خطبہ جمہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بتاریخ 2؍مئی2003ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

گزشتہ دنوں جس طرح پوری جماعت اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتے ہوئے جھکی اور اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ہماری خوف کی حالت کو امن میں بدل دیا اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس پیاری جماعت نے جس خوشی اور اللہ تعالیٰ کی حمد کا اظہار کیا ہے وہ اس جماعت کا ہی خاصہ ہے۔
مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیاری جماعت سے بہت پیار ہے۔

خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
۲؍مئی ۲۰۰۳ء مطابق۲؍ہجرت ۱۳۸۲ ہجری شمسی بمقام مسجد فضل لندن(برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ متعدّد دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے- )

أشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأشھد أن محمداً عبدہ و رسولہ-
أما بعد فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم- بسم اللہ الرحمٰن الرحیم –
الحمدللہ رب العٰلمین – الرحمٰن الرحیم – مٰلک یوم الدین – إیاک نعبد و إیاک نستعین –
اھدنا الصراط المستقیم – صراط الذین أنعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین-
وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمُ الْاَنْھٰرُ۔ وَقَالُواالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰنَا لِھٰذَا۔ وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْ لَآ اَنْ ھَدٰنَا اللّٰہُ۔ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(سورۃ الاعراف:۴۴)

اور ہم ان کے سینوں سے کینے کھینچ نکالیں گے ان کے زیر تصرّف نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے کہ تمام حمد اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں یہاں پہنچنے کی راہ دکھائی جبکہ ہم کبھی ہدایت نہ پاسکتے تھے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا ۔یقیناً ہمارے پاس ہمارے ربّ کے رسول حق کے ساتھ آئے تھے اور انہیں آواز دی جائے گی کہ یہ وہ جنت ہے جس کا تمہیں وارث ٹھہرایا گیا ہے بسبب اُس کے جو تم عمل کرتے تھے۔
حضرت اقد س مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:۔
’’حمد اس تعر یف کو کہتے ہیں جو کسی مستحقِ تعریف کے اچھے فعل پر کی جائے نیز ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام ہے جس نے اپنے ارادہ سے انعام کیا ہو۔ اور اپنی مشیئت کے مطابق احسان کیا ہو۔ اور حقیقت حمد کَمَا حَقُّہٗ صرف اسی ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض وانوار کا مبدء ہو اور علی وجہ البصیرت کسی پر احسان کرے ،نہ کہ غیر شعوری طور پر یا کسی مجبوری سے۔ اور حمد کے یہ معنی صرف خدائے خبیر وبصیر کی ذات میں ہی پائے جاتے ہیں ۔ اور وہی محسن ہے اور اول وآخر میں سب احسان اسی کی طرف سے ہیں۔ اور سب تعریف اسی کے لئے ہے اس دنیا میں بھی، اُس دنیا میں بھی ۔ اور ہر حمد جو اس کے غیر وں کے متعلق کی جائے اس کا مرجع بھی وہی ہے۔… اللہ تعالیٰ نے لفظ حمد میں ان صفات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو اس کے ازلی نور میں پائی جاتی ہیں۔‘‘(اعجاز المسیح۔ ۱۲۵تا ۱۲۷)
دعا کا مضمون ایک ایسا مضمون ہے کہ جس کے بغیر مومن ایک لمحہ کے لئے بھی زندگی گزارنے کا تصور نہیں کرسکتا اور جب مومن کی دعا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کی وجہ سے قبولیت کا درجہ پاتی ہے تو پھر بے اختیار مومن کا دل اللہ تعالیٰ کی حمد کے ترانے گانے لگتا ہے ۔ گزشتہ دنوں جس طرح پوری جماعت کیا بچہ اور کیا بوڑھا، کیا مرد اور کیا عورت، کیا غریب اور کیا امیر ،اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتے ہوئے جھکے اور اپنی ذات سے بے خبر ہوئے اس کے حضور اپنا سر رکھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے محض اور محض اپنے فضل سے ہماری خوف کی حالت کو امن میں بدل دیااس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس پیاری جماعت نے جس خوشی اور اللہ تعالیٰ کی حمد کا اظہار کیا ہے وہ اس جماعت کا ہی خاصہ ہے۔آج پوری دنیا میں سوائے اس جماعت کے اور کہیں یہ اظہار نہیں مل سکتا ۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کا اس دور میں یہی نشان کافی ہے لیکن ’گردل میں ہو خوفِ کردگار‘ ۔اللہ تعالیٰ مومنوں کی جماعت کو جب اگلے جہان میں جنت کی بشارت دیتا ہے تو اس کے نظارے صرف بعد میں ہی کروانے کے وعدے نہیں کرتا بلکہ اس دنیا میں بھی اخلاص، وفا اور پیار کے نمونے دکھا کر آئندہ جنتوں کے وعدوں کو مزید تقویت دیتا ہے ۔اس کے نظارے روزانہ ڈاک میں آجکل میں دیکھ رہا ہوں ۔دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے کہ کس طرح ایک شخص جو سینکڑوں ہزاروں میل دور ہے صرف اور صرف خدا کی خاطر خلیفۂ وقت سے اظہار محبت و پیار کررہا ہے اور یہی صورت ادھر بھی قائم ہوجاتی ہے ۔ایک بجلی کی رَو کی طرح فوری طور پر وہی جذبات جسم میں سرایت کرجاتے ہیں۔ الحمد للہ، الحمد للہ۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک الہام ہے :۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْحَزَن وَ اٰتَانِی مَا لَمْ یُؤْتَ اَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِیْن۔

اس خدا کی تعریف ہے جس نے میرا غم دور کیا اور مجھ کو وہ چیز دی جو اس زمانہ کے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دی۔(تذکرہ صفحہ ۶۶۴ مطبوعہ ۱۹۶۹ئ)
لیکن ان جذبات اور احساسات کو ہم نے وقتی نہیں رہنے دینا بلکہ دعا اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ اس کی اعلیٰ سے اعلیٰ مثالیں رقم کرنے کا عہد کرنا چاہئے۔ہم اس رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں جس نے عُسر اور یُسر میں اللہ تعالیٰ سے وفا اور اس کی حمد کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔آپ ابتدائی دور میں بھی اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کرتے رہے ۔چنانچہ دیکھو مرادیں بھر آئیں اور آپ فاتحانہ شان سے مکّہ میں داخل ہوئے لیکن کس حالت میں ۔اس بارہ میں ایک روایت ہے:۔
ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابوبکر نے مجھ سے بیان کیا کہ (فتح مکہ کے دن) جب آنحضرتﷺ ’’ذی طوی‘‘ مقام کے پاس پہنچے تو اس وقت آپ نے سرخ رنگ کی دھاری دار چادر کے پہلو سے اپنا چہرہ مبارک قدرے ڈھانکا ہوا تھا۔ اور مکہ کی فتح کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو آپؐ کو عزت عطا فرمائی تھی، اس کی وجہ سے آپ نے اپنا سرِ مبارک اللہ تعالیٰ کے حضورعاجزی سے اس قدر جھکایا ہوا تھا کہ قریب تھا کہ آپ کی داڑھی مبارک پالان کے اگلے حصہ سے جا چھوئے۔
( سیرۃ ابن ہشام۔ صفحہ ۵۴۶)
اس حالت کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’عُلُوّ جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے وہ انکسار کے رنگ میں ہوتا ہے ۔اور شیطان کا عُلُوّ استکبار سے ملا ہوا تھا ۔ دیکھو ہمارے نبی کریم ﷺ نے جب مکہ کو فتح کیا تو آپؐ نے اسی طرح اپنا سر جھکا یا اور سجدہ کیا جس طرح ان مصائب اور مشکلات کے دنوں میں جھکاتے اور سجدے کرتے تھے جب اسی مکہ میں آپؐ کی ہر طرح سے مخالفت کی جاتی اور دکھ دیا جاتا تھا۔ جب آپؐ نے دیکھا کہ میں کس حالت میں یہاں سے گیا تھا اور کس حالت میں اب آیا ہوں تو آپؐ کا دل خدا کے شکر سے بھر گیا اور آپؐ نے سجدہ کیا‘‘۔(ملفوظات جلددوم صفحہ ۴۰۴حاشیہ۔ جدید ایڈیشن)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس مضمون کو، حمد کے مضمون کو جاری رکھنے کی توفیق دے ۔اس بارہ میںکچھ مزید احادیث بھی پیش ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سُبۡحَا نَ اﷲِ وَبِحَمۡدِہٖ ایک سو مرتبہ کہا، اُس کی سب خطائیں معاف کردی جاتی ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں یعنی بہت زیادہ ہوں۔(صحیح البخاری۔ کتاب الادب)
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: دو ایسے کلمات ہیں جو زبان پر بہت ہلکے ہیں لیکن میزان میں بہت بھاری ہوں گے اور خدائے رحمان کو بہت محبوب ہیں۔ وہ کلمات یہ ہیں:

’’سُبْحَانَ اللّٰہِ َوبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم‘‘۔(صحیح البخاری۔ کتاب الایمان)

ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز پکارا جائے گا کہ حَمَّادُوْن کھڑے ہو جائیں۔ تو ایک گروہ کھڑاہو جائے گا اور ان کے لئے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا۔ پھر وہ جنت میں داخل ہونگے۔ عرض کیا گیا کہ یارسول اللہ! یہ حَمَّادُوْن کون لوگ ہیں؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔(حلیۃ ا لاولیاء لابی نعیم)
اللہ کرے کہ اس جماعت میں کوئی ایسا فرد نہ ہو جو ان سے باہر ہو۔
کامیابی پر سجداتِ شکر بجالانے کی نصیحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:۔
’’واجب اور ضروری ہے کہ ہر کامیابی پر مومن خدا تعالیٰ کے حضور سجدات شکر بجالائے کہ اس نے محنت کو اَکارت تو نہیں جانے دیا۔ اس شکر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے محبت بڑھے گی اورایمان میں ترقی ہوگی اور نہ صرف یہی بلکہ اور بھی کامیابیاں ملیں گی، کیونکہ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو البتہ میں نعمتوں کو زیادہ کروں گا۔ اور اگر کُفرانِ نعمت کروگے تو یادرکھو عذاب سخت میں گرفتار ہوگے۔
اس اصول کو ہمیشہ مدِّنظر رکھو۔ مومن کا کام یہ ہے کہ وہ کسی کامیابی پر جو اسے دی جاتی ہے شرمندہ ہوتا ہے اور خدا کی حمد کرتا ہے کہ اس نے اپنا فضل کیا اور اس طرح پر وہ قدم آگے رکھتا ہے اور ہر ابتلا میں ثابت قدم رہ کر ایمان پاتاہے ‘‘۔(ملفوظات جلداوّل صفحہ ۹۸۔۹۹، جدید ایڈیشن )
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مزید فرماتے ہیں:۔
’’خالص احسان جو مخلوق میں سے کسی کام کرنے والے کے کسی کام کا صلہ نہ ہو مومنوں کے دلوں کو ثنا ،مدح اور حمد کی طرف کھینچتا ہے۔ لہٰذا وہ خلوص قلب اور صحت نیت سے اپنے محسن کی حمدوثنا کرتے ہیں۔ اسی طرح بغیر کسی وہم کے جو شک وشبہ میں ڈالے خدائے رحمان یقینا قابلِ تعریف بن جاتا ہے، کیونکہ ایسے انعام کرنے والی ہستی جو لوگوں پر بغیر ان کے کسی حق کے طرح طرح کے احسان کرے اُس ہستی کی ہر وہ شخص حمد کرے گاجس پر انعام واکرام کیا جاتا ہے اور یہ بات انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔ پھر جب اتمام ِنعمت کے باعث حمد اپنے کمال کو پہنچ جائے تو وہ کاملِ محبت کی جاذب بن جاتی ہے اور ایسا محسن اپنے محبوں کی نظر میں بہت قابلِ تعریف اور محبوب بن جاتا ہے اور یہ صفت رحمانیت کا نتیجہ ہے۔ ‘‘
(اعجاز المسیح۔ صفحہ ۸۹)
آپؑ مزید فرماتے ہیں کہ:-’’وہ ہر چیز کا خالق ہے ۔ اور آسمانوں اور زمینوں میں اسی کی حمد ہوتی ہے۔ اور پھر حمد کرنے والے ہمیشہ اس کی حمد میں لگے رہتے ہیں اور اپنی یاد خدا میں محو رہتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں مگر ہر وقت اس کی تسبیح وتحمید کرتی رہتی ہے۔ اور جب اس کا کوئی بندہ اپنی خواہشات کا چولہ اتار پھینکتا ہے ،اپنے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کی راہوں اور اس کی عبادات میں فنا ہو جاتاہے، اپنے اُس ربّ کو پہچان لیتا ہے جس نے اپنی عنایات سے اس کی پرورش کی وہ اپنے تمام اوقات میں اس کی حمد کرتا ہے اور اپنے پورے دل بلکہ اپنے (وجودکے)تمام ذرات سے اس سے محبت کرتا ہے تو اس وقت وہ شخص عالَمین میں سے ایک عالم بن جاتا ہے… ایک اور عالَم وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے طالبوں پر رحم کرکے آخری زمانہ میں مومنوں کے ایک دوسرے گروہ کو پیدا کرے گا اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام لَہُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَۃ میں اشارہ فرمایا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہر دو احمدوں کا ذکر فرماکر ہر دو کو اپنی بے پایاں نعمتوں میں شمار کیا ہے۔ ان میں سے پہلے احمد تو ہمارے نبی احمد مصطفیٰ اور رسول مجتبیٰ ﷺ ہیں اور دوسرا احمد آخر الزمان ہے جس کا نام محسن خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی بھی رکھا گیا ہے۔ یہ نکتہ مَیں نے خداتعالیٰ کے قول اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن سے اخذ کیا ہے۔ پس ہر غور وفکر کرنے والے کو غور کرنا چاہئے۔‘‘(اعجاز المسیح۔ صفحہ ۱۳۶-۱۳۵)
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔
’’ میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں اور یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اعتصام حبل اللہ کے ساتھ ہو۔ قرآن کریم تمہارا دستورا لعمل ہو۔ باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضان الہٰی کو روکتا ہے ۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم جنگل میں اسی نقص کی وجہ سے ہلاک ہوئی ۔رسول اللہ ﷺ کی قوم نے احتیاط کی اور وہ کامیاب ہوگئے۔ اب تیسری مرتبہ تمہاری باری آئی ہے ۔ اس لئے چاہئے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میّت غسّال کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ تمہارے تمام ارادے اور خواہشیںوہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔ استغفار کثرت سے کرو اور دعاؤں میں لگے رہو۔ وحدت کو ہاتھ سے نہ دو۔ دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔ تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آسکتا۔ پس اس نعمت کا شکر کرو کیونکہ شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے ۔ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ (ابراہیم:۸)۔لیکن جو شکر نہیں کرتا وہ یاد رکھے:اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْد۔ (ابراہیم: ۸)‘‘۔ (خطبات نور۔ صفحہ ۱۳۱)
اللہ تعالیٰ ہر احمدی کواس سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ خلافت سے وابستہ رکھے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام کا ایک الہام ہے کہ

’’نَحْمَدُکَ وَنُصَلِّی۔ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِؤا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ ۔ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔ سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ۔ اِذَا جَآئَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ۔ وَ انْتَھٰیٓ اَمْرُ الزَّمَانِ اِلَیْنَا۔ اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ‘‘۔

ترجمہ: ’’ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نُور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھادیں۔ مگر خدا اس نور کو نہیں چھوڑے گا جب تک پورا نہ کرلے اگرچہ منکر کراہت کریں۔ ہم عنقریب ان کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔ جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرلے گا۔ تو کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا۔‘‘(تذکرہ۔ صفحہ ۴۸۔ مطبوعہ۱۹۶۹ء)
آخر پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ خطبہ میں میں نے ایک دوست کے خط کا ذکر کیا تھا اس پر بعض دوستوں نے احباب نے بہت زیادہ ردّعمل کا اظہار کیا ہے ۔ میں اس دوست کو ذاتی طور پہ جانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلص خاندان کے مخلص فرد ہیں لیکن اپنی سمجھ کے مطابق جو انہوں نے سمجھا اس کا اظہار کیا ۔لیکن اس وجہ سے مجھے یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ جماعت کے سامنے رکھ دوں کیونکہ مجھے خطرہ تھا کہ ہمدردی کا لبادہ اوڑ ھ کر یہ ذکر مجلسی رنگ نہ اختیار کرجائے اور کہیں کوئی نادان ٹھوکر نہ کھائے ۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت بہت پھیل چکی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور اس زمانہ میں اس نے ایم ٹی اے جیسی نعمت بھی ہمیں عطا فرمائی ہے،فوری رابطے کے سامان پیدا ہوجاتے ہیںاس لئے ایسی باتوں کا ذکر کرنا میری مجبوری ہے ۔خطوط کا ایک سلسلہ ہے جس میں حوصلہ دلایا جاتا ہے ۔جَزَاکَ اللّٰہ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی ذات کے لئے مجھے مکمل حوصلہ ہے اور کوئی ایسی بات نہیں ۔ لیکن جماعت کی خاطر بعض باتیں کہنی پڑتی ہیں۔ کہیں یہ ذکر آجاتا ہے جذبات میں کہ یہ جماعت کے سامنے کہنے کی چنداں ضرورت نہ تھی ،سختی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔تو اس بارہ میں نہایت پیار سے میں عرض کردیتا ہوں کہ مجھے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیاری جماعت سے بہت پیار ہے اور سختی یا نرمی کے مواقع اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھی طرح جانتا ہوں اور انشا ء اللہ تعالیٰ اس کی دی ہوئی توفیق سے فیصلے کرنے کی کوشش کروں گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی رضا کے مطابق کام کرنے کی مجھے توفیق دے۔ لیکن پھر یہ بڑے پیار سے عرض کردوں کہ جو جماعت کے لئے بہتر سمجھو ں گا ضرور کہوں گا اوریہ کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کی ضرورت تھی یا نہیں تھی ۔جب کہہ دیا ہے تو جماعت کے مفاد میں ہوگا ۔اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا، علیم ہے، قدرتوں کا مالک ہے، وہ آپ ہی میرے دل سے خیال نکال دے گا ۔ مجھے اس بارہ میں کسی کے اس تبصرہ کی ضرورت نہیں کہ کیوں کہا ۔ہاں حالات سے باخبر رکھیں تاکہ تربیتی نقطۂ نظر سے جہاں کہیں کچھ کہنے کی ضرورت ہو کہہ سکوں ۔لیکن آخر میں پھر ایک وضاحت کردوں کہ اس بات کو ختم کریں ،مزید خطوط میں ان کا ذکر نہ کریں ۔ ہاں اپنے اخلاص ،وفا اور پیار کا اظہار کریں۔اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گائیں اور اسی کی حمد کرتے ہوئے ،دعا کرتے ہوئے اس قافلے کو آگے بڑھاتے چلے جائیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/pp15Z]

اپنا تبصرہ بھیجیں