حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحبؓ

حضرت مسیح موعودؑ کے ممتاز صحابی حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحبؓ 1862ء میں کلرسیداں (کہوٹہ ضلع راولپنڈی) کے ایک مشہور سادات خاندان میں سید باغ حسین شاہ صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ پانچ چھ سال کی عمر میں یتیم ہوگئے۔ آپؓ نے ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کیا اور رعیہ ضلع سیالکوٹ میں سرکاری ملازمت میں رہے۔ آپؓ کی شادی اپنے چچا کی صاحبزادی حضرت سیدہ سعیدۃالنساء صاحبہؓ سے ہوئی۔ دونوں میاں بیوی نہایت متقی اور پرہیزگار اور مخلوق کی بے لوث خدمت کرنے والے تھے۔
حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحبؓ کو 1901ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی سعادت ملی۔ جلد ہی آپؓ کی اہلیہ نے بھی بیعت کرلی اور پھر ایک نہایت مبشر خواب دیکھنے کے بعد انہوں نے حضرت ڈاکٹر صاحبؓ پر زور دیا کہ تین مہینے کی رخصت لے کر معہ اہل و عیال قادیان جاکر رہیں۔ حضورؑ کو آپؓ کی آمد کی بہت خوشی ہوئی اور اپنے قریب کے مکان میں ٹھہرایا اور خاص محبت سے پیش آتے رہے۔ حضرت ڈاکٹر صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز جب حضرت اقدسؑ باغ میں ایک چارپائی پر تشریف فرما تھے اور میں کچھ اصحاب کے ہمراہ زمین پر بوری پر بیٹھا تھا کہ اچانک حضورؑ کی نظر مجھ پر پڑی تو فرمایا ڈاکٹر صاحب! آپ میرے پاس چارپائی پر آکر بیٹھ جائیں۔ مجھے شرم محسوس ہوئی کہ میں حضرت صاحب کے برابر ہوکر بیٹھوں۔ حضورؑ نے دوبارہ ارشاد فرمایا تو میں نے عرض کیا میں یہیں اچھا ہوں… تیسری بار خاص طور پرحضورؑ نے فرمایا کہ آپ میری چارپائی پر آکر بیٹھ جائیں کیونکہ آپ سید ہیں اور آپ کا احترام ہم کو منظور ہے۔
جب حضرت ڈاکٹر صاحب نے بیعت کی تو حضورؑ نے آپؓ کو بار بار آنے کا ارشاد فرمایا تاکہ حضورؑ کے فیضان قلبی اور صحبت کے اثر کے پرتَو سے آپؓ کی روحانی ترقیات ہوں۔ آپؓ نے رخصت نہ ملنے کا ذکر کیا تو حضورؑ نے خطوط کے ذریعے بار بار یاددہانی کرانے کا ارشاد فرمایا۔ … چنانچہ آپؓ کئی بار رخصت لے کر قادیان حاضر ہوتے رہے بلکہ اپنے بڑے بچوں کو وہیں داخل کرادیا۔
حضرت ڈاکٹر صاحبؓ کی اہلیہ کی درخواست پر ہی حضرت اقدسؑ نے عورتوں میں درس دینا شروع کیا اور پھر حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ اور حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کو بھی درس دینے کا ارشاد فرمایا۔
حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحبؓ کی بیماری میں جب کسی نے خواب دیکھا کہ ان کی شادی ہورہی ہے تو حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ایسی خواب کی تعبیر تو موت ہے لیکن بعض دفعہ اسے ظاہری رنگ میں پورا کر دینے سے تعبیر ٹل جاتی ہے۔ چنانچہ حضورؑ نے حضرت ڈاکٹر صاحبؓ کی اہلیہ کو، جو اتفاقاً صحن میں نظر آئیں، بلاکر فرمایا کہ اگر وہ پسند کریں تو ان کی بیٹی مریم کی شادی مبارک احمد سے کردی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی عذر نہیں لیکن اگر حضرت اقدس کچھ مہلت دیں تو میں ڈاکٹر صاحب سے پوچھ لوں۔چنانچہ جب حضرت ڈاکٹر صاحب آئے تو آپؓ کی اہلیہ نے اس رنگ میں بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جب کوئی داخل ہوتا ہے تو بعض دفعہ اس کے ایمان کی آزمائش بھی ہوتی ہے ، اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کی آزمائش کرے گا تو کیا آپ پکے رہیں گے؟… حضرت ڈاکٹر صاحبؓ نے جواب دیا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ استقامت عطا کرے گا اس پر انہوں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپؓ نے کہا کہ اچھی بات ہے اگر حضور علیہ السلام کو پسند ہے تو ہمیں اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ … یہ شادی ہوگئی لیکن کچھ دنوں بعد ہی حضرت مرزا مبارک احمد صاحب وفات پاگئے اور یہ لڑکی بیوہ ہوگئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس خاندان کے اخلاص کو قبول فرمایا۔ چنانچہ حضرت اماں جانؓ کی روایت ہے کہ جب مبارک احمد فوت ہوگیا تو مریم بیگم بیوہ رہ گئی تو حضرت مسیح موعودؑ نے گھر میں ایک دفعہ خواہش ظاہر کی کہ لڑکی ہمارے گھر میں آئے تو اچھا ہے یعنی ہمارے بچوں میں سے کوئی اس سے شادی کرلے تو بہتر ہے۔ چنانچہ حضرت سیدہ مریم بیگمؓ پھر 7؍فروری 1921ء کو حضرت مصلح موعودؓ کے عقد میں آئیں اور اس مبارک جوڑے کو اللہ تعالیٰ نے 1928ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ سے نوازا۔
حضرت ڈاکٹر صاحب 1895ء سے 1920ء تک رعیہ میں ملازم رہے۔ آپؓ مخلوق کے غیرمعمولی ہمدرد اور بہت دعاگو بزرگ تھے۔ جب ہسپتال سے گھر تشریف لاتے تو اپنے بچوںکو فرماتے کہ آج فلاں فلاں مریض کو تکلیف ہے ان کو جاکر دباؤ۔ ان مریضوں میں مسلمان، ہندو اور سکھ سب ہی شامل تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے آپؓ کے کنبہ کو ’’بہشتی ٹبر‘‘ قرار دیا اور حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ نے کئی بار فرمایا ’’ آپ نے اپنی اولاد کی خوب تربیت اور پرورش کی ہے جس سے ہم کو دیکھ کر رشک آتا ہے‘‘۔ حضرت سیدہ مہر آپا بھی حضرت ڈاکٹر صاحبؓ کے فرزند حضرت سید عزیزاللہ شاہ صاحب کی دختر تھیں جو حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہؓ کی وفات کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کے عقد میں آئیں۔
1920ء میں حضرت ڈاکٹر صاحب ریٹائرڈ ہوکر مستقل طور پر قادیان آگئے اور جب تک صحت نے اجازت دی نور ہسپتال میں اعزازی خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ آپؓ کی اہلیہ 13؍نومبر 1923ء کو 55 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ حضرت ڈاکٹر صاحبؓ کی وفات 75 سال کی عمر میں 23؍جون 1937ء کو ہوئی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ قادیان کے قطعہ خاص میں آپؓ کی تدفین عمل میں آئی۔ حضرت ڈاکٹر صاحبؓ نے اپنی اولاد کے لئے ایک وصیت بھی تحریر فرمائی جو آپؓ کی پاکیزہ سیرت کی غمازی کرتی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں ’’ہر حالت میں چلتے پھرتے حسبِ فرصت دعاؤں کو طبع ثانی اور اعضاء جسمانی کی طرح اپنا شیوہ و وطیرہ اور بقاء روح کے لئے انہیں وسیلہ اور دارومدار روح سمجھنا چاہئے‘‘۔
حضرت ڈاکٹر صاحبؓ کے بارے میں روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍نومبر 1997ء میں ایک مضمون مکرم محمود مجیب اصغر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں