’’خالدین احمدیت‘‘

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تین اکابر علماء کو ’’خالد احمدیت‘‘ کا خطاب دیا اور ایک موقعہ پر فتنہ پروروں کو مخاطب کرکے فرمایا ’’میرے پاس ایسے خالد موجود ہیں جو ان لوگوں کے مونہہ بند کرسکتے ہیں‘‘۔ ان علمائے کرام کے بارے میں محترم ڈاکٹر پرویز پروازی صاحب نے ذاتی مشاہدات بیان کئے ہیں جو ماہنامہ ’’خالد‘‘ دسمبر 1995ء میں شائع ہوئے ہیں۔
حضرت ملک عبدالرحمٰن خادم صاحب گجرات کے مشہور وکیل تھے، باقاعدہ مبلغ نہیں تھے لیکن مناظروں میں اپنی مثال آپ تھے اور جب اور جہاں بھی جماعت نے بلایا حاضر ہوگئے۔ جو احراری مناظر دشنام طرازی کرتے اور تہذیب کا دامن بھی چھوڑ جاتے تو خادم صاحب دلائل و براہین کے ساتھ جواب دیا کرتے تھے۔ آپ کی ’’احمدیہ تبلیغی پاکٹ بک‘‘ جماعت کے مناظراتی ادب کا بیش بہا سرمایہ ہے۔ مضمون نگار محترم خادم صاحب کے ایک مناظرہ کا ذکر کرتے ہیں جس میں بدزبان احراری مناظر لال حسین اختر کو بھاگتے ہی بن پڑی ۔ مرحوم نے استاد امام دین گجراتی کا دیوان ’بانگ دہل‘ بھی مرتب کیا تھا۔
حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب رضی اللہ عنہ بہت منکسرالمزاج عالم تھے۔ ان کے پاس زائرین کا تانتا لگا رہتا ، لوگ سوال پر سوال کرتے لیکن آپ کو کبھی کسی کو جھڑکتے یا سوالوں سے تنگ آتے نہیں دیکھا۔ عالم باعمل تھے اور حضرت مصلح موعودؓ کی غیرموجودگی میں خطباتِ جمعہ بھی دیا کرتے تھے۔
حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب کالج میں دینیات کے پروفیسر تھے۔ دوستوں میں ہلکی پھلکی باتوں کو ترجیح دیتے لیکن اگر کوئی علمی مسئلہ پر رائے مانگے تو سنجیدگی سے جواب دیتے۔ تکلف سے دور تھے۔ ماہنامہ ’’الفرقان‘‘ آپ کا ایسا کارنامہ ہے جس کے غیراز جماعت علماء بھی قائل تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور شعبہ اسلامیات کے صدر علامہ علاؤالدین صدیقی آپ کی برملا تعریف کرتے تھے۔ مرحوم عربی میں بھی اسی طرح تقریر کرلیا کرتے تھے جیسے اردو میں مخاطب ہوں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/usKPd]

اپنا تبصرہ بھیجیں