حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب

حضرت چودھری صاحب ؓ کا ذکر خیر روزنامہ ’’الفضل‘‘ 21؍مئی میں ہفت روزہ ’’فرق‘‘ کے شکریہ کے ساتھ شائع ہوا ہے جسے محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے ذاتی حوالہ سے تحریر فرمایا ہے۔
آپ لکھتے ہیں کہ چودھری صاحب سے میرا پہلا تعارف اس وقت ہوا جب میں پہلی بار بغرض تعلیم برطانیہ پہنچا۔ حضرت چودھری صاحب کے ایک بھتیجے بھی میرے ہمسفر تھے جن سے ملنے کے لئے آپؓ بندرگاہ پر تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان دنوں آپؓ ہندوستان کی وفاقی عدالت کے جج تھے۔ کتابوں سے بھرا ہواوزنی بکس میرے پاس تھا جبکہ جنگ کی وجہ سے قلی ناپید تھے۔ حضرت چودھری صاحبؓ نے ایک طرف سے بکس کو پکڑا اور کہا ’’دوسری طرف سے تم پکڑو، ہم مل کر اسے ٹرین تک لے چلتے ہیں‘‘… ایک ناچیز طالبعلم کے لئے یہ ایک بڑا حیران کن استقبال تھا۔ لندن تک ٹرین میں اکٹھے سفر کیا، موسم کی سردی کے زیرِ اثر مجھ پر کپکپاہٹ طاری تھی۔ چنانچہ چودھری صاحب نے اپنا ایک موٹا اور دبیز کوٹ مجھے عطا کیا۔ اس کے بعد 1951ء میں جب وہ وزیر خارجہ تھے اور جنرل اسمبلی میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے تو پرنسٹن انسٹی ٹیوٹ میں بھی تشریف لائے جس کا میں فیلو تھا۔ چنانچہ دو روز آپؓ کی صحبت میں گزارے۔ لیکن ان کی شخصیت کو سمجھنے کا موقع اس وقت ملا جب وہ ریٹائرڈ ہوکر مسجد فضل لندن کے احاطہ میں رہائش پذیر ہوئے اور میری یہ درخواست منظور کی کہ وہ اتوار کا ناشتہ میرے ساتھ کیا کریں گے۔ ان دنوں وہ دینی کتب کے تراجم میں مصروف تھے اور بغیر کسی چھٹی کے باقاعدگی سے نو بجے صبح کام کا آغاز کردیتے تھے۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ چودھری صاحبؓ کا حافظہ کسی بھی غلطی سے یکسر مبرا تھا۔ 50 ، 60 سال قبل گزرنے والے واقعات میں اشخاص کے ناموں کے علاوہ تاریخ، دن اور وقت سے متعلق بھی ان کی یادداشت بالکل درست تھی۔ مسلمان ممالک کی آزادی کے حصول کے سلسلہ میں اقوامِ متحدہ میں بڑی طاقتوں سے اپنی جھڑپوں کے واقعات سنایا کرتے تھے۔ شاہ فیصل کے ذاتی مہمان کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں قیام کی دلوں کو گرما دینے والی تفصیل ہماری درخواست پر کئی بار سنائی۔ ان واقعات کے پس منظر میں جو چیز نمایاں تھی وہ حضرت چودھری صاحبؓ کا توکل علی اللہ تھا۔
ایک مرتبہ حضرت چودھری صاحبؓ کمر درد کے باعث ہسپتال میں داخل ہوئے تو میں عیادت کے لئے حاضر ہوا اور ساتھ ’’شمائل ترمذی‘‘ لے گیا جس میں آنحضرت ﷺ کے روزمرہ حالات درج ہیں۔ میں نے کہا کہ کسی وقت اس کتاب کا انگریزی ترجمہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ وہ کتاب آپکے پاس چھوڑ کر میں ٹریسٹے چلا گیا اور جب دو ماہ بعد واپس آیا تو چودھری صاحبؓ نے اس کتاب کے انگریزی ترجمہ کی مطبوعہ جلد پیش کی جس کا انتساب میرے نام تھا۔
مجھے آخری بار ان کا ہمسفر ہونے کا موقع تب ملا جب وہ صدرِ مملکت مراکش کی اکیڈمی کے افتتاحی اجلاس میں شریک تھے۔ ایک تقریب میں میں نے دیکھا کہ شاہ موصوف بذات ِ خود آپؓ کی طرف ایسے انداز میں ذاتی توجہ دے رہے تھے کہ کسی اور کی طرف میں نے اس انداز سے شاہ موصوف کو متوجہ ہوتے نہیں دیکھا … اس کے بعد محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب حضرت چودھری صاحبؓ کی چند مزید خوبیوں کا بیان کرکے آپؓ کی ہی ایک تحریر پر مضمون ختم کرتے ہیں جس میں حضرت چودھری صاحبؓ نے اعلیٰ دنیاوی اعزازات کے حصول کے بعد خدمتِ دین کی توفیق ملنے پر خدا تعالیٰ کے حضور اظہارِ تشکّر کیا ہے۔
۔ … ٭ … ٭ … ٭ … ۔
حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ کے بارے میں سابق سفیر پاکستان متعیّنہ مصر کا ذاتی مشاہدات کے حوالہ سے تحریر کردہ ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ 10؍جون 1995ء میں شامل اشاعت ہے۔ مضمون نگار نے حضرت چودھری صاحبؓ کی بے پناہ قابلیت کے ساتھ ان کاوشوں کو بیان کیا ہے جو پاکستان بنانے کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کی براہ راست راہنمائی میں انہوں نے انجام دی تھیں۔ چنانچہ جب چودھری صاحبؓ کے دلائل ختم ہوئے تو کمیشن کے روبرو کانگریس کے وکیل نے اقرار کیا کہ اگر دلائل سے فیصلہ ہونا ہے تو میں فیصلہ دیتا ہوں کہ ظفراللہ کیس جیت گیا ہے۔
مضمون نگار اقوامِ متحدہ میں حضرت چودھری صاحبؓ کے احترام کا نقشہ یوں کھنچتے ہیں کہ آپؓ کے لابی میں داخل ہوتے ہی دونوں طرف کے عرب کھڑے ہوکر آپؓ کا استقبال کرتے تھے اور ان میں سب سے زیادہ مرعوب و متاثر شاہ فیصل تھے۔ آپؓ نمائندگان میں اس قدر مقبول تھے کہ اگر کسی سے تین پسندیدہ اراکین کے نام پوچھے جاتے تو ان میں چودھری صاحب کا نام مشترک ہوتا تھا۔ 51۔1950ء میں آپؓ کی خدمات کے اعتراف میں ایک 2 فٹ اونچا آپؓ کا مجسمہ عربوں کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔
مضمون نگار کی مختلف ممالک کے سفراء سے جب ملاقات ہوتی تھی تو معلوم ہوتا تھا کہ ان میں سے اکثریت پاکستان کا نام ظفراللہ خان کے نام کی وساطت سے جانتی تھی۔ جاپانی اور ایرانی سفراء بھی آپ ؓ کے بڑے مداح تھے۔ ایک سفیر نے حضرت چودھری صاحبؓ کے پابندی وقت کے اصول پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ میں چودھری صاحبؓ کے آنے پر ہم اپنی گھڑیاں ٹھیک کرلیا کرتے تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں