حضرت مسیح موعودؑ کی مہمان نوازی

لنگر کا انتظام ابتدائی زمانہ میں حضرت مسیح موعودؑ کے گھر میں ہی ہوتا تھا۔ گھر میں دال سالن پکتا اور ایک بڑے توے پر دو تین نوکرانیاں بہت سی روٹیاں پکاکر باہر بھیج دیا کرتی تھیں۔ حضرت اقدسؑ کی مہمان نوازی کے ایمان افروز تاریخی واقعات (مرتبہ: مکرم حبیب الرحمان زیروی صاحب) روزنامہ ’’الفضل‘‘ 11؍فروری 1998ء میں شامل اشاعت ہیں۔
ڈاکٹر محمد اسماعیل خانصاحب کا بیان ہے کہ ایک بار کسی جلسہ وغیرہ کا موقع تھا جب مہمانوں کے لئے باہر پلاؤ زردہ وغیرہ پک رہا تھا۔ حضورؑ کے لئے اندر سے کھانا آگیا۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ بہت عمدہ کھانا ہوگا لیکن وہ صرف تھوڑا سا خشکہ اور کچھ دال تھی اور صرف ایک آدمی کی مقدار کا کھانا تھا۔ حضورؑ نے ہمیں بھی دعوت دی اور ہم بھی شامل ہوگئے اور اسی کھانے سے ہم سب سیر ہوگئے حالانکہ ہم بہت سے آدمی تھے۔
حضرت عبداللہ سنوری صاحبؓ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت اقدسؑ نے چند مہمانوں کی دعوت کی اور ان کے لئے گھر میں کھانا تیار کروایا لیکن عین دعوت کے وقت اتنے ہی اور مہمان آگئے اور مسجد مبارک مہمانوں سے بھر گئی۔ حضورؑ نے اندر کہلا بھیجا کہ کھانا زیادہ بھجواؤ۔ اس پر حضرت اماں جانؓ نے بتایا کہ کھانا تو تھوڑا ہے مگر شاید کھینچ تان کر انتظام ہو جائے لیکن زردہ بہت ہی تھوڑا ہے، میرا خیال ہے وہ بھجواتی ہی نہیں۔ حضورؑ نے فرمایا یہ مناسب نہیں۔ اور پھر زردہ کا برتن منگواکر رومال سے ڈھانک دیا اور پھر رومال کے نیچے اپنا ہاتھ گزار کر اپنی انگلیاں زردہ میں داخل کردیں اور فرمایا کہ اب کھانا نکالو خدا برکت دے گا۔ چنانچہ یہ زردہ سب نے سیر ہوکر کھایا۔
حضرت اماں جانؓ بیان فرماتی ہیں کہ ایک بار حضرت صاحب کیلئے تھوڑا سا پلاؤ تیار کروایاگیا لیکن اتفاقاً اس روز نواب صاحب کی بیوی اور بچے بھی ہمارے گھر میں آگئے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ان کو بھی کھانا کھلاؤ۔ میں نے کہا کہ چاول تو بالکل ہی تھوڑے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا چاول کہاں ہیں۔ پھر حضرت صاحب نے چاولوںکے پاس آکر دم کیا اور کہا اب تقسیم کردو۔ ان چاولوں میں ایسی برکت ہوئی کہ سارے گھر نے کھائے پھر کئی گھروں میں بھجوائے گئے اورچونکہ وہ برکت والے چاول مشہور ہوگئے اسلئے کئی لوگوں نے آ آکر مانگے اور انہیں بھی تھوڑے تھوڑے دیئے گئے۔
اوائل زمانہ میں حضرت اقدسؑ دونوں وقت کا کھانا باہر مہمانوں کے ہمراہ کھایا کرتے تھے۔ کبھی حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کسی ملازم کی طرف اشارہ کرکے کہتے کہ اچار کو دل چاہتا ہے تو حضرت صاحبؑ فوراً دسترخوان سے اٹھ کر اندر جاتے اور اچار لے آتے۔
حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ جلسہ پر اتنے لوگ آئے کہ مہمانوں کے لئے حضورؑ نے اپنا بستر بھی بھجوادیا۔ میں عشاء کے بعد حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؑ بغلوں میں ہاتھ دیئے بیٹھے تھے اور ایک صاحبزادہ (غالباً حضرت مصلح موعودؓ) پاس لیٹے تھے جنہیں ایک چوغہ اوڑھ رکھا تھا۔ میں کسی سے لحاف بچھونا مانگ کر لے گیا تو آپؑ نے فرمایا کسی اور کو دے دو، مجھے تو اکثر نیند بھی نہیں آیا کرتی۔ اور میرے اصرار پر بھی آپؑ نے نہ لیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں