں نے پورب میں دیکھا تھا وہ ان کے آگے آگے چلا یہاں تک کہ اس جگہ کے اوپر جا کر ٹھہر گیا جہاں وہ بچہ تھا۔ وہ ستارے کو دیکھ کر نہایت خوش ہوئے اور اس گھر میں پہنچ کر بچے کو اس کے ماں مریم کے پاس دیکھا اور اس کے آگے گر کر سجدہ کیا اور اپنے ڈبے کھول کر سونا اور لبان اور مر اس کو نذر کیا اور ہیرودیس کے پاس پھر نہ جانے کی ہدایت خواب میں پاکر دوسری راہ سے اپنے ملک کو روانہ ہوئے۔ جب وہ روانہ ہوگئے تو دیکھو خداوند کے فرشتہ نے یوسف کو خواب میں دکھائی دے کر کہا کہ اٹھ بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو بھاگ جا اور جب تک کہ مَیں تجھ سے نہ کہوں وہیں رہنا کیونکہ ہیرودیس اس بچے کو تلاش کرنے کو ہے تاکہ اسے ہلاک کر دے ۔ پس وہ اٹھا اور رات کے وقت بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر روانہ ہو گیا ۔ اور ہیرودیس کے مرنے تک وہیں رہا تاکہ جو خداوند نے نبی کی معرفت کہا تھا وہ پورا ہو کہ مصر میں سے اپنے بیٹے کو بلایا ۔ جب ہیرودیس نے دیکھا کہ مجوسیوں نے میرے ساتھ ہنسی کی تو نہایت غصےہؤا اور آدمی بھیج کر بیت لحم اور اس کی سب سرحدوں کے اندر کے ان سب بچوں کو قتل کروا دیا جو دو دو برس کے یا اس سے چھوٹے تھے ۔ اس وقت کے حساب سے جو اس نے مجوسیوں سے تحقیق کی تھی۔ اس وقت وہ بات پوری ہوئی جویرمیاہ نبی کی معرفت کہی گئی تھی کہ رامہ میں آواز سنائی دی۔ رونا اور بڑا ماتم۔ راخل اپنے بچوں کو رو رہی ہے اور تسلی قبول نہیں کرتی اس لیے کہ وہ نہیں ہیں۔
جب ہیرودیس مر گیا تو دیکھو خدا وند کے فرشتہ نے مصر میں یوسف کو خواب میں دکھائی دے کر کہا کہ اٹھ اس بچے اور اس کی ماں کو لے کر اسرائیل کے ملک میں چلا جا کیونکہ جو بچہ کی جان کے خواہاں تھے وہ مر گئے ۔ پس وہ اٹھا اور بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر اسرائیل کے ملک میں آگیا ۔ مگر جب سنا کہ ارخلاؤس اپنے باپ ہیرودیس کی جگہ یہودیہ میں بادشاہی کرتا ہے تو وہاں جانے سے ڈرا اور خواب میں ہدایت پاکر گلیل کے علاقہ کو روانہ ہو گیا اور ناصرۃ نام ایک شہر میں جا بسا تاکہ جو نبیوں کی معرفت کہا گیا تھا وہ پورا ہو کہ وہ ناصری کہلائے گا ۔ (متی باب 2)

کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے
جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں