تعارف کتاب: ’’درویشان احمدیت‘‘

(مطبوعہ انصارالدین جولائی تا اگست 2013ء)

’’درویشان احمدیت‘‘

فرخ سلطان محمود

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کو ایسے بے شمار مخلصین عطا فرمائے ہیں جن کی زندگیاں اسی بابرکت مساعی میں صرف ہوئیں کہ وہ اسلام و احمدیت کا پیغام زمین کے کناروں تک پہنچانے کی خوشخبری کو پورا کرنے والے بنیں یعنی دعوت الی اللہ کے جہاد میں منہمک رہیں خواہ یہ جہادتبلیغ و تربیت کے میدان میں ہو یا پھر قلم کے ذریعہ ہو۔ ایسی محترم شخصیات میں ایک نام مکرم و محترم فضل الٰہی انوری صاحب کا بھی ہے جنہیں دعوت الی اللہ کے میدان میں اگرچہ لمبا عرصہ جرمنی میں دینی خدمات بجالانے کی سعادت حاصل ہوتی رہی ہے لیکن آج آپ کا تعارف آپ کے قلمی جہاد کے حوالہ سے کروایا جا رہا ہے۔
محترم انوری صاحب نے پنجاب یونیورسٹی سے B.Sc کرنے کے بعد جامعہ احمدیہ ربوہ سے شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ 1956ء میں آپ کو غانا بھجوایا گیا۔ 1960ء میں واپس آکر جامعہ احمدیہ میں استاد مقرر ہوئے۔ 1964ء میں دعوت الی اللہ کے لئے جرمنی بھجوائے گئے۔ 1968ء میں آپ کی تعیناتی نائیجیریا میں بطور امیر و مبلغ انچارج ہوئی۔ 1972ء میں امیر و مبلغ انچارج جرمنی مقرر ہوئے۔ 1977ء سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قریباً ایک سال کے لئے مربی سلسلہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ 1979ء تا 1982ء بطور ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد (تعلیم القرآن) اور سیکرٹری حدیقۃالمبشرین خدمات بجالائے۔ 1982ء میں آپ کی تعیناتی مغربی افریقہ کے ملک گیمبیا میں ہوئی اور 1983ء میں دوبارہ نائیجیریا میں امیر و مبلغ انچارج مقرر ہوئے۔ 1986ء میں پاکستان آکر جامعہ احمدیہ ربوہ میں بطور استاد دو سال خدمت کی توفیق پائی اور 1988ء میں ریٹائرڈ ہونے کے بعد سے جرمنی میں مقیم ہیں۔
اگرچہ محترم مولانا صاحب موصوف کی فعال زندگی کا یہ ایک رُخ ہے جو اوپر بیان ہوا ہے لیکن آپ کی شاندار خدمات کے دائرہ میں وہ قلمی جہاد بھی نظر آتا ہے جس کے نتیجہ میں آپ کئی کتب کے مصنف ہیں اور ابھی قلم کا یہ سفر جاری و ساری ہے۔
سردست ہم صرف آپ کے اُس قلمی کارنامہ کے بارہ میں تحسین کے چند الفاظ پیش کرنا چاہتے ہیں جو ’’درویشان احمدیت‘‘ کے نام سے منظرعام پر آرہا ہے۔ اس شاندار سلسلۂ کتب کی اس وقت تک چھ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن میں سے تین اس وقت ہمارے سامنے موجود ہیں۔ یعنی
٭ جلد سوم (حفاظتِ سماوی)۔ اس کتاب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپؑ کے متبعین کی معجزانہ حفاظت کے بہت سے واقعات پیش کئے گئے ہیں۔ اور یہ کتاب A5 سائز کے سوا چار صد صفحات پر مشتمل ہے۔
٭ جلد چہارم (نصرتِ ربّانیہ)۔ جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متبعین کو ملنے والی نصرت ربّانیہ کے معجزانہ واقعات کا بیان ہے۔ اور یہ کتاب A5 سائز کے 422 صفحات پر مشتمل ہے۔
٭ جلد ششم (قبولیت دعا کے اعجازی نمونے)۔ اس مجموعہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپؑ کے متبعین کی قبولیتِ دعا کے اعجازی واقعات پیش کئے گئے ہیں۔ اور یہ کتاب A5 سائز کے 464 صفحات پر مشتمل ہے۔
تمام کتابیں عمدہ ٹائپنگ، پرنٹنگ اور خوبصورت پیشکش کی حامل ہیں۔ اگرچہ کتب کا سائز A5 ہے لیکن مواد کے لحاظ سے بلاشبہ اِن کی ضخامت بہت زیادہ ہے۔ ان کتب کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ محترم مولانا صاحب موصوف کو تحقیق کرکے معلومات کو (مختلف ذرائع سے) اکٹھا کرنے کا ہی ملکہ حاصل نہیں ہے بلکہ اُن معلومات کو ازسرنَو ترتیب دے کر انہیں پیش کرنے میں بھی یدطولیٰ حاصل ہے۔ آپ کی اس بیش بہا خدمت کی اصل جزا تو یقینا اللہ تعالیٰ ہی دے گا تاہم ان کتب کا مطالعہ کرنے والے اور ان سے استفادہ کرنے والے بھی آپ کے لئے دعائے خیر ضرور کرتے رہیں گے۔ جزاھم اللہ احسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ۔
اگرچہ محترم مولانا صاحب کی اس قلمی خدمت پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن اپنے قارئین کے سامنے نمونہ کے طور پر پیش کرنے کے لئے جب ایک بار پھر طائرانہ نظر سے ان کتب کو دیکھا تو واقعی انتخاب کرنا بہت مشکل لگا کیونکہ تمام واقعات نہ صرف انمول حقیقت کے عکاس ہیں بلکہ ایک دوسرے سے بڑھ کر ایمان افروز بھی ہیں۔ ان کا مطالعہ اس صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اِس زمانہ میں مسیح و مہدی بناکر بھیجنے والا خدا واقعتا ہر قدرت پر قادر ہے جو اپنے پیاروں کے ازدیاد ایمان کے لئے اور مخالفین کی ہدایت کے سامان پیدا کرنے کے لئے اپنے جلوے آج بھی دکھا رہا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ انشاء اللہ
ذیل میں ’’درویشانِ احمدیت‘‘ کی جلد سوم کے اُس باب سے چند واقعات ہدیۂ قارئین ہیں جو تصرفات الٰہیہ کے نتیجہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے بعض غلاموں کے بارہ میں مخالفین احمدیت کے قاتلانہ منصوبوں کی ناکامی کے ضمن میں بیان کئے گئے ہیں۔
…٭…٭…٭…٭…
اس کالم کی زینت بنائے جانے والے یہ چند ایمان افروز واقعات محض نمونۃً پیش کئے گئے ہیں ورنہ حقیقت یہی ہے کہ ’’درویشان احمدیت‘‘ کے سلسلہ کی ہر کتاب ایسے ہی بے شمار واقعات سے بھری ہوئی ہے اور ہر ایک کتاب کا مطالعہ کرتے ہی قاری اس سلسلہ کی کسی دوسری کتاب کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتا ہے اور یہ تسلسل جاری ہی رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شاندار قلمی کاوش کو مومنین کے ازدیاد ایمان اور غیروں کے لئے ہدایت کا باعث بنائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں