حضرت کعب بن زھیرؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍اگست 2000ء میں مکرم خواجہ عبدالعظیم احمد صاحب کے قلم سے قصیدہ بُردہ کے شاعر حضرت کعب بن زھیرؓ کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
آپؓ کا پورا نام ابوعقبہ کعب بن زھیر ابن ابی سلمیٰ مزنی تھا۔ والدہ کا نام کبشہ بنت عمار تھا۔ آپ کو آپکے والد نے ادب و حکمت کی آغوش میں پالا۔ آپ بچپن سے ہی شعر کہا کرتے تھے۔ آپ کے والد آپ کو اسلئے شعرگوئی سے منع کرتے مبادا کوئی نازیبا بات کہہ بیٹھیں جس سے خاندان کی عزت جاتی رہے۔ انہوں نے آپ کو کئی بار شعر کہنے پر سزا بھی دی لیکن جب آپ باز نہ آئے تو آخر تنگ آکر انہوں نے آپ کو چند عنوانات دیئے جن پر آپ نے حیرت انگیز شعر لکھے اور اس طرح آپ کو شعر کہنے کی اجازت مل گئی۔ آپ کے خاندان میں یکے بعد دیگرے گیارہ شعراء گزرے ہیں۔ آپ کے والد آپ کو عمدہ اور چیدہ قسم کے اشعار یاد کرواتے اور مشق سخن کرواتے، اصلاح کرتے اور رموزفن سے آگاہ کرتے۔ انہوں نے اپنی وفات سے پہلے خواب دیکھا کہ آسمان سے ایک رسّی لٹکائی گئی۔ جب یہ اُس کو پکڑنے کیلئے آگے بڑھے تو وہ فوراً اوپر اٹھ گئی۔ صبح کو آپ نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلاکر نصیحت کی کہ میرے بعد آسمان سے کوئی نئی بات ظاہر ہوگی، تم اُسکی چھان بین کرنا اور فائدہ اٹھانا۔
سن سات ہجری میں کعب نے اپنے بھائی بجیرکو مدینہ بھیجا تاکہ وہ اسلام کے بارہ میں تحقیق کرکے آئیں۔ لیکن بجیر نے مدینہ پہنچ کر اسلام قبول کرلیا اور وہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ بجیر کے اسلام قبول کرلینے سے کعب کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور اُس نے اسلام، آنحضورﷺ اور خصوصاً مسلمان عورتوں کے بارہ میں ہجویہ اشعار کہنے شروع کردئے۔ اس کا علم ہونے پر آنحضورﷺ نے کعب کے فتنہ کو روکنے کیلئے سخت قدم اٹھانے کا حکم دیا۔ اسی دوران حضرت بجیرؓ نے اپنے بھائی کو آنحضورﷺ سے معافی مانگنے اور اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے ایک خط بھی لکھا لیکن کعب کی گستاخیاں بڑھتی چلی گئیں۔ آخر جب آنحضورؐ نے مکہ فتح کرلیا تو کعب نے پناہ لینے کے لئے مختلف عرب قبائل سے رابطہ کیا لیکن اکثر قبائل نے اُسے پناہ دینے سے انکار کردیا۔ اس وقت حضرت بجیرؓ نے ایک اَور خط اُسے لکھا اور سخت تنبیہ کی۔
9؍ہجری کی ایک رات کعب چپکے چپکے مدینہ پہنچے اور حضرت ابوبکرؓ کے ہمراہ آنحضورﷺ کی خدمت میں بوقت فجر حاضر ہوکر عرض کیا: ’’یارسول اللہ! اگر کعب بن زھیر آپؐ کے پاس توبہ کرتے ہوئے اسلام لائے اور امان مانگے تو کیا آپؐ اُسے معاف کردیں گے؟‘‘۔ آنحضورؐ نے فرمایا: ’’ہاں‘‘۔ تو کعب بولے کہ مَیں ہی کعب بن زھیر ہوں… یا رسول اللہﷺ۔
اُس وقت کعبؓ نے آنحضورﷺ کی مدح میں وہ عظیم الشان قصیدہ پڑھا جس کی وجہ سے اس عظیم شاعر کی قدر کی جاتی ہے۔ راویوں کے بقول یہ سُن کر آنحضورﷺ بھی جھوم اٹھے اور صحابہؓ کی توجہ بعض عمدہ اشعار کی طرف مبذول کرواتے رہے۔ پھر آپؐ نے اپنی چادر مبارک اتار کر کعبؓ کو دیدی۔ چادر کو بُردہ کہتے ہیں، اس وجہ سے اس امتیازی قصیدہ کا نام قصیدہ بُردہ رکھا گیا۔
اس قصیدہ کے 58؍اشعار ہیں اور اس کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ بارہ اشعار پر مشتمل ہے جس میں محبوب کو سراہا گیا ہے۔ دوسرے حصہ میں اکیس اشعار ہیں جس میں اُس روشنی کا ذکر ہے جو محبوب کے پاس پہنچاتی ہے۔ اور تیسرا حصہ اس قصیدہ کی جان ہے ۔ اس میں آنحضورﷺ اور مہاجرین سے معذرت کرکے اُن کی تعریف کی گئی ہے۔ اس کے بعض اشعار کا ترجمہ یوں ہے:-
’’یقینا حضورؐ ایسی چمکتی اور کاٹنے والی سونتی ہوئی تلوار ہیں (کفار کے خلاف) جو اللہ کی طرف سے ہے اور اُس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ پس علم کی انتہاء ہے کہ آپؐ بشر ہیں اور تمام مخلوق خداوندی میں اعلیٰ ہیں۔ آپؐ ایک فضل کے سورج ہیں اور آپؐ کے صحابہؓ اس سورج سے تعلق رکھنے والے ستارے ہیں جو ظلمتوں اور اندھیرے میں اسی سورج کے انوار لوگوں پر ظاہر کرتے ہیں۔ حضورؐ کے اعلیٰ اخلاق کتنے کمال کو پہنچے ہوئے ہیں۔ آپؐ ظاہری اور باطنی لحاظ سے حسین ترین ہیں۔ آپؐ ایک بہت خوبصورت پھول کی طرح ہیں یا ایک شان و شوکت والے چاند کی طرح ، جو چودھویںکی رات کو لوگوں کو ٹھنڈک کے ساتھ روشنی دیتی ہے یا آپؐ کرم کے بحر ذخار ہیں یا ہمتوں میں زمانے کی طرح بلند ہمّت ہیں‘‘۔
اس قصیدہ کی کئی شرحیں لکھی گئیں اور اسکے تراجم متعدد زبانوں بشمول اردو، فارسی، انگریزی، فرانسیسی، جرمن و لاطینی وغیرہ میں کئے جاچکے ہیں۔
قبول ِ اسلام کے بعد کعبؓ کی کایا ہی پلٹ گئی اور آپؓ شیدائی مبلغ اسلام بن گئے۔ آپؓ کے کلام میں اسلام اور آنحضورﷺ سے بے نظیر پیار کی جھلک بھی نظر آنے لگی۔ آپؓ کی وفات حضرت عمرؓ کے دور کے آخر میں 26؍ہجری (645ء) کو ہوئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں