حضرت میاں نبی بخش صاحبؓ تاجر پشمینہ

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ مارچ 2005ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب نے حضرت میاں نبی بخش صاحبؓ تاجر پشمینہ کا ذکر خیر کیا ہے۔
امر تسر شہر کے شرقی حصے میں کشمیری سوداگرانِ پشمینہ اور رفوگر وغیرہ مسلمان رہتے تھے۔ وہاں ایک اہل حدیث عالم مولوی احمد اللہ صاحب بھی رہتے تھے جن کے زیر اثر اہل محلہ علی العموم اہل حدیث تھے، انہی میں حضرت میاں نبی بخش صاحب رفوگر بھی تھے جو ابتداء میں تو رفوگر تھے لیکن آہستہ آہستہ کاروبار میں اس قدر ترقی کی کہ پشمینہ کے مشہور تاجر ہوگئے اور کاروبار جنوبی ہندوستان اور کلکتہ تک پھیل گیا۔
جولائی 1891ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام امرتسر تشریف لے گئے جہاں آپ نے مولوی احمد اللہ صاحب کو تحریری مباحثے کی دعوت دی مگر انہوں نے آمادگی کا اظہار نہ کیا۔ 1893ء میں حضور علیہ السلام آتھم سے مباحثہ کے لئے دوبارہ امرتسر تشریف لے گئے تو حضرت میاں نبی بخش صاحب تحقیق کی خاطر حضورؑ کی مجالس میں آتے اور خاموشی سے بیٹھے رہتے۔ آپ بہت پڑھے لکھے نہ تھے مگر صاحب شعور تھے۔ آپ نے خود اور دوسروں کے ذریعہ مولوی احمداللہ صاحب کو بارہا حضورؑ سے تبادلہ خیال کے لئے کہا لیکن انہوں نے معذوری ظاہر کردی۔ اُن کے انکار پر حضرت میاں نبی بخش صاحب، آپ کے بڑے بھائی حضرت میاں عبدالخالق صاحبؓ اور بعض دیگر مقتدی بھی سلسلہ احمدیہ میں انشراح صدر سے داخل ہوگئے۔
بیعت کرنے کے بعد حضرت میاں صاحبؓ نے حضورؑ اور آپؑ کے خدام کی شاندار دعوت بھی کی۔
آنحضرت ﷺ کی ایک پیشگوئی ہے کہ امام مہدی کے پاس ایک کتاب ہوگی جس میں اس کے 313 ساتھیوں کے نام درج ہوں گے (مندرجہ جواہرالاسرار از شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی مؤلفہ 840ھ ، قلمی نسخہ)۔ حضورؑ کی مرتب شدہ 313 صحابہ کی فہرست میں حضرت میاں صاحب 17ویں نمبر پر ہیں۔ آپ حضورؑ کی صداقت میں ظاہر ہونے والے کئی نشانات کے گواہ بھی بنے۔ چنانچہ حضور علیہ السلام کی تصنیف ’’نزول المسیح‘‘ میں نشانات میں آپؓ کا نام بطور گواہ درج ہے۔ مثلاً پیشگوئی نمبر 42متعلق ڈپٹی عبد اللہ آتھم ، پیشگوئی نمبر 43 متعلق لیکھرام کے زندہ گواہ رؤیت میں آپ کا نام شامل ہے۔ اسی طرح حضور علیہ السلام نے اپنے ایک اشتہار ’’کیا محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کو عدالت صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور میں کرسی ملی؟‘‘ کے الٰہی نشان میں چشم دید گواہوں میں بھی آپ کا نام درج فرمایا ہے۔
حضرت میاں صاحبؓ انفاق فی سبیل اللہ کے وصف میں بھی نمایاں تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب سراج منیر میں ’’فہرست آمدنی چندہ برائے طیاری مہمان خانہ وچاہ وغیرہ‘‘ کے عنوان کے تحت آپؓ کے بیس روپے چندہ کا ذکر محفوظ ہے ساتھ ہی آپ کی اہلیہ کی طرف سے بھی پانچ روپے چندہ لکھا ہے۔ 1897ء میں آپ جلسہ ڈائمنڈ جوبلی قادیان میں حاضر ہوئے اور اس موقع پر بھی پانچ روپے چندہ ادا کیا۔ حضورؑ نے اپنی کتاب جلسہ احباب پر آپ کی جلسہ میں حاضری اور چندے کا ذکر فرمایا ہے۔
1898ء میں جماعت احمدیہ امرتسر نے مخالفت کے پیش نظر اپنی مسجد کی اشد ضرورت محسوس کی تو حضرت میاں نبی بخش صاحبؓ نے اپنا 1260؍روپے والا مکان مسجد کے لئے 700روپے پر دینا منظور کرلیا۔ 1901ء میں حضورؑ نے رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے سرمائے کو پورا کرنے کے لئے خریداری حصص کی تحریک فرمائی۔ حضرت میاں صاحبؓ نے 5حصص خریدے۔ یکم جولائی 1900ء کو حضورؑنے اپنی جماعت کے خاص گروہ کو منارۃ المسیح کے لئے چندہ کی تحریک کی اور فرمایا کہ ایسے تمام لوگوں کے نام لکھے جائیں گے، جنہوں نے کم سے کم سو روپیہ منارہ کے چندہ میں داخل کیا ہو۔ حضرت نبی بخش صاحبؓ نے بھی اس مبارک تحریک میں سو روپے چندہ ادا کیا۔
روزنامچہ آمد بابت ماہ مارچ 1901ء مدرسہ ٹی آئی قادیان میں آپؓ کے چندے کا ذکر ہے۔ آپؓ نے 1906ء میں وصیت کی۔ وصیت نمبر111ہے۔
ستمبر 1914ء میں حضرت مصلح موعودؓ کی چندہ انڈین امپیریل ریلیف فنڈ کی تحریک میں آپؓ نے 9 روپے ادا کئے۔ 1917ء میں چندہ اشاعت اسلام ولایت میں آپ نے ایک سو روپے چندہ ادا کیا۔
آپؓ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے تھے اور حضورؑ کے لئے ایک غیرت رکھتے تھے۔ 5؍ستمبر 1894ء کو جب آتھم کی پیشگوئی کی میعاد کا آخری دن تھا تو عیسائیوں نے آتھم کے زندہ ہونے کی خوشی میں حضور علیہ السلام کے خلاف امرتسر میں ایک جلوس نکالنا چاہا اور نہایت ہی حیا سوز اوردل آزار حرکات کا پروگرام بنایا تو آپؓ بھی بعض دیگر صحابہؓ کے ہمراہ خان بہادر شیخ غلام حسن رئیس اعظم کے پاس گئے جنہوں یہ منصوبہ سنتے ہی کہا کہ ایسا نہیں ہوگا اور پھر ڈپٹی کمشنر صاحب سے بات کر کے اس منصوبے کی بندش کا انتظام کیا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی حضرت نبی بخش صاحب سے محبت رکھتے تھے اور امرتسر میں بسا اوقات آپ سے کام کرواتے اس طرح امرتسر میں بیٹھے حضور علیہ السلام کی خدمت کا آپ کو موقعہ مل جاتا۔ قادیان سے آنے والے نمائندوں اور مہمانوں کی خدمت بھی دلی لگاؤ اور محبت سے کرتے۔
12؍اپریل 1914ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے حسب ہدایت ایک اجلاس بغرض ضروریات سلسلہ قادیان میں ہوا جس میں 10مختلف ریزولیوشن پاس کئے گئے۔ حضرت نبی بخش صاحبؓ بھی امرتسر جماعت کے وفد میں شامل تھے۔
آپکے ایک بیٹے حضرت عبد اللہ نے 7؍اپریل 1918ء بعمر 21سال وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔ اس کے بعد آپؓ بھی کچھ عرصہ بیمار رہ کر 3؍جولائی 1918ء کو امرتسر میں وفات پاگئے اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/4gGME]

اپنا تبصرہ بھیجیں