حضرت چودھری شاہ محمد صاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍جون 2003ء میں مکرم محمد اسلم ساہی صاحب اپنے والد حضرت چودھری شاہ محمد صاحبؓ ریٹائرڈ سب انسپکٹر پولیس کا مختصر ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ ؓ میاں محمد یار صاحب سکنہ پٹیالہ ساہیاں ضلع گجرات کے بیٹے تھے۔ آپؓ نے اگست 1906ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی سعادت پائی۔
آپؓ کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔ جب آپؓ پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل تھے تو آپؓ نے ارادہ کیا کہ دو تین ماہ کی رخصت لے کر گاؤں جائیں اور دعوت الی اللہ کریں۔ جب آپؓ گاؤں پہنچے اور ایک الگ کمرہ (بیٹھک) بنانے کا ارادہ کیاتو گاؤں کے چند لوگ اکٹھے ہوکر آگئے کہ جب تک احمدیت نہیں چھوڑو گے اُس وقت تک کمرہ نہیں بناسکوگے۔ یہ جھگڑا دو تین روز تک چلتا رہا۔ آخر آپؓ نااُمید ہوکر واپس ڈیوٹی پر چلے آئے۔ اگلے ہی روز آپؓ کا ایک دوست گاؤں سے آپؓ کے پاس آیا اور بتایا کہ جونہی کل آپؓ نے گاؤں کو چھوڑا تو طاعون گاؤں میں داخل ہوگئی اور وہ بیس آدمی جو آپؓ کو کمرہ بنانے سے روک رہے تھے، مر گئے ہیں۔ اُن کی موت کے بعد مَیں آپؓ کے پاس آیا ہوں۔
آپؓ 1930ء اور 1940ء کے درمیان کئی بار دو دو تین تین ماہ کیلئے تبلیغ کرنے مکیریاں ضلع ہوشیارپور گئے۔ نماز تہجد التزام سے ادا کیا کرتے تھے۔ کئی بار پیدل قادیان کا سفر کیا۔ جون 1945ء میں آپؓ کی وفات ہوئی۔ دسمبر 1946ء میں آپؓ کا تابوت قادیان لے جایا گیا اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں