خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍ فروری 2010ء

صفت حسیب کے حوالے سے یتیموں کے حقوق

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
وَ ابۡتَلُوا الۡیَتٰمٰی حَتّٰۤی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ ۚ فَاِنۡ اٰنَسۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ رُشۡدًا فَادۡفَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ اَمۡوَالَہُمۡ ۚ وَ لَا تَاۡکُلُوۡہَاۤ اِسۡرَافًا وَّ بِدَارًا اَنۡ یَّکۡبَرُوۡا ؕ وَ مَنۡ کَانَ غَنِیًّا فَلۡیَسۡتَعۡفِفۡ ۚ وَ مَنۡ کَانَ فَقِیۡرًا فَلۡیَاۡکُلۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ فَاِذَا دَفَعۡتُمۡ اِلَیۡہِمۡ اَمۡوَالَہُمۡ فَاَشۡہِدُوۡا عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیۡبًا (النساء: 7)

گذشتہ خطبہ میں مَیں نے ایک قرآنی حکم کی طرف توجہ دلائی تھی جو اگر اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے بجا لایا جائے تو معاشرے کے امن کی ضمانت بن جاتا ہے۔ اور چونکہ اس حکم کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حَسِیْب ہونے کا ذکر فرمایا۔ اس لئے یہ ہر مسلمان کے لئے تنبیہ ہے کہ اگر اس اہم حکم یعنی ایک دوسرے پر سلامتی بھیجنے پر عمل نہیں کرو گے تو خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہو گے۔
بہر حال اسی تسلسل میں ایک دوسرا اہم حکم جو نہ صرف حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے ایک اہم حکم ہے بلکہ معاشرے کے امن اور نفرتوں کو مٹانے کے لئے بھی بہت اہم ہے۔ اور یہ حکم سورة نساء کی ساتویں آیت میں ہے جس کی مَیں نے ابھی تلاوت کی ہے۔ اس کے آخر میں بھی خدا تعالیٰ نے اپنے حسیب ہونے کے حوالے سے تنبیہ فرمائی ہے کہ اگر اس حکم کو نہیں بجا لاوٴ گے تو خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہو گے۔
یتیموں کے حقوق اور حسن سلوک
اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔ پس اگر تم ان میں عقل کے آثار محسوس کرو تو ان کے اموال ان کو واپس کر دو۔ اور اس ڈر سے اسراف اور تیزی کے ساتھ ان کو نہ کھاوٴکہ کہیں وہ بڑے نہ ہو جائیں۔ اور جو امیر ہو، اس کو چاہئے کہ وہ ان کا مال کھانے سے کلیۃً احتراز کرے۔ ہاں جو غریب ہو وہ مناسب طور پر کھائے۔ پھر جب تم ان کی طرف ان کے اموال لوٹاوٴ، تو ان پر گواہ ٹھہرا لیا کرو۔ اور اللہ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔
یتیموں کے بارہ میں یہ بعض احکامات ہیں کہ ان سے کس طرح کا سلوک کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی اس طرح فرمایا ہے کہ وَابْتَلُوْا الْیَتٰمٰی کہ یتیموں کو آزماتے رہو۔ آزمانا کیا ہے؟ کس طرح آزمانا ہے؟
یہی کہ تمہارے سپرد جو یتیم کئے گئے ہیں ان کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھو۔ انہیں لاوارث سمجھ کر ان کی تربیت سے غافل نہ ہو جاوٴ، ان کی تعلیم سے غافل نہ ہو جاوٴبلکہ انہیں اچھی تعلیم و تربیت مہیا کرو۔ اور جس طرح اپنے بچوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہتے ہو، اُن کے بھی جائزے لوکہ تعلیمی اور دینی میدان میں وہ خاطر خواہ ترقی کر رہے ہیں یا نہیں؟ پھر جس تعلیم میں وہ دلچسپی رکھتے ہیں اس کے حصول کے لئے ان کی بھر پور مدد کرو۔ یہ نہیں کہ اپنا بچہ اگر پڑھائی میں کم دلچسپی لینے والا ہے تب اس کے لئے تو ٹیوشن کے انتظام ہو جائیں، بہتر پڑھائی کا انتظام ہو جائے اور اس کی پڑھائی کے لئے خاص فکر ہو اور یتیم بچہ جس کی کفالت تمہارے سپرد ہے وہ اگر آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے تب بھی اس کی تعلیم پر، اس کی تربیت پر کوئی نظر نہ رکھی جائے۔ نہیں ! بلکہ اس کی تمام تر صلاحیتوں کو بھر پور طور پر اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ اصل حکم ہے۔ اور جتنی بھی اس کی استعدادیں اور صلاحیتیں ہیں اس کے مطابق اس کو موقع میسر کیا جائے کہ وہ آگے بڑھے اور مستقبل میں اپنے پاوٴں پر کھڑا ہو۔ کبھی اسے یہ خیال نہ ہو کہ مَیں یتیم ہونے کی وجہ سے اپنی استعدادوں کے صحیح استعمال سے محروم رہ گیا ہوں۔ اگر میرے ماں باپ زندہ ہوتے تو مَیں اس وقت سبقت لے جانے والوں کی صف میں کھڑا ہوتا۔
پس چاہے کوئی انفرادی طور پر کسی یتیم کا نگران ہے یا جماعت کسی یتیم کی نگرانی کر رہی ہے اس کی تعلیم و تربیت کا مکمل جائزہ اور دوسرے معاملات میں اس کی تمام تر نگرانی کی ذمہ داری ان کے نگرانوں پر ہے۔ اور پھر یہ جائزہ اس وقت تک رہے جب تک کہ وہ نکاح کی عمر تک نہ پہنچ جائیں۔ یعنی ایک بالغ ہونے کی عمر تک نہ پہنچ جائیں۔ ایک بالغ اپنے اچھے اور بُرے ہونے کی تمیز کر سکتا ہے۔ اگر بچپن کی اچھی تربیت ہو گی تو اس عمر میں وہ معاشرے کا ایک بہترین حصہ بن سکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی دیکھیں کہ کتنی گہرائی سے ایک اور سوال کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ صرف بالغ ہونا کسی کو اس قابل نہیں بنا دیتا کہ اگر اس کے ماں باپ نے کوئی جائیداد چھوڑی ہے تو اس کو صحیح طور پر سنبھال بھی سکے۔ یہاں عاقل ہونا بھی شرط ہے یعنی ذمہ داری کا احساس اور اس دولت کے صحیح استعمال کا فہم ہونا بھی ضروری ہے۔ اس لئے فرمایا کہ ان کی عقل کا جائزہ بھی لو۔ اگر تو ایک بچہ جوانی کی عمر کو پہنچنے تک اپنی پڑھائی میں بھی اور دوسری تربیت میں بھی، اپنے اٹھنے بیٹھنے میں بھی، چال ڈھال میں بھی عمومی طور پر بہتر نظر آ رہا ہے اس کی عقل بھی صحیح ہے تو ظاہر ہے اس کے سپرد اس کا مال کیا جائے۔ اس لئے کہ وہ حق دار بنتا ہے کہ اس کو اس کا ورثہ لوٹایا جائے۔ وہ خود اس کو سنبھالے یا اس کو آگے بڑھائے یا جو بھی کرنا چاہتا ہے کرے۔ لیکن اگر کوئی باوجود بالغ ہونے کے دماغی طور پر اتنی صلاحیت نہیں رکھتا کہ اپنے مال کی حفاظت کر سکے تو پھر اس کے مال کی حفاظت کرو۔ اس کے نگران کی ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ پھر تم اس مال کی نگرانی کرو۔ اور ضرورت کے مطابق اس کے خرچ ادا کرو۔ لیکن اس عرصہ میں بھی جوں جوں اس کی عمر بڑھ رہی ہے، بعضوں کو ذرا دیر سے سمجھ آتی ہے، اسے مالی امور کے جو نشیب و فراز ہیں وہ سمجھاتے رہو تا کہ وہ کسی نہ کسی وقت پھر اپنا مال سنبھال سکے۔ بعض معاملات میں بعض بظاہر کمزور سمجھ رکھنے والے ہوتے ہیں ہر چیز کوپوری طرح نہیں سنبھال سکتے۔ لیکن مَیں نے دیکھا ہے کہ اس کے باوجود ان کو پیسے کا استعمال اور پیسے کا رکھنا بڑا اچھا آتاہے۔ سوائے اس کے کہ بالکل کوئی فاتر العقل ہو۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ بیوقوف ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں جَھلّا ہے۔ لیکن وہ جَھلّا بھی ایسے ایسے کاروبار کرتا ہے کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے نہیں کر رہے ہوتے۔
پھر فرمایا کہ جو نگران بنائے گئے ہیں وہ اس یتیم کے ماں باپ کی جائیداد کے استعمال میں اسراف سے کام نہ لیں۔ یعنی ان یتیموں پر ان کے ماں باپ کی جائیداد یا رقم میں سے اس طرح خرچ نہ کرو جس کا کوئی حساب کتاب ہی نہ ہو۔ اور بہانے بنا کر اس رقم سے ان یتیموں کے اخراجات کے نام پر خود فائدہ اٹھاتے رہو۔ اور یہ کوشش ہو کہ ان یتیموں کی رقم سے جتنا زیادہ سے زیادہ اور جتنی جلدی مَیں فائدہ اٹھا لوں، بہتر ہے۔ کیونکہ اگر وہ بڑے ہو گئے تو پھر ان کی جائیداد ان کے سپردکرنی پڑے گی، یا اگر کوئی ظالم ہے تووہ خود لڑ کر بھی لے لیں گے۔ کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ بڑے ہونے تک لوگ ان کی جائیدادیں سنبھالے رکھتے ہیں اور آخر پھر عدالتوں میں یا قضا میں جا کر جائیداد ان کو واپس ملتی ہے۔ بہر حال فرمایا کہ اگر تمہاری نیتیں خراب ہوئیں تو تمہیں حساب دینا پڑے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کسی بدنیت یا ظالم کے ظلم کو روکنے کے لئے مزید پابندی لگا دی کہ جو امیر ہے اور یتیم کو پالنے کا خرچ برداشت کر سکتا ہے اس کی خوراک، لباس، تعلیم و تربیت کے لئے اچھا انتظام کر سکتا ہے اس کے لئے یہی لازمی ہے کہ وہ یتیم کی جائیداد میں سے کچھ خرچ نہ لے بلکہ اپنے پاس سے اپنی جیب سے خرچ کرے۔ یَسْتَعْفِفْ کا مطلب ہی یہ ہے کہ کبھی دل میں یہ خیال بھی آئے کہ کچھ خرچ کر لوں تو تب بھی اس خیال کو جھٹکے اور کوشش کر کے اپنے آپ کو ایسی حرکت اور ظلم سے بچائے، اور شیطانی خیالات کو نکال کر باہر پھینکے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف جو بھی حکم دل میں آئے گا وہ شیطانی خیال ہو گا۔ پس صاحب ثروت کے لئے تو یہ حکم ہے کہ وہ یتیم کی پرورش اپنی جیب سے کرے۔ چاہے نابالغ یتیم کے والدین جتنی بھی جائیداد اس کے لئے چھوڑ گئے ہوں۔ فرمایا، جو غریب ہیں، اتنی مالی کشائش نہیں رکھتے کہ اپنے گھریلو اخراجات کے ساتھ کسی یتیم کے اخراجات اور اس کی اچھی تعلیم وغیرہ کا خرچ برداشت کر سکیں تو ان کے لئے جائز ہے کہ وہ یتیم کے لئے اس کے والدین کی طرف سے چھوڑی گئی جائیداد میں سے اس کے اوپر خرچ کریں۔ لیکن یہ خرچ بہت احتیاط سے ہو اور مناسب ہو اور اس کا حساب رکھا ہو۔ یہ نہیں کہ یتیم پر خرچ کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کا بھی خرچ کرنا شروع کر دو کہ مَیں نے اسے اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے اس لئے اب مَیں خرچ کرنے کا حق رکھتا ہوں۔ اس کی رہائش یا بجلی پانی کا خرچ بھی اس میں شامل کر دوں۔ بعض کنجوس یا بدنیت ایسے ہوتے ہیں جو اس حد تک بھی چلے جاتے ہیں۔ یتیم کو پالنے کی کتنی اہمیت ہے، اس کے بارہ میں ایک حدیث میں آتا ہے کہ عمرو بن شعیب اپنے دادا کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرمﷺ سے دریافت کیا کہ میرے پاس مال نہیں ہے مگر ایک یتیم کا کفیل ہوں۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ اپنے زیرِ کفالت یتیم کے مال سے صرف اسی قدر کھاوٴ کہ نہ اسراف ہو، نہ فضول خرچی ہو۔ اور نہ ہی اس کے مال سے اپنا ذاتی مال بڑھاوٴ۔ اسی طرح یہ بھی نہ ہو کہ اس کے مال سے اپنا مال بچاوٴ۔ (مسند احمد بن حنبل۔ جلد 2صفحہ706حدیث: 7022مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص)
یعنی یہ نہ ہو کہ تم اس کے مال کو اپنے مال کے ساتھ تجارت میں لگا دو اور منافع کھاتے رہو کہ اصل سرمایہ تو اس کا محفوظ ہے۔ فرمایا جو منافع آ رہا ہے اس سے اپنا مال بڑھاتے جاوٴ۔ اور نہ یہ ہو کہ اپنا مال بچائے رکھو اور اس کے مال میں سے اپنے پر بھی خرچ کرتے جاوٴاور اس پر بھی خرچ کرتے جاوٴ۔ دونوں صورتوں کو منع فرمایا ہے۔
پھر ایک حکم یہ ہے کہ تم نے یتیم پر مالی کشائش رکھتے ہوئے اگر نہیں بھی خرچ کیا یا مالی کشائش نہ رکھتے ہوئے خرچ کیا بھی ہے تب بھی جب وہ یتیم بالغ اور عاقل ہو جائے اور جب تم اس کا مال اسے لوٹانے لگو تو پورے حساب کتاب کے ساتھ اسے لوٹاوٴ کہ یہ جائیداد تھی۔ بلکہ یہ بات زیادہ مستحسن ہے کہ اس کے مال کو تجارت میں بھی لگا دو اور بڑھاوٴ اور حساب کتاب دیتے ہوئے یہ بتاوٴ کہ یہ تمہارا اصل سرمایہ تھا، یا یہ جائیداد تھی یا یہ رقم تھی اور اس پر اتنا منافع ہوا ہے اور یہ جو ٹوٹل منافع اور اصل زر ہے وہ تمہیں واپس لوٹا رہا ہوں۔ اسی طرح اگر کسی غریب نے اُس مال میں سے یتیم کی پرورش کے لئے خرچ کیا ہے تو بلوغ کو پہنچنے پر ایک ایک پائی کا تمام حساب کتاب اسے دو۔ اور یہ حساب کتاب دیتے وقت گواہ بھی بنا لیا کرو تا کہ کسی وقت بھی بد ظنی پیدا نہ ہو۔ یتیم کے دل میں کبھی رنجش نہ آئے۔ کیونکہ بعض دفعہ، بعد میں، یتیم کے دل میں وسوسے بھی آ سکتے ہیں۔ یا بعض اوقات بعض لوگ یتیموں کے ہمدرد بن کراس کے دل میں وسوسے ڈال سکتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ جب بھی یتیم کا مال لوٹاوٴ تو پورا حساب دو اور اس میں گواہ بنا لو۔ کیونکہ یہ نگران کو بھی کسی ابتلاء سے بچانے کے لئے ضروری ہے اور یتیم کو بھی کسی بدظنی سے بچانے کے لئے ضروری ہے۔ پس جس تفصیل سے قرآن کریم میں یتیموں کے حقوق کے بارہ میں حکم دیا گیا ہے، کہیں اور نہیں دیا گیا۔ کسی اور شرعی کتاب میں نہیں دیا گیا۔ اسی ایک آیت میں تقریباً سات بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ یتیموں کو آزماتے رہو۔ ان کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دو۔ اور دیکھو کہ ترقی کی طرف قدم بڑھ رہے ہیں کہ نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اُن کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص طور پر ان کے بالغ ہونے تک توجہ رہے۔ یہ نہیں کہ راستے میں چھوڑ دینا ہے۔
تیسری بات یہ کہ جب بھی وہ اپنے مال کی حفاظت کے قابل ہو جائیں تو ان کا مال انہیں فوری طور پر واپس لوٹا دو۔ چوتھی بات یہ کہ یتیم کا مال صرف اُس پر خرچ کرو۔ تم نے اس سے مفادنہیں اٹھانا۔
اور پانچویں بات یہ کہ امیر آدمی اگر کسی یتیم کی پرورش کر رہا ہے تو اس کے لئے بالکل جائز نہیں کہ وہ یتیم کی پرورش کے لئے اس یتیم کے مال میں سے کچھ لے۔
اور چھٹی بات یہ کہ غریب جس کے وسائل نہیں ہیں اور وہ کسی یتیم کا نگران بنایا جاتا ہے تو اس کویتیم کے مال میں سے مناسب طور پر خرچ کرنے کی اجازت ہے۔
اور ساتویں بات یہ کہ جب مال لوٹاوٴ تو اس پر گواہ بنا لو۔ تا کہ نہ تمہاری نیت میں کبھی کھوٹ آئے، نہ تم پر کبھی کوئی الزام لگے اور نہ یتیم کے دل میں بدظنی پیدا ہو۔
اور آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ تمہاری نیتوں کا بھی اسے پتہ ہے۔ اس لئے یاد رکھو کہ اگر یہ حساب کتاب نہیں رکھو گے تو پھر تمہارا بھی ایک دن حساب ہونا ہے۔ تم سے ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا۔
قرآنِ کریم میں متعدد جگہ یتیم کی پرورش اور اس سے حسنِ سلوک کا حکم ہے۔ اور ان کے مال کی حفاظت کی تاکید کی گئی ہے۔ ایک جگہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے سورہ بنی اسرائیل کی آیت 35ہے کہ وَ لَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ حَتّٰی یَبۡلُغَ اَشُدَّہٗ ۪ وَ اَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا (بنی اسرائیل: 35)اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاوٴ مگر ایسے طریق پر کہ وہ بہترین ہو۔ یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو۔ یقیناً عہد کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔
اس آیت میں ایک تو وہی حکم ہے یا احکامات ہیں کہ جس کی تفصیل پہلے آ گئی۔ ایک بات اس میں بظاہر زائد لگتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا کہ یقیناً عہد کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔ یہ کون سا عہد ہے جس کے بارہ میں پوچھا جائے گا؟ یہ کون سا حکم ہے جس کے بارہ میں پوچھا جائے گا؟ حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے کہ یہاں عہد سے مراد ذمہ داری ہے۔ پس یتیموں کی پرورش اور ان کے مال کی حفاظت افراد اور معاشرے پر فرض ہے۔ اور یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے اور افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ ان کا خیال بھی رکھے اور ان کے مال کی حفاظت بھی کرے۔ اور جب تک وہ اس قابل نہیں ہو جاتے کہ اپنے مال کو خود سنبھال سکیں ان کی حفاظت کرتے چلے جائیں۔ اور اگر احمدی ہو تویہ جماعت کی بھی ذمہ داری ہے اور یہ ان یتیموں پر کوئی احسان نہیں ہے کہ بعد میں جتاتے پھر وکہ مَیں نے تمہارے مال کی، تمہاری جائیداد کی حفاظت کی اور نگرانی کرتا رہا۔ اگر میں نہ کرتا تو تم ٹھوکریں کھاتے پھرتے۔ نہیں ! بلکہ اسلامی معاشرے کا یہ فرض ہے اور یتیم کا یہ حق ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ فرض تم پر خدا تعالیٰ عائد کر رہا ہے۔ اس لئے ایک مومن کی حیثیت سے خدا تعالیٰ تمہارے سے یہ عہد لے رہا ہے کہ اگر اس فرض کو پورا نہیں کرو گے اور یتیم کے مال میں غلط تصرف کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں پوچھے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ وہی مضمون ہے جو پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا کہ اللہ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔
پھر اس بات کو مزید کھول کر اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء کی ایک دوسری آیت میں تنبیہ فرمائی کہ وَ اٰتُوا الۡیَتٰمٰۤی اَمۡوَالَہُمۡ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الۡخَبِیۡثَ بِالطَّیِّبِ ۪ وَ لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَہُمۡ اِلٰۤی اَمۡوَالِکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حُوۡبًا کَبِیۡرًا (النساء: 3) اور یتامیٰ کو ان کا مال دو۔ اور خبیث چیزیں پاک چیزوں کے تبادلے میں نہ لیا کرو۔ اور ان کے اموال اپنے اموال سے ملا کر نہ کھا جایا کرو۔ یقیناً یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
یہاں بھی وہی مضمون دہرایا جا رہا ہے۔ اور واضح فرمایا کہ اگر تم یتیم کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر اپنے مفاد اٹھانے کی کوشش کرو گے تو تمہارا مال اگرپاک بھی ہے تو اس بدنیتی کی وجہ سے وہ خبیث مال بن جائے گا۔ اور یہ حرام مال ایک بہت بڑا گناہ کمانا ہے۔ تمہیں اس گناہ کی سزا ملے گی۔ سورة نساء کی ایک آیت میں آگے جا کر اللہ تعالیٰ کی شدتِ ناراضگی کا اظہار یوں ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡیَتٰمٰی ظُلۡمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ نَارًا ؕ وَ سَیَصۡلَوۡنَ سَعِیۡرًا (النساء: 11) کہ یقیناً وہ لوگ جو یتیموں کا مال ازراہِ ظلم کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ جھونکتے ہیں اور یقیناً وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑیں گے۔ پس یہ یتیموں کا مال کھانا ایسا ہی ہے جیسے آگ۔ اور یہ آگ ان کو اس دنیا میں بھی جلائے گی اور مرنے کے بعد بھی وہ اس آگ میں پڑیں گے۔ تو یہ ہے اسلام کی خوبصورت تعلیم۔ کس شدت سے یتیم جو معاشرہ کا کمزور حصہ ہے، اس کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے تا کہ معاشرے کا امن قائم رہے۔ جو لوگ ناجائز طریق پر دوسرے کا مال کھاتے ہیں۔ سکون تو انہیں پھر بھی نہیں ملتا۔ بے چینی ہی میں رہتے ہیں۔ کبھی کسی ناجائز طور پر مال کھانے والے کو آپ پُرسکون نہیں دیکھیں گے۔ پس اصل چیز اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ اس کے لئے ایک مومن کوشش کرتا ہے اور اسے کوشش کرنی چاہئے۔
پھر صرف مالدار یتیموں کی حفاظت کے بارہ میں یہ حکم نہیں ہے کہ کوئی سمجھے کہ جو صرف مال رکھنے والے یتیم ہیں ان کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے اور ان کے مال کی حفاظت کا کہا گیا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو اس میں ایک عمومی حکم بھی ہے کہ پرورش اور تربیت تمہاری ذمہ داری ہے۔ چاہے وہ غریب ہے۔ اگر یتیم غریب بھی ہے تب بھی پرورش تمہاری ذمہ داری ہے۔ لیکن اگر وہ صاحبِ جائیداد ہے تو تب بھی یہ تمہاری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی صحیح تعلیم و تربیت، جو ایک یتیم کا حق ہے، وہ تم نے کرنی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے مال کی بھی حفاظت کرو اور یتیم کی پرورش اس کے مال کے لالچ میں نہ ہو۔ بلکہ اس کی یتیمی کی حالت کی وجہ سے ہو۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء کی ہی دسویں آیت میں فرمایا۔ وَ لۡیَخۡشَ الَّذِیۡنَ لَوۡ تَرَکُوۡا مِنۡ خَلۡفِہِمۡ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوۡا عَلَیۡہِمۡ ۪ فَلۡیَتَّقُوا اللّٰہَ (النساء: 10)۔ اور جو لوگ ڈرتے ہیں کہ اپنے بعد کمزور اولاد چھوڑ گئے تو ان کا کیا بنے گا تو ان کو دوسروں کے متعلق بھی یعنی یتیموں کے متعلق بھی ڈر سے کام لینا چاہئے۔ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا چاہئے۔ پس یہ یتیموں کے حقوق قائم کروانے کے لئے مزید تنبیہ ہے کہ کسی کو اپنی موت کا وقت معلوم نہیں۔ اس لئے یتیموں کی پرورش کرتے ہوئے یہ خیال دل میں رہنا چاہئے کہ ہمارے بچے بھی یتیم ہو سکتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ اگر بدسلوکی ہو تو یہ سوچ کر ہی ہمارے دل بے چین ہو جاتے ہیں۔ پس جب اپنے متعلق یہ سوچتے ہیں تو دوسروں کے متعلق بھی اسی طرح سوچو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
پس بچوں کی تربیت کے بارہ میں بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔ خاص طور پر انہیں جن کے سپرد یتیم بچے کئے گئے ہیں تاکہ وہ معاشرے کا بہترین حصہ بن سکیں۔ بعض دفعہ اس کا الٹ بھی ہو جاتا ہے کہ تربیت صرف لاڈ پیار کو سمجھا جاتا ہے۔ خاندان کے بزرگ نانا، نانی، دادا، دادی، غلط طریقے پر بچوں کو لاڈ پیار سے بگاڑ دیتے ہیں۔ تو یہ طریق بھی غلط ہے۔ اصل مقصود ان کی تربیت کر کے ان کو معاشرے کا بہترین حصہ بنانا ہے۔ پس اصل چیز یہی ہے کہ یتیم جو بعض لحاظ سے بعض اوقات احساسِ کمتری کا شکار ہو کر اپنی صلاحیتیں ضائع کر دیتے ہیں ان کی ایسے رنگ میں تربیت ہو کہ وہ انہیں بہترین شہری بنا دے۔ معاشرہ کا بہترین فرد بنا دے۔ پس نہ زیادہ سختیاں اچھی ہیں، نہ ضرورت سے زیادہ نرمی۔ بلکہ نیک نیتی کے ساتھ اپنے بچوں کی طرح ان کی تربیت کرنا ضروری ہے۔ اور جس طرح ماں باپ کے سائے تلے رہنے والے بچے کا حق ہے اسی طرح ایک یتیم کا بھی حق ہے۔
یتیموں کے حق کے بارہ میں اور ان کی تربیت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں سورہ بقرہ میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡیَتٰمٰی ؕ قُلۡ اِصۡلَاحٌ لَّہُمۡ خَیۡرٌ ؕ وَ اِنۡ تُخَالِطُوۡہُمۡ فَاِخۡوَانُکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ الۡمُفۡسِدَ مِنَ الۡمُصۡلِحِ ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَاَعۡنَتَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ (البقرة: 221) کہ دنیا کے بارہ میں بھی اور آخرت کے بارہ میں بھی۔ اور وہ تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو کہہ دے ان کی اصلاح اچھی بات ہے اور اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی بندہی ہیں۔ اور اللہ فساد کرنے والے کا اصلاح کرنے والے سے فرق جانتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ضرور مشکل میں ڈال دیتا۔ یقیناً اللہ کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔
اب یہاں صرف کسی مال والے یتیم کے بارہ میں حکم نہیں دیا گیا۔ بلکہ ہر قسم کے کمزور، غریب، بے وسیلہ یتیم کا ذکر ہے۔ یتیم کی اصلاح، اچھی پرورش، اچھی تعلیم بہت عمدہ کام ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابو امامہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا۔ جس نے یتیم بچے یا بچی کے سر پر محض اللہ تعالیٰ کی خاطر دستِ شفقت پھیرا۔ اس کے لئے ہر بال کے عوض، جس پر اس کا مشفق ہاتھ پھرے، نیکیاں شمار ہوں گی۔ اور جس شخص نے زیرِ کفالت یتیم بچے یا بچی سے احسان کا معاملہ کیا وہ اور مَیں جنت میں یوں ہوں گے۔ آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر دکھائیں۔ (مسند احمد بن حنبل مسند ابوامامۃ الباہلی جلد7صفحہ 425-426 حدیث: 22640)
پس یتیم کی پرورش کرنے والے کا یہ مقام ہے کہ آنحضرتﷺ نے اُسے جنت کی خوشخبری دی ہے۔ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے والے کو، اس کا خیال رکھنے والے کی نیکیوں کو اس بچے کے سر کے بالوں کے برابر شمار کیا ہے۔ آنحضرتﷺ کے صحابہ تو اس بات پر لڑتے تھے اور حریص رہتے تھے کہ یتیم کی پرورش کریں۔ اور اگر کوئی یتیم ہوتا تو ایک کہتا کہ مَیں اس کی پرورش کروں گااور دوسرا کہتا کہ مَیں اس کی پرورش کروں گا۔ تیسرا کہتا کہ مَیں اس کی پرورش کروں گا۔ اور اس بات پر وہ لوگ حریص تھے کہ جنت میں بھی آنحضرتﷺ کے قدموں میں جگہ ملے۔ وہ جب یتیموں کو پالتے تھے تو بڑے احسن رنگ میں ان کی تربیت کرتے تھے۔ اپنے بچوں کی طرح ان کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھتے تھے۔ پھر یہ کہہ کر وَ اِنۡ تُخَالِطُوۡہُمۡ فَاِخۡوَانُکُمۡ (البقرة: 221) کہ اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ یتیموں کو پالنے والوں کو بڑا بھائی کہہ دیا کہ وہ ان بڑے بھائیوں کی طرح چھوٹے بھائی کی ذمہ داری ادا کرے جو حقیقت میں چھوٹے بھائیوں کا حق ادا کرنے والے ہیں۔ بعض بڑے بھائی بھی چھوٹے بھائیوں پر ظلم کرتے ہوتے ہیں۔ فرمایاکہ بڑا بھائی بن کر ان کا حق ادا کرو۔ بلکہ اگر وہ ضرورت مند ہیں تو تعلیم و تربیت کے بعد ان کے پاوٴں پر کھڑا ہونے کے لئے ہر طرح کی مدد کرو۔ اگر تمہارے پاس مالی وسائل ہیں اور ان کی مالی مدد بھی کی جا سکتی ہے تو کرو۔ ان کی کاروباروں میں یا اور کسی لحاظ سے مدد کرنی پڑے تو کرو۔ اس طرح کرو جس طرح بڑے بھائی چھوٹے بھائیوں کی کرتے ہیں۔ اور بے نفس ہو کر یہ خدمت کرو۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر اپنی ذات کے ہر جگہ موجود ہونے کا احساس دلا دیا کہ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے کو جانتا ہے۔ پس ان یتیموں سے انہیں معاشرے کا بہترین حصہ بنانے کے لئے حسن سلوک کرو۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جو ضرورت مند ایسے ہیں کہ یتیم کی صحیح طرح کفالت نہیں کر سکتے ان کو اجازت دے دی کہ اگر یتیم کا مال ہے تو ان کی ضرورت کے مطابق اس میں سے خرچ کر لو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہیں مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔
یہاں یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اگر پالنے والے کے یا اس نگران کے اپنے وسائل نہ ہوں اور یتیم کا مال بھی نہ ہو تو پھر کیا کیا جائے؟ اللہ تعالیٰ چونکہ جانتا تھا کہ نیک خواہشات کے باوجود تم کچھ نہیں کر سکتے اسی لئے تمہیں ’’تم اپنے آپ کو مشکل میں نہ ڈالو‘‘ کہہ کر اجازت دے دی کہ جماعتی نظام سے رجوع کرو۔ جو ارباب حل و عقدہیں ان سے رجوع کرو۔ اور ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرو۔ مقصود یتیم کی تعلیم و تربیت ہے۔ تمہیں مشکل میں ڈالنا نہیں۔ اس لئے اگر جماعت کی مدد کی ضرورت ہے تو جماعت کو آگاہ کرو۔
پھر یتیم کی تکریم اور عزت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کَلَّا بَلۡ لَّا تُکۡرِمُوۡنَ الۡیَتِیۡمَ (الفجر: 18) کہ خبر دار! درحقیقت تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔ اور اس عزت نہ کرنے اور بعض دوسری نیکیوں کو نہ بجا لانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبر دی ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ فَذٰلِکَ الَّذِیۡ یَدُعُّ الۡیَتِیۡمَ (الماعون: 3)۔ پس وہی ہے جو یتیم کو دھتکارتا ہے۔ اس آیت میں ایسے بے دینوں کا ذکر ہے، جن کی علاوہ اور نشانیوں کے ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ یتیم کو دھتکارتے ہیں۔ پس یہ بھی ایک ایسی برائی ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے کہ یہ معاشرہ کی گراوٹ اور بربادی کی علامت ہے۔ پس اعلیٰ معاشرے کے قیام کے لئے اس بُرائی کو دور کرنے کی بہت کوشش ہونی چاہئے۔ کیونکہ یتیموں کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے سے جماعت میں سے قربانی کا مادہ ختم ہو جاتا ہے۔ اور جویتیم ہیں اگر ان کے حقوق کی ادائیگی نہ کی جائے توان کی ترقی میں روک بن جاتا ہے۔ انہیں آگے بڑھنے سے محروم کر دیتا ہے۔ اور اگر اس کا صحیح طور پر سدّ باب نہ کیا جائے تو امیر غریب کے فاصلے بڑھنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اور پھر پُر امن معاشرے کی بجائے فسادی معاشرہ جنم لینا شروع کر دیتا ہے۔ جبکہ خدا تعالیٰ کو انسانوں کے حقوق کی ادائیگی نہ صرف پسند ہے بلکہ ایک مومن کے لئے فرض قرار دی گئی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے والے ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ پھر یتیموں کی کس طرح پرورش کرتے ہیں؟ فرمایا۔ وَ یُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسۡکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا(الدھر: 9) وہ کھانے کو اس کی چاہت کے ہوتے ہوئے مسکینوں، اور یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔ پس یہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قربانی کرتے ہیں۔ معاشرے کے محروم طبقہ کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ اور کھانے کا انتظام کیا ہے؟ ان کی تربیت اور پرورش کا انتظام، تعلیم کا انتظام اور باوجود اس کے کہ وہ خود ضرورتمند ہوتے ہیں یا بہتر مالی حالت کی خواہش رکھتے ہیں اور گو کہ مناسب گزارہ ہو رہا ہوتا ہے مگراتنے اچھے حالات نہیں ہوتے۔ لیکن وہ قربانی کرتے ہوئے یتیموں کا حق ادا کرتے ہیں۔ پس ’’چاہت ہوتے ہوئے‘‘ کے جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ان سے یہ بتا دیا کہ وہ اپنابچا کھچا ہوا نہیں دیتے بلکہ وہ چیز دیتے ہیں جو ان کی چاہت ہے، جو ان کی پسندیدہ چیز ہے۔ یہ اصل قربانی ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز قربان کی جائے تا کہ معاشرے کا محروم طبقہ اس محرومیت سے نکل کر برابری کے درجہ پر آ جائے اور اس کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع فراہم ہو جائیں۔ پس یہ وہ خوبصورت معاشرہ ہے جس کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ ہمیں تلقین اور ہدایت فرماتا ہے۔ آنحضرتﷺ بھی اس پر بہت زور دیا کرتے تھے۔ ایک حدیث مَیں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ اسی طرح کی، اس سے ملتی جلتی دو اور حدیثیں مَیں پیش کرتا ہوں جو یتیم کی پرورش کرنے والے کے مقام کا پتہ دیتی ہیں۔ ایک روایت حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا جس شخص نے تین یتیموں کی کفالت کی وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو قائم باللیل اور صائم النھار ہو اور اس نے صبح شام اللہ تعالیٰ کی راہ میں تلوار سونتے ہوئے گزاری ہو۔ مَیں اور وہ دونوں جنت میں دو بھائیوں کی طرح ہوں گے۔ جیسے یہ دوانگلیاں ہیں۔ اور آپ نے اپنی شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کو باہم ملایا۔ (سنن ابن ماجہ۔ کتاب الأدب۔ باب حق الیتیم حدیث: 3680)
پس جو یتیم کی کفالت کرنے والے ہیں ان کا مقام ایسا ہی ہے جیسے وہ راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھنے والے ہیں اور روزے رکھنے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ پھر مالک بن حارث اپنے خاندان کے ایک شخص کی روایت بیان کرتے ہیں کہ اس نے نبی اکرمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص مسلمان والدین کے یتیم بچے کو اپنے کھانے پینے میں باقاعدہ طور پر شامل کر لیتا ہے یہاں تک کہ وہ امداد کا محتاج نہ رہے تو اس کے لئے جنت یقینی ہے۔ (مسند احمد بن حنبل مسند مالک بن الحارثؓ جلد 6صفحہ 463حدیث: 19234)
یہ حقیقی پرورش ہے کہ اپنے جیسا کھانا پلانا، ضرورت کا خیال رکھنا اور اسے اس مقام تک پہنچانا جہاں سے وہ خود اپنی ترقی کے راستے تلاش کرتا چلا جائے۔ یعنی معاشرے کا بہترین حصہ بن جائے۔ تو پھر اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف سے یہ خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے سوائے کسی ایسے گناہ کے جو بخشا نہ جائے۔ (مجمع الزوائد للھیثمی جلد8 صفحہ 209کتاب البر والصلۃ باب ما جاء فی الایتام والارامل حدیث: 13524) اور سب سے بڑا گناہ تو شرک ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ یتیموں کی پرورش کرنے والے کو بہت جزا دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں بھی یتیموں کی پرورش کا خیال رکھا جاتا ہے۔ افریقہ اور بعض اَور ممالک میں جماعت احمدی یتیم بچوں کے علاوہ غیر از جماعت اور عیسائیوں کے بچوں کا بھی خرچ برداشت کرتی ہے۔ لیکن اس وقت مَیں پاکستان کے حوالے سے یتامیٰ کی خبر گیری کی جوتحریک ہے اس کا اِعادہ کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان میں یکصد یتامیٰ کمیٹی کام کر رہی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے 1989ء میں جوبلی سال میں شکرانے کے طور پریہ تحریک فرمائی تھی کہ ہم سو یتیموں کا خیال رکھیں گے۔ اب اس کے کام میں بہت وسعت پیدا ہو چکی ہے۔ پہلے تو سو (100) یتیم ہوسٹل میں رکھنے تھے لیکن ان کے عزیزوں اور رشتے داروں نے(جوضرورت مند تھے) یہی کہاکہ ہم انہیں اپنے پاس رکھیں گے جماعت ان کے اخراجات پورے کر دے۔ ۔ تو بہر حال وہ تعداد اب سو سے بہت بڑھ چکی ہے۔ اور اس کام میں بڑی وسعت پیدا ہو چکی ہے۔
یتیموں کے خبر گیری کے الٰہی احکامات اور احادیث ہم نے سنیں۔ ان سے اس کی اہمیت کا اندازہ بھی لگ گیا کہ یہ کتنا اہم کام ہے اور جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اس کام میں وسعت پیدا ہو چکی ہے۔ اس وقت تک پاکستان میں بجائے100کے 500 خاندان کے دو ہزار سات سو یتیم ہیں جو اس کمیٹی کے زیرِ کفالت ہیں۔ اور ان پر ماہوارپچیس تیس لاکھ روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ اور یہ خرچ بڑی احتیاط سے کیا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ ضائع کیا جا رہا ہے۔ اس میں کھانے پینے کے اخراجات ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت کے اخراجات ہیں۔ پھر علاج معالجہ کے اخراجات ہیں۔ پھر جو بچیاں جوان ہوتی ہیں ان کی شادیوں کے اخراجات بھی اسی میں سے کئے جاتے ہیں۔ پھر بعض ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے مکان وغیرہ بنائے لیکن اس کو maintainکرنے کے، مرمت کرنے کے پیسے ان کے پاس نہیں ہوتے تو وہ بھی دئیے جاتے ہیں۔ بہر حال ایک وسیع خرچ ہے۔ اور اس فنڈ میں وہاں شدت سے اضافہ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ صدر صاحب یتامیٰ کمیٹی ڈھکے چھپے الفاظ میں توجہ دلاتے رہتے ہیں۔ واضح طور پر تو انہوں نے کبھی نہیں کہا۔ لیکن دعا کے لئے کہتے ہوئے پتہ چل رہا ہوتا ہے۔
اس لئے مَیں آج تمام ان پاکستانی احمدیوں کو جو امریکہ، کینیڈا اور یورپ یا انگلستان میں رہتے ہیں یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ اس تحریک میں حصہ لیں اور اس سے بڑی خوش قسمتی ایک مومن کے لئے اور کیا ہو سکتی ہے کہ اُسے آنحضرتﷺ کے قدموں میں جگہ ملے۔ مَیں نے ایک اندازہ لگایا تھا کہ اگر انگلستان، یورپ، امریکہ اور کینیڈا کے احمدی گھر کے افراد کے حساب سے فی کس سات سے دس پاوٴنڈ سالانہ بھی دیں۔ ماہانہ نہیں، سالانہ دس پاوٴنڈ بھی دیں تو پاکستان میں ان یتامیٰ کا ایک بڑا بوجھ سنبھال سکتے ہیں جن کی کفالت یتامیٰ کمیٹی کر رہی ہے۔ یہاں رہنے والوں کے لیے توسال میں دس پاوٴنڈ ایک معمولی رقم ہے۔ لیکن اگر گھر کا ہر فرد دینے والا ہو اور جو مخیر حضرات ہیں وہ اس سے زیادہ بھی دے سکتے ہیں تویہ دس پاوٴنڈ کئی یتیموں کے روشن مستقبل میں بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ عموماً وہاں جو مختلف ضروریات کے تحت یتیموں کی مدد کی جاتی ہے اس میں بچپن سے لے کر بڑے ہونے تک ایک ہزار سے تین ہزار تک ماہوار خرچ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے اخراجات ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے جو مخیر احمدی حضرات ہیں، صاحبِ حیثیت ہیں، ان کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یتیموں کے فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ ’’اپنے لئے چاہتے ہوئے بھی وہ خرچ کرتے ہیں‘‘ اس کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں۔ باقی جو پاکستانی احمدیوں کے علاوہ احمدی ہیں ان کو مَیں حصہ لینے سے روک نہیں رہا۔ وہ بھی بے شک حصہ لیں۔ اگر ایسی رقمیں آتی ہیں تو انشاء اللہ تعالیٰ ان کی رقوم میں سے افریقہ کے بعض غریب ملکوں میں یا قادیان میں خرچ ہو سکتا ہے لیکن پاکستانیوں کو تو خاص طور پر پاکستان کے یتیموں کے لئے تحریک کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم معاشرے کے اس کمزور طبقہ کا حتی الوسع حق ادا کرنے والے بنیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔
(الفضل انٹرنیشنل جلد17شمارہ12 مورخہ19تا 25مارچ2010 صفحہ5تا8)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں

ur اردو
X