حضرت چودھری نبی بخش صاحبؓ

بٹالہ کے رئیس، شہر کے ذیلدار اور پٹواری حضرت چوہدری نبی بخش صاحبؓ کی سیرۃ و سوانح کا مختصر تذکرہ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍ستمبر 1999ء میں مکرم محمد اکرم صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
1865ء میں جب بٹالہ میں عیسائیت کا زور ہوا تو چودھری نبی بخش صاحب نے قادیان کا رُخ کیا اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب سے عیسائیت کے خلاف اور دین کی تائید میں دلائل سیکھے اور پھر واپس جاکر عیسائیوں سے بحث و مباحثہ شروع کردیا۔ ان مباحثوں میں آپ اکثر فتحیاب ہوتے اور جب کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی تو پھر قادیان حاضر ہوکر مزید دلائل سیکھتے۔
یوں تو آپ کی طبیعت میں دھیماپن تھا لیکن جب کسی معترض کو جواب دیتے تو عموماً طبیعت میں جوش ہوتا۔ آپؓ کہتے تھے کہ حضرتؑ مجھ کو عیسائیوں کے اعتراضات کے جوابات دو قسم کے دیا کرتے تھے، الزامی اور تحقیقی۔ آپؑ کا ارشاد تھا کہ جب تم جلسہ میں عام پادریوں سے مباحثہ کرو تو اُن کو ہمیشہ الزامی جواب دو کیونکہ اُن کی نیت نیک نہیں ہوتی اور اُن کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔
اسی زمانہ میں ایک مولوی قدرت اللہ صاحب عیسائی ہوگئے۔ جب حضرت منشی صاحبؓ نے یہ اطلاع حضور کو دی تو حضور کو بہت تکلیف ہوئی اور آپ نے منشی صاحبؓ کو تاکیداً کہا کہ تم اسے سمجھاؤ۔ منشی صاحبؓ نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اُسے مال دے کر پھسلایا گیا ہے۔ تب حضور نے فرمایا کہ اگر کوئی مالی مدد دینی پڑے تو چندہ جمع کرلینا، مَیں بھی اس میں حصہ لوں گا۔ حضور فرماتے تھے کہ اُس کے نام کے ساتھ مولوی کا لفظ ہے اور عوام پر اس کا برا اثر پڑتا ہے۔ حضور نے منشی صاحبؓ کو تاکید کی کہ مولوی صاحب سے تنہائی میں ملو، مَیں دعا کروں گا۔ خدا تعالیٰ نے حضور کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور مولوی صاحب نے دوبارہ اسلام قبول کرلیا۔ یہ واقعات 1876ء سے 1878ء کے درمیانی عرصہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
حضور علیہ السلام جب کبھی بٹالہ تشریف لے جاتے تو حضرت منشی صاحبؓ کے گھر پر ہی قیام فرماتے۔ چنانچہ 1888ء میں بشیر اول کے علاج کے سلسلہ میں حضورؑ قریباً ایک ماہ تک آپؓ کے ہاں قیام فرما رہے۔
حضرت منشی صاحبؓ نے 1899ء میں بیعت کی سعادت حاصل کی تھی اور اکثر قادیان تشریف لاتے رہتے۔ 15؍جنوری 1903ء کو جب حضور ایک مقدمہ کے سلسلہ میں جہلم تشریف لے جانے کے لئے بٹالہ پہنچے تو آپؓ نے چائے، کیک اور بسکٹوں سے جملہ مہمانوں کی تواضع کی جس پر حضور نے مسرت کا اظہار فرمایا۔ حضور نے 4؍اکتوبر 1899ء کے اپنے اشتہار میں بعض صحابہؓ کی تعریف کرنے کے بعد لکھا کہ ’’ان کے سوا اور بھی مخلص ہیں جنہوں نے حال ہی میں بیعت کی ہے …‘‘۔ آپؓ کے بارہ میں پھر لکھا ’’حبی فی اللہ منشی چوہدری نبی بخش صاحب رئیس بٹالہ جو بطور ہجرت اس جگہ قادیان میں آگئے‘‘۔
منارۃالمسیح کے لئے چندہ کی تحریک کرتے ہوئے حضور نے جن مخلصین کی فہرست درج فرمائی ہے اُن میں آپؓ کا نام گرامی پچپن نمبر پر ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں