حضرت مصلح موعودؓ – دل کا حلیم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍فروری 2004ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے دل کا حلیم ہونے کے بارہ میں ایک مضمون مکرم فرخ سلمانی صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
تحریک جدید کے آغاز کے وقت حضرت مصلح موعودؓ نے بھائیوں سے صلح کرنے اور یکجان ہونے کا ارشاد بھی فرمایا تھا۔ اس حکم کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: جس وقت میں نے جماعت کے لئے یہ حکم تجویز کیا، اس وقت سب سے پہلے میں نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اے خدا! میرا دل صاف ہے اور مجھے کسی سے بغض وکینہ یا رنجش نہیں۔ سوائے ان کے جن سے ناراضگی کا تُو نے حکم دیا ہے۔ … میں نے کبھی کسی شخص سے بغض نہیں رکھا بلکہ شدید دشمنوںکے متعلق بھی میرے دل میں کبھی کینہ پیدا نہیں ہوا۔ ہاں ایک قوم ہے جس کو میں مستثنیٰ کرتا ہوں اور وہ منافقین کی جماعت ہے۔ مگر منافقین کاقطع کرنا یا انہیں جماعت سے نکالنا یہ میرا کام ہے تمہارا نہیں۔ جس کو میں منافق قراردوں اس کے متعلق جماعت کا فرض ہے کہ اس سے بچے، لیکن جب تک میں کسی کو جماعت سے نہیں نکالتا، تمہیں ہر ایک شخص سے صلح اورمحبت رکھنی چاہئے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہنا چاہئے۔
1932ء میں مکرم خواجہ کمال الدین صاحب کی وفات پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے فرمایا: ’’اگرچہ خواجہ صاحب نے میری مخالفتیں کیں لیکن انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے وقت خدمات بھی کی ہیں اس وجہ سے ان کی موت کی خبر سنتے ہی میں نے کہہ دیا کہ انہوں نے میری جتنی مخالفت کی وہ میںنے سب معاف کی۔ خدا تعالیٰ بھی ان کومعاف کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن بندوں کو خداتعالیٰ کھینچ کر اپنے مامورین کے پاس لاتا ہے ان میں ہو سکتا ہے کہ غلطیاں بھی ہوں لیکن خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔ ہمیں ان خوبیوں کی قدر کرنی چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں خلافت کا انکار بڑی خطا ہے خداتعالیٰ نے اسے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ مگر ہماراجہاں تک تعلق ہے ہمیں معاف کرناچاہئے۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک اگر ایسے شخص کی نیکیاں بڑھی ہوئی ہوں گی تو وہ اس سے بہتر سلوک کرے گا۔‘‘
ایک دفعہ ایک سخت مخالف غیراز جماعت کسی کام کے سلسلہ میں حضرت مصلح موعودؓ سے ملنے کے لئے ربوہ آئے۔ اُن کی حضرت امّ ناصرؓ سے قریبی رشتہ داری بھی تھی اس لئے سیدھے اُن کے ہاں پہنچے اور پیغام بھجوایا کہ مجھے حضرت صاحب سے وقت لے دیں۔ مگر حضرت امّ ناصر نے غیرت کی وجہ سے جواب دیا: ’’یوں تو آپ میرے خاوند کو گالیاں دیتے ہیں مگر جب کام ہوتا ہے تو سفارش کروانے آجاتے ہیں۔ میں نہ صرف یہ کہ پیغام نہ دوں گی بلکہ آپ سے ملنا بھی پسند نہیں کرتی‘‘۔ وہ صاحب دفتر پرائیویٹ سیکرٹری گئے اور کوشش کر کے ملاقات کا وقت لے لیا۔ کچھ دیر بعد حضورؓ جب امّ ناصرؓ کے ہاں تشریف لائے تو فرمایا کہ اُنہی صاحب کے لئے اکرام ضیف کے طور پر ایک دو ڈش مزید تیار کر دو، وہ کھانا میرے ساتھ کھائیں گے۔ حضرت امّ ناصرؓ نے اُن کا پیغام اور اپنا جواب بتایا تو حضورؓ نے فرمایا: تم نے تو اپنی غیرت کا اظہار کر دیا ہے مگر اب وہ میرے مہمان ہیں اور رسول اللہؐ نے مہمان کی بڑی عزت رکھی ہے۔ وہ گالیاں دے کر اپنے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں اور میں نے سنت رسول ؐ پر چل کر اپنے اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے۔
قادیان میں ڈاکٹر گور بخش سنگھ سلسلہ کی برملا مخالفت کیا کرتے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میری بھانجی نے F.A. میں فلاسفی کا مضمون لیا تھا۔ اس مضمون میں وہ کمزور تھی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ مکرم عبد السلام اختر صاحب فلاسفی میں M.A. ہیں۔ میرے اُن کے والد سے اچھے مراسم تھے۔ میں نے اُن سے اپنی بھانجی کے لئے اختر صاحب کو ٹیوشن پڑھانے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ وہ فرمانے لگے کہ میرا بیٹا واقف زندگی ہے۔ اگر حضرت صاحب اجازت دیدیں تو وہ بخوشی یہ خدمت بجالاسکتا ہے۔ ان دنوں مَیں نے حضرت صاحب اور جماعت کے خلاف کچھ مقدمات کئے ہوئے تھے اور میرے تعلقات حضور کے ساتھ کشیدہ تھے۔ لہٰذا میں حضرت صاحب کی خدمت میں اس کے لئے کہنا نہ چاہتا تھا۔ لیکن جب کوئی اَور انتظام نہ ہو سکا تو مجبوراً میں نے حضور کی خدمت میں رقعہ لکھا۔ حضور نے بخوشی اختر صاحب کو اجازت دیدی اور وہ کئی ماہ تک میری بھانجی کو پڑھاتے رہے۔ میں نے ان کو ٹیوشن فیس دینا چاہی لیکن انہوں نے کہا کہ میں حضرت صاحب کے حکم کے ماتحت بطور ڈیوٹی پڑھا رہا ہوں، اس کا معاوضہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نتیجہ نکلنے پر لڑکی بہت اچھے نمبروں میں پاس ہوئی اور میں ایک تھال میں مٹھائی اور دس روپے لے کر اُن کے گھر پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں لے سکتا۔ اگر آپ چاہیں تو حضرت صاحب کے پاس لے جائیں۔ میں نے وہ مٹھائی حضور کی خدمت میں بھجوائی تو حضور نے بچی کو مبارکباد دی اور فرمایا کہ آپ ہمارے پڑوسی ہیں۔ مَیں نے جو بچی کی پڑھائی کا انتظام کیا ہے وہ کسی معاوضہ کے لئے نہیں تھا۔ حضور نے مٹھائی دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعہ تقسیم کرادی اور رقم مجھے واپس کر دی۔
فخر الدین ملتانی ایک فتنہ کا بانی تھا اور اس نے اپنی زبان اور قلم سے حضورؓ اور آپؓ کے اہلِ خانہ کے خلاف سب وشتم اور بہتان طرازی سے کام لیا۔ لیکن جب وہ فوت ہوگیا تو اس کی بیوی نے حضور کی خدمت میں اپنی مالی تنگی اور تہی دستی کا ذکر کرتے ہوئے امداد کی درخواست کی۔ باوجود اس کے کہ اُس شخص کا پیدا کردہ فتنہ ابھی جاری تھا مگر مجسم حلم وجود نے ان کے لئے سامان خورونوش فراہم کرنے کا انتظام کیا۔ پھر اگرچہ حضورؓ نے اعلان فرمایا ہوا تھا کہ آپؓ سوائے اپنے رشتہ داروں یا واقفین کے ، کسی اَور کے نکاحوں کا اعلان کرنے کی فرصت نہ نکال سکیں گے لیکن جب فخر الدین ملتانی کے لڑکے نے کہا کہ اگر اس کی ہمشیرہ کا نکاح خود حضورؓ پڑھانا منظور فرماویں تو تب ہی اس کا رشتہ احمدیوں میں ہو سکتا ہے ورنہ کوئی احمدی اس کا رشتہ قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو گا تو آپ نے یہ درخواست قبول کرتے ہوئے فخرالدین کی لڑکی کے نکاح کا اعلان بھی فرمایا۔
جماعت احمدیہ کے شدید معاند ظفر علی خان جب مری میں فالج کی بیماری میں مبتلا تھے اور نہایت کسمپرسی کے عالم میں اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہے تھے تو حضورؓ کے ارشاد پر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب بغرض علاج اُن کے پاس جاتے رہے اور اُن کی ادویہ کے لئے حضورؓ نے اپنی جیب خاص سے رقم بھی مرحمت فرمائی۔ چنانچہ جناب عبد الحکیم صاحب عامر کا بیان ہے کہ: ’’ایک سال پیشتر جب آغا شورش کاشمیری صاحب سخت علیل تھے قادیانیوں کے روحانی پیشوا (یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ) نے آپ کو غیر ملکی دوائیوں کی پیشکش کی تھی … مولانا ظفر علی خان کی علالت کے دنوں میں جبکہ وہ مری میں مقیم تھے، قادیانیوں کے روحانی پیشوا سے مولانا کو بھی اس قسم کی پیشکش کی گئی تھی۔‘‘

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/ImZbh]

اپنا تبصرہ بھیجیں