حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب

حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری کا ذکر خیر قبل ازیں 22؍نومبر 1996ء اور 14؍مارچ 1997ء کی اشاعت میں اسی کالم میں کیا جاچکا ہے۔ آپ کی سیرت کے بعض پہلو مکرم ملک منصور احمد عمر صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍اگست 1998ء میں شامل اشاعت ہیں۔
محترم مولانا غلام باری سیف صاحب نے بیان کیا کہ ایک بار مولوی صاحب نے مجھ سے دریافت کیا کہ تمہارے کتنے بچے ہیں۔ میں نے عرض کیا صرف لڑکیاں ہی ہیں۔ اس پر ایک ساتھی نے کوئی چُبھتا ہوا فقرہ کہا۔ بات آئی گئی ہوگئی لیکن اگلے روز حضرت مولوی صاحب خود مجھے ملے اور بڑے پیار سے فرمایا کہ اس وقت مجھے تمہارے دوست کے اس فقرے سے بہت تکلیف ہوئی تھی۔ چنانچہ میں نے خدا سے بہت دعا کی ہے اور مجھے یقین ہے (یا فرمایا کہ مجھے بشارت ملی ہے) کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اولاد نرینہ عطا فرمائے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد کئی بیٹے عطا فرمائے۔
محترم مولوی عبدالمنان صاحب جب فیصل آباد میں مربی متعیّن تھے تو حضرت مولوی صاحب بھی اکثر وہاں آیا کرتے تھے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب تہجّد میں بہت باقاعدہ تھے اور ایک رات بہت دیر سے سونے کی وجہ میں نے دل میں گمان کیا کہ آج مولانا صاحب تہجّد کے لئے نہیں اُٹھ سکیں گے لیکن جب میری آنکھ کھلی تو آپ بڑی رقّت سے نماز تہجّد ادا کر رہے تھے۔
حضرت مولوی صاحب کے ایک شاگرد نے بیان کیا کہ ایک بار آپ نے اپنی کلاس کو بتایا کہ مجھے ایسے طلباء اچھے لگتے ہیں جو استاد سے ایک ذاتی گہرا اور بے تکلّفی کا تعلق قائم کر لیتے ہیں اور ہم اپنے استاد حضرت مولوی روشن علی صاحبؓ سے اس قدر بے تکلّف تھے کہ اکثر اُن سے قرض بھی مانگ لیا کرتے تھے اور وہ بلا کسی سوال کے پوچھنے کے رقم دے دیا کرتے تھے۔ تین چار دن کے بعد میں حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور دس روپے بطور قرض مانگے۔ آپ نے رقم دے کر فرمایا تمہیں یہ رقم کیوں چاہئے؟۔ میں نے عرض کیا، کیا حضرت مولوی روشن علی صاحبؓ آپ سے یہ سوال کیا کرتے تھے؟۔ اس پر آپ خوب ہنسے اور فرمایا تم میرا امتحان لینے آئے ہو۔ جب میں نے رقم واپس کی تو فرمایا اسے چائے وغیرہ میں استعمال کرلو۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں