حضرت مولانا عبدالمالک خان صاحب

حضرت مولانا عبدالمالک خانصاحب کے ذکرخیر پر مشتمل آپ کی بیٹی مکرمہ ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ کا ایک بہت عمدہ مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ 21 و 22جون 2006ء میں شامل اشاعت ہے۔
جب خشک پتے سڑک پر اور نئے پتے درختوں پر نظر آتے ہیں تو مجھے اپنے ابا جان کی آواز کی باز گشت سنائی دیتی ہے کہ جو پتے درخت سے چمٹے رہتے ہیں وہ سرسبز و شاداب رہتے ہیں اور جو ٹوٹ کر الگ ہو جاتے ہیں وہ خس و خاشاک بن جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح خلافت بھی ایک تنا ور درخت ہے اس سے ہمیشہ پیوند مضبوط رکھنا۔ پھر پھلدار درخت دیکھتی ہوں تب بھی اباّ کی یہ بات یا د آتی ہے کہ ثمر دار شاخ جھکی رہتی ہے، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان کا سلوک کرتا ہے تو انہیں عاجزی اور انکساری سے جھکے رہنا چاہیے۔
جب میں پیدا ہوئی تو حضرت مصلح موعودؓ بیمار تھے اور نام عطا فرمانے کی درخواست کا جواب نہ پہنچا یہاں تک کہ کارپوریشن میں نام درج کرانے کی آخری تاریخ آپہنچی۔ اباّ جان نے کہا کہ میں حضرت امّاں جان کے نام پر اپنی بچی کا نام رکھتا ہوں اوراگلے دن حضور کی طرف سے بھی یہی نام تجویز ہوکر آگیا۔
ایک دفعہ میں اباّ کے ساتھ جا رہی تھی کہ ایک چھوٹے بچے کو دیکھ کر اباّجان نے اسے پیار کیا ایک روپیہ جیب سے نکال کر دیا اور دعا کیلئے کہا۔ میں ہنس پڑی تو کہنے لگے یہ مسیح پاکؑ کے خاندان کا بچہ ہے، مجھے اپنے کام کیلئے بہت دعا کی ضرورت تھی اور بڑے وقت پر یہ بچہ مل گیا۔ اس طرح انہوں نے خاندان مسیح موعودؑ کی عظمت بچپن سے دل میں بٹھا دی۔ اسی سلسلہ میں ایک اور واقعہ یہ ہوا کسی نے خاندان مسیح موعودؑ پر کچھ تنقید کی۔ اباّ جان کا وہ جلالی چہرہ مجھے کبھی نہیں بھولے گا۔ کہا کہ آج کے بعد عبدالمالک کے گھر میں ایسا کوئی تذکرہ نہیں ہوگا۔ پیارے کی تو ہر چیز بڑی پیاری ہوتی ہے اگر مسیح پاک سے سچی محبت ہے تو رو رو کر ان کے بچوں کے لئے دعا کرنی چاہئے۔
جب مَیں اپنی پہلی تقریر میں اوّل آئی۔ انعام سے زیادہ خوشی مجھے زندگی کے اس پہلے سجدۂ شکر کی تھی جو ابّا نے مجھے سکھایا۔ حضور اقدس کی خدمت میں سب سے پہلا خط لکھنا سکھایا اور خلیفہ کی دعا کی اہمیت روشن کی۔
مجھے کانونٹ میں داخلے کی اجازت دی جو تثلیث کا مرکز تھا۔ میرے ساتھ عیسائی، ہندو اور بہائی لڑکیا ں بھی پڑھتی تھیں۔ میرے دماغ میں مذاہب کے بارہ میں سوالات ابھرتے تھے۔ ٹٹول کر سوالات نکلواتے او ر پھر تحمل سے ہر سوال کا جوا ب دیتے۔ مکرم ڈاکٹر عبد الرحمٰن صاحب کامٹی کے مطب پر اکثر کئی کئی گھنٹے دعوت الی اللہ میں گزارتے۔
ایک طرف ایسی محبت تھی کہ عید پر اگر مجھے دو جوتیاں پسند آگئیں تو دونوں لے دیں۔ دوسری طرف قناعت اتنی سکھائی تھی کہ پیدل چل کر بس کا کرایہ بچا کر کوئی چیز خرید لیتی تھی تا کہ والدین پر بوجھ نہ ہو ۔ہمارا گھر ٹپکتا تھا۔صحن اونچا اور کمرے نیچے تھے۔ تیز بارش میں کمروں میں اتنا پانی بھر جاتا تھا کہ برتن تیرنے لگتے تھے اور ہم ڈونگوں سے پانی نکالتے تھے۔
اباجان کی شادی کے معاً بعد 6ماہ کے عرصہ کے لئے کسی وجہ سے مربیان کے مشاہرے نہ دئے جا سکے اور یہ نو بیاہتا جوڑا پتھر کی سل کے گرد بیٹھ کر چٹنی سے روٹی کھایا کرتا تھا۔ گھر میں مارملیڈ اور ٹماٹر کا کیچپ امّی خود بنایا کرتی تھیں اور سب بچوں کو ساتھ لگا لیتی تھیں۔
ایک دفعہ میں بیمار ہوکر ہسپتال میں داخل ہوگئی۔ میری عمر دس سال کی تھی۔ آپ غانا میں تھے۔ وہاں سے مجھے خط لکھا کہ تمہاری امّی نے تمہاری بیماری کی تفصیل نہ لکھّی اس لئے کہ مجھے تکلیف نہ ہو ۔ اُس وقت اطلاع دی جب تمہارا بخار ٹوٹ گیاتھا۔ آج ہی الفضل ملا، اس میں لکھا تھا کہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب کو گردے میں کوئی تکلیف ہے۔ تم اُن کے لئے دعا کرنا شروع کر دو تم انشاء اللہ اچھی ہوجاؤ گی اور اُن کو بھی اللہ تعالیٰ شفا دے گا اور تمہاری معصوم دعاؤں کو قبول فرمائے گا۔
F.Sc. کا سال تھا کہ میری امّی بیمار ہوگئیں اور دو ماہ ہسپتال میں داخل رہیں۔ بڑی بہنوں کی شادی ہوچکی تھی۔ ابّا جان نے گھر کے کام کاج میں میرا ہاتھ بٹایا۔ اس سال ابّا جان نے مجھے رسالہ الوصیّت پڑھنے کو دیا اور میں نے وصیت کرلی۔ سترہ سال کی عمر میں مجھے اکیلے ہاسٹل میں رہ کر میڈیکل کالج میں پڑھنا پڑا۔ اباجان نے مجھے صرف یہ نصیحت کی کہ “وہاں کھڑی ہونا جہاں خدا کھڑا ہو”۔
ایک بار آپ نے مجھے خط میں لکھا:طالب علم کے لئے سفر بھی بابرکت ہے۔ملائکتہ اللہ کا سایہ طالبعلم پر ہوتا ہے۔ اس کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاول نے طِب سفر کر کے پڑھی خدا نے حضور کو توکل کرنے کے عوض کس قدر ترقی دی۔
ایک دفعہ ربوہ میں آپ عصر کی نماز پڑھ کر آئے تو بہت خوش تھے۔ پوچھنے پر بتایا کہ کسی صاحب نے حضور سے میری شکایت لکھی تھی کہ مولوی صاحب نے فلاں جگہ تقریر کی اور بار بار حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کہتے تھے اور حضرت مسیح موعودؑ کا نام لینے سے کتراتے رہے۔ اس پر حضور نے رپورٹ مانگی۔ میں نے جھٹ کہا بھلا یہ کیا شکایت ہوئی آخر وجود تو ایک ہی ہیں۔ کہنے لگے بس تم ہوتیں تو یہ جواب لکھتیں۔ لیکن پہلے میں نے بہت دعا کی پھر حضور کے نام خط میں مؤدبانہ عرض کیا کہ” حضور اس عاجز کے لئے بہت دعا کریں کہ آئندہ پیارے مسیح موعود کی پیاری جماعت کے کسی پیارے فرد کو میرے کسی قول یا فعل سے تازیست کوئی تکلیف نہ پہنچے”۔ اب عصر کی نماز پر حضور تشریف لائے تو ہاتھ پکڑ کے آگے کھینچا اور معانقہ کیا۔ اسی لئے میں اتنا خوش آیا ہوں۔
جب میں ہاؤس جاب کرنے جانے لگی تو چونکہ مجھے میڈیسن اچھی لگتی تھی اس لئے اسی میں ہاؤس جاب کرنے کا فیصلہ کیا۔ جانے سے ایک رات پہلے مَیں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو کہنے لگے کہ میں سوچ رہا تھا کہ لڑکیوں کے لئے گائنی جاننا ضروری ہے، آس پڑوس کو ہی ضرورت پڑ سکتی ہے اس لئے اگر تم ہاؤس جاب گائنی میں کرلیتی پھر آگے مزید تعلیم جس شعبہ میں چاہتی کرلیتی۔ میں نے فوراً کہا ابّا جان جیسا آپ چاہیں گے میں انشاء اللہ ویسا ہی کرو ں گی۔
ہاؤس جاب ختم کرکے انگلستان جانے کا وقت آیا تو ابّا جان نے مجھے سورۃ مریم کی تفسیر پڑھنے کو دی اور عیسائیت سے متعلق چند مضامین بھی۔ ایک صاحب نے ابّا سے کہا کہ آپ نے اپنی لڑکی کو پڑھایا لکھایا اور پھر فوراً باہر بھی بھیج رہے ہیں، کچھ عرصہ تو اس کو کمانے دیتے تاکہ آپ کو فائدہ ہوتا۔ ابّا جان کے چہرہ کا رنگ بدل گیا، کہنے لگے کیا میں نے اپنی بیٹی کی کمائی کے لئے اسے ڈاکٹربنایا تھا؟میری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے نافع الناس وجود بنائے۔ ہاؤس جاب کی پہلی تنخواہ میرے والدین نے مساجد بیرون میں دلوادی۔
لندن میں جلد ہی ابتدائی امتحان پاس کرکے گھر بیٹھ گئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے ملنے گئی تو حضور نے پوچھا آگے کیوں نہیں پڑھتیں ۔ ابّاجان کہنے لگے حضور اس کی پانچ ماہ کی بیٹی ہے۔ فرمانے لگے بیٹی مولوی صاحب پالیں گے۔ ابّاجان نے کہا کہ حضور میں نے بھی یہ تجویز اسے دی تھی مگر یہ ماں ہے اس لئے بچی کو نہیں چھوڑتی۔ اس پر حضورؒ کے چہرے پر ایک پُرشفقت مسکراہٹ ابھری اور فرمایا کہ تم بچی کو پاکستان بھیج دو اور گائنی میں اسپیشلسٹ کی ڈگری کیلئے تعلیم حاصل کروپھر بتاؤں گا کیا کرنا ہے۔ اور یو ں5 ماہ کی ندرت ابّا جان کی پانچویں بیٹی بن کر میرے والدین کے گھر آگئی۔
میرا آخری امتحان تھا ۔آپا منصورہ بیگم صاحبہ فرماتی تھیں کہ تمہارے ابّا نے اتنی عاجزی کا خط لکھا کہ اس خادم زادی کا فلاں تاریخ کو امتحان ہے دعا کی درخواست ہے۔ فرماتی تھیں کہ میں نے کوئی سجدہ نہیں چھوڑا کہ کس طرح خانصاحب نے مجھے بھی دعا کے لئے لکھا۔ اسی طرح ابّا جان نے بعض گھروں کے دروازے پر دستک دے کر دعا کی درخواست کی۔
ابّاجان اپنے جماعتی کاموں اور تقاریر کے لئے ضرور دعا کے لئے کہتے تھے خاص طور پر جلسہ سالانہ کی تقریر کے لئے۔ حضور سے ملاقات کے لئے جانا ہوتا تو بہت ڈرتے تھے۔ خود بھی دعا کرتے اور ہم سے بھی کرواتے۔ اللہ تعالیٰ سے پیار کا اس قدر تعلق تھا ان کی دعاؤں اور عبادات میں نہایت عاجزی اور رقت ہوتی جلدی سوجاتے تھے اور تہجد پر اٹھتے۔ میں کبھی کبھی تہجد پر اٹھ کر ابّا جان کو دیکھا کرتی تھی۔
ابّا جان کو میں نے بہت صائب الرائے پایا ۔ جس کسی کے بارے میں اچھی رائے دی ویسا ہی تجربہ ہوا۔ منفی رائے نہیں دیتے تھے چپ ہو جاتے تھے۔ جماعت کی املاک اور سلسلے کے پیسوں کا بہت درد رکھتے تھے۔ اور ہمیں بھی اس کی تاکید کرتے رہتے۔ میں جب فضل عمر ہسپتال آکر کام کرنے لگی تو مجھے علم ہوا کہ کارکنوں کو دوائی ہسپتال فراہم کرتا ہے لیکن آپ دوائی خریدا بھی کرتے تھے اور موقف یہ تھا کہ اگر میری اولاد کرسکتی ہے تو میں سلسلہ پر بوجھ کیوں ڈالوں۔
پہلے مجھے یہ اندازہ تھا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ میرے مستقبل کے بارہ میں جو فیصلہ فرماچکے ہیں، اس کا علم ابّاجان کو بھی ہے۔ جب حضورؒ کی وفات ہوگئی تو مَیں نے اباجان سے اس بارہ میں پوچھا تو آپ نے کہا کہ جب میری سپیشلائزیشن مکمل ہوجائے گی تب وہ بتائیں گے کیونکہ حضورؒ کا یہی منشاء تھا۔ لیکن جب جلد ہی آپ بھی حادثہ کے نتیجہ میں فوت ہوگئے تو میں ذہنی طور پر بکھر گئی۔ آخر خاص دعا کی توفیق ملی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ دوسری طرف اللہ کا کرنا کیسا تھا کہ میرے سامنے ایسی تحریریں آئیں جو اس سے قبل میں نے نہیں پڑھی تھیں۔ مجھے میرے دادا جان (حضرت مولانا ذوالفقار علی خاں گوہر) کے کچھ اشعار ملے جو لگتا تھا میرے لئے لکھے گئے ہوں۔

تمہارے سامنے ہیں کارنامے عہدِ اُولیٰ کے
پڑھے ہیں اور سنے ہیں تم نے سب قصّے صحابہ کے
ملے انعام ان کو کس طرح سب دین و دنیا کے
یونہی وارث بنو تم آگے بڑھ کر فضلِ مولیٰ کے
خدا کے دین کی خدمت تمہیں کندن بنا دے گی
تمہارے نام کا دنیا میں پھر سِکہ بٹھا دے گی

ایک اور تحریر الفضل میں چھپی جس میں دادا جان نے اس سپاسنامے کا جواب دیا تھا جو ان کو ناظراعلیٰ کی حیثیت سے الوداعی تقریب میں پیش کیا گیا اس میں انہوں نے کہا تھا کہ میں تو پیرانہ سالی میں خدمت ِ دین میں آیا میری خواہش اور دعا ہے کہ میری نسلیں جوانی میں اللہ کی راہ میں آئیں اور اس کا حظ اٹھائیں۔
ٹریننگ مکمل ہوتے ہی اس خیال نے اتنی پختگی حاصل کرلی تھی اور میرے دل و دماغ پر اتنا حاوی ہو گیا تھا کہ میں نے بغیر کسی سے مشورہ لئے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع کی خدمت میں ایک سال کے وقف کی پیشکش کردی۔ حضور کا جواب ملا:
’’آپکا خط مورخہ 17-01-85معہ ڈگریاں وغیرہ ملا۔ پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس جذبہ سے سرشار فرمایا ہے اس کو عملی رنگ دینے کی توفیق دے ۔ بہت ضرورت تھی۔ خود اس لئے نہ کہا تھا کہ آپ کو مجبوری ہوگی ۔ آپ کے والد صاحب کی بھی یہی خواہش تھی ۔ ایک سال تک کام کریں پھر دوبارہ فیصلہ کر لیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خدمتِ خلق کرنے کی توفیق دے۔‘‘
اس ناچیز کی زندگی کا ماحصل یہ ٹھہرا کہ اللہ کے فضلوں کے سائے تلے ماں کی خواہش پرڈاکٹر بنی، والد کی خواہش پر گائنی لی، حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی منشاء پر اسپیشلسٹ بنی، ان دونو ں کی خواہش اور دعائیں مجھے وقف کی زندگی میں گھیر لائیں۔ اب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے ماڈل ہسپتال کی خواہش پوری کرنے کیلئے سرگرداں ہوں۔ خدا خلافتِ خامسہ سے بھی مضبوط تعلق رکھنے کی توفیق دے۔ (آمین)
—————-
مذکورہ مضمون پڑھنے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مضمون نگار کو ایک خط رقم فرمایا جو روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍اگست 2006ء کی زینت بنا۔ اس خط میں حضور انور نے تحریر فرمایا:
’’… آپ کے مضمون سے مجھے بھی خیال آیا کہ ان کی دو ایسی خصوصیات جن کے بارے میں مجھے ان سے براہ راست علم ہوا اور کیونکہ یہ دو باتیں انہوں نے میری بالکل نوجوانی میں مجھے بتائی تھیں اس لئے میرے دل پر اثر کرنے اور ان کا مقام میری نظر میں بلند ہونے کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں میرے کام بھی آئیں۔ ایک تو ذاتی ہے جس کا ہر واقف زندگی کو خیال رکھنا چاہئے اور دوسری بات جماعتی نوعیت کی ہے۔ اگر تمام واقفین زندگی اور عہدیدار اس پر عمل کریں تو جماعتی امور بہت بہتر رنگ میں سرانجام دیئے جاسکیں۔
زمانہ طالب علمی میں جب میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔ ایک غیراحمدی زیر تبلیغ طالب علم کے ساتھ حضرت مولانا صاحب کے پاس گیا تو یا تو اس طالب علم کے سوال پوچھنے پر کہ واقف زندگی کس طرح گزارہ کرتے ہیں یا کسی اور حوالے سے ذکر آنے پر وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور قناعت کی بات کررہے تھے اور اگر کبھی موقع آجائے تو صبر اور قربانی کا ذکر تھا۔ فرمانے لگے اگر کبھی ایسا موقع آیا کہ ہمیں اپنے بچوں کی خاطر قربانی دینا پڑی تو ہم میاں بیوی نے روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرلیا لیکن اپنے بچوں کو اچھا پڑھایا اور کھلایا تاکہ ان کو احساس نہ ہو کہ واقف زندگی کے بچے ہیں۔ اور اس وقف زندگی کے بعد کے پھل جو اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد کو لگائے مجھے امید ہے اس سے آپ لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر سے بھرے ہوں گے۔ دوسرا واقعہ جو مجھے انہوں نے بتایا اس کا تعلق جماعت کے انتظامی معاملہ اور مبلغ اور امیر کے تعلق کے ساتھ ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ مربیان کی میٹنگ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ساتھ ہورہی تھی۔ تو حضور فرمانے لگے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مبلغ اور امیر کے آپس کے تعلق اور Understanding اعلیٰ معیار کی کیوں نہیں ہوتی اور تمام مبلغین اور تمام امراء اس طرح آپس میں مل جل کر کام کیوں نہیں کرتے جس طرح عبداللہ خان صاحب اور عبدالمالک خان صاحب کرتے ہیں۔… آپ واقعی بارعب تھے اور جس کا واسطہ ان سے نہ پڑا وہ انہیں بڑا غصیلہ سمجھتا تھا یا سنجیدہ سمجھتا تھا۔ یہی میرا بچپن کا تاثر تھا۔ لیکن جب ان سے واسطہ پڑا تو پتہ لگا کہ کس قدر نرم دل، نرم مزاج اور شگفتہ طبیعت کے مالک ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں