رُخ سے کوئی حجاب ہٹاتا چلا گیا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16؍مئی 2006ء میں مکرم ناصر احمد سید صاحب کا کلام شامل اشاعت ہے۔ اس میں سے چند اشعار ہدیۂ قارئین ہیں:

رُخ سے کوئی حجاب ہٹاتا چلا گیا
میں زندگی کے بھید کو پاتا چلا گیا
یہ کس کا لمس اُتر گیا میرے وجود میں
یہ کس کا عکس روح میں آتا چلا گیا
یہ کون بن گیا چراغ اندھیری رات کا
یہ کون مجھ کو راہ دکھاتا چلا گیا
تُو ہی تو اِک جواب تھا میرے سوال کا
ہونٹوں پہ تیرا نام ہی آتا چلا گیا

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/CacJJ]

اپنا تبصرہ بھیجیں