حضرت مولانا دوست محمد صاحب شاہد

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7 جنوری 2011ء میں مکرم سید شمشاد احمد ناصر صاحب کے قلم سے محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
محترم مولانا دوست محمد صاحب کی خلافت کے ساتھ محبت اور خلافت کی تعظیم مثالی تھی۔ ایک دفعہ مغرب کی نماز کے لئے لوگ مسجد میں جمع تھے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ ملاقاتوں میں مصروف تھے۔ نماز مغرب کو دیر ہورہی تھی۔ ایک دوست نے بڑی بے تکلّفی سے مولانا صاحب سے پوچھا کہ نماز کا کیا وقت ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ جب امام آئیں گے وہی وقت نماز کا ہوگا۔
آپ نے بہت ساری مختصر اور جامع کتب بھی تحریر فرمائیں۔ ’’اقلیم خلافت کے تاجدار‘‘ میں آپ نے خلفاء احمدیت کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کو قلمبند فرمایا ہے۔ اپنا ایک ذاتی واقعہ آپ یوں بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ناظر اصلاح و ارشاد نے حضرت مصلح موعودؓ سے اجازت حاصل کرکے مجھے ہدایت فرمائی کہ دنیا پور(ضلع ملتان) میں جماعت کے خلاف اشتعال پھیلایاجا رہا ہے جس کے ازالہ کے لئے فوراً بذریعہ چناب ایکسپریس ملتان پہنچو اور چوہدری عبدالرحمن صاحب امیر ملتان کو لے کر دنیاپور پہنچو۔ مجھے یہ تحریری ارشاد چناب ایکسپریس آنے کے صرف چند گھنٹے قبل ملا جبکہ مَیں مسجد مبارک سے متصل خلافت لائبریری کے ایک کمرہ میں تصنیفی کام میں مصروف تھا۔ میری رہائش ان دنوں محلہ دارالنصر شرقی کے آخر میں تھی۔ میں نے اپنے گھر والوں کو پیغام بھجوا دیا کہ میں دفتر سے بذریعہ ٹرین ملتان جا رہا ہوں۔ ساتھ ہی اپنے مقدّس آقا کے حضور سفر کی کامیابی کے لئے درخواست دعا لکھی۔ نیز عرض کیا کہ میری بیگم سخت بیمار ہیں، ازراہ شفقت ان کو بھی خصو صی دعا میں یاد رکھا جائے، احسان ہو گا۔
ملتان پہنچ کر اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ مجسٹریٹ صاحب سے جلسہ دنیاپور کے لئے تحریری اجازت لینا ضروری ہے۔ چنانچہ جناب عبدالحفیظ صاحب ایڈووکیٹ ملتان مجھے ساتھ لے کر فاضل جج کی خدمت میں پہنچے اور درخواست پیش کی۔ انہوں نے فرمایا ضلع بھر میں جلسوں کی مکمل آزادی ہے۔ مَیں نے عرض کیا بلاشبہ یہی حقیقت ہے۔ بایں ہمہ آپ کا احسان عظیم ہو گا اگر آپ ہماری عرضداشت کو شرف قبولیت بخشیں۔ یہ سنتے ہی انہوں نے اجازت نامہ دے دیا۔ دنیا پور میں کئی روز سے مخالفین احمدیت لاؤڈ سپیکر پر گند اچھال رہے تھے اور ان کی مفتریات نے پورے قصبہ کی فضا کو مکدر کر دیا تھا۔ ان دنوں جماعت احمدیہ دنیا پور کے صدر شیخ محمد اسلم صاحب تھے جو بہت مستعدو مخلص اور فعال بزرگ تھے۔ انہوں نے اپنے مکان سے متصل میدان میں جوابی جلسہ کے انعقاد کے لئے دریاں بچھا دیں اور لاؤڈسپیکر نصب کرا دیا۔ ابھی جماعت کے جلسہ کی کارروائی کا تلاوت قرآن کریم سے آغاز ہی ہوا تھا کہ احراری علماء کا ہجوم امڈ آیا حتیٰ کہ اس نے پنڈال کو گھیر لیا۔ احرا ر دھاوا بولنے سے پہلے مقامی پولیس افسر سے ساز باز کر چکے تھے جس نے آتے ہی نہایت تند و تیز الفاظ میں صدر صاحب کی جواب طلبی کی کہ سرکاری حکم کے بغیر کیوں جلسہ کیا جارہا ہے۔ محترم صدر صاحب جواب دے سکتے تھے کہ احراریوں نے جلسہ کی منظوری کب لی ہے مگرانہوں نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جھٹ اجازت نامہ پیش کر دیا جس کے بعد سب شرپسند اور تماشہ بین میدان چھوڑکر بھا گ گئے اور جماعت احمدیہ کا جلسہ عام کئی گھنٹے تک نہایت کامیابی سے جاری رہا۔ دو ایک روز بعد مَیں واپس ربوہ آگیا۔ تو یہ دیکھ کر خداتعالیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ حضرت مصلح موعودؓ کی روحانی توجہ اور دعا کے طفیل میرے اہل خانہ پوری طرح شفایاب ہیں۔
محترم مولانا صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کو مسند خلافت پر متمکن ہونے کے فوراً بعد ہی ایک ملاقات میں آپ سے یہ عرض کی کہ ’’حضور میں بھی یہی عہد کرتا ہوں کہ ایک واقف زندگی کی حیثیت سے شب و روز خدمت دین میں مشغول رہوں گا‘‘۔ حضور کے سترہ سالہ زمانہ خلافت میں خاکسار جمعہ اور عیدین بلکہ مشاورت کے ایام میں بھی کارروائی سے قبل اپنے دفتر میں موجود رہتا تھا اور خداتعالیٰ کے فضل سے حضور کے فوری ارشادات کی تعمیل کی سعادت پاتا رہا۔‘‘
آپ مزید لکھتے ہیں: ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر جبکہ میں نے دو ہفتہ کے لئے اپنا بستر معمول کے مطابق دفتر میں بچھا رکھا تھا کہ یکایک جناب ثاقب زیروی صاحب تشریف لائے اور مجھے بتایا کہ میں ابھی حضور کی زیارت کرکے آرہا ہوں، حضور نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کو فرمایا ہے کہ تمہیں فون کریں کہ فلاں حوالہ اوّلین فرصت میں بھجوا دو۔ مَیں نے عرض کیا کہ وہ نصف شب میں کہاں ہوں گے؟ حضور نے فرمایا کہ اپنے دفتر (شعبہ تاریخ) میں۔ چنانچہ میں صرف یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ واقعی دفتر میں موجود ہیں۔
آپ کی ایک خوبی یہ تھی کہ ہر خط کا جواب دیتے تھے۔ ایک دفعہ خاکسار نے شکوہ کیا کہ میں نے خط لکھا تھا آپ نے جواب عنایت نہیں فرمایا۔ جواب میں آپ نے لکھا: ’’تاخیر جواب کی چونکا دینے والی اطلاع پر حیرت زدہ ہوں کیوں کہ یہ عاجز سید حضرت مختار احمد صاحب کے تلامذہ میں سے ہے جن کا عقیدہ تھا کہ جواب دینا ایسا قرض ہے جس کا نقطہ کٹ بھی جائے تو فرض رہ جاتا ہے ۔
ایک خط میں خاکسار کو ان الفاظ میں نصیحت کی: حضرت مسیح موعودؑ نے بار بار ملفوظات میں لکھا ہے کہ ہم مخالفین کے ممنون ہیں وہ بھی ہمارے ہی مبلغ ہیں اور ان کی مخالفت کھاد کا کام دے رہی ہے بلکہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے احسان کو تو حضرت اقدسؑ نے خاص طور پر یاد رکھا ہے۔
آپ اپنی تقاریر میں اشعار کا باموقعہ اور برمحل استعمال فرماتے تھے۔ حضرت ملک عبدالرحمن صاحب خادم (خالد احمدیت) کی ایک معروف نظم کے چند اشعار بھی اکثر سناتے رہتے تھے جن سے آپ کی دعوت الی اللہ کے بارے میں قلبی کیفیت کا اندازہ لگانا بہت آسان ہوتا تھا۔

خدا خود جبر و استبداد کو برباد کر دے گا
وہ ہر سُو احمدی ہی احمدی آباد کر دے گا
صداقت میرے آقا کی زمانے پر عیاں ہو گی
جہاں میں احمدیت کامیاب و کامراں ہو گی

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/eRIUl]

اپنا تبصرہ بھیجیں