حضرت میر محمداسحق صاحبؓ

حضرت میر محمداسحق صاحبؓ کی سیرۃ پر ایک مضمون محترم مولانا محمد حفیظ صاحب بقاپوری نے تحریر کیا تھا جسے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍مارچ 2010ء میں مکرّر شائع کیا گیا ہے۔
17؍مارچ 1944ء کی شام حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ کی وفات ہوئی۔ آپؓ قادیان کی ایک محبوب ہستی تھے۔ غریبوں کے غمگسار۔ محتاجوں، یتیموں، بیکسوں کی پناہ اور اُن کے لئے بہترین سہارا۔ متقی، پرہیزگار، مشفِق، مربی مہمان نواز، کامیاب مناظر،فصیح البیان مقرر، قوم کے سچیّ خیرخواہ، اعلیٰ درجہ کے منتظم، متواضع،سادہ اور غریب مزاج، بااخلاق ، پُروقار وپُررعب رفتار و گفتار کے مالک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچیّ عاشِق، حدیث شریف کے متجرّ عالم اور پھر عالم با عمل انسان تھے۔
زمانۂ طالب علمی میں آپؓ کے احسانات سے بہرہ اندوز ہونے کے بعد 1937ء میں جب آپ مدرسہ احمدیہ میں بطور ہیڈماسٹر مقرر ہوئے تو اِس عاجز کو 1939ء میں مولوی فاضل پاس کر لینے کے بعد اگلے ہی سال آپ کے زیرِسایہ مدرسہ احمدیہ میں خدمت بجالانے کی سعادت ملی اور آپؓ کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ گلی میں سے گزرتے ہوئے (میری کسی درخواست کے بغیر ہی) آپؓ نے مجھے مدرسہ احمدیہ میں پڑھانے کی خدمت پر مامور فرمایا۔ پھر وقتاً فوقتاً ایسا فرماتے کہ جس کلاس میں یہ عاجز پڑھا رہا ہوتا اُس کلاس میں تشریف لے آتے۔ خود کُرسی پر بیٹھ جاتے اور یہ عاجز پڑھاتا رہتا۔اسی طرح عملی طور پر تربیت اور اِس عاجز کی حوصلہ افزائی فرماتے۔
مدرسہ احمدیہ میں تقرری کے بعد دوسرے تعلیمی سال کے آغاز ہی میں سب کلاسوں کو عربی صرف ونحو کا مضمون پڑھانے کے لئے اِس عاجز کو حکم دیا۔یہ ایاّم دوسری جنگِ عظیم کے تھے۔صرف و نحو کی جو مصری کتابیں مدرسہ احمدیہ میں بطور نصاب مقرر تھیں اُن دنوں ہندوستان میں نایاب تھیں۔ آپؓ نے حکم دیا کہ ان کا اُردو ترجمہ کریں ہم شائع کردیں گے۔ چنانچہ اِس عاجز نے دو رسائل کا ترجمہ کیا جنہیں آپؓ نے شائع کروادیا۔ ترجمہ کی خدمت کے دوران جب بھی آپؓ سے علمی مسائل کے لئے مدد کی درخواست کی تو آپؓ نے بڑی ہی محبت اور عمدہ پیرایہ میں نحوی مسائل کی وضاحت فرمائی۔
آپ ایک جیّد عالم ہونے کے ساتھ اعلیٰ درجہ کے منتظم بھی تھے۔ ڈسپلن کا بڑا خیال رہتا تھا اور اِس جہت سے سکول میں طلباء کی خاص نگرانی فرماتے۔ لڑکوں کی تعلیم، مطالعہ اور ورزش کے اوقات سے کماحقہ‘ فائدہ اٹھانے کی تلقین فرماتے۔ یہ عاجز بورڈنگ مدرسہ احمدیہ میں مقیم چھوٹی عمر کے لڑکوں کا ٹیوٹر تھا جن کا نسبتاً زیادہ خیال رکھتے اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں خاص ہدایات سے نوازتے اور راہنمائی فرماتے۔ اِس بات کی ہمیشہ تاکید فرماتے کہ بچّے کسی وقت بھی فارغ نہ رہیں اور ٹیوٹر کی براہِ راست نگرانی میں سب کام کریں۔ ایک بار رمضان کے دنوں میں شام کو کھانے کے بعد عشاء کی اذان سے پہلے لڑکے کھیلنے کودنے لگے، کچھ شور بھی ہوا۔ یہ دیکھ کر آپؓ نے فرمایا کہ اس فارغ وقت میں سب بچوں کو ایک کمرہ میں جمع کرکے اخبار الفضل کے آخر میں جو ’’ہندوستان اور ممالک غیر کی خبریں‘‘ روزانہ شائع ہوتی ہیں وہ بچوں سے پڑھائی جایا کریں۔
مدرسہ احمدیہ کے طلباء کی عام تعلیمی ترقی کے ساتھ آپ کو اس بات کا بڑا خیال رہتا تھا کہ اس درسگاہ کے تمام طالب علم عمدگی سے تقریر کرنا بھی سیکھ جائیں ۔ فرمایا کرتے تھے کہ جو قوم سٹیج پر قابض ہو جاتی ہے، دنیا میں غلبہ پاتی ہے۔ اۡن دنوں ہٹلر اور چرچل کا شہرہ تھا اُن کی مثال دیتے اور پھر سورۃ الرحمن کا حوالہ دے کر فرماتے تمام حیوانوں میں سے انسان ہی ایسا حیوان ہے جو خود سیکھ کر دوسروں کو سکھا سکتا ہے۔ یہی قوتِ بیان اسے دیگر حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ایک بندر کو خواہ برسوں کرتب سکھائے جائیں پھر اۡسے جنگل میں چھوڑ دیا جائے تو کبھی ایسا نہیں ہوگا کہ وہ جنگل میں جائے اور سیکھے ہوئے کرتب دوسرے بندروں کو سکھانے لگے۔ لیکن انسان ہر بات سیکھ کر سکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ اِس قوّتِ بیانیہ کو خوب ترقی دی جائے اور تقریر میں ایسا ملکہ پیدا کیا جائے کہ مافی الضمیر کو پختہ دلائل کے ساتھ نہایت عمدگی سے بیان کیا جا سکے۔
آپؓ چونکہ خود بھی عالم باعمل بزرگ اور اسلام کی زندہ عملی تصویر تھے اس لئے آپؓ تمام طلباء کو بھی ایسا ہی بنانا چاہتے تھے۔ آپؓ نے مدرسہ کی دیوار پر یہ عبارت لکھوادی تھی: ’’اے ہمارے قادر مطلق سچے بادشاہ! تُو ہمیں عالم باعمل بنا۔ ہمیں دُنیا کے سب فِکروں سے فارغ البال کر کے اپنے بندوں کی خدمت کے لئے وقف فرما…!
ہم ہیں تیرے عاجز بندے اساتذہ و طلباء مدرسہ احمدیہ‘‘
گویا یہ وہ ماٹو تھا جسے عملی رنگ میں ہر طالب علم کے دل و دماغ میں راسخ کرنا چاہتے تھے ۔
آپؓ کی ہمیشہ یہی خواہش ہوتی کہ ہر شخص جو احمدی کہلاتا ہے وہ صحیح معنوں میں پکّا اور سچاّ احمدی بنے۔ اپنے مواعظِ حسنہ میں احبابِ جماعت کو خطاب فرماتے ہوئے اکثر فرمایا کرتے: ـ ــ ’’احمدی کے معنے ہیں چھوٹا احمداس لئے ہر احمدی کو چھوٹا احمدؑ بن کر اپنی زندگی گزارنی چاہئے۔ میری حالت تو یہ ہے کہ بسا اوقات مَیں بازار میں جا رہا ہوتا ہوں اور اپنے نفس سے سوال کرتاہوں کہ کیا میں احمدی ہوں؟ کیا میں احمد ثانی ہوں؟ کیا میرے چلنے پھرنے اور بول چال سے احمد صادق کی تصویر نظر آتی ہے؟‘‘ ۔ فرماتے: ’’ اگر ہر احمدی اسی نہج پر اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے تو ہر چیز جہاں اس کے نفس کی اصلاح اور درستی کا بہترین ذریعہ ہے وہاں جماعتی لحاظ سے بھی بڑی ہی مفید اور سُود مند ہے۔‘‘
قادیان کے احباب کا یہ تعامل تھا کہ صبح کی نماز کے بعد اپنے گھروں میں اور دکانوں پر بلند آواز سے قرآن کریم کی باقاعدہ باالتزام تلاوت کرتے۔ حضرت میر صاحبؓ کو یہ امر بڑا ہی مرغوب تھا۔ چنانچہ مکرم مرزا عبداللطیف صاحب درویش بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے اکثر دیکھا ہے کہ حضرت میر صاحب مرحوم سارے بازار میں چل رہے ہوتے اور جو دُکاندار تلاوت نہ کر رہا ہوتا اُسے بڑی محبت سے توجہ دلاتے تو وہ دوست اس کی فوری تعمیل میں لگ جاتے۔
مکرم مرزا صاحب جو درزی کا کام کرتے تھے، مزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت میر صاحب کی زندگی بالکل سادہ اور ہر قسم کے تکلّفات سے پاک تھی۔ متعدد بار آپؓ تشریف لاتے اور ایک دو جگہ سے پھٹی ہوئی اپنی قمیص یا شلوار مجھے دیتے کہ اِس کو سی دو۔ چنانچہ میں تعمیل کرتا۔ ایک دفعہ شلوار اس طرح زیادہ پھٹ چکی تھی کہ مَیں نے عرض کیا کہ پیوند کے بغیر اِس کی سلائی ممکن نہیں۔ فرمایا بیشک پیوند لگا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیوند لگے کپڑے پہن لیا کرتے تھے۔
یاد رہے آپ کی یہ حالت ناداری کی وجہ سے نہ تھی بلکہ سخاوت اور غریب پروری کی وجہ سے تھی ۔
محتاجوں، بے سہارا افراد ، یتامیٰ و مساکین کی خبرگیری اور اُن کی پرورش سے آپ کو خاص لگاؤ اور دلچسپی تھی۔ ’’دارالشیوخ‘‘ کے نام سے ذاتی ذمہ داری پر آپؓ نے ایک مستقل شعبہ کھول رکھاتھا جس میں بیسیوں محتاج، بیکس اور بے سہارا افراد کے علاوہ ایک بڑی تعداد یتامیٰ و مساکین کی پرورش پاتی تھی۔ نیم بورڈنگ کی صورت میں زیر تربیت نو عمر بچوں کی نگرانی کے لئے ایک باقاعدہ تنخواہ دار ٹیوٹر رکھا ہوا تھا۔
حدیث کے متبحر عالم تھے۔ حدیث کا درس دینا آپ کا محبوب مشغلہ اور مطالعہ حدیث آپ کی روحانی غذا اور راحتِ جان تھی۔ درس دیتے ہوئے محبت و عشق میں ڈوبے ہوئے الفاظ میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے اور ساتھ ہی آبدیدہ بھی ہو جاتے، آواز بھرّا جاتی اور بڑے درد او ر سوز سے بات کو مکمل فرماتے۔ درس دینے کا انداز بڑا پاکیزہ ، دلکش اور مسحور کُن ہوتا۔ آواز میں ایسی تاثیر تھی کہ یوں معلوم ہوتا کہ گویا ایک ایک لفظ دل کی گہرائیوں سے نکل رہا ہے اور سیدھا دلوں تک پہنچ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق و محبت آپؓ کی زبان اور آپ کے نورانی چہرے سے عیاں تھا۔ اکثر فرمایا کرتے: ’’جب کبھی میں غمگین ہوتا ہوں تو گھر چلا جاتا ہوں۔علیحدگی میں بیٹھ کربخاری شریف کھول لیتا ہوں۔ حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس حالات پڑھتا ہوں، رسول اللہ ؐ کے ارشادات کا مطالعہ کرتا ہوں…بس میرا سارا غم، سارا اندوہ دُور ہو جاتا ہے‘‘۔
حدیث شریف کے درس میں بیسیوں معرفت کے نکات کے ساتھ مخصوص انداز میں تاریخِ اسلام کے واقعات نہایت دلنشیں طریق پر بیان فرماتے۔ مثلاً جب اِس قسم کی حدیث آتی کہ: ’’لوددت ان اُقْتَلَ فی سبیل اللہ …۔ تو فی سبیل اللہ شہادت کی ارفع شان بیان کر تے اور فرماتے درحقیقت وہ انسان جو اپنے تئیں لا شیٔ محض قرار دیتے ہوئے سب کچھ خدا ہی کی ذات کو سمجھے اس کی ہردم یہی تمناّ ہوا کرتی ہے کہ جس طرح ہو میں اپنے محبوب کی خوشنودی حاصل کروں اور اُس کی راہ میں فنا ہو جاؤں ایسے لوگ نفس کی قربانی دینے میں لذّت محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سر ورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار کی شہادت کے بعد اِسی بنا پر پھر زندگی اور فنا کی خواہش کرتے ہیں۔ فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی راہ میں جان کی قر بانی دے دینا کوئی معمولی بات نہیں۔
فرماتے: جب کبھی میں حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب کی شہادت کا تصور کرتا ہوں تو میرے دل میں اُن کے پختہ ایمان اور ان کی عظمت کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب میں خود اِس بات پر غور کرتا ہوں کہ کیا اِس قسم کی قربانی میں کر سکتا ہوں تو اِس راہ میں اپنے آپ کو کمزور پاتا ہوں اس لئے کہ جس قسم کے صبروثبات کا نمونہ مرحوم نے دکھایا ہر کس و ناکس سے ممکن نہیں کہ ایسا کر سکے۔ حضرت عمرؓ کی شہادت کا واقعہ اور اپنے لئے حضرت عائشہ ؓ سے اُن کے حجرہ میں آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں قبر کی جگہ کی درخواست بڑے رقتّ انگیز پیرایہ میں بیان فرماتے۔ پھر حضرت عمر ؓ کی اس عجیب دُعا کا بھی ذکر فرمایا کرتے کہ اے اللہ مجھے اپنے رسول کے مقدس شہر (مدینہ) میں اپنی راہ میں شہادت عطا فرما۔
فرماتے بظاہر یہ دُعا بڑی خطرناک معلوم ہوتی ہے کیونکہ آپ خلیفہ تھے اور مدینہ شریف اسلام کا مرکز اور دارالخلافہ تھا، ظاہر میں اِس دُعا کی قبولیت کا مطلب یہ تھا کہ مرکزاِسلام شدید خطرہ میں پڑجائے۔ مگر یہ دُعاسچیّ دل اور خاص تڑپ پر مبنی تھی اس لئے خدا نے اُن کی اِس آرزو کو بھی پورا کر دیا اور مرکز اِسلام کو بھی محفوظ رکھا۔اس کے بعد ان کا ابو لؤلؤکے ہاتھوں شہادت پانے کا واقعہ تفصیل سے بیان فرماتے۔
حضرت مسیح مو عود علیہ السلام کے مزار پر جاکر دُعا کرنے کے بارہ میں فرمایا کرتے کہ وہاں جا کر اس طرح دُعا کرنی چاہیے کہ: ’’اے اللہ ! تیرا یہ محبوب اور پیارا بندہ تھا۔ جب تک اس دُنیا میں رہا وہ تیرے دین کی خدمت و اشاعت کے لئے ہر طرح کوشش کرتا رہا۔ اس کے دل میں کچھ نیک تمنائیں تھیں اور کچھ مقاصد تھے۔ اب وہ تیرے پاس پہنچ چکا ہے۔ اے خدا تو ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم ان نیک تمناّؤں اور اعلی نیک مقاصد کو پورا کرنے والے ہوں۔‘‘ ( آمین )

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/yHtHG]

اپنا تبصرہ بھیجیں