حضرت چودھری محمد ظفراللہ خانصاحبؓ کی انکساری

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 31؍اگست 2002ء میں مکرم پروفیسر میاں محمد افضل صاحب بیان کرتے ہیں کہ محترم ثاقب زیروی صاحب نے ایک بار بتایا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے ارشاد پر جب آپ کو یورپ کے مختلف شہروں میں بھجوایا گیا تاکہ جماعتوں سے رابطہ کے علاوہ ادبی پروگراموں کے ذریعہ غیراحمدیوں سے بھی رابطہ کیا جائے تو حضرت چودھری محمد ظفراللہ خانصاحبؓ نے، جو اُن دنوں عالمی عدالت کے صدر تھے، ایک ماہ کی چھٹی لی تاکہ اس سفر میں مکرم ثاقب صاحب کیلئے ممکنہ سہولیات بہم پہنچائی جاسکیں۔ چنانچہ حضرت چودھری صاحبؓ جب بھی کسی ہوٹل میں رہائش کا اہتمام فرماتے تو اپنے لئے تو کسی معمولی کمرہ کا انتخاب کرتے لیکن مہمان کیلئے ملحقہ غسلخانہ والا عمدہ کمرہ منتخب فرماتے اور آپکے آرام کا بھی ہرممکن خیال رکھتے۔ ایک صبح جب ثاقب صاحب بیدار ہوئے اور بستر سے نیچے دیکھا تو جوتی کو غائب پایا۔ طبعاً پریشانی ہوئی۔ چند ہی لمحوں بعد دروازہ کھلا تو دیکھا کہ حضرت چودھری صاحب ؓ اپنے ہاتھوں میں جوتے پکڑے اندر تشریف لائے اور فرمایا: ’’مَیں نے سوچا تمہاری جوتی پالش کروادوں‘‘۔ اگرچہ یہ کام کوئی ملازم بھی کرسکتا تھا لیکن حضرت چودھری صاحبؓ کے نزدیک مہمان کی عزت افزائی کا یہی انداز تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں