حضرت میاں اللہ بخش صاحب ؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 1 2جون 2010ء میں مکرم وقاص احمد وڑائچ صاحب کے قلم سے حضرت میاں اللہ بخش صاحبؓ کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
حضرت میاں اللہ بخش صاحبؓ کے والد حضرت میاں غلام رسول صاحبؓ نے اپنے خاندان میں سب سے پہلے حضرت مسیح موعودؑ کے دست مبارک پر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی۔ وہ نیک سیرت اور حضور علیہ السلام کے مخلص جاں نثار تھے۔ انہوں نے 75 برس کی عمر میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔
حضرت میاں اللہ بخش صاحبؓ کی ولادت 1893ء میں گوجرانوالہ میں ہوئی۔ یہیں سے آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور میٹرک پاس کرنے کے بعد محکمہ ڈاک میں ملازمت اختیار کرلی۔ ملازمت کا بیشتر حصہ مری میں گزارا اور اگست 1947ء میں جی پی او مری کے پوسٹ ماسٹر کے عہدے سے ریٹائر ہو کر راولپنڈی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
حضرت میاں اللہ بخش صاحب کو کئی مرتبہ قادیان جانے اور حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت میں وقت گزارنے کا موقع ملا۔ 1908ء میں حضرت اقدسؑ نے لاہور میں جو آخری خطاب فرمایا اس مجلس میں بھی آپؓ موجود تھے۔ جس کا ذکر آپؓ نے اپنی خود نوشت تحریر میں کیا ہے جو رجسٹر روایات میں محفوظ ہے۔
آپؓ انتہائی مخلص، تقویٰ شعار، پابند صوم و صلوٰۃ اور احمدیت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ نماز تہجد اور اشراق باقاعدگی سے ادا کرتے۔ آپ کو مختلف حیثیتوں میں جماعتی خدمات کی توفیق ملی۔ شدھی کی تحریک کے دوران ملازمت سے رخصت لے کر طویل عرصہ تک خدمات سرانجام دیں۔ تبلیغ کا جنون کی حد تک شوق تھا چنانچہ 1947ء میں آپ کے متعلق اخبار ’’زمیندار‘‘ نے یہ خبر شائع کی کہ پوسٹ ماسٹر مری سارا دن تبلیغک رتا پھرتا ہے، کیا گورنمنٹ اس کو تنخواہ دیتی ہے؟ ان کی ملازمت میں ہرگز توسیع نہ کی جائے۔
حضرت میاں اللہ بخش صاحبؓ 1947ء سے 1950ء تک راولپنڈی میں نائب امیر رہے اور 1950ء سے 1953ء تک امیر کی حیثیت سے خدمات بجالائے۔ اس دوران کچھ عرصہ بطور امیر ضلع بھی کام کیا۔ اس کے علاوہ 1947ء سے 1951ء تک اور پھر 1954ء کے بعد ایک طویل عرصہ تک آپؓ بطور امین خدمات بجالائے۔ 1953ء کے پُرآشوب حالات کے دوران جب آپ امیر جماعت تھے تو آپ کے گھر پر مخالفوں کے ایک بڑے ہجوم نے حملہ کیا، دروازہ توڑ کر اندر آگئے اور گھر کے سامان کو آگ لگا دی۔ آپؓ نے صبر و استقلال کا مظاہرہ کیا۔
آپؓ عموماً گرمیوں میں ایبٹ آباد میں مقیم اپنے بیٹے مکرم میاں حنیف صاحب کے گھر چلے جاتے تھے۔ 1974ء میں آپؓ وہیں تھے جب شرپسندوں نے احمدیوں کے گھروں پر حملہ کیا اور محترم فخرالدین بھٹی صاحب کو شہید بھی کردیا گیا۔ جب جلوس مکرم میاں صاحب کے گھر پر حملہ آور ہوا تو حضرت میاں اللہ بخش صاحبؓ سجدہ ریز ہوگئے۔ جلد ہی ایک فوجی کیپٹن نے چند جوانوں کو ساتھ لے کر جلوس کو منتشر کردیا اور اس طرح خدا کے فضل سے گھر والوں کی جانیں بچ گئیں۔
حضرت میاں اللہ بخش صاحبؓ 1981ء میں کولہے کی ہڈی پر چوٹ لگنے کے باعث علیل ہوگئے اور ایک لمبا عرصہ بستر پر گزارا۔ اس دوران بھی آپ تمام نمازیں باقاعدگی سے ادا کرتے اور جب صحت اجازت دیتی تو دو تین فرلانگ کا فاصلہ پیدل چل کر مسجد بیت الحمد میں نماز کے لئے تشریف لاتے۔
آپؓ نے 18 جولائی 1982ء کو 89 سال کی عمر میں وفات پائی۔ 1/9 حصہ کے موصی تھے۔ آپ کا جنازہ ربوہ لایا گیا جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/4ZAAb]

اپنا تبصرہ بھیجیں