خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بتاریخ 4؍جولائی2003ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
ہمیشہ بچوں کے نیک،صالح اور دیندار ہونے کی دعائیں کرتے رہنا چاہئے کیونکہ والدین کی دعائیں بچوں کے حق میں پوری ہوتی ہیں-
ایشیا کے ممالک کے لئے MTAکی نشریات کا Asia Sat 3 پر آغاز
خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
۴؍جولائی ۲۰۰۳ء مطابق ۴؍وفا۱۳۸۲ہجری شمسی بمقام مسجد فضل لندن(برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأشھد أن محمداً عبدہ و رسولہ-
أما بعد فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم- بسم اللہ الرحمٰن الرحیم-
الحمدللہ رب العٰلمین- الرحمٰن الرحیم- مٰلک یوم الدین- إیاک نعبد و إیاک نستعین-
اھدنا الصراط المستقیم- صراط الذین أنعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین-
ھُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ۔ قَالَ رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّ یَّۃً طَیِّبَۃً۔اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ (سورۃ آل عمران:۳۹)۔

یہ آیت جو تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ ہے :اس موقع پر زکریا نے اپنے ربّ سے دعا کی اے میرے ربّ! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ ذریّت عطا کر۔ یقینا تُو بہت دعا سننے والا ہے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ :-
’’حضرت مریم علیہا السلام … کے منہ سے یہ بات سن کر کہ اللہ سب کچھ دیتا ہے، یہ نعمتیں بھی اللہ نے ہی دی ہیں ، حضرت زکریا علیہ السلام کے دل پر چوٹ لگی اور انہوں نے خیال کیا کہ جب واقعہ یہی ہے کہ ہر چیز اللہ دیتا ہے اور ایک بچی بھی یہی کہہ رہی ہے تو مَیں تو سمجھدار اور تجربہ کار ہوں ، مَیں کیوں نہ یقین کروں کہ ہر چیز خدا ہی دیتا ہے۔ چنانچہ

ھُنالکَ دَعَا زَکریّا ربّہٗ۔

یہ جواب سن کر حضرت زکریا علیہ السلام کو توجہ ہوئی کہ مَیں بھی اپنی ضرورت کی چیز خدا تعالیٰ سے مانگوں- میرے گھر میں بھی کوئی بچہ نہیں- اگر مریم کی طرح میرے گھر میں بھی بچہ ہوتا اور مَیں اس سے پوچھتا کہ یہ چیز تمہیں کس نے دی ہے اور وہ کہتا کہ خدا نے، تو جس طرح مریم کی بات سن کر میرا دل خوش ہوا ہے، اسی طرح اپنے بچے کی بات سن کر میرا دل خوش ہوتا۔ پس حضرت مریم علیہا السلام حضرت یحییٰ کی پیدائش کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرانے کا ایک محرک ہوگئیں اور اس طرح بالواسطہ طور پر جہاں خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے ماتحت حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت مسیحؑ کے ارہاص کے طور پر آئے، وہاں حضرت مریم علیہا السلام جو حضرت مسیحؑ کی والدہ تھیں ، حضرت یحییٰ کی پیدائش کے لئے ارہاص بن گئیں- چنانچہ خدا تعالیٰ نے حضرت زکریاؑ کی دعا سنی اور اُن کے گھر میں بچہ پیدا ہوگیا۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد پنجم۔ صفحہ ۱۱۹)
حضرت زکریا علیہ السلام کی اس دعا کو قرآن کریم نے سورۂ انبیاء کی آیت ۹۰ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ فرمادیا ہے۔ دعا یہ تھی:

وَزَکَرِیَّا اِذْ نَادیٰ رَبَّہٗ رَبِّ لاَ تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوَارِثِیۡنَ۔

اور زکریا (کا بھی ذکر کر) جب اُس نے اپنے ربّ کو پکارا کہ اے میرے ربّ! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تُو سب وارثوں سے بہتر ہے۔
آپؑ کی اس دعا کی قبولیت کا ذکر سورۂ مریم کی آیت ۸ میں مذکور ہے: اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

یٰزکَرِیَّا اِنَّا نُبَشِّّرُکَ بِغُلٰمٍ اسْمُہٗ یَحْیٰی لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا-

یعنی اے زکریا! یقینا ہم تجھے ایک عظیم بیٹے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ ہم نے اس کا پہلے کوئی ہم نام نہیں بنایا۔
اور پھر اس دعا کی برکت سے جو بیٹا عطا ہوا، اُس کی خوبیاں سورۂ مریم کی تیرھویں آیت سے لے کر سولہویں آیت تک بیان کی گئی ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے:
اے یحییٰ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لے۔ اور ہم نے اسے بچپن ہی سے حکمت عطا کی تھی۔ نیز اپنی جناب سے نرم دلی اور پاکیزگی بخشی تھی اور وہ پرہیزگار تھا۔ اور اپنے والدین سے حسن سلوک کرنے والا تھا اور ہرگز سخت گیر (اور) نافرمان نہیں تھا۔ اور سلامتی ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن اُسے دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس ضمن میں فرماتے ہیں :-
’’یہ کیسی لطیف دعا ہے اور کس طرح دعا کے چاروں کونے اس میں پورے کردئے گئے ہیں- اِس دعا کو اگر ہم اپنے الفاظ میں بیان کریں تو اس کی یہ صورت ہوگی کہ:’’اے میرے خدا! میرے اندرونی قویٰ مضمحل ہوگئے ہیں ، میرا بیرونی چہرہ مسخ ہوگیا ہے، مَیں ہمیشہ سے ہی تیرے الطاف خسروانہ کا عادی ہوں- اس لئے مایوسیاں اور ناکامیاں مَیں نے کبھی دیکھی نہیں- ناز کرنے کی عادت مجھ میں پیدا ہوچکی ہے۔ رشتہ دار میرے بُرے اور موت کے بعد گدّی سنبھالنے کے منتظر۔ بیوی میری بیکار۔ ان سب وجوہ کے ساتھ مَیں مانگنے آیا ہوں کہ اے میرے خدا! تُو مجھے بیٹا دے۔ ایسا بیٹا دے جو میرا ہم خیال اور دوست ہو، ایسا بیٹا دے جو میرے بعد تک زندہ رہنے والا اور میرے خاندان کو سنبھالنے والا ہو اور ایسا بیٹا دے جو میرے اخلاق اور آل یعقوب کے اخلاق کو پیش کرنے والا ہو، گویا صرف میرے نام کو ہی زندہ نہ کرے بلکہ اپنے دادوں پردادوں کے نام کو بھی زندہ کردے اور پھر وہ انسانوں ہی کے لئے باعثِ خوشی نہ ہو، بلکہ اے میرے ربّ! وہ تیرے لئے بھی باعثِ خوشی ہو۔‘‘(تفسیر کبیر جلد پنجم۔ صفحہ ۱۲۵)
اب یہ دعا ایسی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو کرنی چا ہئے اور ہر ایک کا دل چاہتاہے کہ کرے اور صالح اولاد ہو اور پھربچوں کی پیدائش کے وقت بھی اور پیدائش کے بعد بھی ہمیشہ بچوں کے نیک صالح اور دیندار ہونے کی دعائیں کرتے رہنا چاہئے کیونکہ والدین کی دعائیں بچوں کے حق میں پوری ہوتی ہیں- اور یہی ہمیں اللہ تعالیٰ کی تعلیم اور نصیحت ہے۔یہاں مَیں ضمناً ذکر کردوں- گو ضمناً ہے مگر میرے نزدیک اس کا ایک حصہ ہی ہے کہ اگروالدین کی دعا اپنے بچوں کے لئے اچھے رنگ میں پوری ہوتی ہے تووہاں ایسے بچے جو والدین کے اطاعت گزار نہ ہوں ان کے حق میں برے رنگ میں بھی پوری ہو سکتی ہے۔تو ماں باپ کی ایسی دعا سے ڈرنا بھی چاہئے۔بعض بچے جائیداد یا کسی معاملہ میں والدین کے سامنے بے حیائی سے کھڑے ہوجاتے ہیں- مختلف لوگ لکھتے رہتے ہیں اس لئے یہ عجیب خوفناک کیفیت بعض دفعہ سامنے آجاتی ہے۔ اس لحاظ سے ایسے بچوں کو اس تعلیم کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ نے تو ماں کے لئے تو خاص طورپر حسن سلوک کا حکم فرمایاہے۔اور یہ فرمایاہے کہ تمہاری سب سے زیادہ حسن سلوک کی مستحق ماں ہے۔ یہ جو قرآن حکیم کا حکم ہے کہ والدین کو اُف نہ کہو یہ اس لئے ہے کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے اورتم سمجھتے ہو کہ تمہارا حق مارا جا رہا ہے یا تمہارے ساتھ ناجائز رویہ اختیار کیاہے ماں باپ نے۔تب بھی تم نے ان کے آگے نہیں بولنا ورنہ کسی کا دماغ تو نہیں چلا ہواکہ ماں باپ کے فیض بھی اٹھا رہا ہو اور ماں باپ اس بچے کی ہر خواہش بھی پوری کررہے ہوں توان کی نافرمانی کرے یا کوئی نامناسب با ت کرے۔اس کا آدمی تکلیف نہیں کرتاہے تو جیساکہ مَیں نے پہلے ذکر کیاہے بہت سے ماں باپ اپنے بچوں کی نافرمانیوں کا ذکر کرتے ہیں اپنے خطوط میں- اس ضمن میں والدین کا جہاں فرض ہے اور سب سے بڑا فرض ہے کہ پیدائش سے لے کر زندگی کے آخر ی سانس تک بچوں کے نیک فطرت اور صالح ہونے کے لئے دعائیں کرتے رہیں اوران کی جائز اور ناجائز بات کو ہمیشہ مانتے نہ رہیں اور اولاد کی تربیت اور اٹھان صرف اس نیت سے نہ کریں کہ ہماری جائیدادوں کے مالک بنیں جیساکہ مَیں آگے چل کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقتباسا ت میں اس کا ذکر کروں گا۔لیکن اس کے ساتھ ہی بچوں کو بھی خوف خداکرنا چاہئے کہ ماؤں کے حقوق کا خیال رکھیں ، باپوں کے حقوق کا خیال رکھیں- یہ نہ ہو کہ کل کوان کے بچے ان کے سامنے اسی طرح کھڑے ہوجائیں- کیونکہ آج اگر یہ نہ سمجھے اور اس امرکو نہ روکا تو پھر یہ شیطانی سلسلہ کہیں جا کر رکے گا نہیں اور کل کو یہی سلوک ان کے ساتھ بھی ہو سکتاہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ا س سے محفوظ رکھے اور احمدیت کی اگلی نسل پہلے سے بڑھ کر دین پر قائم ہونے والی اور حقوق ادا کرنے والی نسل ہو۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی اولاد کے حق میں دعا کرتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ :

مِری اولاد جو تِری عطا ہے
ہر اِک کو دیکھ لوں وہ پارسا ہے

دنیاوی نعما ء کی بھی دعا کی ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ دعا کی ہے کہ :

یہ ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا
جب آوے وقت میری واپسی کا

(درّثمین اردو۔ صفحہ ۴۸ تا ۴۹)
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی ان دعاؤں کو بھی سنا اور حضرت زکریا علیہ السلام کی یہ دعا آپ کو بھی دو بار الہاماً سکھائی گئی۔ چنانچہ پہلا الہام مارچ ۱۸۸۲ء میں ہوا اور دوسری بار ۱۸۹۳ء میں یہ الہام ہوا:

’’رَبِّ اغۡفِرۡ وَارۡحَمۡ مِّنَ السَّمَآء۔ رَبِّ لاَ تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوَارِثِیۡنَ۔ رَبِّ اَصۡلِحۡ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ۔ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ وَ اَنۡتَ خَیۡرُالۡفَاتِحِیۡنَ۔‘‘

اے میرے ربّ! مغفرت فرما اور آسمان سے رحم کر۔ اے میرے ربّ! مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تُو خیرالوارثین ہے۔ اے میرے ربّ! امّت محمدیہ کی اصلاح کر۔ اے ہمارے ربّ! ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کردے۔ اور تُو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔
(تذکرہ، صفحہ ۴۷، مطبوعہ ۱۹۶۹ء۔ )
پھر نومبر ۱۹۰۷ء میں آپ کو الہام ہوا۔ بہت لمبا الہام ہے عربی میں ، اس کا کچھ حصہ مَیں پڑھتاہوں-

’’سَأَھَبُ لَکَ غُلَامًا زَکِیًّا۔ رَبِّ ھَبْ لِیْ ذُرِّیَۃً طَیِّبَۃً اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمٍ اسْمُہٗ یَحْیٰی‘‘۔

مَیں ایک پاک اور پاکیزہ لڑکے کی خوشخبری دیتاہوں اے میرے خدا پاک اولاد مجھے بخش۔مَیں تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتاہوں جس کا نام یحییٰ ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :-
’’مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے لئے کرتے ہیں- محبت دنیا ان سے کراتی ہے۔ خدا کے واسطے نہیں کرتے۔ اگر اولاد کی خواہش کرے تو اس نیت سے کرے

وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (الفرقان:۷۵)

اور نذر کرکے کرے کہ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلاء کلمۃالاسلام کا ذریعہ ہو جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ زکریا کی طرح اولاد دیدے۔ مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی نظر اس سے آگے نہیں جاتی کہ ہمارا باغ ہے یا اَور مِلک ہے، وہ اس کا وارث ہو اور کوئی شریک اس کو نہ لے جائے۔ مگر وہ اتنا نہیں سوچتے کہ کمبخت جب تُو مر گیا تو تیرے لئے دوست دشمن اپنے بیگانے سب برابر ہیں- مَیں نے بہت سے لوگ ایسے دیکھے اور کہتے سنے ہیں کہ دعا کرو کہ اولاد ہوجائے جو اس جائداد کی وارث ہو۔ ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد کوئی شریک لے جاوے۔ اولاد ہوجائے خواہ وہ بدمعاش ہی ہو، یہ معرفت اسلام کی رہ گئی ہے۔ …
پس یاد رکھو کہ مومن کی غرض ہر آسائش، ہر قول و فعل، حرکت و سکون سے گو بظاہر نکتہ چینی ہی کا موقعہ ہو مگر دراصل عبادت ہوتی ہے۔ بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں کہ جاہل اعتراض سمجھتا ہے مگر خدا کے نزدیک عبادت ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس میں اخلاص کی نیت نہ ہو تو نماز بھی لعنت کا طوق ہوجاتی ہے۔‘‘(ملفوظات جلد سوم۔ صفحہ ۵۷۹۔ جدید ایڈیشن)
پھر آپ فرماتے ہیں :
’’فنا فی اللہ ہوجانا اور اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہوجانا چاہئے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد، بیوی بچوں ، خویش و اقارب اور ہمارے واسطے بھی باعثِ رحمت بن جاؤ۔ مخالفوں کے واسطے اعتراض کا موقعہ ہرگز ہرگز نہ دینا چاہئے۔فرماتے ہیں : خدا تعالیٰ کی نصرت انہیں کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں ، ایک جگہ نہیں ٹھہرجاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں بڑا شوق ذوق اور شدت رقت ہوتی ہے مگر آگے چل کر بالکل ٹھہر جاتے ہیں اور آخر ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دُعا سکھلائی ہے کہ

اَصۡلِحۡ لِیۡ فِی ذُرِّیَّتِیۡ (الاحقاف:۱۶)

میرے بیوی بچوں کی بھی اِصلاح فرما۔ اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہئے کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑ جاتے ہیں اور اکثر بیوی کی وجہ سے۔ دیکھو پہلا فتنہ حضرت آدم پر بھی عورت ہی کی وجہ سے آیا تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے مقابلہ میں بلعم کا ایمان جو حَبط کیا گیا اصل میں اس کی وجہ بھی توریت سے یہی معلوم ہوتی ہے کہ بلعم کی عورت کو اس بادشاہ نے بعض زیورات دکھاکر طمع دیدیا تھا اور پھر عورت نے بلعم کو حضرت موسیٰ ؑ پر بَد دعا کرنے کے واسطے اُکسایا تھا۔ غرض اُن کی وجہ سے بھی اکثر انسان پر مصائب شدائد آ جایا کرتے ہیں تو اُن کی اِصلاح کی طرف بھی پوری توجہ کرنی چاہئے اور ان کے واسطے بھی دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔‘‘
(ملفوظات جلد ۵۔ صفحہ ۴۵۶ و ۴۵۷۔ جدید ایڈیشن)
پھر آپ نے فرمایا : ’’یہ منع نہیں بلکہ جائز ہے کہ اس لحاظ سے اولاد اور دوسرے متعلقین کی خبرگیری کرے کہ وہ اس کے زیر دست ہیں تو پھر یہ بھی ثواب اور عبادت ہی ہوگی اور خدا تعالیٰ کے حکم کے نیچے ہوگا…
غرض ان سب کی غوروپرداخت میں اپنے آپ کو بالکل الگ سمجھے اور اُن کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے بلکہ

وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا

کا لحاظ ہو کہ یہ اولاد دین کی خادم ہو۔ لیکن کتنے ہیں جو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں کہ اولاد دین کی پہلوان ہو۔ بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو ایسا کرتے ہیں- اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں کہ وہ کیوں اولاد کے لئے کوششیں کرتے ہیں اور اکثر ہیں جو محض جانشین بنانے کے واسطے اَور کوئی غرض ہوتی ہی نہیں ، صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شریک یا غیر اُن کی جائداد کا مالک نہ بن جاوے۔ مگر یاد رکھو کہ اس طرح پر دین بالکل برباد ہو جاتا ہے۔
غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔ اسی طرح بیوی کرے تاکہ اس سے کثرت سے اولاد پیدا ہو اور وہ اولاد دین کی سچی خدمت گزار ہو اور نیز جذباتِ نفس سے محفوظ رہے۔ اس کے سوا جس قدر خیالات ہیں وہ خراب ہیں- رحم اور تقویٰ مدنظر ہو تو بعض باتیں جائز ہوجاتی ہیں- اس صورت میں اگر مال بھی چھوڑتا ہے اور جائداد بھی اولاد کے واسطے چھوڑتا ہے تو ثواب ملتا ہے۔ لیکن اگر صرف جانشین بنانے کا خیال ہے اور اس نیت سے سب ہمّ و غم رکھتا ہے تو پھر گناہ ہے۔‘‘
(ملفوظات۔ جلد سوم۔ صفحہ ۵۹۹، ۶۰۰۔ مطبوعہ ربوہ۔ جدید ایڈیشن)
پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام فرماتے ہیں :
’’جب تک اولاد کی خواہش محض اس لئے نہ ہو کہ وہ دیندار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرمانبردار ہو کر اس کے دین کی خادم بنے بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے اور باقیات صالحات کی بجائے اس کا نام باقیات سیئات رکھنا جائز ہوگا۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں صالح اور خداترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو اس کا یہ کہنا بھی نراایک دعویٰ ہی ہوگا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔‘‘(ملفوظات جلد۲ صفحہ ۳۷۰)
اب اس طرف بھی توجہ دلائی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہ اولاد کے لئے دعا بھی کریں کہ وہ نیک صالح ہو، لیکن پھر دعا کریں او رخود پوری طرح عمل نہ کررہے ہوں تو یہ بھی اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اس لئے اپنی اصلاح کے لئے بھی اسی طرح توجہ کرنی ہوگی۔
پھر آپ فرماتے ہیں کہ:
’’جو شخص اولاد کو یا والدین کو یا کسی اَور چیز کو ایسا عزیز رکھے کہ ہر وقت انہیں کا فکر رہے تو وہ بھی ایک بت پرستی ہے۔…… فرمایا : اولاد چیز کیا ہے؟ بچپن سے ماں اس پر جان فدا کرتی ہے مگر بڑے ہوکر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لڑکے اپنی ماں کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس سے گستاخی سے پیش آتے ہیں- پھر اگر فرمانبردار بھی ہوں تو دکھ اور تکلیف کے وقت وہ اس کو ہٹا نہیں سکتے۔ ذرا سا پیٹ میں درد ہو تو تمام عاجز آجاتے ہیں- نہ بیٹا کام آسکتا ہے نہ باپ، نہ ماں ، نہ کوئی اَور عزیز۔ اگر کام آتا ہے تو صرف خدا۔ پس ان کی اس قدر محبت اور پیار سے فائدہ کیا جس سے شرک لازم آئے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ

اِنَّمَااَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُم فِتْنَۃٌ (التغابن:۱۶)

اولاد اور مال انسان کے لئے فتنہ ہوتے ہیں- دیکھو اگر خدا کسی کو کہے کہ تیری کُل اولاد جو مرچکی ہے زندہ کردیتا ہوں مگر پھر میرا تجھ سے کچھ تعلق نہ ہوگا تو کیا اگر وہ عقلمند ہے اپنی اولاد کی طرف جانے کا خیال بھی کرے گا؟
پس انسان کی نیک بختی یہی ہے کہ خدا کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھے۔ جو شخص اپنی اولاد کی وفات پر بُرا مناتا ہے وہ بخیل بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ اس امانت کے دینے میں جو خدا تعالیٰ نے اس کے سپرد کی تھی بخل کرتا ہے اور بخیل کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ اگر وہ جنگل کے دریاؤں کے برابر بھی عبادت کرے تو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ پس ایسا شخص جو خدا سے زیادہ کسی چیز کی محبت کرتا ہے اس کی عبادت نماز، روزہ بھی کسی کام کے نہیں-‘‘(ملفوظات۔ جلد پنجم۔ صفحہ ۶۰۲، ۶۰۳۔ جدید ایڈیشن)
اب مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا جو اپنے صحابہ یا دوستوں کی اولاد کے لئے کی ان میں سے چند واقعات کا ذکر کروں گا جس سے پتہ چلتاہے کہ سمیع خدا نے کس طرح دعاؤں کو قبولیت بخشی۔لیکن جب آپ واقعات سنیں گے تو یہاں بھی آپ دیکھیں گے کہ آپ نے ایسے شخص کوجس کے لئے بھی دعا کی اپنے اندر ایک خاص تبدیلی پیداکرنے کی طرف توجہ دلائی۔اور اس کے ساتھ صاحب اقبال اولاد کی پیدائش کو مشروط کیا اور صحابہ اور رفقاء کے لئے بھی اولاد کی دعا کی اور نیک صالح،دیندار اولاد کی دعا اپنے خدا سے مانگی اور ان واقعات سے آپ دیکھیں گے کہ کس شان سے وہ دعائیں اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہوئیں-
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں :
بیان کیا مجھ سے منشی عطا محمد صاحب پٹواری نے کہ جب مَیں غیر احمدی تھا۔اور ونجواں ضلع گورداسپور میں پٹواری ہوتاتھا تو قاضی نعمت اللہ صاحب خطیب بٹالوی جن کے ساتھ میر املنا جلنا تھا، مجھے حضرت صاحب کے متعلق بہت تبلیغ کیا کرتے تھے مگر مَیں پرواہ نہیں کرتاتھا۔ایک دن انہوں نے مجھے بہت تنگ کیا۔ مَیں نے کہا اچھا مَیں تمہارے مرزا کو خط لکھ کر ایک بات کے متعلق دعا کراتاہوں-اگر وہ کام ہوگیا تو مَیں سمجھ لوں گاکہ وہ سچے ہیں- چنانچہ مَیں نے حضرت صاحب کو خط لکھا کہ آپ مسیح موعود اور ولی اللہ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ولیوں کی دعائیں سنی جاتی ہیں- آپ میرے لئے دعا کریں کہ خدا مجھے خوبصورت،صاحب اقبال لڑکا جس بیوی سے مَیں چاہوں عطا کرے۔ اور نیچے مَیں نے لکھ دیا کہ میری تین بیویاں ہیں مگر کئی سا ل ہو گئے آج تک کسی کے ا ولاد نہیں ہوئی۔مَیں چاہتاہوں کہ بڑی بیوی کے بطن سے لڑکا ہو۔ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط گیا کہ مولا کے حضور دعا کی گئی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو فرزند ارجمند صاحب اقبال خوبصورت لڑکا جس بیوی سے آپ چاہتے ہیں عطا کرے گا مگر شرط یہ کہ آپ زکریا والی توبہ کریں- منشی عطا محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ مَیں ان دنوں سخت بے دین اور شرابی کبابی راشی مرتشی ہوتاتھا۔ چنانچہ مَیں نے مسجد میں جا کر مُلاّں سے پوچھا کہ زکریا والی توبہ کیسی تھی تو لوگوں نے تعجب کیا کہ یہ شیطان مسجد میں کس طرح آ گیا ہے۔مگر وہ مُلّاں مجھے جوا ب نہ دے سکا۔ پھر مَیں نے دھرم کوٹ کے مولوی فتح دین صاحب مرحوم احمدی سے پوچھا۔انہوں نے کہا کہ زکریّا والی توبہ بس یہی ہے کہ بے دینی چھوڑ دو، حلال کھاؤ، نمازروزے کے پابند ہوجاؤ اور مسجد میں زیادہ آیا جایا کرو۔یہ سن کر مَیں نے ایسا کرنا شروع کردیا۔ شرا ب وغیرہ چھوڑ دی اور رشوت بھی بالکل ترک کردی اور صلوٰۃ وصوم کا پابند ہو گیا۔ چار پانچ ماہ کا عرصہ گزرا ہوگاکہ مَیں ایک دن گھر گیا تو اپنی بڑی بیوی کوروتے ہوئے پایا۔ سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ پہلے مجھ پر یہ مصیبت تھی کہ میرے اولاد نہیں ہوتی تھی۔ آپ نے میر ے پر دو بیویاں کیں-اب یہ مصیبت آئی ہے کہ گویا اولاد کی امید ہی نہیں رہی۔ ان دنوں میں اُس کا بھائی امرتسر میں تھانے دار تھا۔ چنانچہ اس نے مجھے کہا کہ مجھے میرے بھائی کے پاس بھیج دو کہ مَیں کچھ علاج کرواؤں- مَیں نے کہا وہاں کیا جاؤ گی یہیں دائی کو بلوا کر دکھلا ؤ اور اس کا علاج کرواؤ۔ چنانچہ اس نے دائی کوبلوایا اور کہا کہ مجھے کچھ دوا وغیرہ دو۔ دائی نے سرسری دیکھ کر کہا :میں تو دو ا نہیں دیتی نہ ہاتھ لگاتی ہوں کیونکہ مجھے توایسا معلوم ہوتاہے کہ خداتیرے اندر بھول گیاہے۔مگر مَیں نے اس سے کہا کہ ایسا نہ کہو بلکہ مَیں نے مرزا صاحب سے دعا کروائی تھی۔ پھر منشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کچھ عرصے میں حمل کے پورے آثار ظاہر ہو گئے اور مَیں نے ارد گرد سب کو کہنا شروع کیا کہ دیکھ لینا کہ میرے لڑکا پیدا ہوگا اور ہوگابھی خوبصورت۔ مگر لوگ بڑا تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ایسا ہو گیا تو واقعی بڑی کرامت ہے۔آخر ایک دن رات کے وقت لڑکا پیدا ہوا اور خوبصورت ہوا۔ مَیں اسی وقت دھرم کوٹ بھاگا گیا جہاں میرے کئی رشتہ دار تھے اور لوگوں کو اس کی پیدائش سے اطلاع دی۔چنانچہ کئی لوگ اسی وقت بیعت کے لئے قادیان روانہ ہوگئے۔ مگر بعض نہیں گئے اور پھر اس واقعہ پر ونجواں کے بھی بہت سے لوگوں نے بیعت کی اور مَیں نے بھی بیعت کرلی اور لڑکے کانام عبدالحق رکھا‘‘۔(سیرت المہدی حصہ اول صفحہ ۲۲۱۔۲۲۲)
پھر ایک واقعہ ہے۔ حضرت مولوی قدر ت اللہ سنوری صاحب کی اہلیہ اوّل شادی کے چار سال بعد وفات پاگئیں جبکہ اہلیہ ثانی کے بارہ میں متعدد ڈاکٹروں اور حکیموں کی متفقہ رائے تھی کہ اولاد سے محروم رہیں گی۔ چنانچہ ڈاکٹر عبدالحکیم نے جب ارتداد اختیار کیا تو حضرت مسیح موعود ؑکو مقابلہ کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ’’قدرت اللہ کے لئے بے شک دعا کریں اس کے اولاد نہیں ہوگی‘‘۔ اس پر حضور علیہ السلام نے دعا کی اور حضرت مولوی صاحبؓ کو لکھوایا ’’اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمہاری اس قدر اولا د ہوگی کہ تم سنبھال نہ سکوگے‘‘۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ؓکو چودہ بچے عطا کئے جن میں سے پانچ کو وہ سنبھال نہ سکے اور باقی نو بچے خدا کے فضل سے زندہ رہے اور بڑھے پھولے۔(رجسٹر روایات)
پھر قبولیت دعا کے نتیجہ میں ایک نعم البدل عطا ہونے کے بارہ میں ایک واقعہ ہے۔ حکیم فضل الرحمن صاحب مبلغ مغربی افریقہ کے والد حافظ نبی بخش صاحبؓ بیان کرتے ہیں :
’’۱۹۰۶ء کا واقعہ ہے کہ میرا لڑکا عبدالرحمن نامی جو ہائی سکول میں ساتویں جماعت میں تعلیم پاتاتھا، ماہ مئی میں بعارضہ بخار محرقہ و سرسام تین چا ردن بیمار رہ کر قادیان میں فوت ہو گیا۔ اس وقت مَیں فیض اللہ چک میں تھاکیونکہ مَیں اُس وقت ملازم تھا اور رخصت پرگھر آیا ہوا تھا۔ فیض اللہ چک میں اس کی بیماری کی خبر پہنچی تو مَیں فوراً قادیان آ گیا۔ علاج حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے۔ مَیں بچے کی حالت دیکھ کر حضورؑ کے گھرپہنچا-دستک دی تو حضور باہر تشریف لائے۔ مَیں نے بچے کی حالت سے اطلاعا ً عرض کی۔حضور فوراً اندر تشریف لے گئے اور چار پانچ گولیاں لاکر مجھے عنایت فرمائیں اور فرمایا کہ ابھی جا کر ایک گولی پانی میں گھول کر دے دو اور پھر مجھے اطلاع دو۔ مَیں دعابھی کروں گا۔ چنانچہ مَیں نے اسی وقت آ کر گولی پانی میں گھسائی اور بچے کو دی۔ چونکہ بچے کی حالت نازک ہوچکی تھی گولی اندر ہی نہ گئی بلکہ منہ سے اِدھر اُدھر نکل گئی اور بچہ فوت ہوگیا۔ حضر ت خلیفہ اوّ ل نے نماز جنازہ پڑھائی اور مَیں نے نعش کو فیض اللہ چک لے جانے کی اجازت طلب کی جو دے دی گئی۔مَیں اور دیگر احباب جو میرے ساتھ موجود تھے واپس فیض اللہ چک چلے گئے۔مَیں پھر آمد ہ جمعہ کے دن جمعہ پڑھنے کے لئے قادیان آیا۔ حضورؑ کی نظرِ شفقت مجھ پر پڑ گئی تو فرمایاکہ آگے آ جاؤ۔ وہاں پربڑے بڑے ارکان حضورؑکے حلقہ نشین تھے۔ حضور ؑکا فرمانا تھاکہ سب نے میرے لئے راستہ دے دیا۔حضور نے میرے بیٹھتے ہی فرمایا کہ مَیں نے معلوم کیا ہے کہ آپ نے اپنے بچے کی وفات پر بڑا صبر کیاہے۔میری کمر پر ہاتھ پھیرااور فرمایاکہ مَیں نعم البدل کے واسطے دعا کروں گا۔ چنانچہ اس کا نعم البدل حضور کی دعا سے مجھے لڑکا عطا ہوا جس کانام فضل الرحمن حکیم ہے جو اس وقت بحیثیت مبلغ گولڈکوسٹ،سالٹ پانڈ اور لیگوس میں تبلیغ کررہاہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو بھی سچی قربانی کی توفیق بخشے‘‘۔(اب تو وہ وفات پا چکے ہیں- اور غانا اور نائجیریا میں ابتدائی مبلغین میں سے تھے اور اتنا اثر تھاکہ جو لوگ احمدی ہوتے تھے دوسرے مسلمان ان کو احمدی کی بجائے حکیم کہا کرتے تھے۔ تو اس طرح بڑے مشکل حالات میں وہاں تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیا۔(اصحاب احمد جلد ۱۳صفحہ ۲۶۱۔۲۶۲)
ا ب آخر میں ایم ٹی اے کے بارہ میں ایک خوشی کی خبر ہے مَیں آپ کو سنادوں کہ اللہ تعالی کے فضل سے پاکستان، برصغیر اور ایشیا کے اکثر ممالک میں ایم ٹی اے کی نشریات Asia Sat 2پر تھیں جس کی سیٹنگ کافی مشکل ہے اور بہت کم چینل اس پر ہیں- اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے Asia Sat 3 پر ہماری یہ نشریات پچھلے دس بارہ دن سے شروع ہیں اور یہ جو سیٹلائٹ ہے اس میں عموماً اردو بنگلہ ہندی انگریزی کے جتنے اہم چینل ہیں وہ جاری ہیں اس لئے جب بھی وہ اپنے ٹی وی کو Tune کرے گا تو ایم ٹی اے بھی اس کے ساتھ ہی Tune ہوگا۔اور اس طرح ایک بڑے لمبے عرصے سے جزیرہ فجی ایم ٹی اے کے نور سے محرو م تھا اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس نئے سیٹلائٹ کی وجہ سے دنیا کے آخری کنارے جزیرہ تائیونی میں بھی واضح سگنل موصول ہو رہے ہیں-الحمدللہ۔ اسی طرح پاکستان میں بھی اور بنگلہ دیش میں بھی۔ تو اب یہ Main Stream میں آ گیاہے۔ اور خوشی کی بات یہ ہے کہ کافی عرصہ سے ان کے ساتھ بات چیت چل رہی تھی اوراللہ تعالیٰ نے ایسے سامان فرمائے ہیں کہ حیرت انگیز طورپر بڑی کم قیمت پر یہ سیٹلائٹ میسر آگیا ہے جس کا تصور بھی پہلے نہیں تھا الحمدللہ۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/chN1G]

اپنا تبصرہ بھیجیں