حضرت مولانا حافظ حکیم نور الدینؓ سے اہل علم کے روابط

حضرت مولانا حافظ حکیم نور الدین صاحب (خلیفۃ المسیح الاوّلؓ) برصغیر پاک وہند کے ایک جید عالم دین مفسرالقرآن، محدث اور شاہی حکیم تھے۔ آپ عربی فارسی ہندی اور سنسکرت کے عالم تھے۔ تمام مذاہب کے بالمقابل اسلام کی برتری ثابت کرنے میں کوشاں رہے۔ آپ کو پادریوں ، پنڈتوں، دہریوں اور دیگر فرقوں سے کامیاب مباحثوں کا موقعہ ملا۔ ہندوؤں اور آریوں کے جواب میں آپ نے کتاب ’’نور الدین‘‘ اور عیسائیوں کے عقائد کے ردّ میں ’’فصل الخطاب‘‘ تحریر فرمائیں۔
ماہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ ربوہ اکتوبر 2004ء میں مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب کے قلم سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحبؓ خلیفۃالمسیح الاوّل کے ساتھ اہل علم کے روابط کو بیان کیا گیا ہے۔
سر سید احمد خان آپؓ سے تورات کی تفسیر لکھوانا چاہتے تھے۔ ایک دفعہ سر سید احمد خاں نے آپؓ کے بارے میں تحریر کیا:
’’آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ جاہل پڑھ کر جب ترقی کرتا ہے تو پڑھا لکھا کہلاتا ہے مگر جب اور ترقی کرتا ہے فلسفی بننے لگتا ہے پھر ترقی کرے تو اسے صوفی بننا پڑتا ہے۔ جب یہ ترقی کرے تو کیا بنتا ہے؟ اس کا جواب اپنے مذاق کے موافق عرض کرتا ہوں۔ جب صوفی ترقی کرتا ہے تو مولانا نورالدین ہوجاتا ہے۔‘‘
حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب اگست 1894ء میں نواب بہالپور کے علاج کے سلسلہ میں بہاولپور تشریف لے گئے۔ نواب صاحب کے پیرو مرشد سرائیکی زبان کے مشہور صوفی شاعر اور عالم دین حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف نے آپ سے کہا کہ دراصل تو ہم آپ سے ملاقات کرنا اور قرآن پاک کے معارف سننا چاہتے تھے۔ پھر نواب صاحب نے آپ کو ساٹھ ہزار ایکڑ زمین کی پیشکش کی کہ آپ یہاں ہی رہ جائیں مگر آپؓ یہ پیشکش ردّ کر کے اپنے آقا ومطاع حضرت مرزا غلام احمد ؑ قادیانی کے قدموں میں حاضر ہوگئے۔
حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف نے آپؓ کے بارہ میں فرمایا: ’’یہ مولوی نورالدین وہ بلا ہے جسے ہندوستان میں علاّمہ کہتے ہیں۔‘‘
برصغیر پاک وہند کے معروف عالم دین اور سیاسی راہنما مولانا عبید اللہ سندھی جو اپنی ’’ریشمی رومال‘‘ کی تحریک کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، نے ایک بار حرم کعبہ کی ایک مجلس میں فرمایا: ’’حکیم نورالدین بہت بڑے عالم قرآن تھے‘‘۔ اس پر حاضرین میں سے ایک صاحب غصے میں آگئے اور بڑے ناراض ہو کر کہنے لگے کہ مولانا وہ تو قادیانی تھے۔ مولانا مسکرائے اور بڑے تحمل سے کہا کہ میں نے کب کہا ہے کہ حکیم نورالدین قادیانی نہیں ہے۔ میں نے جو بات کہی ہے وہ تو صرف اتنی ہے کہ وہ بہت بڑے عالم قرآن تھے۔
دوسرے دن تفصیل پوچھنے پر فرمایا کہ میں حکیم صاحب سے قادیان میں متعدد بار ملا۔ واقعی وہ بہت بڑے عالم قرآن تھے۔ میں تو ہندوستان سے باہر کئی اسلامی ملکوں میں رہ چکا ہوں اور یہاں مکہ معظمہ میں مختلف ملکوں سے بڑے بڑے مسلمان علماء آتے رہتے ہیں مجھے ان سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میں نے آج تک علوم قرآن کا اتنا بڑا عالم نہیں دیکھا جتنے حکیم نور الدین تھے۔
