حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ

حضرت مفتی صاحبؓ کے بارہ میں 18؍اکتوبر 1996ء کے اخبار الفضل انٹرنیشنل کے اسی کالم میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍اکتوبر 2002ء میں بھی ایک مضمون آپ کی سیرت کے حوالہ سے شائع ہوا ہے۔
حضرت مفتی صاحبؓ 13؍جنوری 1872ء کو بھیرہ میں مفتی عنایت اللہ قریشی عثمانی صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ نے قریباً 13 سال کی عمر میں بھیرہ کے ایک نیک شخص کی زبانی سنا کہ قادیان میں ایک مرزا صاحب ہیں جن کو الہام ہوتے ہیں۔ آپ کے والد نے آپ کو قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحبؓ کے پاس جموں بھجوادیا جہاں آپ چھ ماہ مقیم رہے اور حضرت مولوی صاحبؓ کی مجلس میں حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر بھی سنتے رہے۔ 1889ء میں آپ نے ایک رؤیا دیکھا جس کا آپ کی طبیعت پر بہت اثر ہوا۔ دسمبر 1890ء میں حضرت مولوی صاحبؓ کا سفارشی خط لے کر قادیان آئے اور حضرت اقدسؑ سے ملاقات کی۔ اگلی صبح سیر کے دوران آپ نے حضورؑ سے پوچھا کہ گناہوں سے بچنے کا علاج کیا ہے؟ حضورؑ نے فرمایا کہ موت کو یاد رکھنا چاہئے، جب آدمی اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اس نے آخر ایک دن مرجانا ہے تو اس میں طول امل پیدا ہوتا ہے، لمبی لمبی امیدیں کرتا ہے اور گناہوں میں دلیری اور غفلت پیدا ہوجاتی ہے۔
قادیان آمد کے تیسرے دن آپؓ نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔ اُس وقت آپؓ جموں میں ہائی سکول میں انگریزی کے استاد تھے۔ 1895ء تک آپؓ وہیں ملازم رہے۔ ہر سال ایک دو بار قادیان حاضر ہوتے۔ سورج گرہن کے وقت بھی قادیان میں موجود تھے۔ پہلی بار جب آپؓ قادیان سے واپس جموں گئے تو حضرت مولوی صاحبؓ اور دوسرے احمدیوں نے حضور علیہ السلام کے واقعات دریافت فرمائے۔ اس کے بعد آپؓ کا معمول بن گیا کہ جب بھی قادیان گئے تو ایک ڈائری اپنے پاس رکھتے اور قادیان میں گزارے جانے والے لمحات کی تفصیل اُس میں درج کرتے جاتے۔ اس ڈائری سے بعد میں بہت ہی فائدہ پہنچا۔
1895ء میں اکاؤنٹنٹ جنرل لاہور کے دفتر میں ملازم ہوگئے۔ اس طرح قادیان جلد جلد آنے کا موقع پیدا ہوگیا۔ جلد ہی آپؓ کو خواہش ہوئی کہ ملازمت ترک کرکے قادیان آبسیں۔ حضورؑ کی خدمت میں اجازت کے لئے لکھا تو حضورؑ جواباً تحریر فرمایا کہ مومن کے واسطے قِیَام فِیْمَا اَقَامَ اللہ ضروری ہے یعنی جہاں اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے روزی کا سبب بنایا ہے وہیں صبر کے ساتھ کھڑا رہے یہاں تک کہ کوئی سبب ایسا بنے کہ آپؓ کو کسی کام کے واسطے قادیان بلالیا جائے لیکن ہجرت کے ارادہ کا ثواب آپؓ کو ملتا رہے گا۔
1900ء کے آخر میں قادیان میں مڈل سکول بنا تو حضورؑ کے ارشاد پر آپؓ پہلے تین ماہ کی رخصت لے کر سکول کے سیکنڈ ہیڈماسٹر مقرر ہوئے۔ پھر تین ماہ کی مزید رخصت لی۔ ملازمت سے استعفیٰ دینے سے قبل حضورؑ کے ارشاد پر استخارہ کیا۔ بعد ازاں پورے انشراح قلبی کے ساتھ آپؓ نے قادیان مستقل سکونت کا فیصلہ کیا تو حضرت اقدسؑ نے اجازت مرحمت فرمادی۔ 1904ء میں ایک دفعہ جب آپؓ کے بیمار ہونے پر آپؓ کی والدہ نے حضورؑ سے دعا کے لئے عرض کیا تو حضورؑ نے فرمایا: ’’ہم تو ان کے لئے دعا کرتے ہی رہتے ہیں۔ آپ کو خیال ہوگا کہ صادق آپ کا بیٹا ہے اور آپ کو بہت پیارا ہے لیکن میرا دعویٰ ہے کہ وہ مجھے آپ سے زیادہ پیارا ہے‘‘۔
مارچ 1905ء میں حضرت منشی محمد افضل صاحبؓ (مالک و مدیر اخبار البدر) کی وفات پر حضرت مسیح موعودؑ کی اجازت سے حضرت مفتی صاحبؓ اخبار کے مدیر اور مینجر مقرر ہوئے۔ آپؓ کو برطانیہ اور امریکہ میں کامیاب دعوت الی اللہ کی توفیق بھی ملی۔ حضرت مصلح موعودؓ کے پرائیویٹ سیکرٹری اور ناظر امور خارجہ بھی رہے۔ 13؍جنوری 1957ء کو ربوہ میں وفات پائی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/szPxU]

اپنا تبصرہ بھیجیں