حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ کو حضرت مصلح موعودؓ کی نصائح

لجنہ اماء اللہ ناروے کے سہ ماہی رسالہ ’’زینب‘‘ اپریل تا جون 2008ء میں حضرت مصلح موعودؓ کی وہ نصائح درج ہیں جو آپؓ نے حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ کو بغرض تعلیم انگلستان روانہ ہوتے وقت فرمائیں۔ ان نصائح میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:
٭ انگلستان بھجوانے کی وجہ یہ ہے کہ تم اُن ہتھیاروں سے واقف ہوجاؤ جن کو دجال اسلام کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ اُن میں کوئی اچھی بات دیکھو تو وہ تم کو مرعوب نہ کرے کیونکہ اگر وہ بات مسلمانوں میں نہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اسلام میں نہیں۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں نے بھلادی۔
٭ روزانہ سورۃ کہف کی دس ابتدائی اور دس آخری آیات پڑھ کر مطالب پر غور کرو، وہاں کی کوئی بُری بات تم پر اثر نہیں کرے گی۔
رات کو بلاناغہ تین بار آیت الکرسی اور تینوں قُل پڑھ کر اپنے ہاتھ پر پھونک کر سر اور دھڑ پر پھیر لیا کرو اور پھر یہ دعا کرو:

اللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَیْکَ وَ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ اِلَیْکَ وَ فَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ وَاَلْجَأْتُ ظَھْرِیْ اِلَیْکَ رَغْبَۃً وَّ رَھْبَۃً اِلَیْکَ۔ لَامَلْجَاءِ وَ لَا مَنْجَاءِ مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ۔ اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ۔

اگر تم سمجھ کر اس دعا کو پڑھوگے تو اس میں ایسا روشن نُور پاؤگے جو دل کو محبتِ الٰہی سے بھردے۔
٭ اپنے لئے نُور پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ، قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق، تہجد ہے۔
٭ قرآن کی تلاوت کو نہ بھولنا۔ علم و عمل کے لئے وہی سب کچھ ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے لغو ہے، فضول ہے بلکہ زہر ہے۔
٭ دعا عبادت کا مغز اور مومن کی جان ہے۔ جو دعا میں غفلت کرتا ہے، متکبر ہے۔ دعا اس کا نام نہیں کہ انسان منہ سے کہہ دے۔ دعا پگھل جانے کا نام ہے، موت اختیار کرنے کا نام ہے، تذلّل اور انکسار کا نمونہ بن جانے کا نام ہے۔
اگر دعا کے ساتھ کوئی کیفیت پیدا نہ ہو تو وہ دعا نہیں، الٰہی قہر کے بھڑکانے کا ایک شیطانی آلہ ہے۔
٭ اللہ کی محبت پیدا کرو کہ اِس سے زیادہ محبت کے قابل کوئی وجود نہیں۔
٭ بدنامی کے مواقع سے بھی بچو۔
٭ غذا میں پرہیز رہے۔ یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حلال غذا سے حلال خون پیدا ہوتا ہے۔ اگر غذائیں حرام ہوں گی تو خون بھی خراب ہوگا اور خیالات بھی گندے ہوں گے۔
٭ تبلیغ زبان سے بھی اور حسن اخلاق سے بھی۔
٭ علمی مذاق والوں کی صحبت کو اپنے دل کی تسکین کا ذریعہ بناؤ۔
٭ امام مسجد خلیفہ کا نمائندہ ہے۔ اس کی اطاعت اور اس سے تعاون ایمان کا ایک جزو ہے۔
٭ اس وقت سب عزت احمدیت میں ہے۔ پس احمدیت کے چھوٹے سے چھوٹے کام کو دنیا کی ہر عزت سے مقدّم سمجھو۔ اگر اس میں کوتاہی ہوئی تو اپنی عاقبت بگاڑ لوگے۔
٭ حضرت مسیح موعودؑ کی کتابوں، میری تحریروں اور اخباراتِ سلسلہ کے پڑھنے کی عادت ڈالو کہ اِن میں زندگی کا پانی ہے۔
٭ سب نصیحتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا کے بنو۔ ہم سب فانی ہیں اور وہی زندہ اور حاصل کرنے کے قابل ہے۔ اس کا چہرہ دنیا کو دکھانے کی کوشش کرو۔ اپنی زندگی اسی کے لئے کردو۔ ہر سانس اسی کے لئے ہو، وہی مقصود ہو، وہی مطلوب ہو، وہی محبوب ہو۔ جب تک دنیا میں اُس کا نام روشن نہ ہو تم کو آرام نہ آئے، تم چین سے نہ بیٹھو۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/zKecT]

اپنا تبصرہ بھیجیں