حضورؓ چونکہ سر سید احمد خاں کی تحریک کے بارہ میں اچھا خیال رکھتے تھے اور سیالکوٹ بھی علیگڑھ تحریک کا ایک مضبوط مرکز تھا اس لئے آپؓ کی سیالکوٹ میں آمدورفت رہتی تھی۔ پھر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1864ء تا 1868ء سیالکوٹ میں قیام کیا تھا۔ اس لئے حضرت مولوی صاحبؓ کی سیالکوٹ میں آمدورفت اور زیادہ ہوگئی۔ سیالکوٹ میں آمدورفت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ غلام قادر فصیح صاحب آپ کے ہم زلف تھے اور یہ بھی کہ جب آپؓ شاہی حکیم تھے تو براستہ سیالکوٹ جموں جایا کرتے تھے۔ سیالکوٹ میں علاّمہ اقبال کے استاد شمس العلماء سید میر حسن صاحب کے ساتھ آپؓ کے دیرینہ مراسم تھے۔ علاّمہ اقبال بھی آپ کی بہت عزت واحترام کرتے تھے۔ اہم مسائل میں آپ سے رجوع کرتے اور آپ کی اصابت رائے کے قائل تھے۔ اپنے تعلیمی دَور سے حضورؓ کے ساتھ خط و کتابت کرتے رہے۔
علاّمہ اقبال جن دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے تو آپ کے استاد سر تھامس آرنلڈ تھے جنہوں نے سر سید کی تحریک پر Preaching of Islam کے نام سے انگریزی میں کتاب تصنیف کی تھی جس کا اردو ترجمہ ’’دعوت ِ اسلام‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ سرسید کی وفات کے بعد پروفیسر آرنلڈ علیگڑھ سے گورنمنٹ کالج لاہور میں آگئے۔ لیکن تثلیث کے عقیدہ میں نہایت پختہ تھے اور عام طور پر کہا کرتے تھے کہ یہ مسئلہ کسی ایشیائی کے دماغ نہیں آسکتا۔ یہ بات انہوں نے علامہ اقبال سے بھی کی تو علامہ اقبال نے حضورؓ کے سامنے اس سوال کو رکھا۔ آپ نے فرمایا کہ آپ مسٹر آرنلڈ سے کہیں کہ اگر آپ کا یہ دعویٰ صحیح ہے تو خود مسیح علیہ السلام اور اُن کے تمام حواری بھی ایشیائی تھے، انہوں نے اس کو اپنے دماغ میں کیسے جگہ دی ہوگی؟۔ یہ سُن کر مسٹر آرنلڈ خاموش ہوگئے اور بعد میں انہوں نے یورپ کی ایک کانفرنس میں بھی یہ مسئلہ پیش کیا مگر انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا۔
علاّمہ اقبال نے 1909ء میں فقہ اسلامی کے بارہ میں حضورؓ کی خدمت میں یہ چار سوالات بھجوائے: 1۔ کیا کوئی غیر مسلم فرمانروا اپنی مسلمان رعایا کے لئے وضع قانون کر سکتا ہے؟۔ 2۔ کیا کوئی غیر مسلم جج ازرُوئے قانون اسلامی مسلمانوں کے مقدمات فیصل کر سکتا ہے؟ کیا تاریخ اسلامی میں کسی غیرمسلم جج کی نظیر موجود ہے جو بحیثیت عہدہ مسلمانوں کے مقدمات فیصل کرتا ہو؟۔ 3۔ کیا مسلمان ہونے کے لئے شرع محمدی کی پابندی لازمی ہے۔ اگر ہے تو ان مسلمان قوموں کی نسبت کیا حکم ہے جن کے معاملات زیادہ تر رواج سے فیصل پاتے ہیں اور جو خود کو رواج کا پابند ظاہر کرتے ہیں۔4۔ مسلمانوں کا ضابطہ تعزیری قریباً قریباً بالکل معطل ہے، نہ صرف ہندوستان میں بلکہ اسلامی ممالک میں بھی۔ کیا اس ضابطہ کی پابندی ضروری ہے؟ اگر ہے تو جو مسلمان اس کے پابند نہیں خواہ اس وجہ سے کہ وہ کسی غیر مسلم بادشاہ کے محکوم ہیں جو اس ضابطہ کا پابند نہیں یا کسی اَور وجہ سے ان کے اسلام کی نسبت کیا حکم ہے؟‘‘
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے ان سوالات کے جو اصولی جوابات قرآنی آیات پیش کر کے لکھے، اُن کا ملخّص یہ تھا: 1۔ قرآن مجید گو مکمل ضابطہ حیات ہے مگر وہ مذاہب مختلفہ کو باہمہ اختلاف تباہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ قائم رکھنا چاہتا ہے۔ قانون اسلامی کے اصل الاصول قرآن مجید میں موجود ہیں مگر ان کی تفصیل کو اطاعت اولی الامر کے نیچے رکھا ہے اور اسی پر آج تک اسلامیوں کا عمل ہے۔ ہر مسلمان کے لئے اطاعت اللہ، اطاعت الرسول اور اطاعت اولی الامر ضروری ہے۔ اگر اولی الامر صریح مخالفت فرمان الٰہی اور فرمان نبوی کرے تو بقدر برداشت مسلمان اپنے شخصی وذاتی معاملات میں اولی الامر کا حکم نہ مانے یا اس کا ملک چھوڑ دے۔ اولی الامر میں حکام وسلطان اول ہیں اور علماء درجہ دوم پر ہیں۔ تعزیری احکام کے ہم ذمہ دار نہیں ہوسکتے۔ قرآن شریف میں حضرت یوسفؑ کی مثال موجود ہے کہ آپؑ سلطنت فرعون کے ماتحت تھے اور ملکی قانون کی خلاف ورزی نہ کر سکتے تھے۔
2۔ غیر مسلم جج اگر فرمانرواکی طرف سے ہے تو حقیقۃً فرمانروا ہی جج ہے اور اگر پنچائتی طور پر ہے تو بھی جائز ہے۔ چنانچہ قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت یوسفؑ نے ایک موقعہ پر خود فرعون مصر کو اپنے معاملہ میں منصف مقرر فرمایا۔
3۔ شرع محمدی نام ہے قرآن، احکام نبوی، خلفاء راشدین، صحابہؓ، آئمہ دین (امام ابوحنیفہؒ، ابویوسفؒ، زفرؒ، حسنؒ) کے فیصلہ پر عملدرآمد کا۔ فتاویٰ عالمگیری بلکہ ہدایہ کے مقدمات دیوانی و فوجداری اور قوانین میں قرآن مجید وحدیث کے ہزارویں حصہ کا ذکر بھی نہیں آتا۔ میونسپلٹی اور سیاست مدن کے قواعد غالباً سارے عرف پر مبنی ہیں اور فوجی قوانین کی کسی کتاب میں قرآن وحدیث کا ذکر بطور تبرک ہی آتا ہے اور آئمہ دین کا ذکر بھی شاید ہی اس میں ملتا ہے۔ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ ان امور کی آزادی میں وقتی ضرورت عرف سے کام لیا گیا ہے۔
4۔ قرآنی نظریہ کے مطابق ایمان بتدریج ترقی کرتا رہتا ہے۔ پس جو لوگ لَا اِلہَ اِلاّ اللّہ کہتے ہیں اور دل سے مانتے ہیں۔ وہ ایک حد تک مسلمان ہیں اور جو اس کے ساتھ پابند نماز بھی ہیں وہ پہلوں سے بڑھ کر مسلمان ہیں اور جو زکوٰۃ ، روزہ اور حج کو بھی ادا کرتے ہیں وہ اور زیادہ پختہ مسلمان ہیں۔ علیٰ ھذا القیاس۔ سب مساوی الایمان نہیں اور ہر گز نہیں۔
1912ء میں ڈاکٹر اقبال نے عربی ادب کی اعلیٰ ترین کتب کے بارہ میں حضورؓ سے راہنمائی چاہی تو آپؓ نے کتب کی فہرست بھجواتے ہوئے لکھا کہ … اس امر میں بڑے بڑے ادیب میرے ساتھ ہیں حتیٰ کہ جرمنی کے عربی دان بھی کہتے ہیں کہ عربی کی بہترین کتاب قرآن مجید ہے۔
1913ء میں علامہ اقبال نے لاہور کے ایک کشمیری خاندان میں نکاح کیا لیکن کسی شرپسند نے گمنام خطوط بھیج کر علامہ کو شکوک میں مبتلا کر دیا۔ لیکن بعد تحقیق خاتون پاکدامن معلوم ہوئی تو علامہ کو رجوع کرنے کے بارہ میں بعض شکوک لاحق تھے کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ وہ چونکہ طلاق دینے کا ارادہ کرچکے تھے۔ اس لیے مبادا شرعاً طلاق ہی ہو چکی ہو۔ انہوں نے مرزا جلال الدین کو مسئلہ پوچھنے کے لئے حضورؓ کے پاس قادیان بھیجا۔ حضورؓ نے فرمایا کہ شرعاً طلاق نہیں ہوئی۔ لیکن اگر دل میں کوئی شبہ اور وسوسہ ہوتو دوبارہ نکاح کرلیجئے۔ چنانچہ علامہ اقبال کا نکاح اس خاتون سے دوبارہ پڑھوایا گیا۔
علامہ اقبال بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ کو دردگردہ اس شدت سے ہوتا تھا کہ ان کی موت سامنے نظر آیا کرتی تھی۔ ایک رات وہ دردگردہ سے بے ہوش پڑی تھیں کہ حکیم نورالدین صاحب نے ہمارا دروازہ کھٹکھٹایا اور گھر میں ہیجان کی وجہ پوچھی۔ صورت حال معلوم ہونے پر کہا کہ اس وقت تو سینک کرو، صبح باقاعدہ علاج ہوگا۔ پھر آپ نے چوزہ تجویز کیا کہ اس کا شوربہ پئیں اور گوشت کھائیں۔ اس علاج کے بعد والدہ کو عمر بھر دردگردہ کی شکایت نہ ہوئی۔ جب وہ عرصہ دراز تک چوزہ کھاتے کھاتے تنگ آگئیں تو حکیم صاحب کو لکھا کہ مناسب ہوتو چوزے کا بدل بتادیں۔ جواب آیا: ’’انڈابدل ہے‘‘۔
مزید بیان کرتے ہیں کہ ایک بار مجھے Gout کی شکایت ہوئی۔ حکیم صاحب سے پوچھا تو کہا کھانا کھا کر مرغی کے پَر کو حلق میں ڈال کر قے کردو۔ میں کھانا کھا چکا تھا، پَر منگواکر قے کردی تو درد جاتا رہا۔
علامہ اقبال کے جماعت احمدیہ کے بارہ میں خیالات ہمیشہ اچھے رہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ اظہار عقیدت کا ہی رنگ تھا کہ مولوی سعداللہ لدھیانوی کی زبان سے نکلے ہوئے تیرونشتر کا منظوم جواب دیا جس کا ایک شعر یوں ہے۔

دیکھ لی اے سعدیا گندہ دہانی آپ کی
خوب ہو گی مہتروں میں قدردانی آپ کی

علامہ اقبال نے 1913ء میں اپنے اکلوتے بیٹے آفتاب اقبال کو بغرض تعلیم قادیان بھی بھجوایا۔ خلافت ثانیہ کے دوران الفضل میں آپ کی نظمیں شائع ہوتی رہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ’’مذہب اور سائنس‘‘ کے عنوان سے آپ کی صدارت میں تقریر کی تو آپ نے بہت تعریفی کلمات کہے۔ حضرت مصلح موعودؓ آپ کی عیادت کو بھی جاتے رہے اور علاّمہ دعا کیلئے بھی حضورؓ سے بار بار کہتے۔ 1931ء میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے قیام پر علاّمہ نے زور دے کر حضرت مصلح موعودؓ کو اس کا صدر بنایا اور دو سال تک مکمل تعاون کرتے رہے۔ لیکن 1934ء میں وہ احرار کی باتوں میں آکر پیچھے ہٹ گئے بلکہ 1935ء میں خود بھی امارت اور بیعت کی بنیاد پر جمعیت المسلمین کے نام سے جماعت بنانے کی ناکام کوشش کی جس کے لئے بیعت فارم بھی بنا لئے گئے تھے مگر علامہ کی اچانک بیماری نے اس کی مہلت نہ دی۔ آخری ڈیڑھ سال تو علامہ خرابی صحت کا شکار رہے، زبان بند ہو چکی تھی، اشاروں سے بات کرتے تھے یا سرگوشی کر سکتے تھے اور اسی دوران 21؍اپریل 1938ء کو وفات پاگئے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/IMuTY]

اپنا تبصرہ بھیجیں