خلافتِ رابعہ کی پہلی تحریک بیوت الحمد کے ثمرات

مسجد بشارت سپین کا افتتاح فرمانے کے بعد جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ واپس ربوہ تشریف لائے تو 29؍اکتوبر 1998ء کو مسجد اقصیٰ میں خطبہ جمعہ میں اپنے دور کی پہلی مالی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ’’مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا مضمون بھی سمجھایا جس کا میں یہاں اعلان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اللہ کا گھر بنانے کے شکرانے کے طور پر خدا کے غریب بندوں کے گھروں کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے- اس طرح یہ حمد کی عملی شکل ہوگی‘‘-
اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کو غیرمعمولی قبولیت عطا فرمائی- حضور انور نے بھی اپنا وعدہ دس ہزار سے بڑھاکر ایک لاکھ کردیا اور فرمایا ’’میں چاہتا ہوں کہ جلسہ جوبلی تک ہم کم از کم ایک کروڑ روپے کی لاگت سے مکان بناکر غرباء کو مہیّا کردیں‘‘-
خدا تعالیٰ کے فضل سے آج اس تحریک کے تحت ربوہ میں پانچ مرلہ کے رقبہ والے نوّے مکانات چار بلاکس میں بیوت الحمد کالونی میں تعمیر ہوچکے ہیں- کالونی کے ساتھ ہی ایک وسیع رقبے پر مشتمل نئی جلسہ گاہ کے لئے خریدی گئی زمین بھی دکھائی دیتی ہے- چودہ ایکڑ پر پھیلی ہوئی اس کالونی کو پانچ بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے- پانچواں بلاک زیر تعمیر ہے جس میں سات مرلہ پر مشتمل مکانات تعمیر کئے جا رہے ہیں اور دس مکانات مکمل ہوچکے ہیں- ہر مکان کی پیشانی پر اس کا نمبر درج ہے- بیرونی دروازہ لوہے کا بنا ہوا ہے- ڈرائینگ روم، بیڈ رومز اور کچن کے علاوہ برآمدہ بھی بنایا گیا ہے- اور ہر مکان میں ایک طرف چھوٹی گلی بھی بنائی گئی ہے- بیوت الحمد کالونی کے بارے میں ایک تعارفی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍جون 1998ء میں مکرم فضیل عیاض احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے-
کالونی میں داخل ہوتے ہی گلاب کے خوبصورت پودوں کا ایک باغیچہ آپ کو دکھائی دے گا- ایک وسیع مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے جس کے چاروں طرف پودے اور پھول لگائے گئے ہیں- ایک ڈسپنسری اور ایک پرائمری سکول کی عمارت بھی تعمیر کی گئی ہے- سکول کے ساتھ ہی امرود کا ایک باغ بھی لگایا گیا ہے نیز بچوں کے کھیلنے کے لئے مختلف پارکس بھی بنائے گئے ہیں- ایک ٹیوب ویل بھی لگایا گیا ہے اور ٹینکی کے ذریعے پانی پوری کالونی میں فراہم کیا جاتا ہے- ہر بلاک کے وسط میں بچوں کے لئے جھولے لگائے گئے ہیں- اس کے علاوہ اور بھی میدان اور پارک بنائے گئے ہیں اور ان سب میں گھاس لگائی گئی ہے- الغرض یہ کالونی ایک نہایت خوبصورت اور پاکیزہ نظارہ پیش کرتی ہے اور اپنی زبان سے کہہ رہی ہے:

کوئی احمدیوں کے امام سے بڑھ کر کیا دنیا میں غنی ہوگا

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں