حضرت مولوی محمد اسمٰعیل صاحبؓ اور ’’چٹھی مسیح‘‘

ماہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ ربوہ مئی 2004ء میں مکرم مرزا نصیر احمد صاحب نے پنجابی شاعر حضرت مولوی محمد اسمٰعیل صاحبؓ ’’چٹھی مسیح‘‘ کا ذکر خیر کیا ہے۔
حضرت مولوی صاحب ؓ کا وطن ترگڑی ضلع گوجرانوالہ تھا۔ آپؓ کی ولادت 1860ء میں ہوئی۔ اپنے والد محترم محمد عثمان صاحب سے قرآن کریم پڑھا اور عام مروجہ تعلیم پائی۔ اس کے بعد قریبی گاؤں موضع بلے والا کے سکول میں فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ آپ کے دادا میاں غلام قادر تھے جو دہلی سے آکر وزیرآباد میں سکونت پذیر ہوئے۔
حضرت مولوی صاحبؓ کی ایک بہن کی شادی حضرت منشی میراں بخش گوجرانوالہ سے ہوئی جو حضرت مسیح موعود ؑ کے 313 اصحاب میں شامل ہیں۔ اُن کی تبلیغ اور پھر ایک خواب کی بنا پر حضرت مولوی صاحب نے 1897ء یا 1898ء میں قادیان جاکر دستی بیعت کی سعادت حاصل کی۔ آپؓ کے چار فرزند تھے جن میں سے ایک بچپن میں فوت ہوگئے۔ باقی تین کو حضرت اقدسؑ کی دستی بیعت کی سعادت حاصل ہوئی۔
حضرت مولوی صاحبؓ پنجابی زبان کے ایک اچھے شاعر تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی 1947ء کی ایک رؤیا میں ذکر ہے کہ: ’’اسی اثناء میں مولوی محمد اسمٰعیل صاحب (ترگڑی والوں) کا خیال آگیا جو پنجابی زبان میں نہایت عمدہ نظمیں کہتے ہیں۔ گاندھی جی سے کہتا ہوں کہ فلاں مولوی صاحب پنجابی زبان کے شاعر تھے اور وہ پنجابی زبان میں ایسے عمدہ مضامین باندھتے تھے جو نہایت اعلیٰ پایہ کے ہوتے تھے۔‘‘
قبول احمدیت کے بعد آپؓ کی شاعری کا رُخ تمام تر اشاعت دین اور دعوت الی اللہ کی طرف پھر گیا، بالخصوص ردعیسائیت کے لئے آپ نے خاص طور پر پنجابی میں نظمیں لکھیں اور اسی سلسلہ میں آپ نے رسالہ ’’چٹھی مسیح‘‘ منظوم پنجابی میں لکھا جس کی وجہ سے آپ زیادہ معروف ہوئے کیونکہ اس نظم کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نگاہ میں شرف قبولیت و پسندیدگی عطا ہوا۔ ’’چٹھی مسیح‘‘ کا اصل عنوان یوں ہے: ’’مولویاں دی چٹھی مسیح ابن مریم وَل تے اُس دا جواب‘‘۔ یہ نظم آپ نے جون 1903ء میں لکھی اور قادیان جا کر حضورؑ کو سنائی تو حضورؑ بہت خوش ہوئے۔ اس نظم کے کئی ایڈیشن اب تک شائع ہو چکے ہیں۔ پھر آپؓ نے اس نظم کا جواب بھی لکھ کر حضورؑ کو سنایا۔ حضورؑ نے اسے بھی شائع کرنے کا ارشاد فرمایا۔
حضرت مولوی صاحبؓ کو دعوت الی اللہ کو جنون تھا۔ احمدیت قبول کرنے سے پہلے بھی آپ اپنے گاؤں میں غیرمسلموں کو اسلام کا پیغام پہنچاتے رہتے تھے۔ گاؤں کے اکثر لوگ آپ کے شاگرد تھے چنانچہ آپ کی تبلیغ کے نتیجہ میں آپ کے شاگردوں میں سے بعض نے حق قبول کر لیا تو آپؓ کی سخت مخالفت ہوئی اور لوگوں نے اپنے لڑکوں کو آپؓ کے پاس پڑھنے سے روک دیا اور گاؤں میں اذان بھی بند کر دی گئی جو کافی عرصہ بند رہی۔ تاہم آپ کا جوش اللہ تعالیٰ نے رائیگاں نہیں کیا اور جلد ہی ترگڑی میں حضرت اقدسؑ کے صحابہ پر مشتمل اچھی خاصی جماعت قائم ہوگئی۔
ترگڑی میں اکثر عیسائی پادری اپنے مذہب کی تبلیغ کیلئے آتے رہتے تھے اس لئے آپؓ نے ’’ردّنصاریٰ‘‘ اور ’’ردّ کفارہ‘‘ اور ’’مسدس اور وفات مسیح‘‘ وغیرہ موضوعات پر بہت مؤثر پنجابی نظمیں لکھیں۔
حضرت مولوی صاحبؓ نے 24مارچ 1924ء کو گوجرانوالہ میں وفات پائی اور ترگڑی میں مدفون ہوئے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے قادیان میں نماز جنازہ غائب پڑھائی اور فرمایا: ’’ان کی بعض نظموں نے تبلیغ میں بہت مدد دی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی کتاب چٹھی مسیح کو بہت پسند کیا تھا۔‘‘

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/jFaFN]

اپنا تبصرہ بھیجیں