حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحب رضی اللہ عنہ

حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحبؓ 1882ء میں سنور (ریاست پٹیالہ) میں حضرت محمد موسیٰ صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ نقشہ نویسی کی تعلیم حاصل کی اور پٹیالہ میں ملازم رہے۔ 1915ء میں حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر 26؍صحابہ کرام کی غیرمطبوعہ روایات آپؓ نے کتابی شکل میں شائع کیں۔ ایک کتاب ’’تجلی قدرت‘‘ میں آپؓ کی مختصر سوانح بھی شامل ہے۔ آپ کا ذکر خیر روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍اگست 1996ء میں محترم عبد الحمید چودھری صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحبؓ کے والدین کو حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب سے خاص الفت تھی اور آپ بھی اُن سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔ حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب کو کسی کی بیعت کا شوق تھا۔ چنانچہ 1880ء میں اس مقصد کے لئے آپ اپنے ماموں مولوی محمد یوسف صاحب کے کہنے پر قادیان کے لئے روانہ ہوئے لیکن غلطی سے لدھیانہ کے قریب واقع ’’قادیان‘‘ نامی گاؤں میں پہنچ گئے۔ وہاں آپ کو کوئی مطلوبہ آدمی نظر نہ آیا تو آپ واپس آگئے۔ پھر کچھ عرصہ بعد آریوں کے خلاف حضرت مرزا غلام احمد صاحب کا ایک مضمون پڑھ کر مولوی یوسف صاحب نے آپ کو قادیان ضلع گورداسپور جانے کو کہا۔ چنانچہ آپ قادیان آ کر حضور علیہ السلام کی صحبت سے فیضیاب ہوئے۔ چونکہ ابھی بیعت کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا اس لئے حضور علیہ السلام نے آپ کی بیعت تو نہ لی لیکن آپ کو اپنا دوست بنا لیا اور بشرط فرصت ملنے کی تاکید کی اور خود سنور تشریف لے جا کر ملنے کا وعدہ بھی فرمایا۔


1884ء میں حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب سے اپنا وعدہ ایفا فرمانے کے لئے حضور علیہ السلام پہلے پٹیالہ پہنچے اور وہاں سے وزیر محمد حسن خان صاحب کی بگھی میں سنور تشریف لے گئے۔ حضورؑ کے استقبال کے لئے بہت سے لوگ قصبہ سے باہر جمع تھے۔ حضورؑ نے بگھی کی کھڑکی کھول کر فرمایا کہ میاں عبداللہ کے مکان میں اس قدر احباب کو جانے کی دقّت ہو گی اس لئے احباب یہیں مصافحہ کر لیں۔ یہاں سب سے پہلے جس کو حضور علیہ السلام سے مصافحہ اور پیار لینے کی سعادت نصیب ہوئی وہ دو سالہ قدرت اللہ سنوری تھے جو اپنے والد حضرت محمد موسیٰ صاحب کی گود میں وہاں موجود تھے۔ حضورؑ نے انہیں تھام کر مصافحہ فرمایا اور پیار کیا۔ بعد میں حضرت عبداللہ سنوری صاحبؓ کے مکان میں بھی اس بچے کو حضورؑ سے برکت اور دعائیں لینے کی سعادت نصیب ہوتی رہی۔
حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوریؓ نے 1898ء میں بیعت کی۔ آپؓ کی تبلیغ سے آپ کی والدہ، دادا اور والد نے بھی جلد بیعت کر لی۔ آپؓ کی زوجہ اوّل شادی کے چار سال بعد فوت ہو گئیں اور زوجہ ثانی کے بارہ میں متعدد ڈاکٹروں اور حکیموں کی متفقہ رائے تھی کہ وہ اولاد سے محروم رہیں گی۔ چنانچہ ڈاکٹر عبد الحکیم نے جب ارتداد اختیار کیا تو حضرت مسیح موعودؑ کو مقابلہ کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ’’قدرت اللہ کے لئے بےشک دعا کریں اس کے اولاد نہیں ہو گی‘‘۔ اس پر حضورؑ نے خاص طور پر دعا کی اور آپ کو لکھوایا ’’اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمہاری اس قدر اولاد ہو گی کہ تم سنبھال نہ سکوگے‘‘۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چودہ بچے عطا کئے جن میں سے پانچ کو وہ سنبھال نہ سکے اور باقی نو بچے خدا کے فضل سے زندہ رہے اور بڑھے پھولے۔
1935ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مولوی صاحبؓ کو سندھ میں ناصر اسٹیٹ کا پہلا مینیجر مقرر فرمایا جہاں آپؓ 1947ء تک مقیم رہے، حضورؓ نے مجلس شوریٰ 1956ء کے موقع پر آپؓ کی دعاؤں سے فصل میں غیرمعمولی برکت کا ذکر بھی فرمایا۔
1962ء میں آپؓ اپنے خرچ پر تربیتی مقاصد کے لئے مشرقی پاکستان تشریف لے گئے۔ پاکستان کے کئی شہروں کے بھی سفر کئے اور 1967ء میں انگلستان بھی تشریف لائے۔ 19 نومبر 1968ء کو حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحبؓ کی وفات ہوئی۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثالثؒ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں