دنیا کا پہلا آئینی شہنشاہ – حمورابی

حضرت ملک سیف الرحمٰن صاحب کا ایک مقالہ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 18؍اکتوبر 1997ء میں ایک سابقہ اشاعت سے منقول ہے جس میں دنیا کی پہلی آئینی بادشاہت کے بارے میں تحقیق پیش کی گئی ہے۔
تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلی وسیع قطعات ارض سے تعلق رکھنے والی قانونی حکومت مشرق وسطیٰ میں قائم ہوئی۔ پھر بالترتیب مصر، مشرق الاقصیٰ ہند، یونان اور روم میں قانون کا احترام کیا جانے لگا۔ حضرت مسیح علیہ السلام سے قریباً چھ ہزار سال پہلے دریائے دجلہ و فرات کے دو آبے ’’اکہر‘‘ اور ’’سومر‘‘، جو آج عراق کا جنوبی حصہ ہیں، انسانی تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنے۔ اس خطہ کا مشہور شہر بابل بغداد سے 50۔60 میل جنوب مغرب میں دریائے فرات کے بائیں کنارے آباد تھا۔ بابل دراصل باب ایل کا مرکب ہے۔ باب کے معنے دروازہ اور ایل کے معنے خدا کے ہیں یعنی خداؤں یا دیوتاؤں کا دروازہ۔ تاریخ دان متفق ہیںکہ اموری خاندان بابل کا پہلا شاہی خاندان تھاجس کا چھٹا بادشاہ حمورابی ہے جس نے اپنے ملکی قوانین کو محفوظ کرکے تاریخ میں لازوال شہرت حاصل کی۔ یہ خاندان تین صدیوں تک حاکم رہا اور اس کے گیارہ بادشاہ ہوئے۔
حمورابی دو ہزار قبل مسیحؑ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں مسند نشین ہوا اور 33 سال تک شان و شوکت سے حکومت کرتا رہا۔ بائبل میں اسے اسرافیل کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اس نے ابتدائی دس سالوں میں کئی علاقے فتح کرکے اپنی سلطنت کو وسعت دی اور پھر اہم شہروں کی فصیلوں کو مستحکم کیا، نہریں بنوائیں اور کھیتی باڑی کے کام میں لوگوں کو سہولتیں مہیا کرکے ملک میں خوشحالی کو فروغ دیا۔ بادشاہ بننے کے 30 سال بعد اس نے اپنے دشمن ملک عیلام پر حملہ کیا۔ علامی پہلے بھی بابل کو کافی زک پہنچاچکے تھے۔ حمورابی نے عیلامیوں کو شکست دے کر ان کے بادشاہ کو گرفتار کیا اور باجگذاری کے اقرار پر اس کی جاں بخشی کی۔ 39 سال جلوس میں اس نے اسیریا کو بھی فتح کرلیا۔
حمورابی بہت بیدارمغز، منتظم، متقی بادشاہ تھا۔ تاریخ میں اس کے کئی خطوط محفوظ ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سلطنت کے بارہ میں اس کی کتنی وسیع نظر تھی۔ مثلاًاس نے اپنے ایک والی کو لکھا:
1۔ دمنوم نہر کے کنارے جن زمینداروں کی زمین ہے انہیں لگاکر نہر صاف کرائی جائے اور اس کی تہہ کی مٹی نکلوائی جائے۔ یہ کام اس ماہ کے اندر اندر مکمل ہوجائے۔
2۔ معلوم ہوا ہے کہ فلاں شہر میں فلاں سرکاری ملازم نے رشوت لی ہے۔ فوراً تحقیقات کراؤ اورجرم ثابت ہو تو رشوت کا مال سربمہر کرکے مرتشی اور گواہوں کو یہاں بھیج دو۔
3۔ ایک شخص نے شکایت کی ہے کہ میںنے زمین رہن رکھ کرقرض لیا تھا لیکن قرض خواہ نے نہ صرف فصل پر قبضہ کرلیا ہے بلکہ زمین بھی واپس نہیں دیتا۔ یہاں بابل کے دفتر سے معلوم ہوا ہے کہ زمین واقعی اس شخص کی ملکیت ہے پس یہ زمین واپس دلاکر اسے سزا دی جائے۔
4۔ ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ تین برس پہلے اس نے فلاں عامل کو تین ’’پیمانہ‘‘ غلہ قرض دیا تھا جو وہ باوجود مطالبوں کے واپس نہیں کرتا۔ ہم نے عامل مذکور کی دستخطی رسید مدعی کے پاس ملاحظہ کی ہے۔ فوراً اصل معہ سود اس عامل سے وصول کرکے قرض خواہ کو دیا جائے۔
5۔ ہتھیار بنانے والے کاریگروں کو لکڑی کی ضرورت ہے۔ 7200 ٹکڑے درکار ہیں۔ لکڑی ٹھوس ہو۔ ہر ایک ٹکڑا وزن میں تہائی یا نصف ذراع سے زیادہ نہ ہو اور لمبائی میں دو بالشت سے چار بالشت تک ہو۔ درخت گھن کے کھائے ہوئے نہ ہوں بلکہ مضبوط اور ٹھوس ہوں۔ یہ کام فوراً ہونا چاہئے کاریگر بیکار نہ بیٹھے رہیں۔
ان احکام سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حمورابی اپنی سلطنت کے لئے کتنا بیدارمغز تھا۔ اپنی حکومت کے آخری ایام میں اس نے تمام ملکی قوانین کو ایک سنگی کتبہ میں کندہ کرواکے سبارا کے مندر میں نصب کروادیا۔ یہ کتبہ سات فٹ چار انچ لمبا اور دو فٹ گھیر میں تھا جو قریباً ایک ہزار سال تک وہاں نصب رہا اور پھر علامی بادشاہ بخت نے بابل پر حملہ کیا اور یہ کتبہ اپنے دارالخلافہ سوس میں اٹھا لایا جہاں سے کھدائی کے دوران 1901ء میں یہ کتبہ مورگان فرانسیسی کو ملا۔ اس کتبہ کا سیشل نے ترجمہ کیا اور 1902ء میں حکومت فرانس نے کتبہ کی اصل عبارت اور ترجمہ کتابی صورت میں شائع کردیا۔ اصل کتبہ پیرس کے میوزیم میں موجود ہے اور برٹش میوزیم میں اس کا ایک نہایت عمدہ چربہ رکھا گیا ہے۔ یہ کتبہ غالباً دنیا کا پہلا تحریری قانون ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے ان قوانین کو مترجم نے 282 ؍دفعات میں تقسیم کیا ہے۔ چند قوانین ملاحظہ ہوں:
۔ اگر کوئی شخص کسی کو بددعا دے اور ایسا کرنے کیلئے اس کے پاس کوئی معقول وجہ نہ ہو تو اس کی سزا قتل ہے۔
۔ مقدمے میں بلاعذر (یعنی جان کو خطرہ نہ ہو تو) جھوٹی گواہی دینے والے کی سزا قتل ہے ۔
۔ اگر ثابت ہوجائے تو قاضی نے دانستہ غلط فیصلہ کیا ہے تو قاضی کو عہدہ سے برخاست کرکے جرمانہ وصول کیا جائے۔
۔ ڈاکو کی سزا قتل ہے۔ اگر ڈاکو گرفتار نہ ہوسکے تو جس علاقہ میں ڈاکہ پڑا ہے وہاں کی برادری نقصان پورا کرے۔
۔ جس مقروض کی کھیتی تباہ ہو جائے وہ قرض خواہ کو اس سال قرض اور سود نہ دے۔
۔ جو نکاح نامہ کے بغیر کسی عورت سے تعلق قائم کرے تو وہ اس کی قانوناً بیوی نہیں ہوگی۔
۔ اگر کسی نے اپنے بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کی تو اس کے مرنے کے بعد وہ چیز بیٹے کی رہے گی اور ترکہ میں تقسیم نہیں ہوگی۔
۔ جس نے اپنے بیٹوں کی شادیاں کیں لیکن چھوٹے بیٹے کی شادی سے پہلے مرگیا تو تقسیم ورثہ کے وقت چھوٹے بیٹے کو مقررہ حصہ کے علاوہ زرِ عروسی بھی دیا جائے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/9UOQw]

اپنا تبصرہ بھیجیں