حضرت مسیح علیہ السلام کب پیدا ہوئے؟

ماہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ ربوہ دسمبر 2007ء میں مکرم نصیر احمد انجم صاحب کے قلم سے کرسمس ڈے کی حقیقت کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
یوم ولادتِ مسیحؑ (کرسمس ڈے) چوتھی عیسوی صدی میں 25؍دسمبر کو منایا جانے لگا۔ عیسائی سکالرز 13 جلدوں پر مشتمل بائبل کی ضخیم تفسیر میں لکھتے ہیں کہ تیسری صدی عیسوی کے آغاز تک چرچ کے مختلف علاقوں میں 6جنوری کو یوم ولادت مسیحؑ منایا جاتا تھا اور چوتھی صدی میں اس تاریخ کو 25دسمبر سے بدل دیا گیا جو کہ بہت پہلے سے بُت پرست قوموں کے ایک تہوار کا دن تھا۔
انسائیکلوپیڈیا برٹینکا میں لکھا ہے کہ 25 دسمبر مغربی قوموں میں ایک تہوار کے طور پر منائی جاتی تھی۔ لاطینی اس دن دیوتا کے لئے روزہ رکھا کرتے تھے اور برطانیہ میں اسے Mother Night کہا جاتا تھا۔ یہ رات انگریز عبادت میں گزارتے تھے۔ عیسائیت آنے کے بعد پانچویں صدی عیسوی تک اس بات پر اجماع نہیں ہوسکا تھا کہ کرسمس 6جنوری، 25مارچ اور 25 دسمبر میں سے کس تاریخ کومنایا جائے۔
بائبل کے شارحین نے تسلیم کیا ہے کہ علماء احبار کے نزدیک اِس تاریخ کی ذرہ بھر اہمیت نہیں ہے۔ چنانچہ ولیم جینکس (Villiam Janks) اپنی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ یہ خیال 527 ء تک چلتا رہا۔ حتیٰ کہ Dionysivs Exigaus نے یہ فضول تاریخ ایجاد کی جسے متعدد علماء نے بڑی شدت سے ردّ کیا۔ چنانچہ Fabricius نے ایسا جدول تیار کیا جس میں ولادت مسیحؑ کے لئے 136 مختلف آراء بیان کی گئی ہیں۔ اسی طرح یوم ولادت مسیحؑ کا بھی حال ہے۔ مختلف عیسائی فرقوں نے سال کے ہر مہینہ میں مسیحؑ کی ولادت کی مختلف تاریخیں مقرر کر رکھی ہیں۔ چنانچہ ولیم جینکس ساری بحث کے بعد بالآخر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان حقائق کی بناء پر عیسائیوں کو دسمبر میں یوم ولادت مسیح منانا ترک کر دینا چاہئے۔
قرآن کریم نے ولادت مسیح کے حوالہ سے چشمہ کے بہنے اور کھجوروں کے پکنے کا جو راز منکشف کیا ہے اس بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا: ’’قرآن بتاتا ہے کہ مسیحؑ اس موسم میں پیدا ہوئے جس میں کھجور پھل دیتی ہے اور کھجور کے زیادہ پھل دینے کا زمانہ دسمبر نہیں ہوتا، جولائی اگست ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم یہ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں ایک چشمے کا بھی پتہ بتایا جہاں وہ اپنے بچے کو نہلا سکتی تھیں اور اپنی بھی صفائی کر سکتی تھیں تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جولائی اگست کا مہینہ تھا ورنہ سخت سردی کے موسم میں چشمہ کے پانی سے نہانا اور بچے کو غسل دینا خصوصاً ایک پہاڑ پر عرب کے شمال میں عقل کے بالکل خلاف تھا‘‘۔
نئے عہد نامہ میں موجود چاروں اناجیل میں لوقا کی واحد انجیل ہے جس نے مسیحؑ کی ولادت کے موسم کی بابت لکھا ہے اور اس کا بیان قرآن مجید کے بیان کے بھی مطابق ہے۔لوقا میں تحریر ہے کہ ’’جب وہ وہاں (بیت لحم) تھے تو ایسا ہوا کہ اس کے وضع حمل کا وقت آپہنچا اور اس کا پہلو ٹھا بیٹا پیدا ہوا اور اسے کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھا کیونکہ اُن کے واسطے سرائے میں جگہ نہ تھی‘‘۔ پھر لکھا ہے: ’’اُسی علاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو میدان میں رَہ کر اپنے گلہ بانی کی نگہبانی کررہے تھے‘‘۔ اسی بات کے شروع میں قیصر اوگستس کے حکم بابت مردم شماری کا ذکر ہے جو گرمیوں کے موسم میں ہوئی جب جانوروں کے گلے اور چرواہے کھلے میدان میں رات بسر کررہے تھے۔
چنانچہ لوقا کے بیان کے مطابق جب حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو ایسا موسم تھا کہ نومولود بچے کو باہر کھلی جگہ چرنی میں رکھا جاسکتا تھا۔ اوراس وقت پالتو جانور باہر کھلے آسمان تلے رات بسر کرسکتے تھے۔ اور رات کے وقت انسان (چرواہے) میدان میں سو سکتے تھے۔ یعنی سردی کا موسم نہ تھا۔ پس عیسائی دنیا کو کرسمس ڈے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/AzJFo]

اپنا تبصرہ بھیجیں