خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 19؍ فروری 2010ء

اللہ تعالیٰ کی صفت حسیب
خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 5؍ فروری 2010ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں ۔ چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

ایک لفظ حَسِیْب ہے جس کے معنی لغات میں لکھے ہوئے ہیں، کہ حساب کرنے والا یا حساب لینے والا۔ کافی اور حساب کے مطابق بدلہ لینے والا۔ یہ تمام خصوصیات کامل طور پر تو دنیا کے کسی انسان میں نہیں پائی جاسکتیں۔ اگر ان باتوں میں کوئی کامل ذات ہو سکتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت اَلْحَسِیْب ہے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جس میں یہ بیان کردہ تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اور وہی ہے جو ہماری مختلف حالتوں کے پیشِ نظر اپنی اس صفت کا حسبِ ضرورت اظہار فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں کئی آیات میں اس صفت کا اظہار فرمایا ہے۔ اس وقت مَیں چند آیات پیش کروں گا جن میں اللہ تعالیٰ کے اَلْحَسِیْب ہونے کی صفت کا اظہار مختلف احکامات کے ساتھ یا تنبیہ کرتے ہوئے ہوا ہے۔
سب سے پہلے سورة نساء کی آیت نمبر 87پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا (النساء: 87) اور اگرتمہیں کوئی خیر سگالی کا تحفہ پیش کیا جائے تو اس سے بہتر پیش کیا کرو یا وہی لوٹا دو۔ یقیناً اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔
اس آیت میں اسلامی احکامات کا ایک ایسا بنیادی حکم دیا گیا ہے جو نہ صرف اپنوں سے اچھے تعلقات کی ضمانت ہے بلکہ غیروں کے ساتھ تعلقات کے لئے اور ان تعلقات میں وسعت پیدا کرنے کے لئے ایک بیمثال نسخہ ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات کے اظہار کی نہ صرف تلقین فرمائی بلکہ فرمایا کہ اگر ملنے پر ایک شخص تمہارے لئے نیک جذبات کا اظہار کرے۔ تمہیں سلام کہے۔ ایک ایسی دعا تمہیں دے جو تمہاری دین و دنیا سنوارنے والی ہو تو تمہارا بھی فرض ہے کہ اس سے بڑھ کر اظہار کرو اور فرمایا کہ یہ تمہارا ایک ایسا اخلاقی اور معاشرتی فرض ہے کہ اگر اس کو انجام نہیں دو گے تو خدا تعالیٰ کے سامنے تمہیں اس کا جواب دینا ہو گا۔ یہ خوبی صرف اسلام میں ہے کہ ایک دوسرے سے ملنے کے وقت ایسے بامقصد الفاظ کے ساتھ جذبات کا اظہار ہے اور ایک دوسرے سے ملنے پر السلام علیکم کہنے کا حکم ہے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یعنی تم ہر قسم کی پریشانیوں اور مشکلات سے محفوظ رہو۔ اب یہ دعا ایسی ہے کہ اگر دل کی گہرائی سے دوسرے کو دی جائے تو پیار، محبت اور بھائی چارے کے جذبات ابھرتے ہیں۔ تمام قسم کی نفرتیں دُور ہوتی ہیں۔ اسی طرح جسے سلام کیا جائے اسے حکم ہے کہ تم ان سلامتی کے الفاظ کا ان جذبات کا بہتر رنگ میں جواب دو اور بہتر شکل کیا ہے۔ یہ کہ جب انسان وعلیکم السلام جب انسان کہتا ہے تو اس کے لئے ورحمة اللہ وبرکاتہ بھی کہے کہ تم پر اللہ کی رحمتیں بھی ہوں اور برکتیں بھی ہوں۔ یا فرمایا کہ کم از کم اتنا ہی اظہار کر دو جتنا تمہیں سلام میں پہل کرنے والے نے کیا ہے تو یہ عمل تمہیں جزا پہنچائے گا۔ پس یہ ایک ایسا اصول ہے جو معاشرے میں امن پیدا کرتا ہے۔ آنحضرتﷺ نے بڑے زور سے اور بڑی شدت سے مسلمانوں کو تلقین فرمائی کہ سلام کو رواج دو۔ (صحیح بخاری کتاب الاستئذان باب افشاء السلام حدیث نمبر 6235)
اور صحابہ اس بارہ میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کیاکرتے تھے۔ آنحضرتﷺ کو اس بارہ میں اتنا خیال رہتا تھا اور کس طرح آپ سلام کے رواج کے لئے صحابہ کی تربیت فرماتے تھے، اس کا اظہار بعض احادیث سے ہوتا ہے۔
حضرت کَلَدَةؓ بن حنبل بیان کرتے ہیں کہ مجھے صفوانؓ بن امیہ نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں دودھ، ہرن کے بچے کا گوشت اور ککڑیاں دے کر بھیجا کہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں یہ تحفہ دے دو۔ مَیں حضورﷺ کے پاس بلااجازت اور بغیر سلام کہے چلا گیا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ پہلے باہر جاوٴ۔ پھر السلام علیکم کہہ کر اندر آنے کی اجازت مانگوتو پھر تم اندر آ سکتے ہو۔ (سنن ابی داوٴد کتاب الادب باب کیف الاستئذان حدیث 5176)
آپﷺ نے یہ نہیں سوچا کہ چھوٹا ہے اگر اندر آ گیا توکوئی حرج نہیں۔ بلکہ فوری تربیت فرمائی کہ اعلیٰ اخلاق ابتدا سے ہی بچوں کے ذہنوں میں پیدا کرنے ہیں۔ ایک تو یہ کہ بلا اجازت کسی کے گھر میں نہیں جانا۔ ہمیشہ اجازت لے کر جانا چاہئے۔ دوسرے اجازت کا بہترین طریق جو ہے وہ سلام کرنا ہے۔ ایسے طریق سے اجازت چاہو جس سے محبت کی فضا پیدا ہو۔ جس سے ایک دوسرے کے لئے تمہارے دل سے دعائیں نکلیں اور تمہیں بھی دعائیں ملیں اور یہ آپس میں دعاوٴں کا سلسلہ چلے۔ جب ایک سلام کرنے والا دوسرے کو سلام کرتا ہے تو دوسرے شخص کی طرف سے بھی وہی سلام لوٹایا جاتا ہے۔ تو یہ دعاوٴں کا سلسلہ ہے۔
پھر آپ نے صحابہؓ کی مجبوری کے پیشِ نظر جب صحابہ کو بازار میں بیٹھنے کی اجازت دی تو راستے کے جو حقوق ہیں ان میں اس حق کے حکم کی بھی خاص طور پر تلقین فرمائی کہ پھر آنے جانے والوں کو سلام کرو۔ (صحیح بخاری کتاب الاستئذان باب قول اللہ تعالیٰ یا ایھا الذین اٰمنوا لا تدخلوا بیوتا … حدیث نمبر 6229)
اس پر کیوں اتنا زور ہے؟ اس لئے کہ مومن ایک دوسرے کے امن کی ضمانت ہے۔ اگر مسلمان غور کریں تو اسلام کی امن قائم کرنے والی تعلیمات میں سے یہی ایک حکم ہی امن، پیار اور محبت کی ضمانت بن جاتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے اللہ تعالیٰ کے حکموں کو بھول کر مسلمان ہی مسلمانوں کی گردنیں کاٹ رہے ہیں۔ صحابہؓ اس کا کس طرح خیال رکھا کرتے تھے۔ ایک دن ایک صحابی دوسرے صحابی کے پاس آئے اور کہا آوٴ بازار چلیں۔ بازار گئے اور چکر کاٹ کر لوگوں کو مل کر واپس آ گئے۔ کچھ خریدا نہیں۔ چند دنوں بعد پھر پہلے والے صحابی دوسرے صحابی کے پاس آئے کہ چلو بازار چلیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو کچھ خریدنا ہے تو پھر تو جاوٴ اور اگر پچھلی دفعہ کی طرح تم نے چکر کاٹ کرہی واپس آنا ہے تو اس کا فائدہ کیا؟ تو پہلے صحابی نے جواب دیا کہ مَیں تو اس لئے جاتا ہوں کہ بازاروں میں دوسروں کو سلام کروں ان کو دعائیں دوں اور ان سے دعائیں لوں۔ اور سلام کو رواج دینے اور پھیلانے کے حکم پر عمل کروں۔ (الموٴطا۔ کتاب السلام باب جامع السلام حدیث 1793)
تو یہ تھا صحابہ کا حال کہ چھوٹے چھوٹے حکموں پرایک فکر سے عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ احمدیوں کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے اور بڑھ کر جواب دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اور یہی چیز ہے جو ہمارے اندر بھی ہمارے معاشرے میں بھی امن اور پیار کی فضا پیدا کرے گی۔ ایک دوسرے کے جذبات کی طرف توجہ دلائے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تمہارے خیر سگالی کے جذبات اور امن کا پیغام پہنچانے کے اس عمل کی جزا دے گا۔ یہ ایسی چیز ہے جس کی تمہیں جزا ملے گی۔ اگر محبت سے بڑھے ہوئے ہاتھ کو پکڑو گے، اگر دعاوٴں کا جواب دعاوٴں سے دو گے تو جزا پاوٴ گے۔ اگر اس کو ردّ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہو گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں اس کا حساب لوں گا۔
سلامتی اور امن کی ضمانت
اس زمانہ میں اب اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہم دیکھتے ہیں۔ سلامتی اور امن کی ضمانت بن کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰةو السلام آئے۔ آپ نے دنیا کی سلامتی اور حقیقی عمل کے لئے، دنیا کی خیر سگالی کے لئے بڑے درد سے اپنے لٹریچر میں اپنی کتب میں پیغام دیا ہے۔ لیکن عموماً دنیا نے، جس میں مسلمان بھی ایک بڑی تعداد میں شامل ہیں، اس کا نہ صرف جواب نہیں دیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف بجائے اچھا تحفہ لوٹانے کے دشنام طرازیوں اور گالیوں سے بھر پور وار آپ کی ذات پر کئے۔ باوجود آپ کے یہ کہنے کے کہ مَیں خداتعالیٰ کی طرف سے ہوں اور تمہاری بھلائی کے لئے بھیجا گیا ہوں، تمہیں خدا تعالیٰ سے ملانے کے لئے بھیجا گیا ہوں، غیر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں نے بھی آپ کی مخالفت کی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ آنحضرتﷺ جو دنیا کی بھلائی کے لئے پیغام لائے تھے۔ اس کو ماننے والے آپﷺ کی پیشگوئیوں کے پورا کرنے کے مصداق بنتے۔ زمانہ کے امام کو بھی سلام پہنچاتے اور ان نیکیوں کو پھیلانے میں زمانہ کے امام کی مدد کرتے جو آنحضرتؐ نے قائم فرمائے اور اسلام کے غلبہ کے دن قریب لانے میں مددگار بنتے۔ لیکن اس کی بجائے، اس کے بالکل برعکس نام نہاد علماء کے پیچھے چل کر قرآن کے حکموں کو عامۃ المسلمین بالکل بھول گئے اور آنحضرتﷺ کے حکم کو بھی بھول گئے۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا کہ نہ صرف بھول گئے بلکہ سلامتی کے مقابلے میں شدّت پسندی کا مظاہرہ کیا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے اس پیغام کی ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ کس طرح آپ کے اندر درد تھا۔ آپ کس طرح لوگوں کی خیر سگالی اور لوگوں کی ہمدردی چاہتے تھے۔
آپؑ فرماتے ہیں:۔ ”آج مَیں نے اتمامِ حجت کے لئے یہ ارادہ کیا ہے کہ مخالفین اور منکرین کی دعوت میں چالیس اشتہار شائع کروں تا قیامت کو میری طرف سے حضرتِ احدیت میں یہ حجت ہو کہ مَیں جس امر کے لئے بھیجا گیا تھا اس کو مَیں نے پورا کیا۔ سو اب مَیں بکمال ادب و انکسار، حضرات علما مسلمانان و علما عیسائیاں و پنڈتاں ہندوان وآریان یہ اشتہار بھیجتا ہوں اور اطلاع دیتا ہوں کہ مَیں اخلاقی و اعتقادی و ایمانی کمزوریوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا گیا ہوں۔ اور میرا قدم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قدم پر ہے۔ انہی معنوں سے میں مسیح موعود کہلاتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ محض فوق العادت نشانوں اور پاک تعلیم کے ذریعہ سے سچائی کو دنیا میں پھیلاوٴں۔ مَیں اس بات کا مخالف ہوں کہ دین کے لئے تلوار اٹھائی جائے اور مذہب کے لئے خدا کے بندوں کے خون کئے جائیں۔ اور مَیں مامور ہوں کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے ان تمام غلطیوں کو مسلمانوں میں سے دور کر دوں اور پاک اخلاق اور بُردباری اور حلم اور انصاف اور راست بازی کی راہوں کی طرف اُن کو بلاوٴں۔ مَیں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندووٴں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔ مَیں بنی نوع سے ایسی محبت کرتاہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔ مَیں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔ انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بد عملی اور نا انصافی اور بد اخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔ میری ہمدردی کے جوش کا اصل محرک یہ ہے کہ مَیں نے ایک سونے کی کان نکالی ہے۔ اور مجھے جواہرات کے معدن پر اطلاع ہوئی ہے اور مجھے خوش قسمتی سے ایک چمکتا ہوا اور بے بہا ہیرا اس کان سے ملا ہے اور اس کی اس قدر قیمت ہے کہ اگرمَیں اپنے ان تمام بنی نوع بھائیوں میں وہ قیمت تقسیم کروں تو سب کے سب اس شخص سے زیادہ دولت مند ہو جائیں گے جس کے پاس آج دنیا میں سب سے بڑھ کر سونا اور چاندی ہے۔ وہ ہیرا کیا ہے؟ سچا خدا۔ اور اس کو حاصل کرنا یہ ہے کہ اس کو پہچاننا۔ اور سچا ایمان اس پر لانا، اور سچی محبت کے ساتھ اس سے تعلق پیدا کرنا، اور سچی برکات اس سے پانا۔ پس اس قدر دولت پا کر سخت ظلم ہے کہ مَیں بنی نوع کو اس سے محروم رکھوں اور وہ بھوکے مریں اور مَیں عیش کروں۔ یہ مجھ سے ہرگز نہیں ہو گا۔ میرا دل ان کے فقر و فاقہ کو دیکھ کر کباب ہوجاتا ہے۔ ان کی تاریکی اور تنگ گزرانی پر میری جان گھٹتی جاتی ہے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ آسمانی مال سے ان کے گھر بھر جائیں اور سچائی اور یقین کے جواہر ان کو اتنے ملیں کہ ان کے دامنِ استعداد پُر ہو جائیں‘‘۔ (اربعین نمبر 1، روحانی خزائن جلدنمبر 17 صفحہ 343تا345)
یہ دیکھیں آپ نے کس عاجزی سے دنیا کے امن اور سلامتی کے لئے دنیا کی بھلائی کے لئے جذبات کا اظہار فرمایا ہے۔ دنیا کے حق کو پہچاننے کے لئے کس درد کا آپ نے اظہار فرمایا ہے تا کہ وہ تباہی سے بچیں۔ پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا (النسآء: 87) کہ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ یہ تو خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس طرح ان مخالفین کا حساب لیتا ہے۔ جوحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کی بات نہ ماننے والے ہیں بلکہ صرف بات نہ ماننے والے ہی نہیں بلکہ مخالفت میں بڑھے ہوئے ہیں اور حکومتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ لیکن اگر مسلمان غور کریں اور جن مشکلات اور آفات سے گزر رہے ہیں اور بعض جگہ ذلّت و رسوائی کا بھی انہیں سامنا ہے۔ یہ بات ضرورخوف پیدا کرے گی بشرطیکہ غور کرنے کی عادت ہو اور عقل بھی ہو کہ کہیں اس دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ نے حساب لیناتو شروع نہیں کر دیا؟ باوجود خیرِ اُمّت ہونے کے ہم غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے والے بن گئے ہیں۔ اور اس وجہ سے اسلام مخالف قوتیں مسلمانوں سے اور مسلمان حکومتوں سے اپنی مرضی کی باتیں منواتی چلی جا رہی ہیں۔
غلبۂ اسلام
ہم احمدیوں کو یہ تویقین ہے کہ غلبہ انشاء اللہ تعالیٰ اسلام کا ہی ہونا ہے اور ہونا بھی آنحضرتﷺ کے عاشقِ صادق کے ذریعہ سے ہی ہے۔ لیکن مسلمانوں کوشدت سے توجہ دلانا بھی احمدیوں کا کام ہے۔ یہ ان کی ذمّہ داری ہے کہ مسیح محمدی کے اس عاجزی اور امن اور سلامتی کے پیغام کو سمجھیں۔ مسیح محمدی کے نیک جذبات اور پیغام کو سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں بڑھ کر ان جذبات کو لوٹائیں اور لوٹانا یہی ہے کہ مسیح محمدی کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری ہو۔ اور یہ جیسا کہ مَیں نے کہا صرف اس صورت میں ممکن ہے۔ اور کامل اطاعت بھی اس صورت میں ہو گی جب اس کی جماعت میں شامل ہوں گے۔ پھر دیکھیں کہ مسلمانوں کو کس قدر طاقت ملتی ہے؟ پھر دیکھیں کہ ان کا کھویا ہوا وقار کس طرح قائم ہوتا ہے؟ اور اسلام کا محبت اور بھائی چارے کا پیغام کس تیزی سے دنیا میں پھیلتا ہے؟ اور جب یہ ہو گا تو یہ مسلمانوں کی طرف سے آنحضرتﷺ کے عظیم خیر سگالی کے پیغام کو جوآپ دنیا کی بھلائی کے لئے آپ لے کر آئے تھے، اس کے اعلیٰ رنگ میں پھیلانے کی کوشش ہو گی۔ کاش کہ مسلمان اس نکتہ کو سمجھیں۔ اور ہم اسلام کے اس پیغام کو جو زندگی کا پیغام ہے آنحضرتﷺ اور آپ کے غلامِ صادق کی بیعت میں آ کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی بھر پور کوشش کریں۔ یہ ہمارا ہی فرض بنتا ہے اور یہی ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیﷺ اس کے لئے اس شدت سے درد رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس بات کو بیان فرمایا ہے اور سورة توبہ کی ایک آیت میں فرمایا: لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ (التوبہ: 128) کہ یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا۔ اسے بہت سخت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو۔ (اور) وہ تم پر(بھلائی چاہتے ہوئے) حریص (رہتا) ہے۔ مومنوں کے لئے بے حد مہربان (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
پس اس آیت میں مومنوں اور غیر مومنوں دونوں کے لئے آپ کے نیک جذبات کا ذکر فرمایا گیا۔
مَیں نے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة و السلام کاجو اقتباس پڑھا تھا۔ وہ اصل میں اپنے آقا و مطاع حضرت محمدﷺ کی پیروی میں ایک جذبات کا اظہار تھا۔ یہاں دیکھیں کہ آنحضرتﷺ کے انسانیت کے لئے درد اور نیک جذبات کواللہ تعالیٰ نے کس طرح بیان فرمایا ہے۔ غیر مسلموں اور کفار کو بھی فرمایا کہ یہ بات اس رسول یعنی آنحضرتﷺ کے لئے نہایت صدمہ کا باعث بنتی ہے۔ جب آپﷺ ایمان نہ لانے والوں کو مشکلات میں دیکھتے ہیں۔ باوجود اس کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے اس عظیم رسول صلیﷺ اور آپ کے ماننے والوں کو تکلیفیں پہنچانے، مارنے، قتل کرنے، کھانا پانی بند کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا لیکن پھر بھی آنحضرتﷺ کا دل ان بیوقوفوں کے لئے، ان ظالموں کے لئے ان کی تکلیف میں اس طرح جوش مارتا ہے جس طرح ایک ماں کا دل اپنے بچے کو تکلیف میں دیکھتا ہے۔ کسی بھی قسم کی زیادتیاں اور سختیاں جو کفار کی طرف سے بجا لائی جاتی رہیں۔ اس نے اس دلی ہمدردی کو آنحضرتﷺ کے دل سے دور نہیں پھینک دیا۔ یہ ہمدردی کا جذبہ ہی ہے جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کافروں کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ اے کافرو اور منکرو! یہ دلی ہمدردی کا جذبہ ہے جو آنحضرتﷺ کوتمہارے لئے فکر میں رکھتا ہے کہ کاش تم لوگ سیدھے راستے کی طرف آجاوٴ اور ہدایت پا جاوٴ اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ جاوٴ۔
پس یہی جذبہ آج کل آنحضرتﷺ کے عاشقِ صادق کو ماننے والوں کی جماعت کا ہونا چاہئے کہ نہ صرف ایک لگن سے غیروں کو پیغام پہنچانے کی کوشش کریں بلکہ خاص دعاوٴں سے اپنی ان کوششوں کے ثمر آور ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ آنحضرتﷺ کے عاشقِ صادق کی جماعت میں آنا ہماری ایک بہت بڑی خوش قسمتی ہے۔ ہم آنحضرتﷺ کے حکم کے مطابق سلامتی اور خیر سگالی کے جذبات زمانہ کے امام کو پہنچانے والے ہیں۔ اور اس لحاظ سے اُن مومنوں میں شامل ہیں جو اپنے آقا کی سنت پر چلتے ہوئے دنیا کی ہمدردی میں نیکی کے راستے دکھانے والے ہیں۔ ان کو سیدھے راستے دکھانے کی کوشش میں ہیں اور اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنے والے ہیں۔ ایک احمدی کا جان، مال وقت اور عزت کو قربان کرنے کا عہد اسی مقصد کے لئے ہے۔ دین کی وجہ سے آج اگر کوئی گھر سے بے گھر ہے تو وہ احمدی ہے۔ لیکن آنحضرتﷺ کے حال کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ تمہارے سے زیادہ ظلم سہنے کے باوجود آنحضرتﷺ ہمدردی کے جذبات سے بھرے ہوئے تھے۔ اس لئے تم بھی کبھی اپنے اندر مخالفین کے لئے نفرتوں کے الاوٴ نہ جلانا۔ کیونکہ تم زمانے کے امام پر ایمان لانے کی وجہ سے اُن لوگوں میں شامل ہو گئے ہو جن کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں کی تھیں اور تا قیامت حقیقی مومنوں کو یہ دعائیں پہنچتی رہیں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اپنے زمانہ کے مومنوں کے لئے رووٴف ورحیم نہیں تھے بلکہ آپ کی اندھیری راتوں کی دعائیں تا قیامت حقیقی مومنوں کو پہنچنے والی تھیں۔ اور ان دعاوٴں سے حصہ لینے کے لئے اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ہمیں بھی آپس میں مہربانی کے سلوک کو سامنے رکھنا چاہئے۔ اور مہربانی کا سلوک کرنا چاہئے۔ اور صَرفِ نظر کرتے ہوئے ہمیں اپنے بھائیوں کے لئے عفو اور رحم کے نمونے دکھانے ہوں گے تا کہ اُس معاشرہ کے قیام کی کوشش کر سکیں جس کی بنیاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈالی تھی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
”جذب اور عقدِ ہمت ایک انسان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے آ جاتا ہے اور ظل اللہ بنتا ہے پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لئے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ ہمارے نبی کریمﷺ اس مرتبہ میں کل انبیاء علیھم اسلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لئے آپ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ (التوبہ: 128)۔ یعنی یہ رسول تمہاری تکالیف کو دیکھ نہیں سکتا‘‘۔ (ملفوظات جلد اول صفحہ 341 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)
فَاتَّبِعُوْنِیْ کے حکم کے تحت اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ہمارا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ اس سوچ اور جذبات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں اور دنیا کو فیض پہنچانے کی حتی المقدور کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ کی آخری آیت میں پھر بیان فرمایا ہے کہ اے نبی! تیرا ہمدردی کرنا، تیرا پیغام پہنچانا نہ ماننے والوں پر، کفار پر اگر کوئی اثر نہیں ڈالتا اور اپنی زیادتیوں اور ظلموں اور استہزاء میں اگر وہ بڑھتے رہیں اور تیری باتوں کو توجہ سے نہ سنیں اور اس کی طرف توجہ نہ دیں، پیٹھ پھیر کر چلے جائیں تو تُو کہہ دے اللہ مجھے کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ۫٭ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ (التوبہ: 129)۔ پس اگر وہ پیٹھ پھیر لیں تو کہہ دے میرے لئے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا اور کوئی معبودنہیں۔ اسی پر میں توکّل کرتا ہوں اور وہ عرشِ عظیم کا رب ہے۔
پس اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس انکار کا اور منہ پھیر کر چلے جانے والوں کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما دیا ہے۔ کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ اور مذاہب کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ نہ ماننے والے، منہ پھیر کر چلے جانے والے ہی آفات اور تباہی کا منہ دیکھتے ہیں۔ انبیاء کو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے لئے تو اللہ کافی ہوتا ہے۔ وہ تو خدائے واحد کے نمائندہ ہوتے ہیں اور اسی طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نمائندہ ہیں۔ اور آپ خاتم الانبیاء ہیں جن پر شریعت کامل ہوئی۔ آپؐ پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ نعوذ باللہ آپ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں آپ کا جواب ریکارڈ کر دیا کہ مجھے تو کوئی ضرورت نہیں۔ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ۔ وہ عرشِ عظیم کا ربّ ہے اور مَیں اپنے تخت کے لئے نہیں بلکہ اس عرشِ عظیم کے ربّ کے تخت کے قائم کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہوں۔ مَیں اپنی کسی طاقت کے اظہار کے لئے تمہیں اپنی طرف نہیں بلا رہا بلکہ اس خدا کی طرف بلا رہا ہوں جو عرشِ عظیم کا ربّ ہے۔ مَیں تو اس رب العالمین کا عاشق ہوں۔ مجھے دنیا کی عارضی بادشاہتوں سے کیا؟ نہ عرب میں، نہ کہیں اَور مجھے کسی جگہ بھی دنیا کی حکومت کی ضرورت نہیں۔ بلکہ مَیں تو خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں اور وہی قائم کروں گا۔ کیونکہ وہ حکومت جو دنیا میں قائم ہو گی تو میری حکومت خود بخود قائم ہو جائے گی۔ لیکن دنیاوی تختوں پر نہیں بلکہ مومنین کے دلوں پر قائم ہو گی۔ اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح آپ کی حکومت لوگوں کے دلوں پر قائم ہوئی۔ اور کس طرح آج اس زمانہ میں مسیح محمدی کے ذریعے دنیا میں آنحضرتﷺ کے پیغام کو پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرما رہا ہے؟ اور آج مسیح محمدی کے ماننے والے آنحضرتﷺ کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور جس طرح ہمارے آقا نے فرمایا تھا کہحَسۡبِیَ اللّٰہُ کہ میرے لئے اللہ کافی ہے، یہی نظارے اپنے آقا و مطاعﷺ کی برکت سے ہم دیکھ رہے ہیں۔ اور تمام تر مخالفتوں کے باوجودحَسۡبِیَ اللّٰہُ کی ایک نئی شان ہم دیکھتے ہیں۔ اور یہ سب اس لئے ہے کہ ہم اپنے آقاﷺ کی تعلیم کو ہی آگے پھیلانے والے ہیں۔ اسی شریعت کو آگے پھیلانے والے ہیں جو آپؐ لائے تھے۔ اسی قرآنِ کریم کے حکموں کے مطابق اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پھیلانے والے ہیں جو آنحضرتﷺ پر اترا تھا تا کہ دنیا میں پیار، محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہو تا کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے خدا پر یقین قائم کرے، تا کہ دنیا میں حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہو اور سلامتی کی فضا ہر طرف قائم ہو۔ اور اس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعودؑ اس زمانے میں تشریف لائے تھے۔ آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
”وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہو گئی ہے اس کو دور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں۔ اور وہ دینی سچائیاں جودنیا کی آنکھ سے مخفی ہو گئی ہیں ان کو ظاہر کر دوں۔ اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاوٴں۔ اور خدا کی طاقتیں جو انسان کے اندر داخل ہو کر توجہ یا دعا کے ذریعہ سے نمودار ہوتی ہیں حال کے ذریعہ نہ محض مقال سے ان کی کیفیت بیان کروں‘‘۔ (یعنی اپنی حالت میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر کے دنیا کو دکھاوٴں کہ اس طرح ایک صحیح مومن ہوتا ہے۔ صرف باتوں سے نہ ہو۔ اور یہی چیز ہے جو ہر احمدی میں پیدا ہونی چاہئے کہ اس کی صرف باتیں نہ ہوں۔ تبلیغ کے ساتھ اس کی اپنی حالت بھی ایسی ہو کہ یہ نظر آئے کہ حقیقی مومن بننے کی کوشش کی جا رہی ہے)۔
فرمایا: ’’اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی توحید جو ہر ایک قسم کی شرک کی آمیزش سے خالی ہے جو اَب نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگا دوں۔ اور یہ سب کچھ میری قوت سے نہیں ہو گا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہو گا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے‘‘۔ (لیکچر لاہور۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ 180)
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس اہم مقصد کے حصول کے لئے تمام تر صلاحیتیں اور استعدادیں بروئے کار لانے والے ہوں۔ دنیا کے خوف ہم سے دور رہیں دنیا کی لالچیں ہم سے دور رہیں۔ اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہم کوشش کرتے چلے جائیں جس کے لئے حضرت مسیح موعودؑ آئے تھے اور جس کو ابھی مَیں نے بیان کیا ہے۔ اورحَسۡبِیَ اللّٰہُ اورعَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ ہمیشہ ہمارے پیشِ نظر رہے۔ آمین
(الفضل انٹرنیشنل جلد17شمارہ11 مورخہ12مارچ تا18مارچ 2010 صفحہ5تا7)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X