حضرت مسیح موعودؑ کا عفو و درگزر

٭ میرٹھ سے ایک اخبار شحنہ ہند حضرت مسیح موعودؑ کی مخالفت میں نہایت گندے مضامین شائع کرتا تھا- اکتوبر 1902ء میں میرٹھ کی جماعت کے صدر حضرت شیخ عبدالرشید صاحبؓ نے قادیان میں حضورؑ کی خدمت میں یہ ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اخبار کے مضامین پر عدالت میں نالش کریں گے- یہ سُن کر آپؑ نے فرمایا ’’ہمارے لئے خدا کی عدالت کافی ہے، یہ گناہ میں داخل ہوگا اگر ہم خدا کی تجویز پر تقدم کریں- اس لئے ضروری ہے کہ صبر اور برداشت سے کام لیں‘‘- حضرت اقدسؑ کے دشمنوں سے عفو کے بعض واقعات حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ کے ایک پرانے مضمون سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5و 12؍اگست 1998ء کی زینت ہیں-
٭ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں عیسائیوں کے گواہ کی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوئے تو حضرت اقدسؑ کے وکیل مولوی فضل الدین صاحب نے جرح کے دوران گواہ سے ایسے سوالات کرنے چاہے جو مولوی صاحب کی عزت و آبرو کو خاک میں ملا دیتے- لیکن حضورؑ نے باصرار اور بزور ایسا کرنے سے روک دیا-
٭ حضرت مسیح موعودؑ کی قلیل جماعت کو آغاز میں قادیان میں بھی شدید تکالیف اٹھانی پڑیں- جب حضرت سید احمد نور صاحبؓ نے حضورؑ کی اجازت سے ڈھاب کے قریب مکان بنانا چاہا تو بہت سے سکھوں اور برہمنوں نے اُن پر حملہ کرکے لہولہان کردیا- ایک حملہ آور کو بھی چوٹ لگی- حضورؑ کو علم ہوا تو آپؑ نے صلح اور سمجھوتہ کرنے کی تلقین کی- دشمنوں نے بھی یہی عندیہ ظاہر کیا لیکن دوسری طرف عدالت میں حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ اور بعض دوسرے لوگوں پر مقدمہ دائر کردیا-اس پر پولیس کو اطلاع دی گئی اور پولیس کی طرف سے بلوہ کرنے کے الزام میں سولہ حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ دائر کردیا گیا- نتیجۃً دشمن کی طرف سے قائم کیا جانے والا جھوٹا مقدمہ خارج ہوگیا اور پولیس کی طرف سے دائر کیا ہوا مقدمہ آخر تک چلا اور جب دشمنوں کو یقین ہوگیا کہ اب سزا ہو جائے گی تو وہ لالہ ملاوا مل وغیرہ کو لے کر حضرت اقدسؑ کی خدمت میں معافی کے لئے حاضر ہوئے- حضورؑ نے معاف فرما دیا- حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ صاحب نے سارے واقعات بیان کرکے عرض کیا کہ یہ مقدمہ پولیس نے چالان کیا ہے اور اس میں سرکار مدعی ہے، سولہ ملزم ہیں، پولیس سب کا رہا ہو جانا کبھی پسند نہیں کرے گی اور ہمارے اختیار سے باہر ہے کہ ہم یہ مقدمہ بطور راضی نامہ ختم کردیں کیونکہ ہم مدعی نہیں، پھر مقدمہ ایسے مرحلے پر ہے کہ صرف فیصلہ باقی ہے- اس پر آپؑ نے فرمایا ’’ہمارے اختیار میں جو کچھ ہے وہ کر لینا چاہئے- میں نے ان کو معاف کردیا ہے- میری طرف سے جاکر کہہ دیا جاوے …‘‘- چنانچہ فیصلے کے روز عدالت میں جاکر حضرت شیخ صاحب نے حضرت اقدسؑ کا فیصلہ سنادیا- پولیس کو بہت افسوس ہوا اور مجسٹریٹ نے کہا کہ یہاں پولیس مدعی ہے اور آپ کا کیا اختیار ہے- آپؓ نے کہا ہم کو یہی حکم ہے اور وہ آپ تک پہنچا دیا ہے- اس پر مجسٹریٹ صاحب بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ جب حضرت صاحب نے معاف کردیا تو میں بھی معاف ہی کرتا ہوں اور پھر ملزموں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ایسا مہربان انسان کم دیکھا گیا ہے جو دشمنوں کو اس وقت بھی معاف کردے جبکہ وہ اپنی سزا بھگتنے والے ہوں اور بہت ملامت کی کہ ایسے بزرگ کی جماعت کو تم تکلیف دیتے ہو، بڑے شرم کی بات ہے، آج تم سب سزا پاتے مگر یہ مرزا صاحب کا رحم ہے کہ تم کو جیل جانے سے بچا دیا-
٭ ایک مقدمہ کے دوران ایک شخص سنتا سنگھ بانگرو بھی ملزم تھا اور اُس کے چچا نے فریق مخالف کو مقدمہ دائر کرنے پر آریوں کے ساتھ مل کر اکسایا تھا- چند ہی روز بعد اُسے مُشک کی ضرورت پڑی تو اُس نے حضورؑ کے دروازے پر دستک دی- آپؑ باہر تشریف لائے تو اُس نے مدعا بیان کیا- اگرچہ آپؑ کو علم تھا کہ وہ فتنہ میں ایک لیڈر کی طرح حصہ لیتا رہا ہے لیکن صرف اتنا فرمایا ’’ٹھہرو، لاتا ہوں‘‘ اور پھر نصف تولہ مشک لاکر اُس کے حوالہ کردی-
٭ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے چچا زاد بھائیوں نے مسجد مبارک کے راستہ میں دیوار کھینچ کر آپؑ اور آپکی جماعت کو شدید تکالیف پہنچائی تھیں- آخر عدالت نے دیوار گرانے کا حکم دیا اور حرجانہ اور خرچہ کی ڈگری بھی دی- تب مرزا نظام الدین صاحب نے نہایت عاجزی سے آپؑ کی خدمت میں لکھا کہ میری حالت آپ کو معلوم ہے- اگرچہ میں قانونی طور پر اس روپیہ کے ادا کرنے کا پابند ہوں اور آپ کو بھی حق ہے کہ ہر طرح وصول کریں- مجھ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہماری طرف سے کوئی نہ کوئی تکلیف آپ کو پہنچتی رہی ہے مگر یہ بھائی صاحب (مرزا امام الدین صاحب جو وفات پاچکے تھے) کی وجہ سے ہوتا تھا اور مجھے مجبوراً شریک ہونا پڑتا تھا- آپ رحم کرکے معاف فرمادیں – اگر معاف نہ کریں تو اقساط میں وصول کرلیں-
جب حضورؑ کو یہ خط ملا تو آپؑ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ مجھ سے کیوں دریافت نہ کیا گیا- نیز فرمایا کہ ہم کو دنیاداروں کی طرح مقدمہ بازی اور تکلیف دہی سے کچھ کام نہیں، خدا تعالیٰ نے مجھے اس غرض کے لئے دنیا میں نہیں بھیجا- اور اسی وقت ایک ہمدردانہ جوابی مکتوب لکھا کہ مجھے اس ڈگری کے کبھی اجراء نہ کرنے کے متعلق یقین دلایا گیا تھا- چنانچہ آپؑ نے سب کچھ معاف کردیا اور اس کا یہ اثر ہوا کہ مرزا نظام الدین صاحب نے باقی زندگی عملاً مخالفت ترک کردی-
حضورؑ نے نہ صرف مرزا صاحب کو دل سے معاف کیا بلکہ اُن کی درخواست پر زمین کا ایک ٹکڑا بھی انہیں عنایت فرمادیا جسے بعد میں انہوں نے حضورؑ کے ایک خادم کے ہاتھ ہی فروخت کردیا- لیکن حضورؑ نے کبھی اُس کی قیمت کا مطالبہ نہ کیا-

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں