حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصریؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍مئی 1999ء میں حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری کے بارہ میں ایک مضمون آپؓ کے شاگرد مکرم مولانا محمد صدیق صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت مولوی صاحبؓ کا وطن موضع چھوڑیاں کلاں (ریاست پٹیالہ) تھا۔ بچپن میں ہی والد کے سایہ سے محروم ہوگئے اور پھر لدھیانہ چلے گئے۔ آپکے والد نے اپنی زندگی میں ہی ایک استاد مقرر کرکے آپ کو قرآن کریم پڑھوا دیا تھا۔ چنانچہ لدھیانہ جاکر پہلے ایک مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ پھر کچھ عرصہ دہلی میں طب کی تعلیم حاصل کی اور انعام میں تمغہ بھی حاصل کیا۔ اور پھر امرتسر سے ہوتے ہوئے قادیان پہنچے جہاں حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کی صحبت میں رہے اور آپؓ ہی کے ہو رہے۔ پھر آپؓ کے حکم پر بھوپال چلے گئے اور آپؓ کے ارشاد کی تعمیل میں وہاں کی لائبریری سے کتب نقل کرکے بھجواتے رہے۔ اس دوران وہاں کی ایک مسجد میں بخاری کا درس جاری تھا جس میں شامل ہوئے تو حسب دستور معمولی وظیفہ ملنے لگا۔ تاہم کھانے کا انتظام حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کے ایک شناسا نے کردیا۔
حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کی بعض مطلوبہ کتب جب بھوپال میں دستیاب نہ ہوسکیں اور آپؓ کو معلوم ہوا کہ وہ مصر میں مل سکتی ہیں تو آپؓ کسی کو اطلاع دیئے بغیر مصر کیلئے روانہ ہوئے اور کراچی سے ہوتے ہوئے بصرہ پہنچ گئے۔ آگے اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے پاپیادہ روانہ ہوئے اور کسی نہ کسی طرح مصر جاپہنچے۔ وہاں پہنچ کر آپؓ نے حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کو بھوپال سے مصر پہنچنے کی اطلاع دی اور کتب نقل کرنے کا کام شروع کردیا۔ مصر کی لائبریری میں سیاہی لے جانے کی اجازت نہ تھی اسلئے پہلے کچی پنسل سے لکھتے اور پھر گھر آکر سیاہی سے دوبارہ نقل کر لیتے۔ ساتھ ساتھ الازہر میں بھی داخلہ لے لیا۔ اخراجات پورے کرنے کیلئے کچھ وقت پھیری لگاتے۔ دعوت الی اللہ کا کام بھی جاری رکھا۔ چند مناظرے بھی کئے اور ایک کتاب شائع کی جس میں اہل مصر کو امام وقت کی آمد کی خوشخبری دی۔ وہاں قیام کے دوران آپؓ نے زبان اور تہذیب پر کامل عبور حاصل کرلیا۔
آپؓ نے بہت سادہ زندگی بسر کی۔ سادہ مگر صاف لباس پہنتے۔ جب مکان کیلئے زمین میسر آئی تو ایک ہی کمرہ بنایا جس کی چھت سرکنڈے کی بنائی۔ کسی نے برسات کے ایام میں چھت کے ٹپکنے کا احتمال ظاہر کیا تو فرمایا کہ آنحضرتﷺ کی مسجد کی چھت بھی تو کھجور کے پتوں کی تھی۔ پانی کیلئے ایک مشکیزہ لٹکا رکھا تھا جس سے چلّو میں پانی پی لیتے، گلاس بھی نہ تھا۔ ہر وقت ذکرالٰہی میں مصروف رہتے۔
آپؓ کو عربی زبان میں کامل ملکہ حاصل تھا۔ مدرسہ احمدیہ کے باقاعدہ قیام سے پہلے عربی سکھانے کا انتظام شروع ہوا تو سب سے پہلے آپؓ کو ہی خدمت کا موقع ملا۔ مدرسہ احمدیہ کے باقاعدہ قیام پر آپؓ اس کے پہلے ہیڈماسٹر مقرر ہوئے۔ بعد میں 1946ء تک مدرسہ احمدیہ میں ہی خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ آپؓ کا شمار جیّد علماء میں ہوتا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ کی آٹھ کتب کا عربی ترجمہ کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کی صحبت کے فیض کی بدولت آپؓ حضورؓ کے گھر کے فرد ہی ہو رہے اور حضورؓ نے بھی آپؓ کو اپنا بیٹا ہی قرار دیا۔
آپؓ کی شادی ایک نہایت مخلص احمدی محترم منشی حبیب الرحمان صاحب کی بیٹی سکینہ بی بی سے ہوئی۔ منشی صاحب نے اپنی بیٹی کا مہر یہ رکھا کہ ’’اسے قرآن اور حدیث سکھادیں‘‘۔ اہلیہ کی وفات کے بعد دوسری شادی محترم مولانا احمد خان صاحب نسیم کی ہمشیرہ بیگم جی کے ساتھ ہوئی۔ آپؓ کی طرح انہیں بھی قرآن کریم سے عشق تھا اور انہوں نے محلہ کے سینکڑوں بچوں اور بچیوں کو قرآن مجید پڑھایا۔ حضرت مولوی صاحبؓ کی اولاد نہیں تھی۔
حضرت مولوی صاحبؓ مالی قربانی کی ہر تحریک میں پیش پیش رہے۔ تحریک جدید کے دور اوّل کے مجاہدین میں شامل تھے۔ جب ریٹائرڈ ہوئے تو پراویڈنٹ فنڈ کی رقم ایک ہزار روپیہ ملی۔ اُس میں سے پانچ سو اہلیہ کو دیدئے کہ یہ تمہارا حصہ ہے۔ اور بقیہ حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں پیش کردی۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ بھی آپؓ پر بہت شفقت فرماتے تھے۔ جب27؍اپریل 1956ء کو آپؓ کی وفات ہوئی تو حضورؓ ربوہ میں موجود نہ تھے۔ چنانچہ اطلاع ہونے پر حضورؓ نے بذریعہ تار تعزیتی پیغام بھجوایا۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/Xi5Jt]

اپنا تبصرہ بھیجیں