حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ

حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ وہ پاک وجود تھے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’غضنفر‘‘ کا لقب عطا فرمایا تھا۔ آپؓ حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ کی اولاد میں سے تھے۔ 1855ء میں پیدا ہوئے۔ تحصیل علم کی خاطر 13 سال کی عمر میں اپنے وطن سے عازم سفر ہوئے۔ 1897ء کے آغاز میں قبول احمدیت کی سعادت پائی اور 1901ء میں مستقل قادیان میں آبسے جہاں 46 سال تک نہایت جلیل القدر خدمات کی توفیق پائی۔
حضرت مسیح موعودؑ نے ایک موقعہ پر حضرت شاہ صاحبؓ سے فرمایا کہ میں خداداد فراست سے آپؓ میں رشد و ہدایت پاتا ہوں۔ حضورؑ نے آپؓ کو مختلف مواقع پر جماعت کا نمائندہ بنا کر بھیجا ، آپؓ کی اقتداء میں نماز ادا فرمائی ، آپؓ کی تفسیر قرآن کو شرفِ سند بخشا اور اس کی خاص طور پر اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہمراہ کئی سفروں میں رفاقت بھی آپؓ کو نصیب ہوئی۔ 1907ء میں آپؓ کی وقف کی درخواست پر حضورؑ نے تحریر فرمایا ’’آپ کو اس کام کے لائق سمجھتا ہوں‘‘۔
حضرت شاہ صاحبؓ کو حضوراقدسؑ کے کئی نشانات کا گواہ بننے کی توفیق بھی ملی اور اس سلسلہ میں آپؓ کا نام حقیقۃالوحی میں بھی درج ہے۔
حضرت مصلح موعودؓ ابھی بچہ ہی تھے جب حضرت سید سرور شاہ صاحبؓ کو خواب میں بتا دیا گیا تھا کہ یہ بچہ بڑی شان کا مقام حاصل کرے گا چنانچہ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ اس خواب کے بعد مَیں جب بھی صاحبزادہ صاحب کی کلاس کو پڑھانے گیا تو کرسی پر نہیں بیٹھا بلکہ کھڑے ہوکر ہی پڑھایا۔
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کے حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہ ؓ(امّ طاہر) اور حضرت سیدہ عزیزہ بیگم صاحبہ سے نکاح کے اعلانات بھی آپؓ نے ہی فرمائے۔ اسی طرح جلسہ سالانہ اور دیگر جلسوں میں سینکڑوں تقاریر کرنے کی بھی توفیق پائی اور تربیت اور تبلیغ کے لئے متعدد سفر بھی اختیار فرمائے۔
آپؓ نے ناظر تعلیم و تربیت، پرنسپل جامعہ احمدیہ، مفتی سلسلہ ، امیر مقامی اور سیکرٹری بہشتی مقبرہ سمیت بہت سے اہم عہدوں پر کام کیا۔ 3؍جون 19 47ء کو آپؓ کی وفات پر سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے نماز جنازہ پڑھائی، نعش کو کندھا دیا اور قبر پر مٹی ڈالی۔ 6؍جون 47ء کے خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے حضرت سید سرور شاہ صاحبؓ کی خدمات اور کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’اگر مجھے کسی کی محنت پر رشک آتا ہے تو وہ مولوی صاحب تھے … وصیت کا نظام مولوی سید سرور شاہ صاحب کا ممنون احسان ہے‘‘۔
حضرت مولوی صاحبؓ کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ 30؍مئی 1995ء کی زینت ہے۔

2 تبصرے “حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ

  1. کیا حضرت سید سرور شاہ صاحب کی نماز پر لکھی ہوئی کتاب پی ڈی ایف میں چاہیے کیا مجھے مل سکتی ہے
    0060143040924
    WhatsApp please
    سید عامر علی

    1. اکثر کتب سلسلہ ویب سائٹ الاسلام پر مہیا ہیں۔ امید ہے یہ کتاب بھی وہاں پر مل جائے گی۔ اس ویب سائٹ میں فی الحال صرف حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کتب دستیاب ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں