خلفاء احمدیت کے ذریعہ قادیان کی ترقی

جماعت احمدیہ بھارت کے خلافت سوونیئر میں شامل مکرم مولانا برہان احمد صاحب ظفرؔ کے ایک مضمون میں خلفاء احمدیت کے ذریعہ قادیان میں ہونے والی ترقیات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
قادیان کاذکر گزشتہ زمانوں کے نوشتوں میں ملتا ہے۔ اس کی بنیاد قریباً ساڑھے پانچ سو سال پہلے پڑی تھی جس وقت مرزاہادی بیگ صاحب اپنے مصاحب کے ساتھ سمرقند سے عازم پنجاب ہوئے اور اسی جگہ کو اپنا ٹھکانہ بنایا۔ مغل دورِ حکومت میں قادیان ایک قلعہ کی حیثیت رکھتا تھا جس کی حفاظت کیلئے اس کے گرداگرد پانچ قلعے اَور تھے۔ لیکن سکھوں کے دور میںیہ اجاڑ شہروں میں شمار ہونے لگا اور اللہ تعالیٰ نے اِس شہر کی شہرت کو یکسر ختم کردیا۔ کیونکہ خداتعالیٰ اب مسیح موعود اور مہدی معہود کے وجود سے اس بستی کی محبت کو لوگوں کے دلوں میں قائم کرنااور اس کو ترقی دینا چاہتا تھا۔
دَور خلافت اُولیٰ
٭ 1909ء میں مدرسہ احمدیہ کا قیام عمل میں آیا جس کی شاخیں آج جامعہ احمدیہ کی شکل میں کئی ممالک میں قائم ہیں۔
٭ 1910ء میں مسجد اقصیٰ کی توسیع اوّل عمل میں آئی اور منارۃ المسیح جو ابھی زیر تعمیر تھا اُس کے ساتھ ایک چبوترہ بھی بنادیا گیا۔ اس وقت ایک بڑاکمرہ اور ایک لمبا برآمدہ بھی تیار ہوا۔
٭ قادیان کے شمالی جانب ایک نیامحلہ جدید پلان کے مطابق آباد کرنا شروع کیا۔ اس کی آبادی کاآغاز مسجدنور سے ہوا جس کی بنیاد خود حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے 5 ؍مارچ 1910 ء کو بعد نماز فجر رکھی۔ اس محلہ میں اسکول کالج بورڈنگ ہاؤس تعمیر ہوئے جس کی مناسبت سے اس محلہ کانام حضورؓنے ’’دارالعلوم ‘‘ رکھا۔ قادیان میں بیرونی شہروں سے آنے والے طلبہ کی رہائش کے لئے حضورؓ نے جس وسیع عمارت کی بنیاد رکھی اس میں دو صد افراد کی رہائش کی گنجاش تھی۔ اس عمارت کے تین حصّے ستمبر 1910ء تک مکمل ہوگئے۔ باقی حصہ بھی بعد میں مکمل ہوگیا۔
٭ دورِ خلافتِ اولیٰ میں چھ مساجد بھی تعمیر ہوئیں۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے محلہ دار العلوم میں ہی 25؍ جولائی 1912ء کو تعلیم الاسلام اسکول کی نئی عمارت کی بنیاد رکھی۔ اس عمارت میں عام کمروں کے علاوہ سائنس روم اوروسیع ہال بھی موجود تھے۔
٭ دورِ خلافت اولیٰ میں قادیان سے جو اخبارات جاری ہوئے ان میں اخبار’’نور‘‘ ۔ ’’الحق‘۔ ’’الفضل‘‘ رسالہ احمدی خاتون اوررسالہ احمدی شامل ہیں۔ آپؓ کے دورِ خلافت میں قادیان سے ہندی، انگریزی، گورمکھی، اردو، پشتو اور فارسی زبانوں میں بے شمار لٹریچر شائع ہوا۔ جن میں سے 40؍اہم کتب کا ذکر تاریخ احمدیت میں موجود ہے۔ نیز قادیان کی پہلی لائبریری بھی آپؓ ہی کے دورِ خلافت میں قائم ہوئی۔
٭ حضورؓ نے اپنے دورِخلافت میں ہندوستان بھر میں تبلیغی وفود بھیجے جس کے نتیجہ میں 78 مضبوط جماعتیں قائم ہوئیں۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے دارالعلوم میں ہی 21؍ جون 1912ء کو نُور ہسپتال کی بنیاد رکھی۔
دورِ خلافت ثانیہ
٭ حضرت مصلح موعودؓ نے خلافت پر متمکن ہوتے ہی منارۃ المسیح کی تکمیل کا کام شروع کروایا جس کی بنیاد خود حضرت مسیح موعودؑ نے رکھی تھی۔ حضور نے اپنے ہاتھ سے اینٹ رکھ کر 1914ء میں کام شروع کروایا اور صرف دو سال کے عرصہ میں یہ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
٭ نُور ہسپتال کی تکمیل 1917ء میں ہوئی۔ یہ جدید طرز کا اس علاقہ کا پہلا ہسپتال تھا جو 1947ء تک رات دن خدمت خلق میں مصروف رہا۔
٭ اگرچہ حضرت مسیح موعودؑ کے دور میں کالج کا قیام عمل میں آیا تھا لیکن بعض ملکی قوانین اس کے آڑے آئے جس کی وجہ سے کالج بند کرنا پڑا۔1944ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے یہ کالج ، تعلیم الاسلام سکول کی عمارت میں جاری فرمایا۔ اور سکول کی ایک نئی عمارت بھی تعمیرکروائی۔ حضورؓ نے لڑکیوں کا تعلیمی ادارہ نصرت گرلز اسکول بھی جاری فرمایا۔
ضلع گورداسپور میں تعلیم الاسلام کالج کے پائے کاایک بھی کالج نہ تھا۔اسکی سائنس لیبارٹری جیسی ہندوستان کے کسی کالج میں موجود نہیں تھی۔ عالیشان عمارتوں کے علاوہ کھیلوں کے کھلے میدان، تیراکی کاتالاب اور فلائٹ ٹریننگ کیلئے کالج کے میدان میں تین چھوٹے جہاز موجودتھے۔ اسی سے اُس دورمیں قادیان کی غیر معمولی ترقی کااندازہ کیا جاسکتا ہے۔ کالج کی لائبریری میںلاکھوں کی تعداد میںکتب موجود تھیں۔ پنجاب بھرمیں اگر کوئی مکمل لائبریری کہلاتی تھی تو وہ قادیان کے کالج کی لائبریری تھی۔ یہ لائبریری بھی تقسیم ملک کی نذر ہوئی۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 2 ؍نومبر 1935ء کو مہمانخانہ کی پرانی عمارت کے ساتھ ایک نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا اور مہمانوں کے لئے برآمدہ سمیت چھ پختہ کمرے تعمیر ہوئے جو آج بھی موجود ہیں۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 26؍ مئی 1926ء کو قصر خلافت کی بنیاد رکھی۔ اس میں گیلر یز وغیرہ ملاکر بارہ کمرے اور بڑے بڑے برآمدے موجود ہیں۔ تقسیم ملک کے بعد اس عمارت میں احمدیہ مرکزی لائبریری قائم کردی گئی۔
٭ حضورؓ نے قادیان کو ایک پلان کے مطابق محلوں میں تقسیم کیا۔ کھلی سڑکیں رکھ کر باقاعدہ پلاٹ بناکر محلے بنائے گئے۔ ان محلوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ کسی بڑے آرکیٹیکٹ نے اس کو پلان کیاہے۔ اس طرح قادیان کی محدود آبادی دُور دُور تک پھیل گئی۔ جو نئے محلے آباد ہوئے اُن میں دارالرحمت، دارالعلوم، دارالفضل، دارالبرکات شرقی و غربی، دارالیسر، دارالصحت، دارالانوار، دارالفتوح شامل ہیں۔
٭ حضرت مصلح موعودؓ کی برکت سے قادیان کو عمومی ترقی بھی بہت ملی۔ چنانچہ 1928ء میں ریل جاری ہوئی۔ پھر کئی کارخانے مثلاً ہوزری کا کارخانہ، لکڑی کا کارخانہ، شیشے کا کارخانہ، پنکھے اور بیٹریاں بنانے کا کارخانہ وغیرہ لگائے گئے۔ نیز ہر محلہ میں مساجد کاانتظام ہوا۔ سڑکیں پختہ ہوئیں۔ گندے پانی کے نکاس کا انتظام ہوا۔ اس طرح قادیان ماڈرن شہروں کی طرح نظرآنے لگا۔ لیکن تقدیر الٰہی سے ملک تقسیم ہوا تو قادیان کی ترقی و تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل واقع ہوگیا۔ کارخانے بند ہوگئے اور کئی عمارات بھی منہدم ہوگئیں۔
٭ تقسیم ہند کے بعد حضورؓ کے ارشاد پر قادیان کے مقامات مقدسہ کی حفاظت کیلئے صرف 313مرد افراد قادیان میں ٹھہرے جو صرف حلقہ مسجدمبارک، دارالفضل اور محلہ ناصر آباد میں سمٹ گئے کیونکہ اصل مقامات مقدسہ انہی محلوں میں تھے جن میں الدّار، مسجد مبارک، مسجد اقصیٰ، بہشتی مقبرہ موجود ہیں۔ ان درویشان نے نامساعد حالات میں اپنی زندگی کے دن گزارے۔ مشکلات کے باوجود خلیفۃ المسیح کی ہدایات کی روشنی میں ہندوستان کی جماعتوں کو منظم کیااورموجود وسائل سے کام لیتے ہوئے قادیان کی ترقی کی طرف بھی دھیان دیا۔ مالی وسائل اس قدر نہ تھے کہ نئی تعمیرات کی جائیں۔ تاہم درویشی دَور میں لنگرخانہ اور تعلیم الاسلام اسکول کی کچی عمارتوں کو گراکر پختہ بنایا گیا۔ اسی طرح درویشان قادیان نے بہشتی مقبرہ کے گرد پہلے کچی دیوار بنائی پھر بعدمیں پختہ دیوار تعمیر ہوئی۔
دور خلافتِ ثالثہ
1971ء جب ہندوپاک جنگ ہوئی تو حکومت چاہتی تھی کہ قادیان کے احمدیوں سے یہ محلے خالی کرواکر جنگی پناہ گزینوں کو یہاں رہائش دی جائے۔ یہ وقت قادیان کے مکینوں پر بڑے امتحان کا تھا۔ ہر شخص دُعائوں میں مصروف تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کرم فرمائی سے اس ابتلاء کو بھی ٹال دیا اور حضرت مسیح موعودؑ کی یہ رؤیا پوری ہوئی کہ ’’دیکھا کہ ایک جماعت کثیر میرے پاس کھڑی ہے۔ ایک حاکم آیا اور اس نے کھڑے ہوکرکہا کہ کیوں اس جماعت کو منتشر نہ کیا جائے؟ میں نے کہا اس جماعت میں کوئی مخالفت نہیں ۔ صرف تعلیم پاتے ہیں۔ پھراس حاکم نے کہ گویا وہ ایک فرشتہ تھا آسمان کی طرف منہ کرکے ایک دو باتیں کہیں جو سمجھ میں نہیں آئیں۔ پھر اس نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ سلام اورچلا گیا‘‘۔ اس سارے معاملہ میں جناب ڈی سی صاحب گورداسپور کا انداز بڑا ہی مشفقانہ رہا۔
٭ 1939ء میں خلافت ثانیہ کی سلور جوبلی کے موقعہ پر مینارۃالمسیح پرسفید پلستر کیا گیا تھا جس سے یہ مینارۃ البیضاء ہوگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا وہ حصہ جہاں دھوپ نہیں پڑتی تھی، کالاہوگیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے اس پر سنگ مرمر لگانے کاارشاد فرمایا۔ 1980ء میں یہ کام شروع ہوکر 1982ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
٭ خلافتِ ثالثہ کے دَور میں مدرسہ احمدیہ کی کچی عمارت گرا کر نئی تعمیر عمل میں آئی۔ اسی طرح تعلیم الاسلام اسکول کی عمارت بھی از سر نو تعمیر کی گئی جبکہ احمدیہ بورڈنگ کیلئے بھی دو کمرے تعمیر ہوئے ۔ قادیان میں رہائش کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے بھی بعض خالی جگہوں پر کوارٹر تعمیر ہوئے اورصدر انجمن احمدیہ کے لئے دفاتر میں بھی اضافہ ہوکر مسجد مبارک کی مغربی جانب نئے دفاتر تعمیر ہوئے۔
دورِخلافت رابعہ
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے درویشوں اور کارکنان کے لئے مکانوں کی تنگی دُور کرنے کے لئے 1988ء میں محلہ ناصرآباد کے قریب بیوت الحمد کالونی تعمیر کرنے کی ہدایت فرمائی اور پہلے مرحلہ میں 35 کوارٹر تعمیر ہوئے۔ تمام تر سہولتوں کے ساتھ یہ پہلی تعمیر تھی۔ غیرممالک کے کئی لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ بھی قادیان کی تعمیر نو میں حصہ لیں۔ چنانچہ دارالانوار کو جانے والی سڑک پر ایک چار منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی حضور انور نے اجازت عطا فرمائی۔ یہ قادیان کی پہلی چار منزلہ عمارت تھی۔
1989ء میں حضورؒ کے اس ارشاد پر کہ بڑی جماعتیں اپنے ملک کے مہمانوں کو ٹھہرانے کیلئے قادیان میں گیسٹ ہائوس تعمیرکریں، محلہ دارالانوار میں 1989-90ء کے سالوں میں چار بڑے بڑے دو منزلہ گیسٹ ہائوس تعمیر ہوئے جوجدیدطرز تعمیر کے ساتھ نہایت درجہ خوبصورت اورکشادہ بنائے گئے۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی دعوت الی اللہ کی تحریک کے نتیجہ میں آنے والے نومبائعین کی تربیت کیلئے معلمین کی شدت سے ضرورت محسوس کی جانے لگی تو حضورؒ نے ’’جامعۃ المبشرین‘‘ کے نام سے ایک درسگاہ جاری فرمائی جس کے لئے دارالانوارمیں ہی دو منزلہ دیدہ زیب عمارت تعمیر ہوئی اورطلباء کی رہائش کیلئے عارضی بیرکس کے نام سے بھی آٹھ بڑے بڑے ہال تعمیر ہوئے۔
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے ارشاد پر نور ہسپتال کے نام سے نیا ہسپتال تعمیر ہوا۔ یہ عمارت بھی نہایت دیدہ زیب ہے اور اس میں ایکسرے، الٹرا سائونڈ، دانتوں کا مکمل یونٹ، اپریشن تھیٹر، جنرل وارڈ اور VIPکمرے موجود ہیں۔ نیز ہومیوپیتھک ڈسپنسری بھی مفت خدمت کررہی ہے۔
٭ دورِ خلافتِ رابعہ میں ہی مکرم ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب آف امریکہ نے ’’سرائے طاہر‘‘ کے نام سے ایک عالیشان عمارت تعمیر کروائی جس پر چھ کروڑ روپے لاگت آئی۔
٭ آپؒ ہی کے مبارک دور میں مجلس خدام الاحمدیہ کا دفتر ’’ایوان خدمت‘‘ ، مجلس انصار اللہ کا دفتر ’’ایوان انصار‘‘ اور لوکل مجلس خدام الاحمدیہ کادفتر ’’ایوان طاہر‘‘ بھی تعمیر ہوئے۔
٭ حضور رحمہ اللہ نے قادیان کو مزید ترقی دینے کیلئے بہت سے پروگرام جاری فرمائے ہوئے تھے جن میں انڈسٹری لگانے، نئی کالونیاں تعمیر کرنے،پرانی عمارتوں کو رینوویٹ کرنے ،مساجد کی تعمیر اور اُن کی توسیع وغیرہ کے منصوبے شامل تھے۔
دور خلافت خامسہ
٭ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اُن تمام سکیموں کو آگے بڑھانے کاارشاد فرمایا جو حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے جاری فرمائی تھیں۔ چنانچہ خلافت خامسہ کے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران قادیان میں جو ترقی ہوئی اس کامختصر ذکر یوں ہے:
٭ بیوت الحمد کالونی میں چھ مزید کوارٹر تعمیر ہوئے۔ جبکہ حضور نے کوٹھی دارالسلام میں چالیس کوارٹر تعمیر کرنے کی منظوری مرحمت فرمائی جن میں سے قریباً تیس تعمیر ہوچکے ہیں۔ دارالفضل میں بھی تین کوارٹر تعمیر ہوئے جبکہ تین سال کے عرصہ میں 97لاکھ روپے سے نئے اورپرانے کوارٹر تعمیر و مرمت ہوچکے ہیں ۔
٭ 2005ء میں حضور انور کی قادیان آمد کی اطلاع پر مہمانوں کی غیر معمولی آمد کے پیش نظر پہلے سے موجود تین لنگرخانوں کی تعمیرنو کی گئی، تین نئے لنگرخانے تعمیر ہوئے۔ امسال پرانے لنگرخانہ کی جگہ پر ایک نئی عمارت تعمیر ہوکر مکمل ہوچکی ہے اور مہمانوں کی رہائش کے لئے مزید نئے کمرے تعمیر ہو رہے ہیں۔
٭ گزشتہ سال محلہ ناصر آباد میں جلسہ سالانہ کے لئے ایک بڑا دو منزلہ سٹور تعمیر ہوا۔ نیز جلسہ سالانہ کے نئے دو منزلہ دفاتر بھی تعمیر ہوچکے ہیں۔
٭ تقسیم ہند کے بعد جماعتی لٹریچر، کتب اور اخبارات جالندھر یا امرتسر سے شائع ہوتے تھے۔ خلافت رابعہ کے دور میں قادیان میں اپنا پریس لگایا گیا لیکن مشین بہت پرانی تھی۔ پھر اس کی ہینڈ فیڈ پریس لگائی گئی۔ اب جماعتی ضرورتوں کے پیش نظر حضور انور کی منظوری سے نئی آٹومیٹک آفسٹ مشین لگ چکی ہے جبکہ فولڈنگ مشین، سلائی مشین اور کٹنگ مشین بھی لگائی گئی ہے۔ پریس کی نئی عمارت کاکام بھی شروع ہے جس پر ڈیڑھ کروڑ روپے کے اخراجات متوقع ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اخبار بدر کادفتر بھی تعمیر ہو رہا ہے۔
٭ 2005ء میں حضور انور نے مسجد اقصیٰ کی توسیع کا ارشاد فرمایا۔ چنانچہ مسجد کے ساتھ واقع صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر اور نمائش ہال کو گرا دیا گیا ہے اور جلد ہی اس کی توسیع کا کام شروع ہو جائے گا۔محلہ دارالانوار کی مسجد کی ازسر نو تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔
٭ دفتر نشرواشاعت اور MTA کے لئے محلہ دارالانوار میں ایک سات کنال کے پلاٹ پر دفاتر کی تعمیر جاری ہے۔
٭ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر لائبریری کی نئی عمارت تعمیر کرنے کا کام محلہ دار الانوار میں شروع ہے۔
٭ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ پراہم شخصیات کی آمد کے پیش نظر ایک تین منزلہ V.I.Pگیسٹ ہاؤس تعمیر کرنے کا ارشاد فرمایاہے جو زیر تعمیر ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریلین گیسٹ ہاؤس اور ماریشین گیسٹ ہاؤس بھی زیر تعمیر ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ نے ایک دارالصنعت کی بھی منظوری عنایت فرمائی ہے اس کا بھی کام جاری ہے۔
٭ حضور انور کے ارشاد پر ظہور قدرت ثانیہ کے مقام پر شیشے کا ایک عظیم الشان مومنٹو نصب کیا گیا ہے جو اٹلی سے تیار کروایا گیاہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/gQwFj]

اپنا تبصرہ بھیجیں