’خطبہ الہامیہ‘‘ کا زبردست علمی نشان

بیسویں صدی کے آغاز تک حضرت مسیح موعودؑ متعدد عربی کتب تصنیف فرما چکے تھے جن کی فصاحت و بلاغت نے عرب و عجم میں دھوم مچا رکھی تھی لیکن عربی میں تقریر کرنے کی آپؑ کو ابھی تک نوبت نہیں آئی تھی- 11؍اپریل 1900ء کو عیدالاضحی کی تقریب تھی جب صبح آپؑ کو الہاماً تحریک ہوئی ’’آج تم عربی میں تقریر کرو، تمہیں قوت دی گئی‘‘- نیز الہام ہوا ’’کلام افصحت من لدن ربّ کریم‘‘ یعنی کلام میں ربّ کریم کی طرف سے فصاحت بخشی گئی- یہ بشارت پاتے ہی آپؑ نے بہت سے خدام کو اس کی اطلاع کردی نیز حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کو ہدایت فرمائی کہ قلم ، دوات اور کاغذ لے کر آئیں تاکہ خطبہ قلمبند کرسکیں- عید کے لئے تین سو سے زیادہ مہمان قادیان آئے ہوئے تھے اور صبح 8 بجے تک مسجد اقصیٰ پُر ہوگئی- ساڑھے آٹھ بجے حضرت اقدسؑ تشریف لائے- سوا نو بجے نمازِ عید حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے پڑھائی اور حضورؑ نے ایک لطیف اور پُرمعارف خطبہ اردو میں ارشاد فرمایا- پھر ’’یا عباداللہ‘‘ کے لفظ سے فی البدیہہ عربی خطبہ پڑھنا شروع کیا- ابھی چند فقرے ہی آپؑ نے کہے تھے کہ حاضرین پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی- حضورؑ کی شکل و صورت، زبان اور لب و لہجہ سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ آسمانی شخص ایک دوسری دنیا کا انسان ہے- آپؑ کی آنکھیں بند اور چہرہ سرخ اور حد درجہ نورانی تھا- آپؑ کی حالت اور آواز میں ایک تغیّر محسوس ہوتا تھا اور ہر فقرہ کے آخر میں آواز بہت دھیمی اور باریک ہو جاتی تھی-
خطبہ کے دوران ہی حضورؑ نے خطبہ لکھنے والوں سے فرمایا کہ اگر کوئی لفظ سمجھ میں نہ آئے تو اِسی وقت پوچھ لیں، ممکن ہے کہ بعد میں خود بھی بتا نہ سکوں- پھر اس قدر تیزی سے آپؑ کلمات بیان فرماتے تھے کہ زبان کے ساتھ قلم کا چلنا مشکل ہو جاتا تھا چنانچہ بعض دفعہ الفاظ پوچھنا پڑتے تھے-بعد ازاں حضورؑ نے بتایا کہ آپؑ یہ امتیاز نہیں کر سکتے تھے کہ میں بول رہا ہوں یا میری زبان سے فرشتہ کلام کر رہا ہے کیونکہ برجستہ فقرے زبان پر جاری ہوتے تھے اور بعض اوقات الفاظ لکھے ہوئے بھی نظر آجاتے تھے اور ہر ایک فقرہ ایک نشان تھا-
جب یہ کیفیت ختم ہوگئی تو حضورؑ نے خطبہ ختم کردیا اور کرسی پر تشریف فرما ہوگئے-
حضرت مسیح موعودؑ نے عید سے ایک روز قبل حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ سے قادیان میں موجود تمام دوستوں کی فہرست منگوائی تھی تاکہ اُن کے لئے دعا کرسکیں- چنانچہ حضرت مولوی صاحبؓ نے تمام دوستوں کو مدرسہ احمدیہ میں اکٹھا کرکے فہرست بناکر خدمت اقدسؑ میں پیش کی اور حضورؑ سارا دن بیت الدعا میں دروازے بند کرکے مصروف دعا رہے- چنانچہ خطبہ کے اختتام پر آپؑ نے فرمایا کہ کل جو میں نے دعائیں کی ہیں اُن کی قبولیت کے لئے یہ خطبہ بطور نشان رکھا گیا تھا-
پھر دوستوں کے اصرار پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ حضورؑ کے عربی خطبہ کا ترجمہ سنانے کے لئے کھڑے ہوئے اور روح القدس کی تائید سے ایسے اس فرض کو ادا کیا کہ ہر شخص عش عش کر اٹھا اور ابھی ترجمہ جاری تھا کہ حضرت اقدسؑ فرط جوش کے ساتھ سجدہ شکر میں گر گئے- آپؑ کے ساتھ حاضرین نے بھی سجدہ شکر ادا کیا- سجدہ سے سر اٹھاکر آپؑ نے فرمایا کہ ابھی میں نے سرخ الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ مبارک- یہ گویا قبولیت کا نشان ہے-
حضورؑ کی تحریک پر بعض احباب نے یہ خطبہ حفظ کرنے کی سعادت بھی پائی- اگست 1901ء میں اسے حضورؑ نے نہایت اہتمام سے شائع فرمایا اور اس کا فارسی اور اردو ترجمہ بھی خود کیا اور اعراب بھی خود لگائے- اصل خطبہ 38 صفحات میں ہے جبکہ باقی عام تصنیف ہے جس کا اضافہ حضورؑ نے بعد میں فرمایا- حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ کی رائے ہے کہ ’’خطبہ الہامیہ سے یہ مراد نہیں کہ اس خطبہ کا لفظ لفظ الہام ہوا بلکہ یہ کہ وہ خدا کی خاص نصرت کے ماتحت پڑھا گیااور بعض بعض الفاظ الہام بھی ہوئے‘‘- حضرت اقدسؑ کے طرز عمل سے بھی اسی نظریہ کی تائید ہوتی ہے کیونکہ حضورؑ نے اپنے الہامات میں ’’خطبہ الہامیہ‘‘ کے ابتدائی باب کو کہیں شامل نہیں فرمایا-
اس خطبہ میں حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ قربانی سے مراد نفسانی خواہشات کی قربانی ہے جس کے بعد مشکلات سے چھٹکارا اور آخرت میں نجات ہو سکتی ہے اور حقیقی فرمانبرداری اپنے نفس کی اونٹنی کو خدا کے حضور ذبح ہونے کے لئے گرا دینا ہے- پرہیزگاری کی روح سے قربانی ادا کرنے والا پہلے سالک کا درجہ پاتا ہے پھر بالترتیب عارف، متقی اور ولی کہلاتا ہے، پھر فناء کے مرتبہ کو پہنچتا ہے اور خدا تعالیٰ کی تجلیات کا وارث بنتا ہے جس سے اُس کی باقی بشری کمزوریاں ختم کرکے خلافت کا لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے اور وہ خدائی صفات سے متصف ہوکر اُس کی مخلوق کے لئے نجات اور خدا کے انعامات کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے- حضورؑ نے فرمایا کہ یہ قربانیاں ہمارے لئے سواریاں ہیں جو ہمیں خدا کے قرب اور محبت میں بڑھاتی ہیں- بہت سارے لوگ عید کو اچھا کھانے اور پہننے کا نام سمجھتے ہیں اور نماز کو وہ ایسے ادا کرتے ہیں گویا کہ مرغی دانے پر چونچ مارتی ہے-
حضورؑ نے فرمایا کہ آپؑ کے ذریعہ سے خدا نے اپنی جلالی اور جمالی صفات دکھلانا چاہی ہیں- صفت جلال کے ذریعہ شرک اور غلط عقائد کا خاتمہ اور صفت جمال سے توحید کا قیام اور حق کے دشمنوں کا خاتمہ ہے اور یہ کام تلوار سے نہیں بلکہ آسمانی ہتھیاروں سے ہوگا- اپنے آنے کا مقصد حضورؑ نے یہ بیان فرمایا کہ میں لوگوں کو سونے چاندی کے مال کی بجائے روحانی خزائن بخشنے آیا ہوں-
پھر آپؑ نے زمانے کے لوگوں کو مسیح موعود کے آنے کی مبارک دی اور نیکی کی طرف دعوت دی- نیز زمانہ کے حالات اور وہ پیشگوئیاں بیان فرمائیں جو ایک مامور کی متقاضی تھیں اور آپؑ کے حق میں پوری ہوئیں مثلاً سورج و چاند گرہن، بعض کی وفات اور قتل، ذوالسنین ستارے کا نکلنا، طاعون کا پھوٹنا، حج سے روکا جانا وغیرہ-
خطبہ کے آخر پر حضورؑ نے عقلمندوں اور عابدوں کو نصیحت فرمائی کہ بُری صحبت کو چھوڑ دو اور خدا کی خاطر مر جاؤ تا ہمیشہ کے لئے زندہ کیے جاؤ- خداکی راہ سے اندھوں کا ہم سے کچھ تعلق نہیں اور ہم انہیں سلام کے ساتھ رخصت کرتے ہیں اور اگر وہ اپنی بدحرکات سے توبہ نہ کریں گے تو اُنہیں جلد ہی اُن کے بدانجام سے متعلق خبر مل جائے گی-
تاریخ احمدیت کا یہ ورق مکرم احمد نیّر صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍نومبر 1998ء کی زینت ہے-

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/hoE7t]

اپنا تبصرہ بھیجیں