حضرت میاں پیر محمد صاحبؓ اور مکرم محمد عبداللہ چیمہ صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍فروری 2007ء میں شامل اشاعت ایک مضمون میں مکرم حمید الدین صاحب خوشنویس نے اپنے نانا حضرت میاں پیر محمد صاحبؓ اور خالو مکرم محمد عبداللہ چیمہ صاحبکا ذکرخیر کیا ہے۔
حضرت میاں پیر محمد صاحب آف پیرکوٹ ثانی ضلع گوجرانوالہ کا پیشہ زراعت تھا اور سخت مشقت کے عادی تھے۔ چنانچہ مالی وسائل محدود ہونے اور ذرائع آمدورفت میسر نہ ہونے کے باوجود 1898ء میں اپنے والد حضرت میاں امام الدین صاحبؓ اور دیگر 19 افراد کے ساتھ پیدل قادیان جاکر شرف بیعت حاصل کیا۔ آپؓ کی اکلوتی ہمشیرہ حضرت مریم بی بی صاحبہؓ (مدفون بہشتی مقبرہ قادیان) اور دو بھائی حضرت میاں نور محمد صاحبؓ اور حضرت حافظ محمد اسحق صاحبؓ (مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ) بھی اصحاب احمدؑ میں شامل ہیں۔
حضرت میاں پیر محمد صاحبؓ اوائل عمری سے ہی پابند صوم و صلوٰۃ، شب بیدار، سعید فطرت اور حلیم الطبع تھے۔ قرآن کریم کثرت سے پڑھتے۔ مطالعہ بہت وسیع تھا۔ تقاریر اور خطبات میں اکثر حضرت مسیح موعود کے فرمودات کا خلاصہ بیان کرتے۔ رسائل ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ (اردو) اور ’’تشحیذالاذہان‘‘ کے خریدار تھے۔ امام الصلوٰۃ اور کئی جماعتی عہدوں پر فائز رہے۔ بڑے متوکل اور مستجاب الدعوات تھے۔ صاحب رؤیا و کشوف تھے۔ دعوت الی اللہ کا بہت شوق رکھتے تھے اور بڑے مؤثر رنگ میں یہ فریضہ ادا کرتے۔ اس غرض سے دوسرے دیہات میں بھی جاتے۔ ایک دفعہ ایک گاؤں کے متعصب افراد نے آپ کو بہت مارا کہ آپؓ بیہوش ہوگئے۔ کافی دیر بعد ہوش آیا تو واپس آنے کے بجائے وہاں کافی دیر تک دوبارہ تبلیغ کرتے رہے۔ نوجوانی میں ہی نظام وصیت سے منسلک ہوئے۔ سالانہ جلسوں اور مجلس شوریٰ میں ہر سال شامل ہوتے اور اس کے لئے اپنے اہم کام بھی نظر انداز کردیتے۔
آپؓ بڑے نفاست پسند تھے۔ ہمیشہ صاف ستھرا سفید لباس زیب تن کرتے۔ باریش اور نورانی چہرہ تھا۔ جماعت اور خلافت سے بڑی گہری وابستگی اور والہانہ عشق تھا۔ گو کہ کسی دنیوی مدرسہ کے پڑھے ہوئے نہ تھے لیکن خداداد صلاحیتوں اور ذاتی لگن سے عربی اردو صحت تلفظ اور روانی کے ساتھ پڑھ لیتے تھے۔ دینی علوم پر آپ کو خاصا عبور حاصل تھا۔
ربوہ میں قیام فرما ہوئے تو روز صبح اپنے عزیزوں سے ملاقات کرنے اُن کے گھر جاتے۔ ظہر کی نماز سے پہلے مسجد مبارک جاتے اور عصر کی نماز پڑھ کر واپس آتے۔ تین نمازیں اپنے محلہ کی مسجد میں ادا کرتے۔ سارا دن تلاوت قرآن اور دینی کتب و رسائل کے مطالعہ میں گزرتا۔ ہر کسی سے مسکراکر بات کرتے۔ مالی تحریکات میں اوّل وقت پر اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر حصہ لیتے۔ جب تک صحت نے اجازت دی رمضان کے پورے روزے رکھے۔ 7 نومبر 1972ء کو 84 سال کی عمر میں وفات پائی۔ اگلے روز حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؓ نے نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو لمبی عمر پانے والے تین بیٹے اور پانچ بیٹیوں سے نوازا۔ آپ کے دو بیٹوں مولوی محمد عبداللہ صاحب پیر کوٹی مرحوم، مولوی سلطان احمد صاحب پیر کوٹی مرحوم اور تین دامادوں مولوی محمد سعید صاحب مرحوم سابق انسپکٹر مال، نورالدین صاحب خوشنویس مرحوم اور مکرم محمد عبداللہ چیمہ صاحب مرحوم کو لمبا عرصہ خدمت سلسلہ کی توفیق عطا ہوئی اور خدمت کا یہ سلسلہ اگلی نسلوں میں بھی جاری ہے۔
آپؓ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی محترمہ سکینہ بی بی صاحبہ کی شادی 1948ء میں مکرم محمد عبداللہ چیمہ صاحب ابن حضرت مولوی غلام حسین صاحب ڈنگویؓ سے ہوئی۔ مکرم چیمہ صاحب (مضمون نگار کے خالو) بڑے سادہ مزاج، دیندار، پابند صوم و صلوٰۃ، تہجد گزار، خوش اخلاق اور درویش منش انسان تھے۔ بڑے مخلص اور نڈر احمدی تھے۔ ہمیشہ بلاخوف و خطر اور برملا اپنے احمدی ہونے کا اظہار کیا۔ آپ محکمہ ڈاک سے منسلک تھے اور جنرل پوسٹ آفس لاہور میں تعینات تھے۔ ربوہ میں ڈاکخانہ قائم ہوا تو آپ ربوہ کے پہلے پوسٹ مین تعینات ہوئے۔ اس طرح 1949ء میں آپ نے مستقل طور پر ربوہ کو اپنا مسکن بنا لیا۔ 1965ء میں آپ دفتر وقف جدید انجمن احمدیہ میں سلسلہ کی خدمت میں کمربستہ ہو گئے۔ بڑے محنتی کارکن تھے اور اپنے مفوضہ فرائض منصبی، دینی فریضہ اور عبادت سمجھ کر کرتے تھے۔ اکیس سال تک آپ کو اس خدمت سلسلہ کی توفیق ملی۔ معمولی الاؤنس کے باوجود آپ نے اپنی پانچ بیٹیوں اور دو بیٹوں کو دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی اعتبار سے بھی اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ آپ کے بڑے بیٹے محمد ظفراللہ چیمہ ( B.Sc.;M.A.; M.Ed.) محکمہ تعلیم میں ہیڈماسٹر ہیں۔ دوسرے بیٹے ڈاکٹر محمد نصراللہ چیمہ (FRCS) نے یورالوجی میں سپیشلائزیشن کیا اور اس وقت برمنگھم میں ذاتی ہسپتال چلا رہے ہیں۔ تیسرے بیٹے محمد رفیع اللہ ناصر چیمہ (B.Com) حال کینیڈا بطور اکاؤنٹنٹ کام کرتے رہے ہیں۔ چوتھے بیٹے ڈاکٹر محمد مطیع اللہ شاہین چیمہ 2006ء میں ایک حادثہ میں وفات پاگئے تھے۔ پانچویں بیٹے حکیم محمد قدرت اللہ محمود چیمہ نے B.Com کے بعد طبیہ کالج سے فاضل الطب والجراحت کیا اور ربوہ میں طبی ادارہ قائم کیا۔ آپ کو بلڈبینک ربوہ میں بھی لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی ہے۔ اسی طرح بڑی بیٹی M.Sc فزکس ہیں اور کالج میں لیکچرار ہیں۔ جبکہ چھوٹی بیٹی B.A; B.Ed. ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/U4fwb]

اپنا تبصرہ بھیجیں